Sher Alam Maher

Sher Alam Maher

Share

please follow like and share

Photos from Sher Alam Maher's post 17/05/2026

خلا کی بے آواز تاریکی میں زمین کے گرد گھومتا ایک ایسا عجوبہ موجود ہے جہاں انسان واقعی ستاروں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن، جسے ISS کہا جاتا ہے، صرف ایک خلائی لیبارٹری نہیں بلکہ انسان کی ذہانت، ہمت اور خوابوں کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر اوپر خلا میں موجود ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تقریباً 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ یعنی صرف 90 منٹ میں پوری زمین کا ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔

یہ اسٹیشن اتنا بڑا ہے کہ اس کا سائز ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ اسے مختلف ممالک نے مل کر بنایا، جن میں امریکہ، روس، جاپان، کینیڈا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ سن 2000 سے آج تک یہاں مسلسل انسان رہ رہے ہیں، گویا زمین سے باہر انسان کی سب سے لمبی آبادی یہی ہے۔

ISS کے اندر خلا باز عام انسانوں کی طرح نہیں چلتے بلکہ ہوا میں تیرتے رہتے ہیں، کیونکہ وہاں کششِ ثقل نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ سونے کے لیے انہیں اپنے سلیپنگ بیگز دیواروں سے باندھنے پڑتے ہیں تاکہ وہ نیند میں تیرتے ہوئے کہیں ٹکرا نہ جائیں۔

اس اسٹیشن میں روزانہ حیران کن سائنسی تجربات کیے جاتے ہیں۔ سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلا انسانی جسم پر کیا اثر ڈالتا ہے، تاکہ مستقبل میں انسان مریخ تک سفر کر سکے۔ یہاں پانی تک ری سائیکل کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ سانس کی نمی اور پسینے کو بھی صاف کر کے دوبارہ پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

ISS کا سب سے خوبصورت حصہ “Cupola” کہلاتا ہے، جہاں بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے خلا باز پوری زمین کو دیکھتے ہیں۔ بہت سے خلا باز کہتے ہیں کہ وہاں سے زمین کو دیکھ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ سرحدیں صرف نقشوں میں ہوتی ہیں، خلا سے پوری دنیا ایک ہی گھر لگتی ہے۔

اور شاید یہی ISS کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے…
زمین پر لوگ زبان، رنگ اور ملکوں میں تقسیم ہیں، لیکن خلا میں یہی انسان ایک چھوٹے سے اسٹیشن میں مل کر زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نیچے نیلی زمین خاموشی سے چمکتی رہتی ہے۔ 🌍🚀

Photos from Sher Alam Maher's post 07/05/2026

خلا کے بارے میں دلچسپ حقائق

خلا، یعنی وہ وسیع و عریض کائناتی جگہ جہاں ستارے، سیارے، کہکشائیں اور بے شمار راز موجود ہیں، انسان کے لیے ہمیشہ حیرت کا سبب رہی ہے۔ زمین سے باہر موجود یہ دنیا نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ انتہائی پراسرار بھی ہے۔ آئیے خلا کے بارے میں چند حیران کن حقائق جانتے ہیں۔

خلا مکمل طور پر خاموش ہے

خلا میں ہوا موجود نہیں ہوتی، اور آواز کو سفر کرنے کے لیے ہوا یا کسی مادّے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے خلا میں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔

خلا میں دن اور رات کا تصور مختلف ہے

زمین پر دن اور رات سورج کی روشنی اور گردش سے بنتے ہیں، لیکن خلا میں سورج کی روشنی مسلسل موجود ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز ایک دن میں کئی بار سورج طلوع اور غروب ہوتا دیکھتے ہیں۔

خلا میں وزن کم محسوس ہوتا ہے

خلا میں کششِ ثقل بہت کم محسوس ہوتی ہے، اسی لیے خلا باز تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اصل میں وہ مسلسل زمین کے گرد گر رہے ہوتے ہیں، مگر مدار میں ہونے کی وجہ سے تیرتے محسوس ہوتے ہیں۔

خلا بہت ٹھنڈا ہے

خلا کا درجہ حرارت انتہائی کم ہو سکتا ہے، بعض جگہوں پر یہ منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

خلا میں ستاروں کی تعداد ناقابلِ یقین ہے

صرف ہماری کہکشاں "ملکی وے" میں ہی اربوں ستارے موجود ہیں، جبکہ ایسی اربوں کہکشائیں کائنات میں پائی جاتی ہیں۔

سورج ایک ستارہ ہے

ہم روز سورج دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ بھی ایک عام ستارہ ہے، بس زمین کے قریب ہونے کی وجہ سے بڑا اور روشن نظر آتا ہے۔

خلا کی کوئی واضح حد نہیں

سائنسدانوں کے مطابق کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، اور ابھی تک اس کی مکمل حد معلوم نہیں ہو سکی۔

انسان خلا میں جا چکا ہے

1969 میں نیل آرمسٹرانگ پہلے انسان تھے جنہوں نے چاند پر قدم رکھا۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک عظیم لمحہ تھا۔

خلا حیرتوں، سوالوں اور امکانات سے بھری دنیا ہے۔ جتنا ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ شاید آنے والے وقت میں انسان مریخ پر بستیاں بھی بسا لے

05/05/2026

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ..

کہ اگر ہم سمندر کی تہہ تک آسانی سے پہنچ سکیں تو کیا ہوگا؟ 🌊🌀

ہم چاند پر جا چکے ہیں،

مریخ پر قدم رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں،

لیکن اپنے ہی سیارے کا سب سے گہرا راز، سمندر کی سب سے گہری کھائی، آج بھی تقریباً نامعلوم ہے۔

اگر ہم ماریانہ ٹرینچ (Marian Trench) کے 11 کلومیٹر نیچے جا سکیں،

تو کیا کچھ دیکھ سکتے ہیں؟ 🐙

عجیب و غریب مخلوقات،

ایسی مچھلیاں جو اندھیرے میں خود روشنی بنتی ہیں، اور جاندار جن کے جسم جیلی جیسے شفاف ہیں۔

🔥 آبدوز آتش فشاں، وہاں پگھلا ہوا گندھک اور درجہ حرارت لاکھوں ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔

🧪 زہریلے کیمیکلز سے بنی زندگی —

ایسے بیکٹیریا جو آکسیجن کے بغیر، سلفر اور میتھین پر زندہ رہتے ہیں۔
🏚️ غائب تہذیبوں کے نشانات —

کیا سمندر کی تہہ میں کبھی کوئی قدیم شہر دب گیا۔ 🦑 دیوقامت اسکوئڈ جنہیں انسانی آنکھ نے کبھی زندہ نہیں دیکھا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کا دباؤ اتنا زیادہ ہے (ایک چھوٹے راکٹ کی طرح) کہ موجودہ آبدوزیں چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں

— کہ ہمیں پہلے سمندر کا اندھیرا چھاننا چاہیے یا پھر خلا کا سفر؟ 🌌🔄




04/05/2026

ایک پائلٹ فائٹر جٹ کے اندر بیٹھا ہوا ہے اس کے ساتھ ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سسٹم بات کر رہا ہے اور وہ اس کو کہہ رہا ہے کہ آپ بٹن دبائیے تاکہ ایک میزائل نکل کر سامنے مجھے نظر آنے والے دشمن کے جہاز کو اڑا دے۔
یہ تھا سویڈن کا Gripen E فائٹر جٹ جس کے اندر لگا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم دوسرے Gripen E جہاز کو ٹارگٹ کرنے کا حساب لگا چکا تھا اور اس کے میزائل ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کے لیے یعنی Beyond Visual Range کا استعمال کرتے ہوئے ٹارگٹ جہاز جو اڑا سکتا تھا۔
یہ BVR لفظ آپ نے یقیناً پاکستان انڈیا کی جنگ کے دوران سنا ہوگا اس بی وی آر کے اندر جہاز اپنے پاورفل ریڈار سسٹم اور AWACS کو استعمال کرتے ہوئے دشمن کے جہاز کو کافی دور سے ٹارگٹ کر سکتا ہے۔ اگلی جنریشن کے جہاز ایسے ہوں گے کہ ان کے اندر انسانی پائلٹ موجود نہ ہوں اور اے آئی ایجنٹس ان کو اڑاتے پھریں اور ملکوں کی جنگیں لڑیں۔
ایک جرمن ڈیفنس کمپنی Helsing نے سویڈن کے ان جہازوں کے لیے یہ اے آئی سسٹم (Centaur) تیار کیا ہے۔ ایک سال پہلے جون 2025 میں سویڈن کی ڈیفنس کمپنی Saab نے گریپن ای جہاز کے اندر جرمن اے آئی ایجنٹ کو انٹیگریٹ کیا اور اس نے کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے گریپن ای کو جو ایک ٹیسٹ کے طور پر ٹارگٹ جہاز تھا، اس کو انگیج کیا اور اپنے ساتھی پائلٹ کو فائر کرنے کا آپشن دیا۔ اور مستقبل میں یہ آپشن اے ائی کے پاس بھی ہو سکتا ہے اور گراؤنڈ کنٹرول روم میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی ایسا فیصلہ لے سکتے ہیں۔
کسی بھی جنگ کے اندر اب نمبر گیم تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سمندر کی گہرائی میں آبدوزوں سے لے کر خلاء میں زمین کا طواف کرتے سیٹلائٹ تک اب نمبر نہیں ٹیکنالوجی کی برتری سب سے بھاری ہونے والی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کا بہت بڑا کردار ہونے والا ہے۔
(تحریر: ثاقب علی)






02/05/2026

پاکستان نے اپنے دو اہم ریڈار سسٹمز AM-350S لانگ رینج ریڈار اور Machaan AESA ٹیکٹیکل ریڈار کو فعال کر دیا ہے، اور انہیں چین کی مدد سے بنائے گئے سیٹلائٹ ڈیٹا لنک کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
۔AM-350S پاکستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ لانگ رینج ریڈار ہے، جو S-band AESA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 350 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ حقیقت پسندانہ طور پر لڑاکا طیاروں کو تقریباً 200 کلومیٹر تک مؤثر طریقے سے ٹریک کر سکتا ہے۔ چھوٹے ڈرونز کو بھی یہ تقریباً 80 کلومیٹر فاصلے سے پکڑ سکتا ہے۔ یہ ریڈار 60,000 فٹ کی بلندی تک نگرانی کر سکتا ہے اور 360 ڈگری کوریج فراہم کرتا ہے، جس سے پورے علاقے پر مسلسل نظر رکھنا ممکن ہوتا ہے۔ اس کی موبائل تنصیب (ٹرک پر) اسے تقریباً 30 منٹ میں نئی جگہ منتقل ہونے کی صلاحیت دیتی ہے، جو دشمن کے حملوں سے بچاؤ میں اہم ہے۔ دوسری طرف Machaan ریڈار ایک ٹیکٹیکل اور قریبی دفاعی نظام ہے، جو خاص طور پر کم بلندی پر آنے والے خطرات جیسے کروز میزائل، ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کو پکڑنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 100 کلومیٹر ہے، لیکن اس کی اصل طاقت اس کی درستگی اور کم بلندی پر مؤثر کارکردگی ہے۔ یہ بیک وقت تقریباً 12 اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے اور S-band اور X-band کے امتزاج سے بہتر ٹریکنگ اور فائر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ان حالات میں مؤثر ہے جہاں دشمن زمین کے قریب رہ کر ریڈار سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ ان دونوں ریڈارز کو چین کے سیٹلائٹ لنک کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اس سے یہ ریڈار ایک مکمل "نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر" سسٹم کا حصہ بن گئے ہیں، جہاں مختلف ریڈارز، طیارے اور دفاعی نظام ایک دوسرے کے ساتھ ریئل ٹائم میں ڈیٹا شیئر کرتے ہیں۔ اگر زمینی کمیونیکیشن جام ہو جائے تو بھی سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا تبادلہ جاری رہتا ہے، جس سے جنگ کے ابتدائی مراحل میں "بلائنڈ" ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ نظام پاکستان کے پہلے سے موجود فضائی دفاعی نظام جیسے HQ-9 اور LY-80 کے ساتھ مل کر ایک "لیئرڈ ایئر ڈیفنس" تشکیل دیتا ہے۔ AM-350S دور سے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ Machaan قریب سے دفاع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح دشمن کے لیے اچانک حملہ کرنا یا کروز میزائل اور ڈرونز کے ذریعے نقصان پہنچانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم، اگرچہ ان

Photos from Sher Alam Maher's post 27/04/2026

بلب کی ایجاد

کبھی کبھی انسان کی ایک چھوٹی سی کوشش… پوری دنیا کی تاریکی بدل دیتی ہے۔

یہ کہانی ہے روشنی کی… اور اس سفر کی، جس نے اندھیروں کو شکست دی۔

1800 کی دہائی…
دنیا ابھی بھی موم بتیوں اور چراغوں کے سہارے زندہ تھی۔
رات آتی تو جیسے زندگی رک جاتی… اور اندھیرا ہر چیز پر غالب آ جاتا۔

پھر ایک شخص آیا… ہمفری ڈیوی
اس نے پہلی بار بجلی سے روشنی پیدا کی، مگر وہ روشنی زیادہ دیر نہ چل سکی۔

وقت گزرتا گیا…
کئی سائنسدان آئے، کئی چلے گئے… مگر ایک پائیدار بلب ابھی بھی خواب تھا۔

پھر جوزف سوان نے کوشش کی…
اس نے ایسا بلب بنایا جو عملی طور پر استعمال ہو سکتا تھا۔
لیکن وہ بھی مکمل نہیں تھا۔

اور پھر تاریخ کا وہ نام آیا… تھامس ایڈیسن
جس نے کہا:
“میں 1000 بار ناکام نہیں ہوا… میں نے 1000 طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے تھے۔”

1879 میں…
اس نے ایک ایسا بلب بنایا جو دیر تک جلتا تھا، مضبوط تھا، اور عام انسان کے استعمال کے قابل تھا۔

اور یوں…
اندھیرے نے پہلی بار انسان کے ہاتھوں ہار مانی۔

آج جب ہم ایک بٹن دباتے ہیں اور کمرہ روشن ہو جاتا ہے…
تو ہمیں یاد نہیں رہتا کہ اس روشنی کے پیچھے کتنی محنت، کتنی ناکامیاں اور کتنے خواب دفن ہیں۔

یہ صرف بلب نہیں تھا…
یہ انسان کی امید، محنت اور روشنی کی جیت تھی۔

25/04/2026

🚨 لاہور کا دل دہلا دینے والا واقعہ — انسانیت شرمندہ
لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ ایک ماں نے مبینہ طور پر دوسری شادی کی خواہش میں اپنے ہی تین معصوم بچوں کو قتل کر دیا۔
💔 بتایا جا رہا ہے کہ ملزمہ نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر یہ قدم اٹھایا، جبکہ شوہر گھر سے باہر مزدوری کے سلسلے میں موجود تھا۔
⚖️ پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ اعلیٰ حکام نے سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔❗ سوال یہ ہے:
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا رشتوں کی حرمت، ماں کی مامتا اور انسانیت اتنی سستی ہو گئی ہے؟
📢 اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ ایسے درندوں کو نشانِ عبرت بنایا جا سکے۔ 🙏
رانا خرم

24/04/2026

یہ گاڑی چنگان گروپ کی دیپال ایس او فائیو ھے ، اس کی قیمت ایک کروڑ روپے ھے ،جو کہ خاصی تعداد میں اب پاکستان میں نظر آنے لگی ھے ، جس کی وجہ اس کی یہاں پر لوکل پروڈکشن ھے ۔۔
انتہائی خوبصورت ڈیزائن اور ٹیکنالوجی سے بھرپور یہ شاہکار کسی بھی جاپانی گاڑی سے کم نہیں ، بلکہ یوں کہیں کہ دور دور تک اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں اور اگر مثال کے طور پر جاپان اس لیول کی گاڑی بنا بھی لے تو اس کی قیمت پانچ گنا زیادہ ہو گی ، جو کہ پھر ایک طبقاتی زیادتی ھے ، جیسا کہ جاپان ہمیشہ سے یہ کھیل کھیلتا آیا ھے ، آنے والے دنوں میں ہمیں مزید بہترین ہائیبرڈ آف روڈ گاڑیاں بھی ملنے والی ہیں، جو لینڈ کروزر ، پراڈو اور فارچیونر کی مکمل طور پر چھٹی کروا دیں گی ۔۔
چلیں دیپال ایس او فائیو جو ایک پیٹرول کے فل ٹینک میں ہزار کلومیٹر نکالتی ہے اور اس کی بیٹری اور انجن کس طرح کام کرتے ہیں اس پر بات کرتے ہیں ۔۔
ایک REEV (رینج ایکسٹیڈڈ الیکٹرک وہیکل) میں پہیے ہمیشہ الیکٹرک موٹر کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ عام ہائبرڈ گاڑی کے برعکس، اس میں انجن اور پہیوں کے درمیان عام طور پر کوئی میکانکی تعلق (mechanical link) نہیں ہوتا۔
اس سسٹم کے تین اہم حصے ہوتے ہیں:
الیکٹرک موٹر: گاڑی کو چلانے کا واحد ذریعہ۔
بیٹری پیک: موٹر کو چلانے کے لیے توانائی ذخیرہ کرتا ہے۔
رینج ایکسٹینڈر (ICE): پیٹرول سے چلنے والا ایک انجن جو صرف ایک "آن بورڈ جنریٹر" کے طور پر کام کرتا ہے۔
2. کام کرنے کے مراحل (Operational Phases)
یہ گاڑی عام طور پر دو مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے:
آل-الیکٹرک موڈ (All-Electric Mode): جب تک بیٹری میں کافی چارج موجود ہو، گاڑی الیکٹرک موٹر کو چلانے کے لیے براہ راست بیٹری سے بجلی حاصل کرتی ہے۔ یہ بالکل ایک خالص الیکٹرک گاڑی (EV) کی طرح چلتی ہے—خاموش اور فوری ٹارک (instant torque) کے ساتھ۔
ایکسٹینڈڈ-رینج موڈ (Extended-Range Mode): جیسے ہی بیٹری ایک خاص حد (مثلاً 20%) سے نیچے گرتی ہے، انجن کام شروع کر دیتا ہے۔ پہیوں کو گھمانے کے بجائے، انجن ایک الٹرنیٹر (alternator) کو گھماتا ہے تاکہ بجلی پیدا کی جا سکے۔ یہ بجلی پھر یا تو الیکٹرک موٹر کو بھیجی جاتی ہے یا بیٹری کے چارج کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

23/04/2026

اس نوجوان کی نیٹ ورتھ 1.3 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے!

صرف 26 سال کی عمر میں کراچی سے تعلق رکھنے والے Sualeh Asif نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو اکثر صرف خوابوں میں ہی ممکن لگتا ہے۔ وہ کی فہرست میں شامل ہو کر پاکستان کے کم عمر ترین ارب پتیوں میں جگہ بنا چکے ہیں۔

انہوں نے Cursor نامی ایک جدید اور انقلابی AI ٹول کی بنیاد رکھی، جس کی مارکیٹ ویلیو آج تقریباً 29.3 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ، اور جیسی عالمی سطح کی بڑی کمپنیاں اور لاکھوں ڈویلپرز استعمال کر رہے ہیں۔

یہ صرف ایک کامیابی کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر وژن مضبوط ہو، محنت مسلسل ہو اور ارادے پختہ ہوں تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔

22/04/2026

پاکستان کے دو خلا باز چین کے انسانی خلائی پروگرام کے لیے منتخب کر لیے گئے ہیں۔ دونوں امیدوار تربیت حاصل کرنے کے لیے چین جائیں گے، جبکہ ان میں سے ایک کو مستقبل کے کسی خلائی مشن میں پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

21/04/2026

چار کلو میں 30 سال
جوہری آبدوزوں کو چلانے کے لیے صرف چار کلوگرام یورینیم درکار ہوتا ہے
اور یہ معمولی سی مقدار انہیں تقریباً تیس سال تک مسلسل چلانے کے لیے کافی ہوتی ہے

یہ آبدوزیں ایسے جوہری ری ایکٹروں پر انحصار کرتی ہیں
جو افزودہ یورینیم (HEU) استعمال کرتے ہیں
یہ وہ قسم کا یورینیم ہوتا ہے جس میں نوے فیصد سے زیادہ یورینیم 235 شامل ہوتا ہے
اور یہی وہ عنصر ہے
جو زبردست مقدار میں توانائی پیدا کرتا ہے

جوہری انشقاق کے عمل کی بدولت
محض ایک کلوگرام یورینیم 235
تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ کلو واٹ گھنٹے توانائی پیدا کر سکتا ہے
اس کا مطلب یہ ہے
کہ اگر صرف چار سے پانچ کلوگرام افزودہ یورینیم استعمال کیا جائے
تو وہ ایک آبدوز کو دہائیوں تک چلانے کے لیے کافی ہوتا ہے
اور ایندھن کی تبدیلی کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی

ایندھن کے اس اعلیٰ درجے کے استعمال کی صلاحیت
اور جوہری ری ایکٹروں کے جدید ڈیزائن کے امتزاج سے
یہ ممکن ہو جاتا ہے
کہ ایندھن بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت نہ پڑے

اسی لیے جوہری آبدوزیں
بآسانی بیس سے تیس سال تک بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر سکتی ہیں
اور یہی ان کی وہ خاصیت ہے
جو انہیں طویل المدتی مشنز اور خفیہ عسکری کارروائیوں کے لیے نہایت موزوں بناتی ہے

Picture generated by AI for reference

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi