16/08/2020
Take this route to reach Hawksbay, sandspit, turtles beach, French Beach, mubarak village without having to face the traffic
traffic jam while going beach no issue a secret way to hawksby, French, sandspit, turtle, mubrk vilg
HI, these days everyone having issues with traffic while going Karachis beaches. this video has a secret way to access all the beaches, sandspit, hawksbay, t...
02/06/2020
A swim with a beautiful whale shark at Charna Island. Every year hundreds of whale shark get killed by the fishermen for no reason.
Guys they give birth don't lay eggs.
Diving the Sharks in Karachi | swimming with the Whale Sharks in Pakistan | Sharks at Charna Island
HI Guys, Meet Meer Ali a diving lover kid and Always wanted to swim with sharks. in this Video Shahzad Diver and Yasir Diver swimming with a shark Near charn...
03/10/2017
A great Article by Abbas Ali Toor..
Why Astola Island is a hidden gem of Pakistan
Few have taken the time to discover the mesmerising charm of Pakistan's south.
21/12/2016
سنڈےمیگزین۔روزنامہ جنگ/ جہانِ دیگر
اسٹولا:پاکستان کا سب سے بڑا اور خوب صورت جزیرہ
دنیا ہی کی نہیں، ملک کے صاحبانِ اقتدار کی نظروں سے بھی اوجھل ہے
بشیربابر
خشک زمین کا وہ حصّہ، جس کے چاروں طرف پانی موجود ہو، جزیرہ کہلاتا ہے۔ دنیا، خوب صورت اور حیران کن جزیروں سے بھری پڑی ہے۔ جنوبی کوریا میں واقع وانڈو((Wando نامی جزیرہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس جزیرے پر انتہائی عجیب و غریب اشکال کے بہت سے پہاڑ واقع ہیں، جو کوہ پیماؤں کی پسندیدہ جگہ بھی تصّور کی جاتی ہے۔ جب کہ آسٹریلیا کے ٹورس اسٹریٹ جزائرTorres Strait Islander) ) بھی قابل دید ہیں، جو ایک سو سے زائد خوب صورت جزیروں پر مشتمل ہیں۔ جاپان کے جنوبی سمندر میں واقع خوب صورت ترین جزیرہ یاماہا(Yamaha)بھی تمام جاپانی جزیروں پر بھاری ہے، یہاں سرفنگ کا اپنا مزہ ہے۔ جب کہ یمن کا سوکوٹرا(socotra) بھی دنیا بھر میں پراسرار ترین جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پودوں اور جانوروں کی لاتعداد اقسام ہیں اور کچھ درختوں کی شکلیں تو انتہائی حیران کن ہیں۔ نیز، پاکستان میں بھی متعدد جزائر ہیں، جو اپنی خوب صورتی اور وسعت کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ صوبہ بلوچستان کے بعض ساحلی علاقے تاریخی، جغرافیائی اور عسکری اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں کو ایشیا کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں بے پناہ معدنی اور قدرتی وسائل موجود ہیں۔ بلوچستان کی ساحلی پٹّی پر انتہائی اہم علاقہ جات ہیں، جن میں میانی ہور اور گنز خلیج کے علاوہ پسنی کے قریب سمندر میں واقع جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ یہ جزیرہ بہت سے نایاب سمندری جانوروں اور پرندوں کا مسکن ہے۔ کراچی سے پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر، پسنی میں دنیا کا یہ خوب صورت جزیرہ، اسٹولا (ہفت تلار) بحیرئہ عرب کا ایک غیرآباد پاکستانی جزیرہ ہے، جو بحیرئہ عرب کے شمالی سمت اور پسنی سے تقریباً چالیس کلومیڑ دور واقع ہے۔6.7کلومیٹر رقبے پر محیط یہ ملک کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ ہے، جوسطح سمندر سے 246فٹ بلند ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں انسانی آبادی کا قیام ناممکن ہے۔ تاہم، کچھ سر پھرے سیّاح اور عام افراد بھی کبھی نہ کبھی یہاں کا رخ ضرور کرلیتے ہیں۔ جزیرے تک پہنچنے کے لیے پسنی سے کشتیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جس کے ذریعے تقریباً پانچ گھنٹے میں جزیرے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑے بلاک کی مانند نظر آتا ہے۔ جزیرے کے شمال میں متعدد خوف ناک اور قدیم غار بھی ہیں، جو بتدریج گہرائی کی طرف اترتے چلے جاتے ہیں، تاہم اس کی دوسری سمت انتہائی سیدھی اور قدرے اونچی ہے۔
یہاں کے مقامی افراد اس جزیرے کو ’’ہفت تلار‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ جس کا مطلب سات چوٹیاں یا پہاڑ کے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ قدیم جزیرہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی کے معروف یونانی مورخ، ہیروڈوٹس نے مکران کا ذکر کرتے ہوئے اس کے ساحل کے قریب چار جزیروں کی نشان دہی کی تھی۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ جن چار جزیروں کی ہیروڈوٹس نے نشان دہی کی، اس میں سے تین سمندر برد ہوچکے ہیں، جب کہ اسٹولا ہی وہ چوتھا جزیرہ ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ یونانی تاریخ میں اس جزیرے کو نوسالا کہا گیا ہے۔ یونانیوں کے عقیدے کے مطابق، اس تاریخی جزیرے پر دیوی افریدس کا گھر تھا اور جب بھی کوئی کشتی جزیرے کے قریب سے گزرتی، تو افریدس کشتی پر موجود لوگوں کو مچھلی بنا کر سمندر میں چھوڑ دیتا تھا۔ تاریخ میں ایک اور روایت بھی ملتی ہے کہ جب سکندرِ اعظم کی مکدونیائی بحری فوج یہاں پہنچی، تو اس فوج کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ اس جزیرے میں بیش بہا قیمتی ہیرے اور جواہرات موجود ہیں۔ جس کے بعد مصر، یونان سے بڑی تعداد میں بیوپاریوں نے جزیرہ اسٹولا کا رخ کرنا شروع کردیا، لیکن درست مقام کی نشان دہی نہ ہونے کی بنا پر قیمتی زروجواہر حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم، موجودہ ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے سمندر میں تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں، جو مکران کے ساحل سے خلیجِ فارس تک جاتے ہیں۔ سمندر میں لاوا پھٹنے اور جزیرے نمودار ہونے کی ایک وجہ یہ ذخائر بھی ہیں۔
اسٹولا جزیرے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ جزیرہ ایک زمانے میں باقاعدہ بیرونی زمین کا حصّہ ہوا کرتا تھا، جو ایک شدید ترین زلزلے کے بعد جدا ہوکر سمندر میں جابسا۔ اس روایت سے ملتی جلتی ایک یہ رائے بھی ہے کہ پسنی کے شمال میں سمندر کے کنارے ذرین نامی پہاڑ اسٹولا ہی کا حصّہ ہے۔ عرب اسٹولا جزیرے کو استالو کے نام سے جانتے ہیں، جب کہ ہندو روایت میں اس کا نام ستادیپ ہے۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ مہاکالی، یعنی بھوانی کا مندر اسی جزیرے پر تھا اور مہاکالی ہر روز نہانے کے لیے یہاں سے ہنگلاج جاتے تھے۔ہنگلاج میں ہندوؤں کا مندر نانی پیر ہے، جو کہ بلوچستان کے ضلع، لسبیلہ کے علاقے ہنگول میں واقع ہے۔ یہاں ہنگول دریا بھی بہتا ہے۔ ہنگلاج میں ہر سال ہزاروں ہندو یاتری زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ بھی خیال ہے کہ مہاکالی دراصل نانی پیر نامی عبادت گزار خاتون کو دیکھنے کے لیے جزیرہ اسٹولا سے ہنگلاج جاتے تھے۔ جزیرے پر ساحل کے راستے داخل ہوتے ہی سامنے حضرت خضر ؑ سے منسوب مزار واقع ہے، جنہیں زندہ پیر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت خضر طوفان کے دوران ماہی گیروں کی حفاظت کرتے ہیں۔اسٹولا جزیرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں آبی پرندے، خاص طور پرسردیوں میں سائبیریا سے ہجرت کرنے والے پرندے یہاں کثرت سے آتے ہیں۔ جب کہ تیرنے والے پرندوں کا یہ خاص مسکن تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہاں میٹھے پانی کی قلّت اور زمین کے سخت ہونے کی وجہ سے سبزے یا درختوں کی کمی ہے، تاہم خود رو جھاڑیوں کی کثرت ہے۔ یہ جھاڑیاں پاکستان کے علاوہ شمالی امریکا اور کینیڈا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اسٹولا جزیرے پر گرچہ دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں ،البتہ ماہی گیروں کی کشتیاں لنگر انداز کرنے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ موجود ہے، جہاں ماہی گیر، دن بھر مچھلی کا شکار کرنے کے بعد آرام کرتے ہیں، اس جزیرے کے آس پاس ڈولفن مچھلی کے علاوہ ساحل پرلوبسٹر، سبز کچھوے اور ہاک بل کچھوے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ کچھوے، اسٹولاکے ساحل پر انڈے دیتے ہیں۔ ماہرِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ اسٹولا جزیرہ Coral reef کا گھر ہے، جو کہ مختلف قسم کی آبی حیات کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جزیرہ آبی جانوروں اور پرندوں کی بہت سی نایاب اقسام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح اس جزیرے پر بھی حکومتی عدم تحفّظ، دیکھ بھال اور کسی قسم کی توجّہ و دل چسپی نہ ہونے کے باعث پاکستان کا یہ خوب صورت جزیرہ کسی اجڑے دیار کا منظر پیش کرتا ہے، لیکن چوں کہ اسٹولا جزیرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک سیّاحتی مقام ہے، جہاں سیّاح سیر کرنے اور پھر سمندری مخلوقات پر تحقیق کرنے والے بھی اکثر آتے رہتے ہیں، تو حکومت کو چاہیے کہ جزیرے پر سیّاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کرے، مگر سیّاحت یا کسی قسم کی سرگرمی کا انتظام کرنے سے قبل اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ جزیرے کے قدرتی حسن اور یہاں موجود آبی حیات اور پرندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ حکومتی سطح پر اگر اس جزیرے پر جدید سہولتیں مہیّا کرکے اس پر خصوصی دے دی جائے، تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی اور یہ عالمی سطح پربھی روشناس ہوگا۔ دنیا بھر میں اس طرح کے قدرتی مقامات کی جانب سیّاحوں کو راغب کیا جاتا ہے، سیّاحتی لحاظ سے ایسے مقامات کی تشہیر کی جاتی ہے،اور اس طرح زرِمبادلہ کے حصول میں بڑی مدد ملتی ہے۔ تاہم، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کا یہ قدرتی جزیرہ اب تک دنیا ہی نہیں، بلکہ ملکی سطح پر بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ بدقسمتی سے یہ اہم جزیرہ اب تک حکومتی توجّہ اور سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باعث دنیا میں اس شہرت اور مقبولیت سے دور ہے، جس کا یہ حق دار اور طلب گار ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اس قدرتی سیّاحتی مقام کو اہمیت دی جائے، تو یہ ملک کے اہم سیّاحتی مرکز کے طور پرپہچانا جاسکتا ہے