09/01/2026
کارلٹن اینڈ یونائیٹڈ کپ 2000؛ ایک سہانا خواب جس کا اختتام کافی ڈراؤنا تھا پر آغاز کچھ ایسا تھا کہ اسے بھلانا ناممکن ہے- ٹورنامنٹ کا پہلا میچ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا، وسیم اکرم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا کیا، سمجھیں کسی عذاب کو دعوت دے دی- محمد وسیم، سعید انور، عبدالرزاق، اعجاز احمد اور محمد یوسف 34 کے سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے اور 60 پر انضمام کی بھی واپسی ہو چکی تھی-معین خان(33) اور وسیم اکرم (35) نے کچھ سنبھالا دیا لیکن پہلے معین خان 103 پر آؤٹ ہوئے اور جب وسیم اکرم بھی آؤٹ ہو گئے تو 42.1 اوورز میں پاکستان کا سکور محض 127/8 ہی تھا-
لیکن اس کے بعد جو ہوا اسے معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے، وسیم اکرم کے ساتھ 24 رنز کی شراکت بنانے والے ثقلین مشتاق ابھی کریز پر تھے اور اب انہیں ساتھ ملا وقار یونس کا- ایک ٹیم جس کے تمام بڑے بیٹسمین اور ہٹرز صرف تین رنز فی اوور سے بیٹنگ کر گئے تھے اور آٹھ وکٹیں بھی گر چکی تھیں، اسی پچ پر وقار ( 22 گیندوں پر 23، ایک چوکا ایک چھکا) اور ثقلین (46 گیندوں پر 37، پانچ چوکے) نے 47 گیندوں پر سات سے زیادہ رن ریٹ کے ساتھ 57 رنز بنا کر پاکستان کا سکور 184 تک پہنچا دیا اور اس دوران ایک بھی وکٹ نہیں گری-
آسٹریلیا کی اننگ کے آغاز میں وسیم اور وقار نے ایڈم گلکرسٹ اور مارک وا کے لئے رنز بنانا ناممکن کر دیا تھا اور جب چھٹے اوور میں مارک وا کی وکٹ گری تو آسٹریلیا کو سکور ابھی سات تک ہی پہنچا تھا- گلکرسٹ کو پونٹنگ کا ساتھ ملا تو رنز آرام سے آنے لگے اور اس شراکت کے دوران میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا نظر آ رہا تھا- جلد ہی آسٹریلیا کے پچاس رنز بھی مکمل ہو گئے لیکن ساٹھ کے سکور پر گلکرسٹ عبدالرزاق کی گیند پر معین خان کو کیچ دے بیٹھے لیکن تین اوورز بعد بڑا وار شعیب اختر نے کیا- رکی پونٹنگ اور سٹیو وا دو مسلسل گیندوں پر پویلین
لوٹ چکے تھے اور پاکستانی ٹیم میچ میں واپسی کر چکی تھی-
اب باری تھی عبدالرزاق کی جنہوں نے ڈیمین مارٹن، اینڈریوڈ سائمنڈز اور بریٹ لی کو صرف دو رنز کے اضافے سے پویلین بھیجا اور اب میچ پاکستان کا تھا- مائیکل بیون ایک اینڈ سنبھالے کھڑے تھے اور وہ اس دور میں ایک ایسا خطرہ تھا جو میچ ختم ہونے پر ہی ختم ہوتا تھا ورنہ گیارہویں نمبر کے بیٹسمین کا ساتھ بھی بیون کے لئے کافی رہتا تھا- ایڈم ڈیل اور شین وارن نے بیون کا ساتھ تو دیا لیکن پاکستانی باؤلرز اپنی محنت یوں ضائع ہوتی نہیں دیکھ سکتے تھے- بیون ناٹ آؤٹ رہے لیکن آسٹریلیا کی ٹیم 139 پر آل آؤٹ ہو کر 45 رنز سے شکست کا شکار ہو گئی-
وقار یونس نے دو، شعیب اختر نے تین اور مین آف دی میچ عبدالرزاق نے چار وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ ثقلین مشتاق نے آٹھ اوورز میں صرف بارہ رنز دئیے تھے- یہ عبدالرزاق کے کیرئیر کے سب سے شاندار ٹورنامنٹ کا پہلا دن تھا، دس جنوری کو پاکستان کو انڈین ٹیم کا سامنا کرنا تھا جہاں ایک بار پھر سے ثقلین اور وقار کی بیٹنگ پاکستان کے کام آنے والی تھی- آسٹریلیا کی وکٹوں کی ایک ویڈیو ملی ہے جو الگ سے شئر کرتا ہوں
in 2000
09/01/2026
08/01/2026
08/01/2026
07/01/2026
07/01/2026
07/01/2026
07/01/2026
05/01/2026
03/01/2026
02/01/2026
31/12/2025