07/11/2024
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پُرلطف اور غذائیت سے بھرپور چائنیز پلاؤ، جو تازہ سبزیوں اور چکن کی یخنی میں بنایا گیا ہے۔ ایک بار کھائیں اور بار بار آرڈر کرنے پر مجبور ہو جائیں! تو دیر کس بات کی؟ ابھی آرڈر کریں!
Only in 250 + bykea delivery charges
Only for Rawalpindi and Islamabad
For orders contact at 03366796555
23/05/2024
"فقیر کسے کہتے ہیں؟" اردو کے پروفیسر سر قاسم رضوی نے بھری جماعت سے سوال کیا۔
"سر! مانگنے والے کو۔" فوراً ایک لڑکی نے جواب دیا۔
"نہیں۔۔ فقیر کی تعریف سمجھانے کے لیے آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں۔ ایک شخص محفل میں موجود تھا اور اپنے احباب سے کلام کر رہا تھا۔ اتنے میں اس کا ملازم آیا اور کان میں کوئی بات بتائی۔
اس شخص نے سر جھکایا کچھ سوچا پھر کہا 'الحمدللہ' اور اپنی گفتگو دوبارہ شروع کر دی۔ چند ثانیے بعد ملازم پھر آیا اور اس بار بھی کان میں اطلاع دی۔
ایک بار پھر ان صاحب نے سر جھکایا کچھ سوچا پھر کہا 'الحمدللہ' اور دوبارہ گفتگو کرنے لگا۔ دوست احباب نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ماجرا ہے۔
اس شخص کہا کہ پہلے ملازم نے آ کر اطلاع دی کہ تجارت کی غرض سے دوسرے ملک سامان لے کر جانے والا میرا جہاز ڈوب گیا ہے۔ میں نے اپنے دل کو ٹٹولا کہ مجھے اتنے بڑے نقصان کا غم تو نہیں؟ جب مجھے احساس ہوا کہ مجھے دنیاوی مال کے ڈوب جانے کا کوئی دکھ نہیں تو میں نے کہا الحمدللہ، پھر اس ملازم نے آ کر بتایا کہ میرا جہاز نہیں ڈوبا بلکہ کسی اور کا جہاز ڈوبا ہے تو پھر میں نے دل ٹٹولا کہ مال کی محبت سے خوش تو نہیں؟ جب مجھے محسوس ہوا کہ ایسا نہیں تو پھر کہا 'الحمدللہ'۔
ایسے شخص کو کہتے ہیں فقیر۔ جسے دنیاوی مال کے لٹنے کا دکھ نہ اور ملنے کی خوشی نہ ہو۔"
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں فقیری کو لے کر غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اکثر لوگ اپنا جائز اور حلال مال خرچ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ہم گناہ نہ کر رہے ہوں۔ ہمیں مال و دولت تیاگ کر 'فقیری' کی زندگی گزارنی چاہیے۔ مومن کو جنت الفردوس میں ہی محلات ملیں گے۔
اللہ نے یہ زمین کافروں کے لیے نہیں بنائی۔ آخرت کے ساتھ ساتھ زمین بھی مسلمانوں کے لیے ہی ہے۔
"جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر ۔" (سورۃ القصص آیت 77)
فقیری یہ نہیں ہے کہ پانی میں سوکھی روٹی ڈبو کر کھائیں جبکہ آپ بہترین کھانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھا کپڑا پہننا پسند فرماتے تھے۔
خوشبو لگانا انہیں پسند تھا اور دوسرے ممالک سے تحائف کے طور پر آئی امپورٹڈ پرفیومز شوق سے استعمال کرتے۔
عمدہ گوشت اور عمدہ کھجور مرغوب تھیں۔
اسراف کی تعریف ہر شخص کی حیثیت کے حساب سے مختلف ہو جاتی ہے۔
اللہ نے کسی کو زیادہ دے کر آزمایا ہوا ہے اور کسی کو کم۔
جس کے پاس زیادہ ہے وہ شکر کریں، دوسروں پہ خرچ کرے۔ ماتحت کے جائز پیسے وقت پہ ادا کرے، اخلاق و انکساری سے پیش آئے، بے جا اسراف نہ کرے اور خوامخواہ کنجوسی بھی نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ سب کے معاملات آسان فرمائے آمین۔
جویریہ صدیقی
23/05/2024
اگر ابھی تک آپ نے آڈر نہیں کیا تو دیر مت کریں اور آڈر کے لیے
03366796555 ملائیں
18/05/2024
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شروع اللہ کے نام سے جو نہایت رحمٰن اور رحیم ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ ہر کام کا آغاز اللہ کے نام سے کیا جائے۔
اللہ تعالی کے 99 نام ہیں اور بسم اللہ میں یہی دو نام کیوں شامل کیے گئے اور ان کا کیا مطلب ہے آج اس پہ غور کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہر نام کا ترجمہ کرنا بہت مشکل ہے اب الرحمٰن اور الرحیم کا ترجمہ عام طور پر ایسے کیا جاتا ہے 'بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا۔'
مہربان وہ ہوتا ہے جو مہربانی کرے یعنی ہمدردی کرے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مہربانی کرنے والا اور رحم کرنے والا ایک ہی معنی کے دو الفاظ ہیں۔
لیکن یہ اللہ کے دو مختلف نام ہیں اور عربی کا قاعدہ ہے کہ جب دو نام ایک ساتھ لیے جائیں تو ان کا معنی ایک نہیں ہوتا۔
الرحمن اور الرحیم میں کچھ چیزیں ایک جیسی ہیں اور کچھ مختلف۔ ہمارے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ان میں کیا فرق ہے اور بسم اللہ کے ساتھ یہی دو نام لگانا کیوں ضروری ہیں۔
جو ان دونوں میں ایک جیسا ہے وہ ہے ان دونوں کا ماخذ یعنی روٹ ورڈ اور وہ ہے ر۔ ح۔ م۔
'رحم' کو عام طور پہ ہم ترس کھانے کے معنوں میں لیتے ہیں۔
جیسے کہ کسی سزا یافتہ مجرم پر ترس کھا کر اس کی سزا معاف کر دی جائے یا کسی تکلیف اور قابل رحم حالت جانور کے اوپر ترس کھا کر اس کو آرام پہنچا دیا جائے۔
جبکہ عربی زبان میں لفظ رحم کا تعلق ترس کھانے سے نہیں بلکہ ماں کی کوکھ سے ہے۔ حدیث قدسی ہے کہ
"میں اللہ ہوں، میں رحمان ہوں، میں نے رشتہ و قرابت کو پیدا کیا ہے اور اپنے نام رحمٰن کے مادہ سے نکال کر اس کو رحم نام دیا ہے، پس جو اسے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا، اور جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑ دوں گا۔" ( سنن ابی داؤد 1694)
دنیا میں جتنے تعلقات ہیں وہ دو طرفہ ہوتے ہیں۔
ایک انسان دوسرے سے محبت کرے اور جواب میں وہ آپ کی تذلیل کرے یا مذاق اڑائے تو وہ محبت مرجھا جاتی ہے۔
محبت کی حفاظت کرنی پڑتی ہے اسے پالنا پڑتا ہے۔
لیکن ماں کے اندر پلنے والے بچے کے لیے ماں کی محبت بہت عجیب ہوتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ ماں کے پیٹ میں بڑھتا جاتا ہے تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔ پیٹ کا درد، کمر کا درد، خوراک کی کمی وغیرہ ۔
پھر اس ماں کو بچے کی خاطر چیرا لگایا جاتا ہے، کتنے لیٹر خون بہ جاتا ہے اور جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کوئی ماں اپنے بچے کو یہ نہیں کہتی کہ تمہاری وجہ سے مجھے یہ تکالیف پہنچی اس لیے میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔
بلکہ وہ فورا بچے کو دودھ پلانا شروع کر دیتی ہے جس سے بعض اوقات مزید تکلیف ہوتی ہے۔
اس کے بعد بھی وہ اسے دنیاوی تکلیف سے بچانے کے لیے سرگرداں ہو جاتی ہے۔ بستر سے گر نہ جائے، بچے کا سر میز کے کنارے سے نہ ٹکرا جائے یا کوئی کانچ کی بوتل اس کی پہنچ میں نہ پڑی ہو وغیرہ۔ بچے کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ مجھے بچایا جا رہا ہے۔
بچے کی ضروریات بغیر مانگے پوری کی جا رہی ہوتی ہیں بغیر کرایہ دیے وہ استحقاق سے رہتا ہے۔
اس مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے رحم کو سوچیں۔ اللہ تعالی دیتا ہے اور حفاظت کرتا ہے بغیر مانگے، ہر پل، ہر لمحہ اور مستقل جس کا ہمیں اندازہ تک نہیں۔
ہم اوپر سے، نیچے سے، دائیں سے، بائیں سے اللہ کے رحم میں ایسے ہی لپٹے ہوئے ہیں جیسے بچہ ماں کی کوکھ میں لپٹا ہوتا ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ دونوں میں مختلف کیا ہے۔
عربی گرامر کی رو سے جن الفاظ کے اخر میں 'ان' آئے جیسے جوعان (بھوکا) عطشان (پیاسا) وغیرہ تو تین چیزیں ہوتی ہیں۔
پہلی یہ کہ ایسا لفظ کسی نہایت شدید حالت کے لیے بولا جاتا ہے یعنی شدید پیاسا یا شدید بھوکا۔
اسی تناظر میں الرحمن سے مراد شدید محبت کرنے والا اور شدید خیال رکھنے والا۔
دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم جب ہم اس خوبی کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اسی وقت ہو رہی ہوتی ہے مثلا ہم کہتے ہیں کہ باہر طوفان ہے تو اس کا مطلب ہے کہ طوفان اس وقت آ رہا ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص اس وقت خیرات کر رہا ہے تو اس کے لیے جو لفظ عربی میں استعمال ہوگا اس میں اخر میں 'ان' آئے گا اور ایک شخص جو مستقل مخیر ہے اس کے لیے دوسرا لفظ استعمال ہوگا۔
یعنی جب ہم رحمان کو پکارتے ہیں تو اسی وقت اس کی رحمت حرکت میں آتی ہے۔ یہ قاعدہ اردو میں موجود نہیں ہے اس لیے یہ سمجھنا ذرا مشکل ہے۔
تیسرا یہ حالت یا خوبی مستقل نہیں ہوتی۔ طوفان ایک مقررہ مدت کے لیے آتا ہے پھر رک جاتا ہے۔ پیاسا پانی کے ملنے کے بعد پیاسا نہیں رہتا۔ کھانا بھوک دور کر دیتا ہے۔
یعنی رحمٰن ایسی شدید رحمت کرنے والی ذات ہے جسے جب پکارو اسی وقت اس کی رحمت حرکت میں آتی ہے اور وہ مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے، کوئی چیز اس رحمت کو آپ سے دور کر سکتی ہے۔
اور الرحیم وہ خوبی ہے جو ہمیشہ موجود رہتی ہے چاہے وہ فوری نظر نہ بھی آئے جیسے اگر ایک شخص قابل اعتبار ہے یا شریف ہے تو یہ اس کی مستقل خوبی ہے چاہے وہ سو رہا ہے اور کوئی ایسا کام نہیں کر رہا جس سے اس کی شرافت ظاہر ہوتی ہے پھر بھی وہ مستقل خوبی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ رحمان اللہ کی وہ صفت ہے جو تمام انسانیت کے لیے ہے، فوری زمانہ حال کے لیے ہے۔ جیسا کہ سورۃ الرحمٰن میں اللہ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو تمام انسان اور جنات کے لیے ہے۔ جبکہ رحیم اللہ صرف مومنین کے لیے ہے۔ آج بھی اور روز قیامت بھی۔
اب کسی کام کو بسم اللہ سے شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ سے اس کی رحمت کے طلب گار ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ اپنی شدید رحمت فوری طور پہ اس کام میں شامل کر دیں اور بعد میں بھی اس کی وجہ سے ہم پر رحمت اپنی برقرار رکھ۔ آمین
جویریہ صدیقی
15/05/2024
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یخنی پلاؤ پاکستان کا ایک مرغوب پکوان ہے جس میں سادہ پانی میں چاول پکانے کی بجائے چکن کی یخنی میں پکائے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یخنی کا ذائقہ چاول کے اندر تک اتر جاتا ہے۔
دوسری طرف تیز لال مرچ اور مصالحے دار کھانوں سے پرہیز کرنے والے سبزیوں کے دلدادہ چائینز رائس یا چکن فرائیڈ رائس کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن فرائی کیے گئے چاول میں یخنی کا مزہ نہیں۔
اب ہم لا رہے ہیں یخنی پلاؤ اور چائنیز رائس کا خوبصورت امتزاج یعنی چائنیز پلاؤ۔ جو آج سے پہلے آپ نے نہیں کھایا ہو گا۔
چکن کی یخنی میں تیار کردہ گھر کا بنا صاف ستھرا سبزیوں والا پلاؤ اب آپ کے گھر کے قریب نہایت مناسب قیمت میں دستیاب۔
کل سے انشاء اللہ باقاعدہ آغاز۔
یہ آفر صرف پی-ڈبلیو-ڈی، پاکستان ٹاؤن، سی بی آر، سواں گارڈن اسلام آباد اور اردگرد کی سوسائٹیوں کے لیے محدود ہے۔
پیشگی آڈر کے لیے آج ہی اس نمبر پہ رابطہ کریں۔
0336-6796555