13/06/2026
پولو پلیئر غلام اصغر کی جانب سے کپتان شاہ اعظم، پوری گلگت بلتستان پولو ٹیم، ٹیم مینجمنٹ اور تمام کھلاڑیوں کو شندور پولو فیسٹیول 2026 میں شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد۔
آپ سب کی محنت، جذبے اور بہترین کھیل نے گلگت بلتستان کا نام روشن کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
🏆 جیو گلگت بلتستان، جیو پولو! 🏇🎉�
23/05/2026
Congratulations Alhaj Ur Rehman
Alhaj Ur Rehman
الحاج الرحمان چترال پولیس کے ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں جن کا تعلق چترال کے خوبصورت سرزمین برنس سے ہے۔ آج انہوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی بہترین نمائندگی کی۔ ان کی عمدہ کارکردگی کی بدولت چترال پولیس نے چترال اے ٹیم کو شکست دیکر سیمی فائنل کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا۔
اس شاندار کامیابی پر الحاج الرحمان اور پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔
اللہ تعالیٰ آئندہ مراحل میں بھی انہیں کامیابی، عزت اور مزید بہترین کارکردگی عطا فرمائے۔
نیک تمنائیں اور سیمی فائنل کے لیے بہترین خواہشات!
04/01/2026
چترال کے خلاف تاریخی فتح!
این ایل آئی کے دلیر کپتان شاہ اعظم، گلگت بلتستان کی شیر دل ٹیم اور تمام غیرت مند عوامِ گلگت بلتستان کو شاندار، یادگار اور تحریک دینے والی جیت پر سلام اور دل کی گہرائیوں سے مبارکباد!
یہ صرف میچ نہیں جیتا گیا، یہ حوصلے، غیرت اور پہاڑوں کے عزم کی فتح ہے!
گلگت بلتستان زندہ باد!
غلام اصغر ۔۔
01/01/2026
Happy New Year!
May this year bring you peace, health, and success.
24/11/2025
“آہ… احمد علی شاہ چچا! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔ آپ مرحوم والد حسین علی خان کے انتہائی قریبی دوستوں میں سے تھے۔ آج آپ بھی اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے۔
اناللہ وانا الیہ راجعون
راجہ احمد علی شاہ مشہور تمبوک باز و نیزہ باز گھوڑ سوار اب ہم میں نہیں رہے۔ آپ 93 سال کی عمر میں بھی ایک ایسی پر رونق شخصیت کے مالک تھے کہ ہر کوئی چاہے جوان ہو یا بڑے عمر کا آپ کی صحبت کا دلدادہ تھا۔ زیر نظر تصویر قریباً 3 مہینے پہلے شاہی پولو گراونڈ گلگت کھینچی گئی۔
29/10/2025
عربوں میں ایک روایت مشہور تھی —
جب ان کے گھوڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی اور نسلوں کی پہچان مشکل ہو جاتی، تو وہ تمام گھوڑوں کو ایک جگہ جمع کر لیتے۔ پھر کچھ عرصے کے لیے ان کا کھانا پینا بند کر دیتے اور انہیں سخت مار پیٹ کرتے۔ اس کے بعد دوبارہ ان کے سامنے چارہ اور پانی رکھا جاتا۔
تب منظر حیران کن ہوتا —
کچھ گھوڑے فوراً دوڑ کر کھانے کی طرف لپکتے، انہیں کوئی پرواہ نہ ہوتی کہ مارنے والا کون تھا اور کھلانے والا کون ہے۔
اور پھر وہ گھوڑے ہوتے جو نسل دار کہلاتے تھے —
وہ ان ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انکار کر دیتے جو تھوڑی دیر پہلے ان کی توہین کر چکے ہوتے۔ ان کے لیے عزتِ نفس بھوک سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی۔
آج انسانی معاشرے بھی اسی آزمائش سے گزر رہے ہیں —
فرق بس یہ ہے کہ بدقسمتی سے، بدنسلوں کی تعداد بڑھ گئی
#منقول