رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
' لذتوں کو توڑنے والی ( یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کیا کرو '
جامع ترمذی 2307
Zain angaria
zain angaria
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ. ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ. حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ. ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ»
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ دھوتے ، پھر نماز کے وضو کی مانند وضو فرماتے ، پھر پانی لے کر انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے ، جب آپ سمجھتے کہ آپ نے اچھی طرح جڑوں میں پانی پہنچا دیا ہے ۔ تو اپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے ۔ پھر سارے جسم پر پانی ڈالتے ( اور جسم دھوتے ) پھر ( آخر میں ) اپنے دونوں پاؤں دھو لیتے ۔
کتاب: حیض کا معنی و مفہوم #718
Status: صحیح
مسند احمد
کتاب: حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
باب: حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
حدیث نمبر: 18967
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:
حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتا ہے۔
*يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ*
*لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ گناہوں سے بچنے والا ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے*
*📗سورۃ 49 الحجرات آیت نمبر 13*
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ( سورہ شعراء کی ) یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری ’’(اے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم) اور اپنے نزدیک ناطے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریش کے لوگو ! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو ( نیک اعمال کے بدل ) مول لے لو ( بچا لو ) میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا ( یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکنے کا ) عبد مناف کے بیٹو ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا ۔ عباس عبدالمطلب کے بیٹے ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا ۔ صفیہ میری پھوپھی ! اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا ۔ فاطمہ ! بیٹا تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہیں آنے کا*
*📗صحیح بخاری حدیث نمبر 2753*
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہو گی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر“۔*
*📗جامع ترمذی حدیث نمبر 2574*
*رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔‘‘*
*📗صحیح مسلم حدیث نمبر 265*
*قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ*
*رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” دوزخ نفسانی خواہشات سے ڈھک دی گئی ہے اور جنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے ۔“*
*📗صحیح بخاری حدیث نمبر6487*
*BISMILLAHIR RAHMANIR RAHIM*
*--✨TAUHEED✨--*
*🔖 ISLAM KE 5 ARKAAN ❤️*
*--✨AUTHENTIC HADITH✨--*
*🌹Rasool Allah (ﷺ) ne farmaya:*
*"Islam ki bunyaad panch cheezon par qayam ki gyi hai:*
*1. Gawahi dena ke Allah ke siwa koi mabood nahi aur beshaq Hazrat Muhammad (ﷺ) Allah ke sacche rasool hain*
*2. Namaaz qayam karna*
*3. Zakaat ada karna*
*4. Hajj karna*
*5. Ramzan ke roze rakhna."*
*🔰 Sahih Bukhari 8*
*--✨مشن توحید اردو✨--*
*✅SHARE*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں ایک حلقے ( والوں ) کے پاس سے گزرے ، انہوں نے کہا : تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا : کیا اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ اور کسی غرض نے نہیں بٹھایا ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں بیٹھے ، انہوں نے کہا : دیکھو ، میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں دی ۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے میری حیثیت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو حدیث بیان کرنے میں مجھ سے کم ہو ، ( اس کے باوجود اپنے یقینی علم کی بنا پر میں تمہارے سامنے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں کہ ) رسول اللہ ﷺ نکل کر اپنے ساتھیوں کے ایک حلقے کے قریب تشریف لائے اور فرمایا :’’ تم کس غرض سے بیٹھے ہو ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہم بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کی ، اس کے ذریعے سے ہم پر احسان کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو ؟‘‘ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اس کے سوا اور کسی غرض سے نہیں بیٹھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی ، بلکہ میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرما رہا ہے ۔‘‘
کتاب: ذکر الٰہی‘دعا ‘توبہ اور استغفار #6857
Status: صحیح
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Karachi Lines