28/01/2022
Shamsher Ali Armani
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shamsher Ali Armani, Professional Sports Team, Karachi.
28/01/2022
28/01/2022
learn to say no, not everyone deserves to be a part of your life
اٹھارہویں صدی میں بونیٹ (Bonnet) نام کے فرانسیسی بائیولوجسٹ کو اس بات پر بہت حیرت ہوئی کہ چیونٹیاں کیسے ایک دوسرے کے پیچھے سیدھی قطار میں چلتی ہیں۔
اس نے ایک میز پر چیونٹیاں چھوڑیں اور میز کے دوسری طرف چینی کا ٹکڑا رکھ دیا۔ چیونٹیاں ایک قطار بنا کر اس چینی کے ٹکڑے کی صرف بڑھنے لگیں۔ بونیٹ نے انکی قطار کے درمیان انگلی رکھ دی جس سے ان کی قطار ٹوٹ گئی اور اس جگہ انگلی کو تھوڑا رگڑ بھی دیا ، غرض کہ قطار میں جانے والی چیونٹیاں دو حصوں میں تقسیم ہوگئیں۔ اس نے دیکھا کہ وہ چیونٹیاں جو قطا ٹوٹنے کی وجہ سے پیچھے رہ گئیں تھیں، وہ کچھ دیر کے لیے رکیں، تھوڑا ادھر ادھر گھومیں اور پھر اپنے سر پر لگے antenna کو میز کی سطح سے جوڑنے لگیں، اور پھر چیونٹیوں نے دوبارہ قطار کا راستہ اپنا لیا اور قطار سے جا ملیں۔
اس تجربے سے بونیٹ نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اپنے راستے پر چلتے ہوئے کچھ خاص کیمکلز خارج کرتی ہیں جو پیچھے آنے والی باقی چیونٹیوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کیمکلز کو خارج کرنے کے لیے چیونٹی کے پیٹ والے حصے میں مختلف گلینڈز ہوتی ہیں اور پیچھے آنے والی چیونٹیاں اپنے antenna کی مدد سے ان کیمکلز کا پتہ لگاتی ہیں۔
اس تجربے سے جانوروں کے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی صلاحیت کا پتہ چلا، جس پر آج تک بہت تحقیق ہوچکی ہے۔ ایسے کیمکلز جو ایک جانور دوسرے جانور سے رابطہ کرنے یا اس کو کوئی خاص سگنل دینے کے لیے خارج کرتا ہے، ان کیمکلز کو "semiochemicals" کہا جاتا ہے، اور ایسے semiochemical جو ایک ہی سپیشیز کے جانوروں کے رابطے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ان کو "pheromones" کہا جاتا ہے۔ ان کیمکلز کو pheromones کا نام 1959 میں دیا گیا۔
جانور اپنی سپیشیز کے دوسرے جانوروں کو کھانے کا راستہ بتانے کے لیے، جنسی عمل کے لیے بلانے کے لیے، خطرے کا پتہ دینے کے لیے ، اپنا علاقہ متعین کرنے کے لیے pheromones خارج کرتے ہیں۔
خاص کر s*x pheromones زیادہ تر مادہ جانوروں کے جسم سے خارج ہوتا ہے جسے سونگھ کر اس سپیشیز کے نر بھاگے چلے آتے ہیں۔
یہ کیمکلز خارج کرنے کے لیے جانوروں کے جسم پر خاص گلینڈز ہوتے ہیں، اس کے علاؤہ جانوروں کے پیشاب اور پسینے میں بھی یہ pheromones شامل ہوتے ہیں۔ یہ pheromones جانوروں کے جسمانی نظام، جانوروں کے برتاؤ اور جانوروں کی ڈیولپمنٹ پر اثر کرتے ہیں۔
انسانوں میں اب تک کسی مستند ریفرنس نے ان pheromones کی نشاندھی نہیں کی، البتہ کچھ سائنسدان کچھ کیمکلز کو انسانی pheromones قرار دیتے ہیں۔
(جنات کا سائنسی تجزیہ ایک سائنسدان کے قلم سے۔۔۔۔ بہت دلچسپ۔۔۔ضرور پڑھیں )
جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟
لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں
جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔
اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔
روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔
کائینات میں پائی جانی والی تمام چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔
ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔
ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔
جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔ اور دوسری چیز fovea جوانتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔
البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن👇👇👇👇
پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔
سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سالبعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔
جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسےجسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔
اگر آپ پہلی ڈائیمینشمیں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔
اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔
تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔
پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔
چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کےقابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔
ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا
آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔
نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔
اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔
اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نےدیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔
بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہےکہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیاتھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔
ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پرپر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔
الحمد للہ رب العالمین ۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔
انار : Pomegranate
اسے انگریزی میں ایسے پڑھیں گے پومی۔گرے۔نیٹ
ایران کا پودا ہے وہاں سے ہندوستان اور اسکے اردگرد کے ممالک میں پھیلا پھر یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ جاپہنچا۔
کیا یہ واقعی جنت کا پھل ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں:
انار کا درخت 5 سے 10 میٹر تک اگتا ہے۔ شمالی نصف دنیا یعنی انڈیا، یورپ و امریکہ کو اکتوبر سے فروری تک اور جنوبی نصف دنیا یعنی ارجنٹینا، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ چلی وغیرہ کو مارچ سے مئی تک پھل دیتا ہے۔
یہ پودا بیج اور قلموں دونوں طریقوں سے بویا جاسکتا ہے اور دو سے تین سال میں پھل دینا شروع کرتا ہے۔ یہ زیادہ بارش والے علاقوں میں نہیں ٹھر سکتا اس کے لئیے گرم ہلکے مرطوب علاقے اچھے ہیں ۔ یہ بڑا سخت جان درخت ہے۔ یہ تھور زدہ خشک زمینوں کو برداشت کرلیتا ہے اور قائم رہتا ہے البتہ ایسی زمین پر یہ پھل کم دے گا۔ اسے ہفتے میں ایک دو بار پانی مل جائے تو جان پکڑے گا اور پھل پیدا کرے گا یہ منفی 12 سینٹی گریڈ تک موسم کی سختی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زیادہ تیز ہوا اسے پسند نہیں اگر یہ ایسے علاقے میں اگایا جائے جہاں ہر وقت تیز ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں تو یہ اس کے پھول مکمل ہونے سے پہلے ہی گریں گے اور پھل نہیں بنا سکے گا۔ عام طور پر اسے سپرے مارنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ بہت لمبی عمر رکھتا ہے آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فرانس میں انار کے کئی درخت دو سو سال تک پرانے ہیں. جتنا پرانا ہوتا جائے گا اتنا ہی زیادہ پھل دے گا . اگانے کے چوتھے سال شاید 10 سے 25 دانے اگائے اور دس سال بعد یہ تعداد 150 سے 250 تک پہنچ جائے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہائیبرڈ نسل اگا کر بھی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ ایک انار میں 200 سے 1400 تک دانے ہوسکتے ہیں۔
انڈیا انار پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کے بعد ایران اور ترکی کا نمبر آتا ہے۔ افغانستان بھی انار پیدا کرنے میں صف اول ہے جبکہ پاکستان میں زیادہ تر بلوچستان اور اسکے بعد کے پی کے اور پنجاب کے انتہائی محدود علاقوں میں اسکی کاشت ہوتی ہے اس لحاظ سے پاکستان پیداوار میں
بہت پیچھے ہے۔
۰ انار میں ایک خاص غذائی چیز (Favinol)AntiOxidants ہوتے ہیں جو جسم میں سوجن کو کم کرتے ہیں، ہائی بلڈ پریشر کو کم کرتے اور جوڑوں کے درد اور سوجن کو بھی کم کرتے ہیں۔
کیا یہ خون صاف کرتے ہیں؟ جی بالکل کرتے ہیں!
۰ اس کے بیجوں میں Puninic Acid ہوتا ہے جو نالیاں کھولتا ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں کولیسٹرول کم کرکے خون کو رواں دواں رکھتے جس سے دل مضبوط ہوتا ہے۔ صاف خون مطلب صاف جلد اور گھنے مضبوط بال۔ جی بالکل انار کا استعمال بالوں اور جلد دونوں کے لئیے مفید ہے بالوں کی مضبوطی اور خشکی کے لئیے تو انار کے بیجوں کا تیل بھی ملتا ہے۔ یہ جلد کو خصوصاً خواتین کے چہرے پہ نکلنے والے دانے (Acne) کو ختم کرتا ہے۔ انار میں وٹامن سی اور کئی دوسرے Antioxidants ان دانوں کو بھگا دیتے ہیں۔ انار چہرے کی جھریوں اور چھائیوں کو ختم کرکے بھی جلد کو جوان اور تروتازہ رکھتا ہے۔
۰ انار جسم میں مایوسی کے جراثیم (Stress Harmone Cortisol) کو بھی کم کرتا ہے اور آپ کو ڈپریشن سے نکلنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ دماغ کی یادداشت کو بھی زبردست کرتا ہے اور بھولنے کی بیماری Alzheimer اور Brain Fog
میں بھی مدد کرتا ہے۔
۰ انار مرد کے جسم میں موجود Testrone Harmones ( جو مرد میں تولیدی نظام چلانے کا کام کرتے ہیں)
ان کی تعداد کو بہتر کرکے اسے جسمانی طور پر مضبوط قوت مہیا کرتا ہے یہ خواتین کے جنسی ہارمونز Estrogen
کو بھی بہتر کرتا ہے اور جسمانی جاذبیت ( Breast Enlargment) میں قدرتی طور پر موثر ثابت ہوا ہے۔ یہ مرد کے بانجھ پن (impotency ) کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے ۔ اسے ایک مہینہ روزانہ استعمال کریں اور پھر اثر دیکھیں۔
یہ مردوں میں prostate Cancer جوکہ ایک تولیدی نظام کا کینسر ہے اور عورتوں میں Breast Cancer کو کنٹرول کرنے میں بڑا موثر ثابت ہوا ہے۔
۰ ان میں خاص غذائی زرات Polypenols ہوتے ہیں جو Free Radical کینسر کے سیلز اور دوسرے متاثرہ سیلز جو اپنے اردگرد کے سیلز میں بھی کینسر بڑھا سکتے ہیں ان پر Apoptosis کا عمل کرکے انہیں خودکشی پر مجبور کردیتا ہے اور اس طرح کینسر روکتا ہے۔
۰ انار وٹامن سی سے بھرپور ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے زخم بھرتا ہے اور بیماریوں کے خلاف جسم کو مضبوط کرتا ہے۔
انار چونکہ خون کے بہائو کو بہتر کرتا ہے اسلئیے Gym اور گیم کرنے والے لوگوں کے لئیے بھی بہت مفید ہے۔ آپ گیم کرنے سے ایک گھنٹہ پہلے اس کا جوس پئیں یہ Stamina کو 24% تک بڑھا سکتا ہے۔
۰ انار میں فائیبر اور پروٹین بھی اچھی تعداد میں موجود ہیں جو جسم کی بھوک مٹاتے ہیں اور نظام انہضام کو بہتر کرتے ہیں ۔ انار موٹاپے کو بھی کم کرتا ہے۔ اسے کھا کر دماغ مطمئین ہوجاتا ہے کہ مذید بھوک نہیں اور اس طرح یہ جسم میں فالتو چربی گھلانے کا موجب بنتا ہے۔
۰ اناروں کے رس میں منہ کے بیکٹیریا سے لڑنے کی بھی بہترین صلاحیت ہے اور یہ مسوڑوں کو مضبوط کرتے ہیں۔
انار کو عرب ملک، ترکی، ایران وسیع پیمانے پر مختلف کھانے کی ڈشوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب عرب و ایران میں ٹماٹر نہیں آیا تھا تب ہانڈی میں انار ہی استعمال ہوتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند میں انار کے دانے سکھا کر سوکھا انار دانہ ہانڈی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اسکو پیس کر بھی ڈالا جاتا ہے تاکہ دانہ دانتوں میں نہ پھنسے ۔ یہ بھئ اچھا ہے کہ دوائی کو سیدھا ہانڈی میں ہی ڈال دیا جائے۔
ایران اور آزربائیجان میں ستمبر سے انار کی چنائی کے وقت باقاعدہ بیساکھی جیسا تہوار منایا جاتا ہے۔ اور اس پھل کو عزت دی جاتی ہے۔
انار کی کوئی 13 نسلیں ہیں اور سب ہی غذائیت سے بھرپور ۔ دانہ سفید نکلے سرخ نکلے یا کالا سب ایک نمبر مال ہے۔ اسکے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئیے دو سے چار ہفتے ایک عددکھائیں یا جوس بنا کرپئیں ۔
گول انار کی نسبت ٹیڑھا مٹیڑھا انار زیادہ پکا ہوا ہوتا ہے کیونکہ اس کے پکے اور سرخ دانے انار کی دیواروں سے باہر نکلنے کے چکر میں ہیں۔ اسکے علاوہ کھال کا جتنا گاڑھا رنگ ہوگا اور سطح کھردری ہوگی انار پکا ہوگا ۔
ڈپریشن کنٹرول، موٹاپا کنٹرول، معدہ رواں دواں، دل پٹھے اور ہڈیاں مضبوط، خون صاف ، جلد صاف بال مضبوط مسوڑے مضبوط ۔ جسمانی خوبصورتی اور تولیدی نظام مضبوط۔
واقعی جنت کا پھل تو ہے!
16/05/2021
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Karachi