18/10/2025
پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی پچوں کا معیار انتہائی خراب ہو چکا ہے، ہر ملک اپنے ہوم گراؤنڈ کا فائدہ لیتا ہے مگر ہمارا فائدہ نقصان میں بدل گیا ہے۔ اتنی اسپن فرینڈلی پچز بنا کر ہم اپنے بیٹرز اور بولرز کی صلاحیتیں محدود کر دیتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ جب کھلاڑی آسٹریلیا یا انگلینڈ جاتے ہیں جہاں کی پچز سخت، سیم اور باؤنس والی ہوتی ہیں تو وہ مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ آسٹریلیا میں clay اور grass کے بیلنس سے بنی پچز پر pace اور bounce ہوتا ہے، انگلینڈ میں grassy اور moist pitches swing اور seam کے لیے جانی جاتی ہیں، جبکہ پاکستان میں sandy clay pitches جان بوجھ کر dry کی جاتی ہیں، گھاس ہٹا دی جاتی ہے اور cracks چھوڑ دیے جاتے ہیں تاکہ spin زیادہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے فاسٹ بولرز اور بیٹرز باہر جا کر struggle کرتے ہیں۔ اگر ہمیں انٹرنیشنل سطح پر کامیاب ہونا ہے تو صرف کھلاڑی نہیں بلکہ pitch culture بھی بدلنا ہوگا، ایسی پچیں بنانی ہوں گی جہاں pace, bounce اور spin تینوں کا توازن ہو تاکہ اصل ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آ سکے۔ 🇵🇰💚
12/04/2025