Reason behind his success 💕💕
Pak sports
support Pakistan cricket team
پاگل خانہ میں خوش آمدید �
ایک ایسا پیج جہاں آپ کو ملے
� بے خوف تجزئے تبصرے
� ان دیکھی معلومات
� بےحیائی کے حلاف جنگ
� ملک کے اصل لٹیروں کے بے نقاب چہرے
� کھلے عام تنقید
� تصویر کا دوسرا رُخ
� مسلمان کی تاریخ
� غریب اور مظلوم کی آواز
� ہنسی مذاق اور نام نہاد خداؤں کی چھترول
اگر حق بول نہیں سکتے تو کم از کم کا ساتھ ضرور دے
سب کُچھ اس پیچ پر ��
04/10/2022
2 Star 🌟 in one frame 💕💕🇵🇰 🇵🇰💕💕
فرشتہ نما انسان
آج مجھے اپنی زندگی کی پہلی کمائی ملنے والی تھی. تین ماہ کی تنخواہ ایک ساتھ ملی اور ساتھ چھٹی بھی مل گئی. گھر پہنچا تو عید کا سماں تھا. ماں باپ بہن بھائی سب بہت خوش تھے. میں نے ساری رقم والدہ کے ہاتھ پر رکھ دی. والدہ نے رقم کا تیسرا حصہ راہ خدا میں خرچ کرنے کی نیت سے علیحدہ کیا اور کہا کہ اس رقم سے ایک بیوہ عورت کے گھر راشن خرید کر پہنچا دینا جو دور کے ایک محلے میں رہتی تھی. میں اسی وقت گیا اور راشن خرید کر لایا. گھر میں میرے لئے پر تکلف طعام کا انتظام کیا گیا تھا. بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر لذیذ کھانوں کے مزے اڑائے اور سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کی غرض سے رضائی میں گھس گیا. آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں کہ اچانک اس بیوہ عورت اور اسکے یتیم بچوں کا خیال آیا. ارادہ کیا کہ ابھی جاؤں اور سامان پہنچا آؤں, طبیعت میں سستی تھی سوچا کل پہنچا دوں گا. لیکن بعد میں خیال آیا میں تو پر تکلف کھانے کا مزا لے چکا کہیں وہ بچے بھوکے نہ ہوں. اسی وقت لحاف سے نکلا, ایک چادر اوڑھی, تھیلا کاندھے پر رکھا اور اسکے گھر کی طرف نکل پڑا.
شدید سردی تھی, دھند بھی زیادہ تھی اور بھاری تھیلا اٹھانے میں بھی کچھ دقت ہو رہی تھی. ایک دور محلے میں اس عورت کا گھر تھا. اسکا شوہر مزدوری کرتا تھا اور چار بچے تھے. ایک ناگہاں حادثے میں شوہر کی موت ہو گئی اور اب اسکے یتیم بچوں پر دست شفقت رکھنے والا کوئی نہ تھا. قسمت بھی بہت ستم ظریف ہے. کبھی ایسے لوگوں کو لپیٹ میں لے لیتی ہے جنکا خدا کے سوا کوئی نہیں ہوتا.
خیالات کا اک سمندر لئے اس بیوہ عورت کے گھر کے باہر پہنچا. گھر کیا تھا بلکہ ایک خرابہ تھا. ایک کمرہ, چھوٹا سا صحن اور ایک خمیدہ سی چار دیواری تھی. دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک 5 سالہ بچی باہر آئی. جسکے چہرے پر پریشانی, خوف اور بھوک نمایاں تھی. میں اسکے چہرے کو تکے جا رہا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ خدا کسی بچے پر ایسا وقت نہ لائے. اس بچی نے ایک پرانا سا جوڑا پہنا ہوا تھا اور ایک شدید سردی میں ایک پھٹی پرانی جرسی پہنی ہوئی تھی . پاؤں برہنہ تھے وہ بھی اس سردی میں کہ پیروں کو جما کہ رکھ دے. میں نے کچھ کہے سنے بغیر راشن والا تھیلا زمین پر رکھا. تھیلے کو دیکھتے ہی وہ بولی,"کیا اس میں کھانے کا سامان ہے؟"
یہ سننا تھا کہ میں حیران ہو گیا. ایک بار پھر اس نے یہی سوال دہرایا. میں نے مثبت انداز میں سر ہلایا. وہ بچی خوشی کے مارے چیختی چلاتی ماں کہ طرف بھاگی اور یہ کہے جا رہی تھی "امی فرشتہ آگیا, امی فرشتہ آگیا, امی فرشتہ آگیا " اور پھر دو اور چھوٹے چھوٹے بچے خوشی مارے دروازے پر دوڑے چلے آئے. کبھی مجھے دیکھتے کبھی اس تھیلے کو اور خوشی سے لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے تھے.
میری آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے, ہونٹ کپکپا رہے تھے اور جسم میں ایک سرد لہر سی دوڑ رہی تھی. خدایا یہ کیا ماجرا ہے؟ کیوں یہ بچے مجھ گناہگار کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں. انہی سوچوں میں غلطان تھا کہ ایک خاتون جو انکی ماں تھی دروازے پر آئی اور دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر روہانسی آواز میں یہ کہنے لگی.
میرے بچے دو دن سے بھوکے تھے. غیرت گوارا نہیں کرتی کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤں. میرے مرحوم شوہر بھی محنت مزدوری کرتے تھے مگر کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا. ان کے چلے جانے کے بعد ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں. رشتہ داروں نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں اور محلے والے بھی مدد نہیں کرتے. مگر کبھی کبھی آپ جیسے نیک دل لوگ مدد کر دیتے ہیں. میں دو دن سے بچوں کو یہ کہہ کر بہلا رہی تھی کہ ایک فرشتہ آئے گا اور ہمارے لئے کھانا لے آۓ گا. اسی لئے یہ آپ کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں. اس عورت نے خدا کے حضور شکرانے کے چند کلمات ادا کئے, مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور شکریہ ادا کیا.
میں وہاں سے واپس ہو لیا, آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے. زندگی میں کبھی خود کو اتنا پرسکون محسوس نہیں کیا جتنا آج کر رہا تھا. اور اندازہ لگایا کہ ایک بے بس انسان کی مدد کرنے سے جو روحانی سکون ملتا ہے وہ کسی اور کام میں نہیں.
ہمارے اردگرد ایسے بہت سے غربا ہوتے ہیں جو مستحق ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے. مگر مدد کرنے والے ہاتھوں کے منتظر ضرور رہتے ہیں. دو وقت کی روٹی ہی ان کا کل جہاں ہوا کرتی ہے. ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے چاہے وہ ایک وقت ک کھانا ہی کیوں نہ ہو.
گھر آیا تو ماں نے پوچھا " بیٹا اتنی رات کہاں چلے گئے تھے بنا بتائے ؟"
میں بے ساختہ بولا
"فرشتہ بننے گیا تھا "
ایک رلا دینے والی کہانی ۔ ۔ ۔ ج تیسرا دن تها اس کے غبارے نہیں بکے تهے وہ سڑک پہ کهڑی کهڑی تهک گئی تو دوگلیاں چهوڑ کے لگے ہوئے ٹوٹے نلکے سے پیاس بجهانے کیلئے چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی ہوئیغباروں کا تهیلا گھسیٹنے لگی، تین دن سے غبارے نہیں بکے تهے اور دو دن سے گهر میں چولها بهی نہیں جلا تها۔ وہ راستے میں آنے والی کباڑیے کی دکان سے باہر لٹکے ہوئے گندےمندے تهیلوں میں ہاتھ مار کر روٹی کے چند ٹکڑے تلاش کر کے سب سے نظریں بچا کر بهاگ جاتی تهی۔ کالاسیاہ پهٹے ہوئے کپڑوں والاکباڑیا اپنی گندی زبان سے بهی زیادہ گندی گالیاں دیتا ہوا اس کے پیچھے بهاگتا اور کوئی پتهر اٹها کے زور سے اس کیطرف اچهال دیتا پر وہ ننهی ہانپتی کانپتی جان، اس کے پتهر سے تو بچ جاتی مگر اگلے دن راستے میں ابهرے ہوئے پتهر میں پهٹی ہوئی شلوار کا مٹی سے اٹا ہوا پائنچہ اڑا اور وہ منہ کے بل زمین پر گری ۔اس نے ڈر کے مارے فورا”پیچھےدیکها کباڑیا تو نہیں ہ پیچھے۔ زور کی سانس لیکر آرام سے سر زمین پہ رکھ دیا اور بے بسی سے بکهرےہوئے غباروں کو دیکها۔ اٹهنے کی کوشش کی نقاہت سے ایک چکر ساآیا پر پهر ٹخنے پہ ٹهنڈا سیال مادہ رینگنےلگا تواس نے گالوں پہ مٹی میں ڈوبتے آنسووں سے بهرا ہوا چہرہ اٹها کے آسمان کیطرف دیکها۔اسے یاد آیا اس دن اک گاڑی والے صاحب کا بچہ گرا تها اس کا خون تو صاف رنگ کا تها یہ اس کو اپنے خون کا رنگ اتنا گاڑها کیوں لگ رہاہے۔ اس ننهی جان نے پورا زور لگایا ، پہلے پائنچے پہ لگے تنکے اورمرغی کے پهنگ صاف کئے، پهر مٹی سے لتهڑے پائنچے سے خون صاف کیا وہ حیران تهی وہ گاڑی والے صاف ستهرے بچے کا خون تو رک نہیں رہا تها پهر اس کا خون کهرنڈ کی طرح کیوں جم رہا تها۔ پاس میں کهلا ہوا گٹر تها اس نے شکر کیا کہ روٹی کے ٹکڑے اور غبارے گٹر میں نہیں گر گئے ورنہ وہ کیسے نکالتی اس نے تجسس سے گٹر کے اندر جهانکااک دم سے ڈر کے پیچهے ہٹ گئی ٹکڑوں پہ پلتی سہی مگر جان تو تهیوہ پهر سے غبارےبیچنےکیلئے کهڑی ہوگئی کہجهونپڑی والے ٹهیکیدار کا بڑی بڑی مونچهوں والا مکروہ چہرہ اس کےسامنے تها اس کو ٹهیکہ بهی دینا تها کچھ دن پہلے ماں کے پاوں پہ اینٹیں گرنے سے وہ چارپائی پر پڑ گئی اور کام پہ نہیں جا سکتی وہ پکی سڑک کے ساتھ بننے والی اونچی بلڈنگ میں مزدوری کررہی تهی بڑی مشکل سے ٹهیکیدار کی منتیں کر کر کے کام ملا تها ۔دیہاڑی میں سے تیس روپے روزانہ ٹهیکیدار کوبهی دینے تهے دیہاڑی جو اس نے دلائی اماں کو ان تیس روپوں سے بڑی امیدیں تهیں”اب سب سے جان پہچان کرلوں تو یہ والا ٹهیکہ مکے نا تو ٹهیکیدار کی سفار ش کے بغیر دیہاڑی مل جائے تو یہ تیس روپےتیرے جہیز کیلئے جوڑوں۔ بڑے پیسے ضائع ہورے” وہ جو دن بهر غبارے بیچتی تو خود کبهی کسی غبارے کو ہاتھ بهی نہیں لگاتی تهی۔ اماں نے کوڑے سے ٹاکیاںچن چن کے اس کیلئے کپڑے کی گڈی بنادی تهی وہ اسی سے کهیلتی رہتی ۔پر جب سےماں کے پاوں پہ اینٹوں کا ڈهیر گر گیا اسے گهر آکے ماں کو روٹی کهلانی پڑتی وہ اٹھ نہیں سکتی تهی “میں تو تیرے داج کیلئے پیسے جوڑنے لگی تهی ادهر خود منجی سے جڑ گئی” سوکهی روٹی کو تیل لگا کے گرم کرتے ہوئے اس کینظر سنہری رنگ کی چهوٹی سی چیونٹی پہ پڑی اس نے روٹی کو زور زور سے جهاڑا منجی پہ مارا تا کہ ساری چیونٹیاں جهڑ جائیں۔۔۔“میں نے تو مام سے بول دیا ہے کہ میں صرف اسی برانڈ سے ایونٹ ڈیکوریٹ کراوں گی جس سے منسٹر اکمل خاں نے اپنی بیٹی کی شادی کا فنکشن ارینج کرایا ہے۔ یار سٹیٹس کی بات ہے پورے شہر میں اک نام ہے پہچان ہے ہماری، میں چاہتی ہوں لوگ اس شادی کو برسوں یاد کریں تمهارے اور میرے ڈریس کا کمبینیشن بالکل یونیک ہونا چاہئیے ،ایسا جیسے کوئی خواب میں چل رہا ہو۔ ولیمے کا ایونٹ ایسا ہونا چاہئیے کہ کسی کو احساس تک نہ ہو کہ یہ دیسی شادی ہے یا انگلش رایلٹی کا فنکشن” لندن کے ٹاپبزنس مین کی بیٹی دومہینے بعد ہونے والی اپنی شادی کو لیکر فلی ایکسائیٹڈ تهی جبکہ دوسری طرف ہنوز خاموشی تهی کوئی ریسپانس نہیں تها۔سٹی کا نیا کمشنر زمان شاہ کهڑکی سے باہر سمندر کی ریت سے کهیلتی اس گندی مندی بچی کو دیکهنے میں اس قدر محو تها کہ دوسری طرف ہونے والے شہر کے اتنے بڑے ایونٹ کی پلاننگ سے اسے کوئی سروکار نہیں تها۔ ڈیوٹی پہ آتے ہی اسے صرف ایک بات کا احساس دن رات ستا رہا تها شہر کی حالت کو کیسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔ماں کے پاوں میں پس پڑرہی تهی وہ سمجھ رہی تهی تهوڑے دنوں میں زخم ٹهیک ہوجائے گا مگر پاوں کے بعد ٹانگ بهی سوجهنا شروع ہوگئی ماں کی ہدایت پہ نوری نے کبهی ہلدی کبهی پهٹکڑی گرم کرکے تکیےکے غلاف میں لپیٹ کر سیک کیا، مگر فرق پڑنے کی بجائے ٹانگ سوجهتی جارہی تهی ماں درد سے کراہتی تو وہ ڈر کے رونے لگتی۔ ٹهیکیدار کے پاس جاکے پیسے مانگے تو اس نے گالیاں دے کر دفعہ ہوجانے کو کہا ساتھ والی مائی سے کبهی آئیوڈیکس لیکر تو کبهی ہلدی لیکر وہ ماں کو سیک کرتی تو ماں درد سے اور چیختی۔وہ سمندر پہ پہنچی جلدی سے غبارے سائیڈ پہ رکهےآج پورے تیس روپے کے غبارے بک گئے اسے ماں کی تیس روپے والی بات یاد آگئی “اب اماں میرے لئے داج بنالے گی” یہ سوچ کر ہی وہ ریت پر چهلانگیں مارنے لگی جب پانی کی زوردار لہرآتی وہ ڈر کےپیچهے کو ہوجاتی اور جونہی پانی پیچهے کو ہٹتا تو بهاگ کے سیپیاں ڈهونڈنے لگتی آج تو اتنی ساری سیپیاں مل رہی تهیں، وہ ہنس رہی تهی سمندر پہ کوئی اپنا بریانی کا بهرا ہاٹ پاٹ بهول گیا ساتھ میں فروٹ کی ٹوکری بهی تهی۔ وہ بہت خوش ہوئی آج اتنی زیادہ چیزیں لیکے وہ گهر جاتے ہوئے کباڑیے کی دوکان پہ رکی اور ایک چهوٹا سا پتهر پهینک کے اسے منہ چڑا کے زورکی دوڑ لگادی وہ پیچھے سے پتهر مارمار کے اپنی گندی زبان سے بهی زیادہ گندی گالیاں بکتا رہا مگر آج وہ بہت خوش تهی کوئی اپنا کهانا سمندر پہ بهول گیا جو سارا اس کو مل گیازمان شاہ نے اسے پتهرپر سے ہاٹ پاٹ کو دیر تک دیکهنے کا مشاہدہ کیا، پهر دیکها اس نے ارد گرد دیکها کہ کوئی نہیں ہے تو ڈرتے ڈرتے آئی ہاٹ پاٹکهولا اور بریانی کے چند نوالے جلدی جلدی ہاتھ بهر بهر کر منہ میں ڈالے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لےپهر وہ ٹوکری کے پاس گئی اور اتنے سارے پهل ایک ساتھ دیکھ کراس کی میل سے اٹی ہوئی آنکهیں پهیل گئیں اس نے زور زور سے چهلانگیں لگائیں پهر کچھ دیر کهیلتی رہی اور تهوڑا تهوڑا کهاتی رہی۔ زمان شاہ خوش تها کہ اس نے اس ننهی سی پری کو تهوڑی سی چیزیں دے کر کتنا خوش کردیا ہے جو وہ چپکے سے وہاں رکھ آیا تها جہاں وہ روزاس ٹائم کهیلنے آتی تهی۔وہ خوش خوش گهر کیلئے جارہی تهی بریانی اور پهلوں کا تهیلا بہت بهاری تها وہ تهوڑی تهوڑی دیر کو رکتی تهی اور سانس لیکر پهر چل پڑتی تهی مگر اس کےپیروں میں تو جیسے کسی نے بلیاں بانده دی تهیں اس کا بس نہیں چل رہا تها کہ کسی طرح اماں کو تیس روپے دے دے کہ وہخوش ہوکے اس کا داج بنالے ۔۔اور وہ بس بریانی کهائے اورگڑیا سے کهیلے وہ بهاگی بهاگی جهونپڑی کی طرف جارہی تهی اس نے تیس روپے نکال کے مٹهی میں دبالئے میل سے لدا ہوا آدها پهٹا ہوا پردہ پیچهے کیا اماں سوئی ہوئی تهی پر وہ اس کے اٹهنے کا انتظار کیسے کرتی گلی کے باہر بیٹها کتا زور زور سے ہوک رہا تها اس نے تهوڑی سی بریانی نکال کے اس کے آگے ڈال دی کتنی دیر تک وہ کهیلتی رہی جب شام تک اماں نہ اٹهی تو وہ اماں کو آوازیں لگانے لگی”اماں چار ویلے ملنےلگے اب اٹھ جا” ماں نے جواب نہیں دیا وہ پهر کهیلنے لگ گئی پهر خیال آیا “اماں اج تیری اکھ ہی نہیں کهل رہی میں تیرےواسطے تیس روپے لیاندے اج تیکو اتنے دن سے ٹهیکیدار والے تیس روپے کی کنی فکر سی ناں ،لے اج میں لے آوندے تو اٹهن دا ناں ہی نئیں لےرہی”اس نے امرود نکالکے کهایا اس کو پتہ تها اماں نے صبح سےکچھ بهی نہیں کهایا ہوگا رات کباڑیے سے چرائے ہوئے آدهی آدهی روٹی کے دو ٹکڑے تهے کیڑیوں سے بهرے ہوئے جنهیں اچهی طرح جهاڑ کر اس نے تیل لگا کر اینٹوں کے چولهے پہ گرم کیا تها “بهکی ستی ریسیں” وہ چارپائی کے پاس گئی اندهیرا پهیلرہا تها جهونپڑی میں لٹکا ہوا چهوٹا سا بلب بهی ٹمٹمانے لگ گیا ماں نے کوئی جواب نہیں دیا وہ ماں کو ہلانےلگ گئی ماں نہ ہلی اسنے زور زور سے ہلایا وہ پهر بهی ساکت پڑی رہی بلب کی بتی زور زور سے ہل رہی تهی اب وہ ڈر رہی تهی اس نے رونا شروع کردیا”اماں اٹھ ناں میکو ڈر لگ ریا”اسے ساتھ والی جهونپڑی والی مائی یاد آئی پهر اسے یاد آیاآج تو بازار والی سائیڈ پہ شادی ہے کسی کی، سب لوگ ادهر گئے ہوں گے برتن دهو دها کے بچا کچا کهانا کها بهی لیں گے لے بهی آئیں گے ساتھ۔ -اسے خیال آیا کہ وہ ساری جهونپڑیوں میں اکیلی ہے اور ماں بهی نہیں اٹھ رہی اس نے ماں کی آنکهوں کی طرف دیکها وہ کهلی ہوئی تهیں پر ماں سورہی تهی چپ تهی جواب ہی نہیں دے رہی تهی وہ اونچی اونچی رونے لگی کسی جهونپڑی میں کوئی نہیں تها اسے نیند آرہی تهی وہ ماں کے ساتھ لگ کے منجی پر ہی سونے لگی پتہ نہیں کس لمحے اسے خیال آیا کہیں ماں مر تو نہیں گئی پهر لگا نہیں وہ کونسا زیادہ بیمار تهی ساتھ والی مائی کو مرنا چاہئیے وہبڈهی بهی ہے اور ہر وقت بیمار بهی رہتی ہے۔ اس سوچ نے اسے تسلی دی۔ اس نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈالکر اسے پیار کیا پچکارا “اماں اٹھ جا مجهے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ساتھ والے گهروں میں کوئی نہیں ہے تو بهی نہیں بولتی” گنتیکی چار جهونپڑیاں تهیں اور ان میں رہنے والوں کے دکھ سانجهے تهے۔مگر سب بازار والی سائیڈ پہ وڈی کوٹهی میں شادی کهانے گئے تو رات ادهر ہی ٹهہر گئے وہ سوگئی صبح اذانوں کی آواز سے اٹهی۔ اٹھ کے ماں کو جگایا وہ پهر بهی نہیں اٹهی جهونپڑیوں میں جهانکا کوئی نہیں تها ۔ساتھ والی مائی سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی تو وہ اس کے پاس بهاگی “نانی ،اماں ستینہیں اٹھ رہی کل شام توں میں اٹها رہی آں نہ بول دی بس اکهاں چا کهول سٹیاں نے پر اٹهدی نئیں میں انی ساری روٹی لیاندی اوہ وی نی کهادی”اس نے ساتھ والی مائی کو بتایا جو آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کی جهونپڑی کی طرف جارہی تهی روٹی کی بات سن کے رک گئی”تو روٹی کتهوں لیاندی آ تو تاں ویاہ تے وی نہ گئی”مائی ٹانگوں کی تکلیف کنٹرول کرتے ہوئے ہونٹ کهینچ کهینچ کر بولی”میں سمندر تے گئی ایساں ،اوتهے کوئی اپنی روٹی بهل گیا میں چهیتی چک لیاندی”دونوں آدهے ٹنگے ہوئے گندے سےپردے کو پیچهے ہٹاتی ہوئی جهونپڑی میں چلی گئیں مائی نے اماں کو آوازیں دیں ہلایا جلایا ہاتھ پہ ہاتھ لگا کے دیکها جب اس کی کهلی ہوئی آنکهوں کو دیکها تو اونچی اونچی رونے لگ گئی “اے نماننڑی تے مری پئی اے رات دی” نوراں جو ڈر رہی تهی مگر پر امید تهی کہ نہیں اس کا وہم ہوگا اماں کیوں مرے گی جبکہ مائی تو بڈهی بیمار ہوکے بهی زندہ ہے پر جب مائی نے بتایا تو وہ ماں سے لپٹ کے زور زور سے رونے لگی شام تک باقی جهگیوں والے آگئے مردوں نے جاکے مسجد والوں کو بتایا اور جلدی جلدی کفن اور نہانے کا بندوبست کیا اور دفنانے کیلئے چارہائی اٹها دی وہ روئی پاگلوں کی طرح روئی لاوارث لاش تهیجیسے تیسے کرکے دفنانی تهی وہ روتی رہیپیٹتی رہی ڈرتی رہی مائی اور جهونپڑی کی دوسری عورتیں اسے تسلی دیتی رہیں پراگلے دن مائی کو گاوں جانا پڑگیا اس کینوں بیمار تهی بیٹے نے بندہ بهیج کے بلوالیا تها۔رات کو اس کے پاس کوئی نہیں تها اس نے ماں کو بڑی آوازیں لگائیں پر مٹی کے نیچے جانے والے کب واپس آتے ہیں اپنی تکلیفیں ساتھ لے جاتےہیں اور پیچهے والوں کودن رات کی تکلیف میں ڈال جاتے ہیں وہ غبارے بیچنے چلی جاتی کبهی ادهر بیٹهتی کبهی ادهر۔ شام سے پہلے گهر آتی اور رات کو اماں کی چارپائی کے نیچے گهس کے روتی رہتی اورڈرتی رہتی دوسرا دن تها ساتھ والی مائی کو گهر سے گئے ہوئے اور تیسرا دن تها ماں کو مرے ہوئے، آدهی راتکو جب گلیوں کے سارے کتے ہوکنے لگے تو ان کی جهونپڑیوں والا کتا اس کے پاس چارپائی کے نیچے آکے سوگیا وہ سوئی ہوئی تهی پر پاس کسی کے سانس لینے کی آواز نے اسے نیند میں ڈهارس دی اور وہ نہیں ڈری چند راتیں ایسا ہی ہوتا رہا اتنی چهوٹی سی بچی کو کسی وجود کی گرمائش چاہئیے تهی سانسوں کی آواز چاہئےتهی وہ نیند میں کتے پہ ہاتھ بهی رکھ دیتی تهی ماں کا کائی نعم البدل نہیں پر مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاسکتا جو منوں مٹی کے نیچے چلے جاتے اپنے پیچهے دهکے کهانے والوں کو مار تو نہیں سکتے ماںکے مرنے کے بعد اس کا دل نہیں لگتا تها کہیں بس پاس پاس غبارے بیچ آتی اور آکے ماں کے کپڑوں اس کی چیزوں سے لپٹ لپٹ کر روتی رہتی ۔شاہ زمان نے بالآخر اسے ڈهونڈ نکالا جب وہ اذانوں کے وقت خاموشی سے کتے کے گلے میں بازو ڈالے زمیں پر چارپائی کے نیچے چهپ کے سورہیتهی شاہ زمان کا دل چاہا زمین پهٹے اور وہ اس میں گر جائے وہ زمین پر ہی بیٹھ کر کتنی دیر اس ننهی جان کی جانوروں سے بهی بدتر حالت پہ روتا رہا پهر اس نے بڑے ہی آرام سے اسے زمین سےاٹهایا اپنی جیپ میں لٹادیا۔“لاوارث اور گندے ہوں گے توکیا ہوا ہم انهیں صاف ستهرا رکهیں گےاچهی تعلیم دیں گے ویسے بهی اتنے بڑے گهر کا ہم دونوں کریں گے بهی کیا”وہ اپنی منگیتر کو سمجهارہا تها کہ شادی پہ فضول خرچی کی بجائے ہم اپنے گهر پہ لاوارث اور یتیم بچوں کیلئے آشیانہ بنائیں گے اور ان کی دیکھ بهال کریں گے منگیتر کے تو پیروں تلے سے اس بات پہ زمین ہی نکل گئی “اور ہمارا سٹیٹس”اس کے منہ سے بمشکل یہ ہی نکل پایا”بهاڑ میں گیا تمهارا سٹیٹس”اس نے ریسیور رکھ دیا وہ کتنے دنوں سے اسے سمجهارہا تها پهر منگنی کی انگوٹهی واپس آگئی شادی کی تیاریاں رک گئیں زمان شاہ نہیں رکا اور آج بیس سال بعد وہ سر فخر سے بلند کرکے سب کو اپنے آشیانے کےبچوں کے کارنامے سناتا نہیں تهکتا۔“آپ نے خو تو شادی کی نہیں ساری عمر ،ابمجهے کیوں مجبور کررہے ہیں میں آپ کو چهوڑ کے کہیں نہیں جاوں گی “نوری روہانسی ہوگئی تهی ماں باپ کی شفقت کا وہ کون سا پہلو ہوگا جو اس شخص نے ان بچوں کی زندگی میں پورا نہ کیا ہو۔ جان دیتا تها ان لاوارثوں پہ اور وہ جو اب اس کے وارث بنے بیٹهے تهے اس پہ جان دیتے تهے۔ “شادی کرکے انسان بچے پیدا کرتا ہے اور مجهے تو تم سب مل ہی گئے تهے تو میں شادی کرکے کیا کرتا اور کون پالتی تم سب کو میرے ساتھ اپنی جوانی اپنے ارمان تیاگ کے” “تو آپ ہمیں کسی ہاسٹل میں بهی ڈال سکتے تهے “نوری منہ پهلا کے بولی ،زمان شاہ کا چہرہ زرد پڑگیا۔اس نے ٹیبل سے سگار اٹهائے”جب کبهیتمهاری اولاد ہوگی ناں پهر تمهیں احساس ہوگا اولاد کا دکھ کیا ہوتا ہے”اس کی آواز رندھگئی تهی وہ تیز تیز قدم اٹهاتا ہوا ٹی وی لاونج سے چلاگیا اور سب لوگ نوری کو کوسنے لگ گئے وہ بهی خود کو ساری راتکوستی رہی نہ وہ پیدا ہوتی نہ اس کی ماں مرتی نہ ہی زمان بابا اپنی محبت سے دستبردار ہوتے اور نہ یوں ساری عمر تنہائی میں گزارتےاس کی ضد ہار گئی اور زمان بابا کی شفقت جیت گئی وہ عمر احمد سے شادی کیلئے راضیہوگئی تهی جو ابهی مجسٹریٹ کا ایگزام پاس کرکے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پوسٹ پر لگا تها اور سی ایس ایس کی تیاری کر رہاتها ۔شادی سے ایک رات پہلے اس نے پراناصندوق کهولا ماں کی چیزیں نکالیں اور ان سےلپٹ کے خوب روئی اسکو معلوم تها کہ کل افراتفری میں شاید وقت نہ ملے اور پهر ماں کے دوپٹے سے بندهے ہوئے تیس روپے بهی مل گئے وہ بہت روئی ان تیس روپوں کو ماں ترس ترس کے مر گئی کاش ٹهیکیدار نہ لیتا تو ماں کے پاس ہرروز تیس روپے ہوتے وہ دبے پاوں زمان بابا کے کمرے میں گئی اور ان کی سائیڈ ٹیبل میں پیپرز کے نیچے رکھ آئی۔شادی ہوگئی اسے بهی مجسٹریٹ کی پوسٹ ملگئی دونوں سی ایس ایس کی تیاری ساتھ ساتھ کرتے رہے۔اک رات زمان شاہ نے اپنے دراز سے کوئی ضروری کاغذ نکالے تونیچے سے تیس روپے نکلے وہ فورا”سمجھ گیا یہ کون رکھ گیا وہ آرام دہ کرسی پر بیٹها کمرے کی چهت پہ آنکهیں مرکوز کئے بیٹها رہا اور سوچتا رہا کہ کسی کو تو آگے بڑهنا پڑتا ہے سماج کو بچانے کیلئے۔سماج کی ننهی کونپلوں کو سینت سینت کے رکها جاتا ہے ورنہ اگر یہی حالات کی چکیوں میں مسلی جائیں تو سماج کو کیسے بچایا جائے گا..!
4 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ پیشاب کپڑوں میں نہ نکلے
8 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ گھر جانے کا رستہ آتا ہو
12 سال کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ دوست احباب ہوں
18 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ گاڑی ڈرائیو کرنی آتی ہو
23 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ اچھی ڈگری حاصل کر لی ہو
25 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ کوئی اچھی نوکری مل گئی ہو
30 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ بیوی بچے ہوں
35 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ مال ودولت پاس ہوں
45 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ اپنا آپ جوان لگے
50 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ بچے تمہاری اچھی تربیت کا صلہ دیں
55 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ ازدوجی زندگی میں بہار قائم رہے
60 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ اچھے سے گاڑی ڈرائیو کر سکو
65 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ کوئی مرض نہ لگے
70 برس کی عمر میں ..... کامیابی یہ ہے کہ کسی کی محتاجگی محسوس نہ ہو
75 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ تمہارا حلقہ احباب ہو
80 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ گھر جانے کا رستہ آتا ہو
85 برس کی عمر میں .... کامیابی یہ ہے کہ کپڑوں میں پیشاب نہ نکل جائے
وَ مَنۡ نُّعَمِّرۡہُ نُنَکِّسۡہُ فِی الۡخَلۡقِ ؕ اَفَلَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۸﴾ (يٰس-68)
اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم اُلٹ ہی دیتے ہیں کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی۔
ایسی ہی ہے یہ دنیا- لہذا دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کریں کیونکہ آخرت کی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے..
کسی گاوں میں تین بھائی رہتے تھے. ان کے گھر پر پھل کا ایک درخت تھا جسکا پھل بیچ کر یہ دو وقت کی روٹی حاصل کرتے تھے. ایک دن کوئی اللہ والا انکا مہمان بنا. اُس دن بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گیا اور دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہ ہوئے کہ ان کو بھوک نہیں۔ مہمان کا اکرام بھی ہو گیا اور کھانے کی کمی کا پردہ بھی رے گیا آدھی رات کو مہمان اٹھا جب تینوں بھائی
سو رہے تھے ایک آری سے وہ درخت کاٹا اور اپنی اگلی منزل کی طرف نکل گیا. صبح اس گھر میں کہرام مچ گیا سارا اہل محلہ اس مہمان کو کوس رہا تھا جس نے اس گھر کی واحد آمدن کو کاٹ کر پھینک دیا تھا.چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاوں میں آیا تو دیکھا اس بوسیدہ گھر پر جہاں وہ مہمان ہوا تھا اب عالیشان گھر بن گیا تھا ان کے دن بدل گئے تھے تینوں بھائیوں نے درخت کے پھل نکلنے کے انتظار کی اُمید ختم ہونے پر زندگی کیلئے دوسرے اسباب کی تلاش شروع کر دی تھی اور اللہ نے ان کو برکت عطا فرما دی.لیکن اپنا کمفرٹ زون چھوڑنے کی ہمت نہیں کر پاتا کبھی قدرت ہمیں اس کمفرٹ زون سے نکالتی ہے کبھی ہمارا امتحان ہی اس زون سے نکلنا بن جاتا ہےجب بھی ہم پر دنیا میں اسباب کا کوئی دروازہ بند ہو جاتا ہے تو ہماری بھی زندگی میں ایک زلزلہ آجاتا ہے ہم سمجھتے ہیں
جیسے سب کچھ ختم ہو گیا. جبکہ یہ کسی نئی شروعات کیلئے قدرت کا پیغام ہوتا ہے انسان کی فطرت ہے وہ دستیاب صورتحال میں کمفرٹ زون بنا لیتا ہے وہ حسرت سے دُنیا کو دیکھتا ہے۔
Copy
واپڈا آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا
واپڈا کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیلے کیسے دیتے ہو؟
*کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو صاحب؟*
افسر۔ کیا مطلب ؟
*کیلے والا :*
مطلب یہ کہ
یتیم خانے کے لئے لے رہے ہو تو *40 روپیہ درجن*
اولڈ ہوم کے لئے لے رہے ہو تو *50 روپیہ درجن*
بچوں کے ٹفن کے لئے *60 روپیہ درجن*
گھر کھانے کے لئے لے رہے ہو تو *70 روپیہ درجن*
اگر پکنک کے لئے خریدنے ہوں تو *80 روپیہ درجن*
*افسر یہ کیا بیوقوفی ہے؟*
ارے بھائی جب سب کیلے ایک جیسے ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟
*کیلے والا:*
پیسے کی وصولی کا اسٹائل تو آپ لوگوں والا ہی ہے
جیسے
*1 سے 100 یونٹ کا الگ ریٹ*
*100 سے 200 کا الگ*
*200 سے 300 کا الگ*
*300 سے 400 کا الگ*
*بجلی تو آپ ایک ہی کھمبے سے دیتے ہو ؟*
تو پھر گھر کے لئے الگ ریٹ
دکان کے لئے الگ ریٹ
کارخانے کا الگ ریٹ
*اور ایک بات۔۔*
میٹر کی قیمت ہم سے لیکر پھر میٹر کا کرایہ الگ لیتے ہو۔۔۔
انکم واپڈا کو ہوتی ہے اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہم سے الگ لیتے ہو
سرچارج اور ایکسٹرا سرچارج کیا بلا ہے جو ہم سے لیتے ہو؟
میٹر کیا امریکہ سے امپورٹ کیا ہے 25 سال سے میٹر خرید کر بھی اس کا کرایہ بھر رہا ہوں ۔۔۔
آخر میٹر کی قیمت کتنی ہے؟ آپ بتا دو مجھے ایک ہی بار
اور اسی طرح سوئی گیس والوں نے بھی اَنّی پائی ہوئی اے
*کڑوا سچ*
اس مسیج کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرو اور اپنے حکمرانوں اور بیورو کریٹس کی کرپشن دیکھو اور سمجھو
جنات اور احتیاطی تدابیر
●دوسری چیز گھر میں اگر کوئی پرانا درخت ہو تو اسے کاٹنے کی بجائے گھر کی تراش خراش اس طرح کریں کے درخت کی گنجائش نکل آئے عموماً پرانے درختوں پر جنات بسیرا کر لیتے ہیں خود سوچیں آپ کو کوئی گھر سے بےگھر کرے تو آپ مکینوں کا کیا حال کریں گے
●پہاڑی علاقہ جات کے سفر کے دوران گانے بجانے اور فضول ہلڑ بونگ سے پرہیز کیا کریں نبیﷺ نے جنات کو حکم دیا تھا کہ وہ انسانی آبادی سے نکل کر جنگلات اور ویرانوں میں بسیرا کر لیں لہٰذا کسی کے گھر جاکر طوفانِ بدتمیزی بپا نہیں کیا کرتے ورنہ نتیجے کے زمہ دار آپ خود ہوتے ہیں چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو
●سفر کے دوران کسی بھی درخت کے سائے تلے خود اور بچوں کو قضائے حاجت کروانے سے احتیاط برتا کریں خود سوچیں آپ کے بچے کھیل رہے ہوں یا آپ استراحت فرما رہے ہوں اور کوئی آکر آپ پر فضلہ گرا دے تو آپ کے صبر کا پیمانہ کیا ہوگا ہاں اگر ناگزیر ہو تو تین مرتبہ یہ کہہ کر کہ اگر یہاں کوئی ہوائی مخلوق ہے تو سائیڈ پر ہو جائے پھر آپ بری الزمہ ہیں
●پہلے گھروں میں صحن کے ایک کونے میں بیت الخلاء ہوا کرتا تھا اب ہم غلاظت کے گھر کو اپنے ہر کمرے میں اٹیچ باتھ کے نام پر لے آئے ہیں جس طرح مکھیاں اور دوسرے غلاظت پسند کیڑے مکوڑے غلاظت پر گرتے ہیں اِسی طرح خبیث شیاطین غلاظت کے مقامات سے خاص دلچسپی اور مناسبت رکھتے ہیں اِس لیے رسول اللہﷺ نے اِن مقامات میں جانے کے وقت کے لیے دعا بتائی اور خود حضورﷺ کا معمول بھی تھا کہ بیت الخلاء جانے کے وقت دعا پڑھتے تھے
بیت الخلاء جاتے وقت سنت پر عمل کریں تو گندگی کے جن آپکو کچھ نہیں کہیں گے داخل ہوتے وقت بیت الخلا جانے کی دعا پڑھیں اور باہر نکلتے ہوئے باہر نکلنے کی دعا پڑھیں شریر جنات وہیں رہ جائیں گے
●جو خواتین فیشن کے نام پر سر نہیں ڈھانپتیں یا تنگ اور اونچے پاجامے پہن کر پنڈلیاں دکھاتی ہیں ان کے لئے عرض ہے نامحرم متاثر ہوں یا نا ہوں جنات عورت کے بالوں اور ننگی پنڈلیوں پر عاشق ہوتے ہیں اب اختیار آپکے پاس ہے نامحرم کو متاثر کرنا ہے یا جن کو
●چلیں بالفرض آپ کسی جن کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں تو خدارا گھر میں داخل ہوتے وقت داخل ہونے کی دعا پڑھ لیا کریں تاکہ آپکا عاشق گھر سے باہر ہی رہ جائے اور آپکی اور گھر والوں کی پریشانی کا سبب نا بنے(امید ہے اب اس سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ جنات عورتوں پر ہی کیوں عاشق ہوتے ہیں)
●جنات کے شر انگیزیوں سے پناہ مانگتے وقت یہ دعا بھی کیا کریں کہ اے اللہ جنات کو بھی ہمارے شر سے بچا کیونکہ ہم نادانستگی میں مسلمان جنات کی ایذا کا سبب بھی بن جاتے ہیں
●ایک بہت اہم بات زہن نشین کر لیں جتنا انسان جنات سے ڈرتا ہے اس سے کہیں زیادہ جنات ایک مسلمان سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس سورت الناس ہے جو آگ کے لئے پانی کا کام کرتی ہے
●رات کو سوتے وقت چاروں قل اور آیت الکرسی پڑھ کراپنااورگھر کاحصار کرلیا کریں
خدا ہم سب کا حامی و ناصرہو
بس میں سوار ہوتے ساتھ ایک بندہ بآواز بلند اعلان کرنے لگا
میں کوئی مانگنے والا نہیں ہوں میرے بھائیو بس اللہ یہ وقت کسی پر نہ لائ
ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ساری سواریوں کی ہنسی چھوٹ گئی
وہ اعلان کرنے والا اعلان درمیان میں چھوڑ کر ہی واپس مڑ گیا مڑنے سے پہلے اس کے آخری الفاظ جو مجھے سنائی دئیے وہ کچھ یوں تھے۔۔
جا اوئے بادشاہ••••••• تینو لوے مولا
ساڈی روزی تے وی لت مار دتی اے😂😂😂
بچے😲😜 کی پیدائش کے بعد ڈیلیوری روم سے نکلے ایک گھنٹہ ہوا تھا، ماں کو ابھی ابھی ہوش آیا تھا.
بدن میں طاقت بالکل ختم ہو گئی تھی....
کروٹ لینا تو دور کی بات ہلنے میں بھی بے پناہ دقت ہو رہی تھی.
اس نے بڑی مشکل سے داہنے ہاتھہ کو حرکت دی، کچھہ ٹٹولا، ہاتھہ کو کچھہ محسوس نہیں ہوا
پھر بائیں ہاتھہ کو حرکت دینے کی کوشش کی. کچھہ نہیں ہاتھہ لگا. بے چین ہوگئی.
خیال آیا کہیں نیچے لڑھک کے گر تو نہیں گیا! اوہ خدایا..............
ہمت کرکے بمشکل پلنگ کے نیچے دیکھا.
نیچے بھی نہیں......
گھبراہٹ ہونے لگی. ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہو گئیں..
دُور کھڑی نرس کو اشارے سے بلایا......ہونٹ ہلے پر کچھہ الفاظ نہیں نکل سکے....
نرس نے ماں کی گھبراہٹ محسوس کر لی. اس کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔۔۔ آخر وہ بھی ماں تھی، ماں کی تڑپ کو کیسے نہ سمجھہ پاتی.
دوڑ کر انکیوبیٹر روم سے نوزائیدہ کو لاکر ماں کے ہاتھہ میں تھماتے ہوئے کہا
"میں سمجھہ سکتی ہوں بہن !
لو...... جی بھر کے دیکھہ لو۔"
ماں بولی....
"بہت شکریہ لیکن میں موبائل ڈھونڈ رہی تھی.😂😂😂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi