شانی گجر پاکستان آ رہا ہے 😈🏐😈🔥. Follow page 😈. 🏐 Aya Loko Shani aya
Shooting vollyball Islamabad
page ko like lazmi karna
thanks���
love you � ho Gya
20/05/2022
🌴🌺⭐ شوٹنگ والی بال اورخوشگوار یادیں⭐🌺🌴
بہت اچھا وقت تھا جب ہم زیادہ تر پیدل سفر کرکے شوٹنگ والی بال کے میچ دیکھنے جاتے تھے کیونکہ اسوقت سواری کے وسائل نہیں تھے,کلورکوٹ, قائدآباد, نورپور تھل
رنگپور,پپلاں,تک تو پیدل سفرکرکے میچ دیکھنے جاتے تھے اگر زیادہ سفر ہوتاجیسےمیانوالی,سرگودھا,خانیوال تو پھر بسوں پر سفر کرتے تھے, اس وقت بسوں پر مالک فخریہ لکھواتے تھے 30 میل فی گھنٹہ رفتار حالانکہ 30 میل فی گھنٹہ کبھی چلی نہیں تھیں, بسوں کی سیٹیں لوہے اور لکڑی کے پھٹوں سے بنی ہوئ ہوتی تھیں, آج کی طرح آرام دہ سیٹیں نہیں تھیں,اس وقت بسوں میں پانی کیلیئے گھڑے پرانے ٹائر پر رکھے ہوئے ہوتے تھے, والی بال کی بات میں سفر کی بات آگئ,آج کی آرام دہ اے.سی لگی کاروں میں سفر کرنے والوں کو گیم کی کیا قدر ہوگی, اُس وقت اگر کوئ مشہور کھلاڑیوں کا میچ ہوتا تھا تو لوگ صبح
سویرے جا کر گراؤنڈ کے اِردگرد اپنی جگہ بنا کر بیٹھ جاتے تھے کیونکہ بعد میں بہت رش ہو جاتا تھا,اسٹیڈیم نہیں تھے,برابر کے میدان ہوتے تھے,اسوقت مشہورکھلاڑی صادق شیخ اورعابدشیخ جو سابق DSP اقبال ظفرعرف بالاپپلاں
والا کے ماموں تھے, ملک محمد زمان خالقی اعوان, سردار عبدالحئ خان,فلک شیر مچڑ آف خانیوال,جہان خان روڈی والا, ملک نصیر اعوان, ملک کٹمیر بگھور, اور بھی کافی مشہور کھلاڑی تھے, اسوقت نیٹ 8 فٹ کی اونچائ پرہوتا
تھا, تھری ٹچ گیم ہوتی تھی,والی بال کا سائز آج کے والی بال سے دوگنا ہوگا,والی بال تسموں والا ہوتا تھا,بلیڈر والی بال میں ڈال کر ہوا بھری جاتی اور پھر تسمے کھینچ لیئے
جاتے, پورے دن کے میچ میں کوئ پانچ چھ کامن بال پر شمائش کی جاتی تھی باقی سب دو ہاتھ شوٹر تھے,ہم اس وقت سمجھتے تھے کہ پاکستان میں صرف سرگودھا, بھکر میانوالی, خوشاب, لیہ, اور خانیوال میں شوٹنگ والی بال کھیلی جاتی ہے, باقی علاقوں کا علم نہیں تھا, اس وقت
آج کے دور کی طرح کھلاڑیوں کا فیلڈ میں کھڑے ہونے کا
طریقہ نہیں تھا کہ چار آگے اور چار پیچھے اور ایک نیٹ
مین بلکہ اسوقت تین کھلاڑی آگے ہوتے تھے ایک نیٹ مین
اور دو جھنڈیاں ,ان کے پیچھے تین کھلاڑی ہوتے تھے ,ایک
سنٹر مین اور دو سائیڈاں, ان کے پیچھے تیسری لائن میں
تین کھلاڑی ہوتے تھے ایک بیک سنٹر اور دو بائیکی یا انکو
بایکاں کہا جاتا تھا,اقبال ظفر عرف بالا پپلاں والا اور خان
مقبول خان کے دور میں کچھ تبدیلی آئ ,یہ دونوں نامور
کھلاڑی اپنے سنٹرمین کی نسبت نیٹ مین کے زیادہ قریب
کھڑے ہوتےتھے اور چھوٹے بالوں پر سُمائش کرتے تھے,بیک
سے سُمائش کا تصور بھی نہیں تھا,مہرالطاف حسین ملاح
بیک سے سُمائش کرنے والا پہلا کھلاڑی تھا,اقبال ظفر عرف
بالا پپلاں والا کا سنٹر مین عصمت اللہ خان داؤدخیل تھا
جبکہ مقبول خان کا سنٹرمین عنایت اللہ خان خنانخیل تھا
ان سے پہلے تو شوٹنگ والی بال میں کھلےہاتھ کا بال فاؤل
ہوتا تھا,لیکن نیٹ مین کا نکالا ہوا تیسرا بال بغیر جمپ کے
دو ہاتھ سے مارا جا سکتا تھا, جسکو دو ہتھڑ کہتے تھے اگر
دو پاؤں زمین سے اٹھ جاتے تو فاؤل ہوتا تھا,پاؤں کا زمین
سے ٹچ ہونا ضروری ہوتا تھا,اقبال ظفرعرف بالا,مقبول خان
جعفر راہداری,عنایت اللہ خان ,حبیب اللہ خان ,عصمت اللہ خان,ظفر اللہ خان,سیدسخاوت شاہ , راناعبدالغفارایڈوکیٹ محمد خان انگرا,جیسےکھلاڑی آئے,فلک شیرمچڑ,اقبال ظفر اور مقبول خان کے دور میں بھی کھیلتا رہا,اس کے بعد عبدالرحیم چاوڑہ,الطاف ملاح ,مہر امجد لک, عارف جوئیہ محمدریاض کلیار, رانارمضان , عباس اولکھ ,مشتاق پی ٹی ٹی,قیصر پپلاں والا, الطاف روڈی والا ,اقبال راہداری,احمد حسین بھٹی,محمد خان اوچھالی والا الطاف شیخ,مشتاق جوئیہ,ریاض بھٹو,شکیل,احمدسعید مدنی, عبدالغفار ڈوڈا محمد حسین بھڈوال,میضل بگھور,اقبال بگھور,عامر خان بلوچ ,یونس چوکیرہ والا ,رفیع اللہ خان, غلام محمداعوان
بہرحال ان میں سے کافی کھلاڑی اپنے عرو ج پر تھے تو فوجی محمدیونس راشد کہوٹے والا, رمضان بڑینگ, سمیع تلہ گنگ والا, عباس چینی, آصف سرانڈی والا ,پرویز خان بلوچ,عنصر بلوچ,صدام حسین,سخاوت گجر,حاجی محمد خان اعوان آف نواں, گدا حسین بھڈوال, ولید رضا شاری حافظ غضنفرجہلم والا حاجی نویدبھٹہ , نورحیات کھرل, فیصل بھٹی, اختر بلوچ,یارن اعوان, فاروق نون, محسن فاروق, اسجد گجر, محمد افضل بھروکہ, عامر آف بندیال
غلام فرید آف ماڑی, محمودالحسن گنجیال, ولایت حسین
عباس چدھڑ,عصمت اللہ وتہ خیل, حسنین اور بھی کافی پلیئر آگئے,ان کا دور ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ شانی گجر عامر شہزاد سراء, کمال الدین گجر, علی گجر, ناصراعوان نویدوڑائچ , بلال وڑائچ, چوہدری زاہدکرنانہ, سائیں احسن
منہاس اسلم گوندل,محمد وقار موہل,حسنین مرزا, کامران منا,وحید بھچر,عرفان گوندل, ذوالفقار کمال گجر,ذوالفقار زلفی پربانہ, ارشدجھکڑ ,عنصرڈتوری, رانا سہیل ,کلیم اللہ
خالق یارلک,حاجی باری جان,صداقت بلوچ,ملک سلیم رضا بھڈوال, رمضان کھوکھر,سنی شاہ,عاقب اعوان,آصف خان پٹھان,چوہدری عبدالباسط ,درویش بخاری, سیف اللہ بلوچ
خالد دھت,شہادت حسین,طاہرسلیم لونا, رؤف لونا ,کاشف لونا,عاطف لونا,چوہدری حامد گجر,مزمل,فیصل شاہ,مانی بمب,جنیدخان,ابوبکر روشن اور بہت سےکھلاڑی آگئے,جس
کی وجہ سے شوٹنگ والی بال کی طویل تاریخ میں کافی نامور کھلاڑیوں کےنام لکھنے سے رہ گئے ہوں گے اور ترتیب
میں بھی خامیاں ہوں گی,کیونکہ کچھ کھلاڑی زیادہ وقت کھیلتے رہے تھے اور کچھ کم, بہرحال یہ شوٹنگ والی بال کی مختصر کہانی ہے,ویسے تو سب کھلاڑی اپنی اپنی جگہ بہت اچھے نامور کھلاڑی تھے لیکن کچھ کھلاڑیوں میں ایسی خاص بات تھی جو انکی شہرت کا سبب بنی, جعفر راہداری لیفٹ ہینڈ جھنڈی کا پلیئر تھا لیکن اپنےخوبصورت سٹائل کی وجہ سے انتہائ شہرت حاصل کی, پرویز بلوچ دو ہاتھ شوٹر تھا,لیکن اپنی تیز شاٹ اور خوبصورت انداز کی وجہ سےانتہائ شہرت حاصل کی,خان پرویز خان بلوچ شوٹنگ والی بال کی تاریخ کا آخری شوٹر تھاجس کی شاٹ
میں سُمائش سے زیادہ فورس اور پاور تھی ,رانا رمضان
,سمیع اور عنصر بلوچ جمپ کے ساتھ دو ہاتھ سُمیشر تھے
ریاض کلیار آتے بال کو ہوڑنا مارنے کےماہر مشہور تھے,نوید بھٹہ,کلیم اللہ اورفیصل بھٹی نےڈیفنس میں شہرت حاصل کی, رفیع اللہ اور محمد خان اوچھالی والا نیٹ کے ساتھ چھوٹا بال مارنے کے ماہر تھے, نیٹ کے ساتھ اٹھتا ہوا بال حاجی محمد خان نواں والے جیسا کوئ نہیں مار سکے گا گا,جمپ کے ساتھ بیک سے سُمائش کا آغاز الطاف ملاح نے
کیا,جبکہ بغیر جمپ کےبیک سے سُمائش کا آغاز الطاف خان
روڈی والا نےکیا,لیکن شوٹنگ والی بال پر مکمل حکمران دو
کھلاڑی آئےاوردونوں بہت کم عرصہ کھیلے,والی بال ان کی محتاج تھی,وہ والی بال کے محتاج نہیں تھے, عامر خان بلوچ اور ذیشان شانی گجر,عامر بلوچ اپنی ٹانگ کے زخمی ہونے کی وجہ سے اور ذیشان شانی گجر یورپ جانے کیوجہ سے,دونوں اپنے اپنے وقت کے بہت بڑے پلیئر تھے, والی بال پر اپنی مرضی سےگیم کرتےتھے,شانی گجر تیسرا بال مارنے کیلیئے لائن سے15فٹ پیچھےجا کرکھڑا ہوتا تھا,لیکن والی بال میں شہرت سب سے زیادہ چوہدری محسن فاروق کو ملی,ایک بہت ہی اچھا کھلاڑی تھا,بہت ہی اچھے مزاج اور دل کا مالک,پھر ظالمانہ طریقے سے قتل ہوا, شہید ہونے کے
دن سے لیکر آج تک ایسا کوئ دن نہیں گزرا کہ فیس بک پر
کسی نہ کسی حوالے سے اسکا ذکر سنا یا دیکھا نہ ہو , اللہ
پاک مرحوم کو جنت الفردوس عطا فرمائے, آج کل چوہدری
عبدالباسط کلب کوجیت اورمقبولیت کے لحاظ سے دوسرے
کلبز پرفوقیت حاصل ہے,بہت کم وقت میں زیادہ کامیابیاں
حاصل کرچکا ہے.........باقی باتیں پھر کبھی......
دعاگو: ذوالفقار راجوخیل
20/05/2022
🌺⭐ .چوہدری زاہد مظہر کرنانہ سموٹ کلب ⭐🌺
20مئ2022ء VS..سپر6عباس علمدار اسٹیڈیم حافظ آباد
21مئ2022ءVS.... سپر 6....کانجواسٹیڈیم ضلع چنیوٹ.
23مئ2022ءVS......سپر 4...کھمب کلاں منڈی بہاؤالدین
25مئ2022ءVS....سپر 4........مٹھا عاکوکا ضلع بہاولنگر
27مئ2022ءVS....فیصل بھٹی کلب.... ڈڈیال آزاد کشمیر
28مئ2022ءVS.....سپر 3....اڈہ ٹھٹہ ہریاں ضلع چنیوٹ
1جون2022ء VS..باسط کلب کھوئیرٹہ کوٹلی آزاد کشمیر
2جون2023ءVS .....سپر 4.......نورپور تھل ضلع خوشاب
دعاگو: ذوالفقار راجوخیل
Copied
Aya logo ISLAMABAD club🏐 . Captain Hasnat kiyani urf latoo
14/05/2022
New setting gujjer club . Lakh lakh mubaraka and best of luck 🤞🤞 hi
14/05/2022
Zaroor ellan .sab bahi page ko FOLLOW Kary🥰
13/05/2022
Shooting vollyball world cup
13/05/2022
Good wishes
13/05/2022
بلوچ کس کس کا فیورٹ پلیر ہے؟
13/05/2022
Comment plz 🏐🏐🏐🏐🏐🏐
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
12 D Weat
Islamabad
123