Umar Draz
Athlete | Runner | Long Hiker
Running miles, hiking heights, loving nature
Chasing trekks, Lost in trails, found in nature. 🌿 Ad campaign management
4.
Hi,
👉Are you looking for an expert in Social media marketing to manage your personal or company Social Media accounts and increase targeted Audience and sales, Then I am here to provide you with quality work. I will help you grow your business with my social media management skills. My name is Umar, I'm a Social Media Marketing expert. I am an expert in creating, building, and managing social medi
15/04/2026
1955 کی بہار میں، اوہائیو کی 67 سالہ ایک دادی اماں نے اپنے بچوں سے کہا کہ وہ ذرا سیر کے لیے جا رہی ہیں۔
انہوں نے نہ یہ بتایا کہ کتنی دور جائیں گی، نہ یہ کہ کیوں جا رہی ہیں۔ بس سب کو الوداع کہا، ایک سادہ سا کپڑے کا تھیلا اٹھایا جس میں چند ضروری چیزیں تھیں، اور خاموشی سے جنگلوں کی طرف روانہ ہو گئیں۔
ان کا نام Emma Rowena Gatewood تھا — اور وہ ایک ایسا کارنامہ انجام دینے جا رہی تھیں جو اس سے پہلے کسی عورت نے نہیں کیا تھا۔
تین دہائیوں تک ایما نے اپنی زندگی میں ناقابلِ بیان ظلم برداشت کیا تھا۔ مار پیٹ، ٹوٹی ہوئی پسلیاں، سوجی ہوئی آنکھیں — اور ایک ٹوٹتا ہوا حوصلہ۔ انہوں نے اسی گھر میں اپنے گیارہ بچوں کی پرورش کی۔ بالآخر 1941 میں وہ اپنے شوہر سے الگ تو ہو گئیں، مگر دل پر لگے زخم کہیں زیادہ گہرے تھے۔
پھر ایک دن انہوں نے ایک رسالے میں ایک طویل پہاڑی راستے کے بارے میں پڑھا، جو Appalachian Trail کہلاتا ہے — ہزاروں میل پر پھیلا ہوا ایک دشوار مگر دلکش راستہ۔ تحریر پڑھ کر انہیں لگا کہ یہ کام ممکن ہے۔
انہوں نے دل میں سوچا: اگر مرد یہ کر سکتے ہیں، تو میں کیوں نہیں؟
مگر وہ جانتی تھیں کہ اگر کسی کو بتایا تو سب انہیں روکیں گے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے ارادے کو ایک دعا کی طرح دل میں چھپا لیا۔
انہوں نے خود ایک سادہ سا تھیلا سی لیا اور اس میں چند بنیادی چیزیں رکھیں: ایک کمبل، پلاسٹک کی چادر، ابتدائی طبی امداد کا سامان اور چند ہلکی پھلکی خوراک۔ نہ کوئی خیمہ، نہ سونے کا بیگ، نہ مضبوط جوتے — بس عام کپڑے اور سادہ جوتے۔
3 مئی 1955 کو وہ جارجیا پہنچیں اور Mount Oglethorpe سے اپنی تنہا پیدل سفر کا آغاز کیا۔
یہ سفر ویسا ہرگز نہیں تھا جیسا انہوں نے پڑھا تھا۔ راستہ بے رحم تھا۔ پتھروں اور جڑوں نے ان کے قدم زخمی کیے، بارش نے زمین کو کیچڑ بنا دیا، کیڑے مکوڑے مسلسل تنگ کرتے رہے۔ رات کو وہ ویران جگہوں پر ننگی زمین پر سو جاتیں، کبھی سردی سے کانپتی رہتیں۔
وہ راستہ بھٹک گئیں، ایک بار بری طرح گریں اور ٹخنہ مڑ گیا۔ ایک لمحے کے لیے لگا کہ شاید یہیں سفر ختم ہو جائے گا۔ مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری، زخم باندھا اور دوبارہ چل پڑیں۔
راستے میں ملنے والے لوگ اس بوڑھی عورت کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ کوئی اسے بھٹکی ہوئی سمجھتا، کوئی پاگل۔ کچھ لوگ مدد کی پیشکش کرتے، مگر وہ شکریہ ادا کر کے آگے بڑھ جاتیں۔
جب کوئی پوچھتا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی ہیں، تو وہ مسکرا کر کہتیں: “میں بس دنیا دیکھنا چاہتی ہوں۔” مگر ان کی آنکھوں میں ایک اور ہی کہانی چھپی تھی۔ یہ صرف سفر نہیں تھا — یہ اپنی زندگی کو واپس حاصل کرنے کا سفر تھا۔ ہر قدم انہیں اپنے ماضی سے دور اور خود کے قریب لے جا رہا تھا۔
ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ پاؤں زخمی ہو گئے، جسم تھک گیا، سورج نے جلد جلا دی — مگر وہ نہ رکیں۔
25 ستمبر 1955 کو ایما Mount Katahdin کی چوٹی پر کھڑی تھیں۔ انہوں نے 146 دنوں میں 2,168 میل کا سفر مکمل کیا تھا۔ وہ پہلی عورت تھیں جنہوں نے یہ پورا راستہ اکیلے ایک ہی سیزن میں طے کیا۔
جلد ہی ان کی کہانی ہر جگہ پھیل گئی۔ لوگ انہیں “گرینڈما گیٹ ووڈ” کے نام سے جاننے لگے۔ سب حیران تھے کہ ایک 67 سالہ خاتون نے بغیر تربیت اور کم سامان کے یہ کیسے کر دکھایا۔
مگر ایما نے اسے کوئی بڑا کارنامہ نہیں بنایا۔ وہ سادگی سے کہتیں کہ راستے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے — زیادہ نشانات اور کم پتھر ہونے چاہئیں۔
لیکن ان کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے 1957 میں دوبارہ یہ راستہ طے کیا، اور پھر 1964 میں، 76 سال کی عمر میں، تیسری بار یہ کارنامہ انجام دیا — اور یوں وہ پہلی شخصیت بن گئیں جنہوں نے یہ طویل سفر تین بار مکمل کیا۔
ایما کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل طاقت نہ سامان میں ہوتی ہے، نہ تیاری میں — بلکہ اس عزم میں ہوتی ہے کہ انسان ہار نہیں مانتا۔
Memories
18/09/2025
17/07/2025
کوہ پیمائی اور ٹریکنگ ایک مشکل شوق ہے۔ پاکستان کی آبادی کروڑوں میں ہے اور ان میں سے گنتی کے مرد و خواتین ہیں جو کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کو سمجھتے ہیں اور ہر سال چوٹیاں سر کرتے اور مشکل ٹریکس سر انجام دیتے ہیں۔ پھر ہم جیسے لوگ آتے ہیں جو ان مثالی لوگوں کو دیکھتے اور سراہتے ہوئے اپنی ہمت و بساط کے مطابق چھوٹے ٹریکس کر کے اپنی روح کو سیراب کرتے ہیں۔ یہ کام شدید ہمت و جذبے والا ہے جو جوانوں کو جچتا ہے لیکن کچھ مجھ جیسے من چلے بھی ہوتے ہیں جو عمر کو پسِ پشت ڈال کر اپنی ہمت آزمانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
کوہ پیمائی اور ٹریکنگ جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں آپ فطرت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ معمولی چوٹوں کو بالائے طاق رکھ کر سخت موسم اور مشکل حالات میں آگے بڑھتے ہیں اور اپنی ہمت و طاقت کو آخری حد تک آزماتے ہیں۔ ایسے میں کئی بار موت کے منہ سے واپسی ہوتی ہے لیکن ہمت اور ارادے متزلزل نہیں ہوتے ہیں۔ جب انسان ایسے حالات سے نبرد آزما ہو کر آئے تو اس کے اندر سے کینہ، حسد، بغض اور مقابلہ آرائی جیسی بیماریاں ختم ہو جانی چاہیں۔
ہر کوئی عمر، جسمانی ساخت، ہمت، طاقت، جذبے اور میسر وسائل کی وجہ سے دوسرے سے مختلف ہے۔ اس لیے کسی ایک کا دوجے سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ جس کو جو موقع اور کامیابی میسر آئے وہ اسے جی بھر جئیے نہ کہ اسے دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرے۔ کون جانے اگلے سیزن میں قسمت اور صحت اجازت ہی نہ دے۔ کھیل اور شوق ذاتی خوشی اور ذہنی سکون کے لیے اپنائے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد دکھاوا یا مقابلے بازی نہیں ہونا چاہیے۔ چند بڑے ناموں کو چھوڑ کر آپ کا بنایا ایک دو ریکارڈ چند دنوں میں لوگ بھول جائیں گے۔ کامیابی کی صورت میں رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ مزید لوگ اس شوق کو اپنائیں۔
Copied.....
02/04/2025
1972 میں، ایک فرانسیسی سائنسدان نے خود کو 440 فٹ زیر زمین، ایک گھپ اندھیرے غار میں 180 دن کے لیے بند کر لیا۔
کوئی روشنی نہیں۔
کوئی وقت نہیں۔
کوئی انسانی رابطہ نہیں۔
اس نے انسانی ذہن کے راز جاننے کی کوشش کی— اور جو کچھ اس نے دریافت کیا، وہ واقعی وقت کو موڑ دینے والا تھا۔
میشل سیفر ایک جیولوجسٹ اور محقق تھے، جو انتہائی حالات میں انسانی حیاتیات کو سمجھنے کے لیے جنون کی حد تک متجسس تھے۔
وہ یقین رکھتے تھے کہ انسانی ذہن کو سمجھنے کی کنجی وقت سے اس کے تعلق میں پوشیدہ ہے۔
اس نظریے کو جانچنے کے لیے، انہوں نے ایک حیران کن تجربہ کیا۔
سیفر نے مکمل تنہائی میں، ایک غار میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
کوئی گھڑی نہیں
کوئی سورج کی روشنی نہیں
وقت کا کوئی اندازہ نہیں
وہ یہ جاننا چاہتے تھے:
• مکمل تنہائی میں انسانی دماغ کی کیا حالت ہوتی ہے؟
• جب کوئی فطری وقت کے چکر سے کٹ جائے تو کیا ہوتا ہے؟
دنیا نے انہیں پاگل قرار دیا۔
1972 میں، سیفر 440 فٹ زیر زمین ایک غار میں اُتر گئے۔
باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں
دن اور رات کا کوئی پتہ نہیں
بس وہ، ایک سلیپنگ بیگ، اور زندہ رہنے کے چند اوزار
اندھیرا مکمل تھا۔
خاموشی بہرا کر دینے والی تھی۔
شروع میں، سیفر نے اپنی روٹین برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بھوک اور تھکن کو سونے اور کھانے کے اوقات کا تعین کرنے دیا۔
لیکن وقت کی کوئی رہنمائی نہ ہونے کے باعث…
ان کا وقت کا احساس بگڑنے لگا۔
گھنٹے منٹوں جیسے لگنے لگے
دن آپس میں گڈمڈ ہو گئے
ان کی ذہنی حالت تیزی سے بگڑنے لگی:
• وہ سائے اور آوازوں کے ہیلوسینیشن (فریب نظر) کا شکار ہو گئے
• انہیں یقین ہونے لگا کہ غار میں ان کے علاوہ بھی کوئی موجود ہے
• ان کے خیالات افراتفری کا شکار ہو گئے
تنہائی ان کے ذہن کو توڑ رہی تھی۔
اوپر زمین پر، ان کی ٹیم ہر چیز کا مشاہدہ کر رہی تھی۔
انہوں نے سیفر کی سرگرمیوں کو اصل وقت سے موازنہ کیا۔
اور نتائج چونکا دینے والے تھے:
سیفر حقیقت سے مکمل کٹ چکے تھے۔
2 ماہ بعد، جب انہیں لگتا کہ 24 گھنٹے گزر چکے ہیں،
حقیقت میں تقریباً 48 گھنٹے گزر چکے ہوتے۔
ان کا اندرونی وقت کا نظام شدید متاثر ہو چکا تھا۔
ان کے جسم نے نئے وقت کے چکر بنا لیے:
• 36 گھنٹے جاگنا
• 12 گھنٹے سونا
یہ دریافت سائنسدانوں کے لیے حیران کن تھی۔
انسانی جسم قدرتی طور پر 24 گھنٹے کی سرکیڈین رِدم (circadian rhythm) پر چلتا ہے، جو سورج کی روشنی کے زیر اثر ہوتی ہے۔
لیکن جب روشنی ہی نہ ہو…
تو انسانی دماغ اپنا وقت خود تخلیق کرنے لگتا ہے۔
یہ تجربہ اس بات کا ثبوت تھا کہ
وقت صرف بیرونی چیز نہیں—
یہ انسانی دماغ کے اندر بھی موجود ہے۔
لیکن اس دریافت کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔
ہفتے مہینوں میں بدلے، اور سیفر کی ذہنی حالت مزید بگڑ گئی:
• وہ جملوں کے بیچ میں الفاظ بھولنے لگے
• وہ عام حقائق یاد رکھنے میں ناکام ہو گئے
• ان کے جذبات شدید جھول کھانے لگے—کبھی خوشی، کبھی شدید اداسی
تنہائی ان کا دماغ بدل رہی تھی۔
سیفر نے بعد میں اس تجربے کو
"آہستہ آہستہ پاگل پن کی طرف جانے" سے تشبیہ دی۔
• وہ کیڑوں سے باتیں کرنے لگے
• انہیں اپنی ہی آواز میں سکون محسوس ہوتا
• لیکن خاموشی ہمیشہ واپس آ جاتی، ظالمانہ اور بے رحم
180 دن بعد، سیفر کو غار سے نکالا گیا۔
ان کے مطابق 151 دن گزرے تھے۔
انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے اتنا وقت کھو دیا۔
یہ ثابت ہو چکا تھا:
• وقت صرف ایک بیرونی حقیقت نہیں، یہ کچھ ایسا بھی ہے جو دماغ خود بناتا ہے۔
• تنہائی اور حسی محرومی (sensory deprivation) اس صلاحیت کو بگاڑ دیتی ہے، اور ذہنی بے ترتیبی پیدا کرتی ہے۔
یہ تجربہ سائنسی دنیا میں انقلاب لے آیا۔
سیفر کی تحقیق نے کئی شعبوں کو متاثر کیا:
✅ سرکیڈین رِدم (Circadian Rhythm) کی سائنس
✅ خلائی سفر (خلا میں تنہائی کے اثرات)
✅ قیدِ تنہائی کے ذہنی اثرات
لیکن اس تجربے کی قیمت بہت بھاری تھی۔
• سیفر کو ہمیشہ کے لیے یادداشت کے مسائل لاحق ہو گئے
• ان کی ذہنی صحت کو برسوں لگے بحال ہونے میں
• انہوں نے کہا کہ وہ غار "ایک نہ ختم ہونے والی رات" کی مانند تھا، جو عمر بھر ان کا پیچھا کرتی رہی
لیکن…
انہوں نے ہار نہیں مانی۔
سیفر نے بعد میں دوبارہ تنہائی میں جانے کا تجربہ کیا تاکہ اپنے نتائج کو دوبارہ پرکھ سکیں۔
ان کی تحقیق نے نیند، دماغی وقت، اور انسانی نفسیات کے مطالعے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
لیکن انہوں نے ایسے سوالات چھوڑے، جن کے جوابات آج بھی تلاش کیے جا رہے ہیں:
وقت کیا ہے؟
کیا یہ صرف بیرونی دنیا کی حقیقت ہے—
یا کچھ ایسا، جو انسانی دماغ خود تخلیق کرتا ہے؟
سیفر کے تجربات نے ثابت کیا:
وقت بیک وقت دونوں چیزیں ہے۔
اور دماغ کے پاس اسے قابو میں رکھنے کی طاقت ہے۔
> "دماغ اپنی ہی ایک کائنات ہے۔" – میشل سیفر
سیفر کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے:
انسانی دماغ کبھی نہ جھکنے والی طاقت بھی رکھتا ہے…
اور ناقابلِ یقین حد تک نازک بھی ہو سکتا ہے۔
اور بعض اوقات، تنہائی ہی ہمیں اپنے اندرونی جہان کی گہرائیاں دکھاتی ہے۔
22/03/2025
ایسے دروازے اکثر شکستہ ہوتے ہیں، مگر ان میں چھپی کہانیاں کبھی مدھم نہیں پڑتیں۔ ان پر وقت کے نشان پڑ جاتے ہیں، مگر ان سے جڑی محبتیں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔ کبھی یہ دروازے خوشیوں کے گواہ ہوتے ہیں، تو کبھی جدائیوں کے راوی۔
یہ وہی دروازے ہیں جہاں کبھی شام کے وقت ماں اپنی دہلیز پر کھڑی بیٹے کے لوٹنے کا انتظار کرتی تھی۔ جہاں کبھی باپ کی سخت آواز اور نرمی بھری نصیحتیں گونجا کرتی تھیں۔ جہاں بہن کی ہنسی، بھائی کی شرارتیں اور دوستوں کی بے تکلفی گونجتی تھی۔
آج بھی جب ان دروازوں کو دیکھو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پکار رہا ہو، جیسے کوئی بچھڑی ہوئی آواز سنائی دے رہی ہو، جیسے کوئی پرانی خوشبو واپس آ رہی ہو۔ یہ دروازے وہی ہیں، بس وقت نے انہیں تنہا کر دیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Address
Islamabad
46000