01/01/2026
IlmNest Learning
A leading platform for Islamic education & IT training, empowering students with knowledge & digital skills.
Join us to enhance your learning journey & career growth. #IlmNestLearning #IslamicEducation #ITTraining #OnlineLearning #EdTech"
#CareerGrowth
01/01/2026
02/08/2025
وہ ننگے پیر چلتی اندر داخل ہوئی۔ہر قدم پہ دل دھڑک رہا تھا۔ ابھی کہیں کسی کونے سے کعبہ کی جھلک نظر آجائے گی۔بس وہ لمحہ ضائع نہیں کرنا۔کیونکہ اکثر لوگ وہ لمحہ ضائع کردیتے ہیں۔کیونکہ وہ ابھی تک ٹی وی پہ کعبہ کو دیکھتے آئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں اسے نہیں دیکھا ہوتا تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک چوکور سیاہ عمارت ہے۔ہاں ٹھیک ہے۔ بہت خوبصورت ہے۔ لیکن ایک عمارت ہی ہے‘اور سارا مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیمرے کی آنکھ سے اس عمارت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔نظر اور کعبہ کے درمیان کیمرے کا شیشہ آجاتا ہے اور اس شے کا راستہ رک جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اَزل سے ابد تک کے لیے خانہ کعبہ میں رکھ دی ہے۔
محبت۔
اور یوں بہت سے لوگ جو کعبہ کے سامنے پہنچتے ہیں‘ جب وہ پہلی نظر اٹھا کے اسے دیکھتے ہیں‘ تو وہ مبہوت رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ بچپن سے وہ ٹی وی اور انٹرنیٹ پہ کعبہ کو دیکھتے آئے ہیں۔ لیکن جب وہ اسے حقیقت میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ…
یہ وہ نہیں ہے جسے وہ دیکھتے آئے تھے۔ یہ تو کچھ اور ہے۔
خوبصورت۔ایک بہت عالیشان اور خوبصورت گھر جس میں اللہ نے ایسی محبت اور کشش رکھی ہے کہ اس سے نگاہ نہیں ہٹتی۔
اور لوگ دم سادھے وہیں کھڑے رہ جاتے ہیں۔بالکل دم بخود۔
کیونکہ وہ کعبہ آئے تھے دعائیں قبول کروانے۔ بخشش کروانے۔ عمرے اور حج کے نفل اور فرض پورے کرنے۔
وہ محبت کے لیے تیار نہیں ہوتے۔وہ اس خوبصورتی کے لیے تیار نہیں ہوتے جو اس گھر کو چاروں طرف سے لپیٹے ہوئے ہے۔وہ اپنا سوچ کے آئے تھے۔ عبادت کریں گے۔ نمازیں پڑھیں گے۔دعائیں مانگیں گے۔ لیکن اس سیاہ گھر کی خوبصورتی ان کو جکڑ لیتی ہے۔
*الا بذکراللہ تطمئن القلوب*🤍✨
*سلسلہ نصیحت و اصلاح*
مرتب:-✍️
*مفتی محمد حسن*
---------------------------------------
*قرآن سورہ بقرہ میں راز کی باتوں کو سمجھنے کے لیے ان اہم نکات points کو غور سے پڑھیں، اور انہیں کسی کاپی یا ڈائری میں لکھ لیں۔ پھر ان باتوں کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، تاکہ وہ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ اسی طرح ہم سب نیکی کی طرف بڑھ سکتے ہیں*.
*16-* قرآن سورہ بقرہ میں راز کی باتیں.
سورہ بقرہ کی تیسری رکوع کی آیت میں ہے *یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ*
ترجمہ:- اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو.
یعنی اے میرے بندوں، ہر وقت اور ہر جگہ میری اطاعت اور فرمانبرداری کرو.
جب آپ عبادت کا مفہوم سمجھ جائیں گے تو آپ کو یہ مسئلہ سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی کہ اسلام میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق واضح تعلیمات موجود ہیں۔ آپ کسی غیر مسلم کو بھی آسانی سے دینِ اسلام کی دعوت دے سکیں گے اور اُسے قائل کر سکیں گے، ان شاء اللہ۔
*عبادت کا آسان مفہوم یہ ہے* کہ انسان ہر وقت، ہر جگہ اپنے پروردگار کے سامنے انتہائی تعظیم اور عاجزی کے ساتھ مکمل اطاعت و فرمانبرداری پیش کرے۔
یعنی آپ جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں، اس وقت اور اس جگہ جو حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے متوجہ ہو، اسے پورا کرنا عبادت کہلاتا ہے۔
یہ صورتِ حال گھر میں بھی پیش آ سکتی ہے اور گھر سے باہر بھی؛ مسجد میں بھی ہو سکتی ہے اور بازار یا دفتر میں بھی؛ مدرسہ یا جامعہ میں بھی آ سکتی ہے اور کالج یا یونیورسٹی میں بھی؛ پاکستان میں بھی ہو سکتی ہے اور بیرونِ ملک بھی۔
غرض، اخلاص کے ساتھ دین کی تعلیمات کے مطابق، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ آپ جو شرعی اسلامی حکم پورا کریں گے، وہ عبادت کہلائے گا۔
مثال کے طور پر:
گھر میں کوئی شخص اگر اپنے والدین، بیوی، اولاد، شوہر یا بھائی بہن کے حقوق ادا کرتا ہے تو یہ عبادت ہے۔
گھر سے باہر، دفتر، اسکول، کالج، یونیورسٹی یا مدرسے میں اگر بندوں کے حقوق ادا کیے جائیں، تو یہ بھی عبادت ہے۔
مسجد میں نماز ادا کرنا ہو یا مسجد سے باہر، بازار یا مارکیٹ میں شرعی احکام کا خیال رکھنا ہو یہ سب عبادت ہے۔
غرض، ہر وقت، ہر جگہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلنا، اور حقوق العباد کا لحاظ رکھنا یہی عبادت ہے۔
اسی لیے بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اسلام درحقیقت 24 گھنٹے کی عبادت کا نام ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ نیت میں اخلاص ہو، اور عمل شرعی تعلیمات کے مطابق ہو، تو وہ عمل عبادتِ مقبول بن جائے گا، ان شاء اللہ۔
*🖍️ پوسٹ کو صدقہ جاریہ کی نیت سے بغیر کسی تبدیلی کے آگے بھی شئیر کیجیے...... اگلی پوسٹ میں ان شاء اللہ، قرآن سورہ بقرہ میں راز کی مزید باتیں شئیر کرنے کی کوشش کریں گے*.
*🌷مفتی محمد حسن🌷*
(نصیحت و اصلاح واٹساپ گُروپ)
جو اپنے نفس کو الله کی عبادت میں نہیں لگاتا، اسکا نفس بغیر ارادے کے ہی شیطان کی اطاعت میں لگ جاتا ہے، کیونکہ، نفس کے لیئے
لازمی ہے کسی نا کسی عمل میں مصروف رہے۔
امام ابن تیمیة
02/08/2025
📖 نظم: عربی حروفِ تہجی — مخرج کی روشنی میں
ہونٹوں سے ہوں چار ادا،
زبان کے آگے سے نکلے صدا۔
ان بارہ حرفوں کی ہے پہچان،
کبھی کناروں سے، کبھی زبان کے درمیان۔
"ج، ش، ی" بیچ زبان سے نکلیں،
"ق، ک" کا تعلق زبان کی جڑ سے ملیں۔
"خ، غ" آئیں حلق کی راہ،
"ح، ع" بھی وہیں سے لائیں پناہ۔
"ہ، ء، خ، غ" حلق کے تین مقام،
الفاظ میں لائیں مخرج کا پیغام۔
"ت، د، ط" نوک زبان کی نوید،
"ر، ل، ن" میں جنبش کی امید۔
"س، ص، ز، ظ" میں سیٹی کی ہوا،
"ف" نکلے دانتوں کی صف سے سدا۔
"ب، م، و" ہونٹوں کا کمال،
"ن" کا غنہ ہو ناک سے بے مثال۔
📚 عربی حروف صرف لفظ نہیں، تلفظ کی پہچان ہیں!
ہر حرف ایک منفرد مخرج رکھتا ہے — قرآنِ پاک کو صحیح پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان مخرجوں کو جانیں اور سیکھیں۔
🌟 اس نظم کو بچوں کے ساتھ شیئر کریں اور عربی کی خوبصورتی سے روشناس کریں۔
28/07/2025
🌿 Ilmnest Learning presents 🌿
📖 تجوید کی باتیں
🎙️ آج کا موضوع: حُرُوفِ شَجَرِیَہ
🔹 تعریف:
ایسے حروف جو زبان کے درمیانی حصے سے ادا ہوتے ہیں جب وہ تالو کے درمیانی حصے سے ملتا ہے، انہیں حروفِ شجریہ کہا جاتا ہے۔
🔸 حروف:
ج، ش، ی
📍مخرج:
زبان کا درمیانی حصہ اور تالو کے درمیانی حصہ سے ٹکرانے پر یہ حروف ادا ہوتے ہیں۔
🔉 مثالیں:
ج: جَزَاءً وِفَاقًا
ش: شَمْسٌ وَقَمَرٌ
ی: يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
🔖 کیوں "شجریہ"؟
کیونکہ "شجر" عربی میں زبان کے اندرونی حصہ کو بھی کہتے ہیں، جہاں یہ آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔
---
📚 Ilmnest Learning
سیکھئے قرآن تجوید کے ساتھ!
✨ آن لائن کلاسز – قرآن، تجوید، عربی
📲 رابطہ کریں: [03456874735]
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Address
Karachi
Karachi
78590