Muhammad Farooq

Muhammad Farooq

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Farooq, Sports, Karachi.

Photos from Muhammad Farooq's post 13/05/2025

کاٹھور: کراچی کے سرسبز وجود کا آخری مورچہ
حفیظ بلوچ

سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مضافاتی علاقے کاٹھور، جو گڈاپ میں واقع ہے، اپنی زرخیز زمینوں، سرسبز باغات اور قدیم زرعی روایت کے باعث ایک اہم پہچان رکھتا ہے۔ کاٹھور کے ایک طرف ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) جیسے جدید رہائشی منصوبے ہیں تو دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کراچی جیسے بڑے کمرشل منصوبے۔ مگر ان دونوں کے بیچ کاٹھور آج بھی فطرت کے حسن اور زمین کی سخاوت کا نمائندہ ہے۔

یہ علاقہ صرف آم کے باغات تک محدود نہیں بلکہ یہاں سیتاپھل، پپیتا، چیکو، گندم، اور کئی دیگر پھلوں و سبزیوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ ضلع ملیر کی زرخیزی کا زندہ ثبوت کاٹھور کے یہی باغات ہیں۔ عہدِ قدیم سے یہ خطہ ایک زرعی اور دیہی معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں کے کنویں اور زمینیں آج بھی اس ماضی کی گواہی دیتی ہیں جب یہاں کی مٹی میں اتنی طاقت تھی کہ جو بھی بویا جاتا، بہترین انداز میں اگتا ہے ـ

مگر گزشتہ چالیس برسوں سے یہاں کے کسان اور زمیندار مایوسی کا شکار ہیں۔ اس زمین کی طاقت کا انحصار یہاں بہنے والی ندیوں پر ہے، جن میں قدرتی ریت اور بجری موجود ہے۔ بدقسمتی سے جب سے تعمیراتی صنعت نے ریت و بجری کو بطور کنسٹرکشن میٹیریل استعمال کرنا شروع کیا، تب سے ان ندیوں پر بلڈر مافیا اور ریتی بجری مافیا کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ قانونی اور آئینی طور پر ملیر میں ریتی و بجری کی مائننگ اور چوری پر پابندی ہے، مگر حکومت، اس کے ادارے اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد اس غیر قانونی عمل کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ عدالتیں اس ظلم کے آگے بےبس نظر آتی ہیں۔

اس بے لگام لوٹ مار کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، جو نہ صرف کاشتکاری بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس کے باوجود ملیر، گڈاپ اور کاٹھور کے کسان آج بھی اپنی مدد آپ کے تحت کاشتکاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اب سندھ بھر میں کارپوریٹ فارمنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے، مگر ملیر میں تو گزشتہ بیس سالوں سے زرعی زمینوں کی سرمایہ داروں میں بندر بانٹ جاری ہے۔ کاٹھور سمیت پورا ملیر آج اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں ان سرسبز باغات کو ملیامیٹ کر کے زمینیں بلڈر مافیا کے حوالے نہ کر دی جائیں۔

یہاں آم کے کئی درخت ایسے ہیں جنہیں پچاس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور وہ آج بھی ثمر بار ہیں۔ یہ وہ قیمتی اثاثے ہیں جنہیں صرف بچانے کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے گنجان اور آلودگی زدہ شہر کے لیے اگر کوئی فطری آکسیجن زون باقی ہے تو وہ یہی ملیر، گڈاپ، کاٹھور، درسانہ چنہ، چوہڑ اور ان سے ملحقہ علاقے ہیں، جہاں آج بھی ایگریکلچر سسٹم زندہ ہے، جہاں آج بھی دیہی معاشرہ اپنی زمین، ندی، درختوں اور گاؤں سے محبت کرتا ہے۔

یہ محض کاٹھور کے لوگوں کی نہیں، بلکہ پورے کراچی کے شہریوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطے کی حفاظت کریں۔ کیونکہ حکومتیں، عدالتیں اور ریاستی ادارے آج بھی سرمایہ داروں، قبضہ گروپوں، بلڈر مافیا اور ریتی بجری مافیا کے آگے بےبس نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دھندا ہے، جو نہایت گندا ہے— اور اس کے نتیجے میں ہم اور ہمارا ماحول تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

23/04/2025

*ہر شخص کا ایک میدان ہوتا ہے … اور وہی اس کا جہاد ہوتا ہے!*

یہ دین کبھی خالد بن ولیدؓ کی تلوار کیلئے ضروری ہوا جب معرکہ سخت ہوا — اور کبھی حسّان بن ثابتؓ کی شاعری کا جب فکری معرکہ شدت اختیار کر گیا۔
خالدؓ، حسّانؓ کی جگہ نہ لے سکے، اور نہ ہی حسّانؓ خالدؓ کی۔

اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو ایک ایک مورچے پر کھڑا کیا ہے — ہر ایک کا ایک مخصوص مقام ہے، جس کا اسے دفاع کرنا ہے۔
نہ اسے اپنے مورچے کو کمتر سمجھنا چاہیے، اور نہ یہ گمان کرنا چاہیے کہ اس کا مورچہ سب سے اعلیٰ ہے۔

غزوہ تبوک میں جب لشکرِ عسرہ کو مال درکار تھا، تو عثمانؓ کا مال سب سے قیمتی تھا۔
لیکن جب قرآن کو جمع کرنے کا مرحلہ آیا، تو ابی بن کعبؓ کی قراءت عثمانؓ کے مال، خالدؓ کی تلوار اور حسّانؓ کی شاعری سے بھی زیادہ اہم بن گئی۔
لہٰذا جب تمہاری باری آئے، تو شیر بن کر اُٹھو!

خیبر میں جب علیؓ نے مرحب جیسے دشمن کو للکارا، تو ان کی تلوار اتنی ہی قیمتی تھی جتنی وہ رقم جس سے ابوبکرؓ نے بلالؓ کو آزاد کرایا۔
یہ دونوں مختلف کام تھے، اور دونوں ہی عظیم۔

یہ دین تکمیل ہے، مقابلہ نہیں۔ یہ یکجہتی ہے، برتری نہیں۔

آج بھی یہی حال ہے۔ امت کے سامنے بہت سے محاذ ہیں، اور ہر مسلمان ایک محاذ پر کھڑا ہے۔

ماں اپنے گھر میں ایک مورچے پر ہے — کیونکہ مردوں کی تربیت وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
استاد اپنے کلاس میں ایک مورچے پر ہے — کیونکہ جاہل امت کبھی قائد نہیں بن سکتی۔

مجاہد ایک ایسا مورچہ سنبھالے ہوئے ہے جو مسجد کا امام نہیں سنبھال سکتا —
اور امام مسجد ایک ایسا مورچہ سنبھالے ہوئے ہے جو تاجر نہیں سنبھال سکتا —
اور وہ تاجر جس کی سخاوت، صدقہ و خیرات اور حاجتمندوں کی مدد،
اسی قدر اہم ہے جیسے کسی مجاہد کی قربانی، یا امام کی ہدایت۔

دیکھو، اللہ نے تمہیں جہاں کھڑا کیا ہے، وہی تمہارا مورچہ ہے۔
اسے مضبوطی سے تھامو، وہیں جہاد کرو، اور اپنا کردار ادا کرو۔

جب ہر شخص اپنا کام کرے گا — تب یہ امت اپنا کھویا ہوا مقام واپس پائے گی۔

*لہٰذا — ابتداء اپنے آپ سے کرو، دوسروں کا انتظار نہ کرو!*
Copied from faiz ahmed khan writes
wall

05/03/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ تمام ممبران خیر و عافیت سے ہونگے اللہ تبارک و تعالی آپ سب کو خوش اور آباد رکھے اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین )
کچھ عرصے سے ہم انفرادی ایک کام کر رہے ہیں ابھی سوچا کہ اس نیکی کے کام میں اپنے بھائیوں کو بھی_ساتھ شریک کریں اور یہ نیکی ایک ایسی نیکی ہے جو مرنے کے بعد بھی آپ کے نامہ اعمال میں لکھی جائے گی جس طرح کہیں پانی کی ضرورت ہے وہاں کسی کو پانی کا کنواں نکال کے دے دیا یہ کہ کہیں مسجد میں اپنا حصہ ڈال دیا یا کسی بے سہاروں کے ساتھ مدد کر لی اس کے لیے جو احباب اس مہم میں ہمارے شانہ بشانہ اللہ کی رضا کے لئے شامل ہونا چاہتے ہیں. ہمارے پاس اپنا نام لکھوا دین تاکہ اس خیروبرکت کے کام میں آپ بھی ہمارے ساتھ شانہ بشانہ ہو جائے
🛑متوجہ ہوں 🛑
🙏🏻 *ایک درخواست ہے*.
👈🏻 اگر آپ روزانہ *بیس روپے* صدقہ کرتے ہیں تو شاید ساری زندگی کسی ایک انسان کو بھی برسرِ روزگار نہیں کر سکتے لیکن اگر اپنے جیسے *دس افراد* کا گروپ بنا لیں اور *وہ دس افراد مزید دس دس لوگوں* کو اپنے ساتھ جوڑ لیں تو یہ تعداد ایک سو ہوجائے گی اور ایک سو افراد روزانہ کے بیس روپے جمع کریں تو مہینہ میں *ساٹھ ہزار روپے* ہوجائیں گے اور ایک سال میں *سات لاکھ بیس ہزار روپے*.
🌷 اب یہ *سو افراد* کا گروپ چاہے تو چھوٹے *قرضِ حسنہ* دے کر ہر ماہ کسی ایک بے روزگار کو روزگار دے سکتا ہے اور *چند ہی سالوں میں یہ قرض واپس آکر مزید غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اور ضرورت کے مطابق فی سبیل اللہ بھی کسی کے روزگار کا بندوبست کر سکتا ہے*.
💭 *ذرا سوچیے*!
♻️ ہمارے شہروں میں اگر اس طرح کی بیسیوں کمیٹیاں بن جائیں تو پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا مگر یہ کرے کون؟

*ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کوئی اور لیڈر بنے ۔۔۔ ارے بھائی خود آگے آئیے اور اس قوم کے لئے خود ہی کچھ کیجئے*۔
👈🏻 اسی طرح اگر آپ صرف *زکوٰۃ کی تقسیم* ہی درست کرلیں تو بھی کایا پلٹ سکتی ہے۔ آپ یہ رقم کسی *مستحق کی بحالی* پر لگائیے *ان شاء اللہ* یہ ادائیگی *صدقہ جاریہ* بن جائے گی۔۔
☂️ *زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر دورانیہ کے 20 سے 25 سال ہماری تعلیم کھا گئی، 15 سال معیشت کو سنبھالتے سنبھلتے گزر گئے باقی پیچھے بچا کیا ۔۔۔؟؟ اس لئے آج اور ابھی سے کچھ کرنے کا جذبہ لے کر میدان میں اتر جائیے. کچھ کرنے کا جذبہ ہے تو اپنے حصے کی شمع جلائیے. اپنے رشتہ داروں، احباب، فیس بک کھاتہ سے دس لوگ نکالیے اور فوری طور پہ مخلوق کی بھلائی میں لگ جائیے۔*
رابطہ کیلئے 03009298904

#محمدایس فاروقی کی وال سے کاپی

02/01/2025

چینی کی بجاے گڑ کا استمال کریں تاکہ بڑی بڑی شوگر ملز والوں کی بجاے چھوٹے طبقے کے کسانوں کو ڈائریکٹ فائدہ ہو

26/12/2024

کل الفیض سپر سٹور شاہ لطیف ٹاؤن پر

ڈکیتی کے دوران ڈکیتوں کی فائرنگ سے گارڈ اور کیشیئر بری طرح زخمی ہوئے
لیکن چند گھنٹے بعد ہی قریب کے ایک گھر سے ان ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا گیا اور گارڈ سے چھینی گئی کلاشنکوف بھی برآمد کی گئی ...... إن چار ڈاکؤؤں میں ایک ڈاکو آصف نامی پولیس اہلکار بھی تھا جو کچھ عرصہ قبل کسی جرم کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا.......
ڈاکوؤں کے ساتھ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کا نیکسز ہی ان آئے روز وارداتوں کی بڑی وجہ ہے .......
اس نیکسز کو آہنی ہاتھوں سے ختم نہ کیا گیا تو کراچی والے اسی طرح لٹتے اور مرتے رہینگے .......
پولیس اہلکار کا اس واردات میں ڈاکوؤں کے ساتھ شامل ہونا اس نکسز کا واضح ثبوت ہے .......

11/12/2024

Early morning 🌄

03/11/2024

مرد کا دوسرا تیسرا نکاح کرنے کا جو سکون عورت ذات کو ہے وہ مردوں کو نہیں ہیں۔ عورتوں کو اپنی مرضی سے آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے ماں باپ کے گھر جانے کیلیے وافر ٹائم مل جاتا ہے یہ ٹینشن نہیں ہوتی پیچھے شوہر کا کیا ہوگا اسکو کھانا کون دے گا کپڑے کون تیار کرے گا مرد حرام رشتوں اور حرام کاریوں اور حرام جگہ پیسہ برباد کرنے سے بچ جاتا ہے ۔۔عورتوں کے اللہ کی طرف سے بنائی ہوئی ساخت کے مطابق ماہانہ بھی اس کو آرام مل جاتا ہے گھر کی کام والی بننے کی بجائے وہ گھر میں اور بھی بہت سے کاموں اور کورسسز کی طرف توجہ دے سکتی ہے لامحدود کام اور بچوں کو سنبھالنے کی وجہ سے جو عورتوں کی صحت کا حال ہوتا ہے ۔۔۔ 35 سال میں ہی ختم ہو جاتی ہیں ۔۔ نا ظاہری حسن بچتا ہے ۔۔ نا باطنی۔موٹاپا اور دوسرے امراض کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نماز اور دیگر عبادات یکسوئی سے نہیں کر سکتیں۔
اپنے اللہ کو راضی کرنے کیلے وقت نہیں ملتا ۔اور اس سب کے پیچھے ۔۔کیا سوچ کار فرما ہے ۔۔۔۔ شوہر صرف میرا ہو ۔۔شوہر آپکا ہی ہوتا ہے ۔ یہ جو انسیکورٹی جو کہ ایک بیماری بن چکی ہے ۔۔ یہ۔ چین نہیں لینے دیتی میری مرضی کے مطابق چلے ۔۔ہر کام مجھ سے پوچھ کر کرے ۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔اور کیا آجکی عورت کے دل و دماغ میں گھومنے والے خیالات کا اللہ کو نہیں علم تھا ۔۔ جب اللہ قرآن میں حکم دے رہا تھا ۔۔۔اور اللہ کے رسول اور صحابہ نے اور انکے بعد آنے والوں نے ۔۔۔۔ بلکہ ترکی ، ایران ، عرب ممالک ۔۔ مصر ، شام ، الجزار سب میں آج تک مرد ک ایک سے زیادہ نکاح کرنا عام ہے یہ انکے دور کی بات بتا رہا ہوں ۔۔۔۔
آجکی عورت جو کہ یہود و ہنود کے پروپیگنڈا کا شکار ہے ۔۔۔۔وہ خود ہی عورت ذات کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔۔۔ کتنی بیچارہ کنواری اور ، بیوہ اور طلاق یافتہ لڑکیاں ، گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں۔ لیکن اکثر عورتوں نے جو فتنہ پھیلایا ہوا ہے کہ عورت کو یہی غم بہت ہے کہ اسکا مرد کسی اور کاشریک کیوں ہے ۔ انکا دور دیکھو ۔۔ 60 فیصد دنیا میں عورتیں ہیں اور چالیس فیصد مرد ہر گھر میں عورتوں کی تعداد دیکھ لو ۔۔۔اللہ کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے سے معاشرہ تباہی اور بربادی کی طرف جا رہا ہے یہی عورت مرد کے حرام افیئرز کا بھی رونا روتی ہے۔ایک سے زیادہ نکاح اللہ نے مرد کی جسمانی ضرورت کے لیےرکھے صحابہ کے دور میں جب صحابہ غزوات میں ، جہاد میں بڑی تعداد میں شہید ہو جاتے تو اس وقت بھی ۔۔۔ جو بیوہ لڑکیاں ہوتیں انکی مشکل سے گھروں میں عدت پوری ہوتی ۔۔اور انکو دو یا تین جگہوں سے نکاح کی پیغام آجاتے آجکی عورت نے خود ہی ہر چیز کو مشکل کیا ہوا ہے!

23/10/2024

آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر چھپانے کی کوشش
لیکن درد دل رکھنے والے دکھ درد سمجھ سکتے ہیں

23/10/2024

ليس ثقيلا إنه أخي...

14/10/2024

‏‎

👈1۔ کرک سے گزشتہ 11 ماہ میں 85 لاکھ 43 ہزار بیرل تیل برآمد کیا گیا ہے۔

👈2۔ سوات میں بہترین زمرود کے 70 ملین قیراط ہیں اور مارکیٹ میں 220 قیراط کی قیمت 4000 سے 6000 ڈالر تک ہے۔

👈3۔اس سال خیبر سے 40 ٹن فلورائٹ برآمد کیا گیارہ۔

👈4۔ 11 ماہ میں کرک سے 65000 ملین ایم سی ایف گیس برآمد کی گئی ہے۔

👈 5۔ مہمند میں اس سال 1935 ٹن نیفرائٹ نکالا گیا۔

👈6۔مالاکنڈ میں 200 ملین ٹن، صوابی بلاک میں 100 ملین ٹن ماربل ہے۔

👈 7۔ مہمند میں 1,360,000 ٹن ماربل برآمد کیا جاتا ہے۔

👈8- چترال، جنوبی وزیرستان اور جنوبی پختونخوا میں سالانہ 640,000 کلو چھلغوزہ پیدا ہوتا ہے جس کی قیمت چین میں 18,000 روپے فی کلو ہے۔

👈 9۔ کوہاٹ ٹنل سے روزانہ 30,000 سے 35,000 گاڑیاں گزرتی ہیں اور ہر گاڑی کا کرایہ 80 سے 450 روپے ہے اور اس کا کنٹرول فوجی کمپنی NLC کے پاس ہے۔

👈10۔ جنوبی پختونخوا کے ڈھاکہ ضلع سے روزانہ 5000 ٹن کوئلہ برآمد کیا جاتا ہے۔

11۔ درہ آدم خیل سے ہر سال 350,000 ٹن کوئلہ نکلتا ہے۔

👈12۔ بونیر اور مردان میں 2 ارب ٹن ماربل موجود ہے۔

👈 13۔ چترال میں ایک ارب ٹن ماربل موجود ہے۔

👈14۔صرف کورما میں 20 لاکھ ٹن کوئلہ موجود ہے، اس کے ساتھ لوہے کی گیس اور اچھا ماربل بھی ہے۔

👈 15۔ بالائی وزیرستان کے پیر گھر میں تانبے اور سونا کی بڑی مقدار موجود ہے۔

👈 16۔گومل کے پہاڑوں میں کوئلے کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

👈17۔باجوڑ میں ہر سال 85000 ٹن ماربل، اور 1550 ٹن کرومائیٹ برآمد کیا جاتا ہے۔

👈18۔ پختونخوا اور بلوچستان میں 700 کروڑ کے جواہرات ہیں جو ہماری سوچ سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔

👈 19۔ عرب ممالک میں تیل کا ہر دس میں سے ایک کنواں کامیاب ہوتا ہے اور وزیرستان میں ہر تیسرا کنواں کامیاب ہوتا ہے۔میران شاہ میں اتنا تیل ہے جو پاکستان کی 40 سال کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔

👈20۔ شمالی وزیرستان میں 36000 ملین ٹن تانبا موجود ہے ایک ٹن تانبے کی قیمت 7000 ڈالر ہے۔

👈 21۔ تربیلا ڈیم سے 4000 سے 5000 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، اسے 250 بڑی فیکٹریوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور تربیلا ڈیم سے پختونخوا اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔

👈 22۔ لکی بیٹنی کی بیٹنی آئل فیلڈ سے 1,000 سے 3,000 بیرل تیل اور 1 سے 5 ملین مکعب فٹ گیس برآمد کی جاتی ہے۔

👈23۔ ملاکنڈ کے دریاؤں سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس کی قیمت 1 سے 2 روپے فی یونٹ ہے.

‎ ‎ ‎

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi