04/06/2026
اگر آپ car lover ہیں اور اس شخص کو نہیں جانتے تو حیرت کی بات ہے خاص طور پہ اگر آپ پاکستانی ہیں۔کیونکہ پاکستان میں آنے والی آج تک کی سب سے خوبصورت گاڑی ہنڈا سوک ایکس (Honda civic X 10th generation) ہے۔اور عالمی سطح پر ہونڈا سوِک X (دسویں جنریشن)کی 2016 سے 2021 کے درمیان تقریباً 80 لاکھ سے 1 کروڑ یونٹس فروخت ہوئے۔ پاکستان میں بھی اس جنریشن نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، جہاں اس کی مقامی فروخت اور درآمد شدہ گاڑیوں کی مجموعی تعداد اس کے دورِ حیات میں ڈیڑھ لاکھ (150,000) سے زائد یونٹس تک پہنچ گئی۔جیرڈ ہال Jarad Hall کا تعلق لاس اینجلس امریکہ سے ہے۔انہوں نے اپنی پروفیشنل زندگی کی شروعات پستول والے کھلونوں کے ڈیزائن اور ہاٹ وہیل (چھوٹی گاڑیوں کے کھلونے) کی ڈیزائیننگ سے کی۔ کس نے سوچا تھا ایک دن اتنے خوبصورت ڈیزائن کی ہنڈا سوک گاڑی وہی بنائیں گے۔
25/05/2026
امریکہ میں 1920 میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت شراب کی تیاری، فروخت اور نقل و حمل پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس دور کو "Prohibition Era" کہتے ہیں۔
سیئٹل اور کینیڈا کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سمگلنگ بہت عام تھی۔ غیر قانونی شراب بنانے اور بیچنے والوں کو *"بوٹلیگرز" Bootleggers* کہا جاتا تھا۔
"Heifer-Heels" کیا ہیں؟
تصویر میں دکھائے گئے جوتے اصل میں لکڑی کے بنے ہوئے اوزار ہیں جو عام جوتے کے نیچے باندھے جاتے تھے۔ ان کی شکل گائے کے کھُر Hoof کی طرح بنائی گئی تھی۔
انہیں *Heifer-Heels* یا *Cow Shoes* کہا جاتا تھا۔ Heifer کا مطلب ہے کم عمر گائے۔
بوٹلیگرز اکثر رات کو جنگلوں، کھیتوں اور پہاڑی راستوں سے شراب سمگل کرتے تھے۔ پولیس جب ان کا پیچھا کرتی تو زمین پر انسانی قدموں کے نشانات سے انہیں آسانی سے ٹریس کر لیتی تھی۔
اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے انہوں نے یہ جوتے ایجاد کیے۔ ان جوتوں سے چلنے پر زمین پر گائے کے کھُر جیسے نشان بنتے تھے۔ پولیس یہ سمجھتی تھی کہ یہاں سے مویشی گزرے ہیں، انسان نہیں۔ اس طرح بوٹلیگرز ٹریسنگ سے بچ جاتے تھے۔
22/05/2026
⚠️ Public Awareness Regarding JAECOO J7 PHEV Maintenance Cost
I would like to share a serious concern regarding the maintenance and spare parts cost of the newly launched JAECOO J7 PHEV in Pakistan.
After a recent accidental damage assessment, the authorized dealership provided an estimated repair quotation exceeding PKR 7.1 Million including taxes for parts replacement and restoration only.
What is alarming is that this estimated repair cost is approximately 70% of the vehicle’s market value, despite the vehicle being relatively new in the market.
Some of the quoted components include:
• Front seats with airbags: ~PKR 986,000 each
• Airbag controller & airbags: Hundreds of thousands
• Bonnet: ~PKR 300,000
• Headlight: ~PKR 334,000
• Front door: ~PKR 352,000
• Windscreen: ~PKR 232,000
• Multiple sensors, trims, bumpers, and electronic modules at extremely high prices
This raises serious questions regarding:
• Spare parts pricing strategy
• Availability and localization of components
• Insurance viability
• Long-term ownership sustainability
• Resale and accident recovery economics
While the vehicle may offer premium features and attractive styling, potential buyers should carefully evaluate after-sales support and repair economics before making a purchase decision.
A vehicle should not become financially irrecoverable after a moderate accident.
I strongly advise customers, fleet owners, and corporate buyers to thoroughly assess maintenance risks, spare part costs, and insurance implications before investing in newly launched imported hybrid platforms with limited localization.
Posting this purely in the interest of consumer awareness and informed decision-making.
20/05/2026
جب باہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہو، تو دھوپ میں کھڑی گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ (تقریباً 55 سے 65 ڈگری سینٹی گریڈ تک) پہنچ سکتا ہے۔ لیکن گاڑی کا رنگ اس درجہ حرارت کو کم یا زیادہ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تھرمل فزکس (Thermal Physics) کے اصولوں کے مطابق گاڑیوں کے رنگوں کا اثر درج ذیل ہوتا ہے:
1. سب سے زیادہ گرم ہونے والے رنگ (سب سے زیادہ درجہ حرارت)
کالا رنگ (Black): کالی گاڑی دھوپ میں سب سے زیادہ اور سب سے جلدی گرم ہوتی ہے۔ فزکس کا اصول ہے کہ کالا رنگ سورج کی روشنی (اور حرارت) کو 98% تک جذب (Absorb) کر لیتا ہے اور اسے واپس نہیں پلٹاتا۔
دیگر گہرے رنگ (ڈارک بلیو، گہرا گرے، مرون): یہ رنگ بھی روشنی کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔
نتیجہ: 40 ڈگری کی گرمی میں دھوپ میں کھڑی کالی گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 60 سے 65 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
2. سب سے ٹھنڈے رہنے والے رنگ (سب سے کم درجہ حرارت)
سفید رنگ (White): سفید رنگ کی گاڑیاں تپتی گرمی میں سب سے بہترین رہتی ہیں۔ سفید رنگ سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کے بجائے انہیں انعکاس (Reflect) یعنی واپس پلٹا دیتا ہے۔
دیگر ہلکے رنگ (سلور، ہلکا گرے، کریم کلر): یہ رنگ بھی سورج کی تپش کو زیادہ جذب نہیں کرتے۔
نتیجہ: سفید یا سلور گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت کالی گاڑی کے مقابلے میں 5 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوتا ہے۔
گاڑی کے شیشے اور اندرونی حصے (Interior) کا کردار
صرف گاڑی کا بیرونی رنگ ہی نہیں، بلکہ کچھ اور چیزیں بھی درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتی ہیں:
ڈیش بورڈ اور سیٹیں: اگر آپ کی گاڑی کا رنگ باہر سے سفید ہے لیکن اندر کا انٹیریئر (سیٹیں اور ڈیش بورڈ) کالے رنگ کا ہے، تو وہ بھی شیشوں سے آنے والی دھوپ کو جذب کر کے گاڑی کو اندر سے تندور بنا دے گا۔
گرین ہاؤس ایفیکٹ (Greenhouse Effect): گاڑی کے شیشوں سے دھوپ اندر تو آ جاتی ہے، لیکن اندر کی گرمی (Infrared radiation) باہر نہیں نکل پاتی۔ اسی لیے گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر کی 40 ڈگری کی نسبت ہمیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
05/05/2026
Dsp chaudhry Muhammad sarwar ride hours
05/05/2026
افریقہ میں کار امپورٹ اینڈ سیل بزنس پاکستانیوں کا سب سے مقبول بزنس ہے اکثر پاکستانی اس کاروبار سے جڑے ہیں جاپان امریکہ کینڈا سے امپورٹ کرتے ہیں۔
افریقہ کے تمام ممالک میں کار ڈیوٹی اور طریقہ کار میں فرق ہے مثلا یوگنڈا میں کار امپورٹ کر کے اپ شوروم میں کھڑی کر دیتے ہیں جب اسکا گاہک ملتا ہے تب ڈیوٹی پے کی جاتی ہے
جبکہ کینیا گھانا تنزانیہ میں ایسا نہیں ہے ٹوگو اور نائیجریا میں ڈیوٹی کم ہے۔
افریقہ کے اکثر ممالک میں بڑے کار شوروم پاکستانیوں کے ہیں پانچ سے دس سال پرانی کار امپورٹ کر کے سیل کی جاتی ہیں کچھ ممالک میں تین چار ماہ کی انسٹالمنٹ پر دی جاتی ہیں جبکہ گھانا میں موسٹلی کیش سیل کی جاتی ہیں
راجہ صاحب