30/03/2025
Usman Khan ruled out of second ODI
Hamilton, 30 March 2025:
Usman Khan has been ruled out from the second ODI against New Zealand due to a hamstring injury. The 29-year-old opening batter sustained the injury while fielding during his side’s first ODI against New Zealand at the Mclean Park in Napier on Friday.
The MRI scan confirmed a Low-Grade tear, making Usman unavailable for second ODI scheduled on 2 April at Seddon Park in Hamilton.
-ENDS-
03/07/2024
پاکستان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا پوسٹ مارٹم،
دنیا کے سو بہترین بلے بازون میں صرف چار پاکستانی
بابر اعظم چوتھے، رضوان پانچویں، فخر زمان تریپن، افتخار احمد پسنسٹھ ویں نمبر پر
بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی کی 17 حارث روف کی 28 پوزیشن
عماد وسیم بیتیس ، نسیم شاہ سنتالیس، شاداب خان تریپن، محمد عامر کی ٹریسٹھ ویں پوزیشن
ٹاپ ٹین آل راونڈرز میں کوئی پاکستانی شامل نہیں، عماد وسیم کی گیارہویں پوزیشن
انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان کا ساتواں نمبر
27/06/2024
محمد یاسر پیرزادہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل تعنیات
25/06/2024
پاکستان کرکٹ بورڈ کےسربراہ محسن نقوی کرکٹ کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں مگر مشاورت ان ہی کرکٹ بورڈ حکام سےکررہے ہیں جن کی وجہ سے کرکٹ کے تمام معاملات خراب ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہم سب کی محبت کرکٹ کےمستقبل کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
نقوی صاحب، جس میرٹ کا آپ بار بار ذکر کرتےہیں، وہ میرٹ کرکٹ بورڈ میں بھی تو پہلے لاگو کریں،
ائی سی سی ورلڈکپ کے معاملات کو ہی لے لیں، کیا آپ نے انٹرنیشنل کرکت کے ڈائریکٹر عثمان واہلہ سے پوچھا کہ بھائی، انڈین ٹیم نیو یارک میں کیوں کھیلتی رہی،پاکستانی ٹیم کو نیو یارک کے بجائے ڈیلس میں کیوں رکھا گیا، پاکستانی ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ سے پہلے نیو یارک میں زیادہ رہنے اور پریکٹس کرنے کے مواقع نہ ملنے پر آپ نے خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی۔ اگر ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ ہی ہمارے اور ائی سی سی کے لیے لیے سب سے زیادہ اہم ہے تو پھر بھارت کی طرح قومی ٹیم کو ٹریٹ کیوں نہیں کیاگیا۔ جب قومی ٹیم کی اسٹٰیڈیم سے ہوٹل کی بکنگ ایک گھنٹے کی زیادہ مسافت پر ہورہی تھی تو آپ سوئے ہوئے کیوں تھے۔ جس کو بعد میں محسن نقوی کے ایکشن لینے پر تبدیل کیاگیا۔
25/06/2024
Babar Azam back in Lahore seems no more Captain of Pakistan Cricket Team
Pakistan Cricket Board is looking for other options as well, sources Final decision yet to wait
23/03/2024
محسن نقوی صاحب کے کرکٹ بورڈ میں معاملات سنبھالنے کے بعد پی سی بی کے وہ افسران خاصے پریشان ہیں، جو کام کم اور آرام کو زیادہ ترجیح دیتے تھے، اب سب کو اپنی آنکھیں کھلی اور ہر وقت تیار رہنا پڑتاہے، دن یا رات کسی بھی وقت میٹنگ کا بلاواآسکتاہے۔ کام، کام ، کام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نو آرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، نام ہی کافی ہے، محسن نقوی
21/12/2022
ٹیم میں کپتان بابر اعظم،عبد اللہ شفیق، ابرار احمد، حسن علی شامل
امام الحق، کامران غلام،محمد نواز ، محمد رضوان ،وسیم جونئیر ٹیم میں شامل
نسیم شاہ ، نعمان علی ، سرفراز احمد، سلمان علی آغا،سعود شکیل ٹیم میں شامل
شان مسعود اور زاہد محمود بھی ٹیم کا حصہ ہیں
فہیم اشرف ،محمدعلی اور حارث روف کو ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا
دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 26 دسمبر سے کراچی سے شروع ہوگا
24/09/2022
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانے اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو نوازنے سے متعلق اپنی پالیسی کے تحت نئے ڈومیسٹک کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی میچ فیس اور ماہوار وظیفے کی رقم میں اضافے کا اعلان کردیا، یہ اعلان بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے بعد کیا گیا،پی سی بی کے بی او جی کا 70واں اجلاس ہفتہ کو مقامی ہوٹل میں ہوا،اعلان کردہ نیا ڈومیسٹک کنٹریکٹ ستمبر 2022 سے اگست 2023 تک لاگو ہوگا، اس سے قبل چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے عہدہ سنبھالتے ہی پانچوں کٹیگریز میں شامل تمام ڈومیسٹک کرکٹرز کے ماہوار وظیفے کے رقم میں ایک ایک لاکھ روپے بڑھانے کا اعلان کیا تھا،حالیہ اضافے کے بعد قائداعظم ٹرافی کھیلنے والے کھلاڑیوں کی میچ فیس 60 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اسی طرح پاکستان کپ اور نیشنل ٹی ٹونٹی کی میچ فیس کو بڑھا کر بالترتیب 40 ہزار اور 60 ہزار روپے مقرر کردیا گیا ہے،ڈومیسٹک ٹیموں میں شامل نان پلیئنگ ممبرز کی ریڈ بال کی میچ فیس 16 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح وائیٹ بال کرکٹ کے میچز میں شریک ڈومیسٹک ٹیموں کے نان پلیئنگ ممبرز کی میچ فیس 4 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کردی گئی ہے۔اسی طرح نان فرسٹ کلاس فور ڈے کرکٹ ایسوسی ایشنز چیمپئن شپ کی میچ فیس 25 سے بڑھا کر 40 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ وائیٹ بال کرکٹ ایسوسی ایشنز چیلنج اور کرکٹ ایسوی ایشنز ٹی ٹونٹی کی میچ فیس 15 سے بڑھا کر 25 روپے مقرر کردی گئی ہے۔ ریڈ اور وائیٹ بال کھیلنے والے نان پلیئنگ ممبرز کو اب بالترتیب 10 اور 15 ہزار روپے ملیں گے۔ لہٰذا اب ڈومیسٹک کنٹریکٹ کی اے پلس کٹیگری میں شامل کھلاڑی کو مجموعی طور پر 61 لاکھ اور ڈی کٹیگری میں شامل کھلاڑی کو 43 لاکھ روپے کا معاوضہ ملے گا۔ اس میں نئی میچ فیس اور ماہوار وظیفے کی رقم میں کیا گیا اضافہ شامل ہے۔ اس رقم میں پی سی بی کے کسی بھی ایونٹ کی انعامی رقم شامل نہیں ہے۔ قائداعظم ٹرافی کی انعامی رقم ایک کروڑ 70 لاکھ روپے ہے، جس میں سے ایک کروڑ روپے قائداعظم ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو دیا جائیں گے۔پاکستان کپ کی انعامی رقم 50 لاکھ روپے مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل ٹی ٹونٹی کی انعامی رقم 87 لاکھ روپے مقرر کی جاچکی ہے۔ کرکٹ ایسوسی ایشنز چیمپئن شپ، کرکٹ ایسوسی ایشنز چیلنج، کرکٹ ایسوسی ایشنز ٹی ٹونٹی میں شرکت کرنے والے کھلاڑی اب ڈیلی الاؤنس، ماہوار وظیفہ اور میچ فیس کی مد میں تقریباََ 11 لاکھ روپے کمائیں گے،
28/01/2022
حسین طلعت اور شعیب ملک کی برق رفتاراننگز کی بدولت پشاورزلمی کا فاتحانہ آغاز
ء:
حسین طلعت اور کپتان شعیب ملک کی دھواں دھار بیٹنگ کی بدولت پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 5 وکٹوں سے ہرا کر ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 میں فاتحانہ آغاز کیا ہے۔ حسین طلعت نے 29 گیندوں پر 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ شعیب ملک نے 4 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 48 رنز بنائے۔
پشاور زلمی نے 191 رنز کا مطلوبہ ہدف 2 گیندیں قبل 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
77 کے مجموعی اسکور پر ابتدائی تین وکٹیں گنوانے کے بعد مڈل آرڈر بیٹر حسین طلعت نے 29 گیندوں پر 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 179 کے اسٹرائیک ریٹ سے 52 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر میچ میں سنسنی پھیلا دی۔ انہوں نے چوتھی وکٹ کے لیے کپتان شعیب ملک کے ہمراہ 81 رنز کی شراکت قائم کی۔
اس موقع پر پشاور زلمی کوجیت کے لیے آخری تین اوورز میں 30 رنز درکار تھے۔کپتان شعیب ملک نے شیرفین ردر فورڈ کے ہمراہ جارحانہ انداز اپناتے ہوئے پشاور زلمی کو فتح دلادی۔ انہوں نے 32 گیندوں پر 4 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے ناقابل شکست 48 رنز بنائے۔ شیرفین ردر فورڈ 10 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
اسپنر محمد نواز نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ول سمیڈ اور احسان علی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنائے۔ ول سمیڈ نے 62 گیندوں پر 11 چوکوں اور 4 چھکوں کی بدولت 97 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔یہ کسی بھی کھلاڑی کا ایچ بی ایل پی ایس ایل ڈیبیو میں سب سے زیادہ اسکور ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ لیوک رائٹ اور عثمان خان کے پاس تھا، جنہوں نے اپنے ایچ بی ایل پی ایس ایل ڈیبیو میں بالترتیب ناٹ آؤٹ 86 اور 81 رنز بنائے تھے۔ احسان علی نے 8 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد اور 158 کے اسٹرائیک ریٹ سے 73 رنز بنائے۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنی ٹیم کو 155 رنز کا مضبوط آغاز فراہم کیا۔
پشاور زلمی کے عثمان قادر اور ثمین گل نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
11/01/2022
نیشنل انڈر 13 اور انڈر 16 ٹورنامنٹس 14 جنوری سے شروع ہوں گے
قومی انڈر 13 اور انڈر 16 کرکٹ ٹورنامنٹس14 جنوری بروز جمعہ سے بالترتیب کراچی اور ملتان میں شروع ہوں گے۔دونوں ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 270 نوجوان کرکٹرز شرکت کریں گے۔
قومی انڈر 16 ون ڈے ٹورنامنٹ پینتالیس اوورز پر مشتمل ہوگا۔ ملتان میں شیڈول یہ ٹورنامنٹ 14 سے 25 جنوری تک کھیلا جائے گا۔ ایونٹ کے میچز پانچ مختلف وینیوز پر کھیلے جائیں گے۔ جہاں تمام چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی مجموعی طور پر بارہ ٹیمیں شرکت کریں گی۔
اسی طرح قومی انڈر 13 ون ڈے ٹورنامنٹ پچیس اوورز پر مشتمل ہوگا۔ کراچی میں شیڈول اس ٹورنامنٹ میں چھ مختلف ٹیمیں شرکت کریں گی۔ 14 سے 24 جنوری تک جاری رہنے والا یہ ایونٹ کراچی کے تین مختلف وینیوز پر کھیلا جائے گا۔
ان ٹورنامنٹس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 40 کھلاڑیوں کو پی سی بی کی جانب سے ماہوار وظیفہ دیا جائے گا۔ماہوار وظیفہ حاصل کرنے والے ان کھلاڑیوں کو تعلیمی اسکالرشپ بھی دیا جائے گا۔
ان تمام کھلاڑیوں کو نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں رہائش دی جائے گی، جہاں انہیں غیرملکی کوچزکی زیرنگرانی تربیت دی جائے گی۔
اسکواڈز:
قومی انڈر 13 ون ڈے ٹورنامنٹ:
بلوچستان: ابوبکر، عدنان احمد، احسن اللہ، عاصم الرحمان، فائق علی، حمزہ خان، اکرام اللہ، خان ولی، ملک اویس، محمد آصف، محمد داؤد، محمد عرفان، محمد سلیمان، سلیم جان، طفیل احمد
سینٹرل پنجاب: ارحم دانش، اسد نعیم، اویس زبیر، فصیح توصیف، حسن اشرف، حسنین عباس، محمد علی صابر، محمد عیسیٰ بلوچ، ریان ارشد، ساجد میر، سرمد نواز، صیار خان، تاج محمد، عبید اللہ، زریان علی
خیبرپختونخوا: عبداللہ، عدنان خان، اکبر علی، عطا اللہ، اکرام اللہ، محمد سہیل، محمد عدیل خان، محمد طلحہ، نفیس اختر، نوید، رضوان علی، سعید آفریدی، شہزاد احمد، شعیب، زین العابدین
ناردرن: عبدالاحد، عبدالمنیم، ابوبکر منہاس، اختر گل، بلال بشیر، محمد اسد عبداللہ، محمد اسماعیل رانجھا، محمد یوسف، ملک محمد خضر، محمد منیب، محمد موسیٰ حسن، محمد صہیب، محمد زوہیب عباس، سعد عبریز عباسی، سالار نذیر
سندھ: عبدالحئی، عبدالوہاب، عبداللہ (سینئر)، عدنان نواز، احسن خان، علی شیر، غلام احمد، حماد عالم، کفایت اللہ، محمد عبداللہ جاوید، محمد انس، محمد اذان، محمد خان، شیخ انتظار، سید محتشم
سدرن پنجاب: عبداللہ لطیف، عبدالرحمٰن، علی حیدر، فیضان ریاست، حسنین ساجد، حیات خان، محمد عبداللہ، محمد بابر ارشد، محمد حذیفہ، محمد قاسم احمد، محمد عثمان، معاذ احمد، محسن ملک، محمد عمر، طلال احمد خان
قومی انڈر 16 ون ڈے ٹورنامنٹ:
بلوچستان بلیوز: عبدالصبور، انور شاہ، بختیار خان، گوہر خان، حفیظ اللہ، انعام اللہ، مبشر شاہ، محمد عادل، محمد علی، محمد اسفند، مشرف حسین، سمیر احمد، سید یاسر شاہ، طلحہ شاکر، زوہیب خان
بلوچستان وائٹس: ارسلان خان، اورنگزیب، ایاز گل، عشرت العباد، فیصل رزاق، عمران صادق، محمد شاہد، محمد عمر، مزمل علی، شہریار احمد، سراج احمد، سید وقاص احمد، عمیر احمد، عثمان غنی، ذاکر شاہ
سینٹرل پنجاب بلیوز: علی حمزہ، علی رضا، اریب عارف، فراز احمد، فرحان یوسف، غلام حیدر، حمزہ ظہور، حنین عامر، محمد حماد آصف، محسن علی، مومن قمر، محمد صائم، محمد عثمان، عبید شاہد، رانا محمد سرفراز طارق
سینٹرل پنجاب وائٹس: عالیان سلیمان، ابو سفیان، احمد یار خان، علی حسن بلوچ، علی حسن، علی رضا، ارسلان ، دانش سعید، فہام الحق، کیف علی، محمد طیب، محمد طیب عارف، محمد یاسین بلال نعمان علی، شہباز جاوید
خیبرپختونخوا بلیوز: عبدالرحیم، عبدالرحمٰن، احمد حسین، اسفندیار، حمزہ اظہار، لقمان خان، محمد عمیر خان، میاں یوسف شاہ، محمد علی، شاہ زیب خان، اسامہ خان، عثمان خان، زین شاہ، زبیر احمد، ذوالقرنین
خیبر پختونخوا وائٹس: آبیل خان، عادل وحید، الہام خان، خبیب خلیل، محمد اویس، محمد شایان، محمد انصار اللہ، محمد شعیب، محمد ہارون، محمد عمر، محمد زبیر، نوید الحسن، ریاض اللہ، شایان، اسامہ بنگش
ناردرن بلیوز: عباس حسنین، ابوؤ زر، بلال احمد، حسن اعجاز، محمد حسن خان، محمد ولید اقبال، محمد زین جمیل، محمد ارشد، محمد عاصم کمال، محمد بلال، محمد نبیل، مرتضیٰ رحمان، راجہ حمزہ وحید، شمیر علی، سید علی مہدی
ناردرن وائٹس: عبداللہ، علی اشفاق، عرش زمان، ارسلان علی، اویس امین، آذان کبیر، حسنین ندیم، ارشاد احمد، محمد عمار یاسر، محمد عبداللہ ساجد، محمد احمد، محمد عصمت اللہ، شہباز خان حرا، شاہمیر نثار، یزدان عباس رضوی
سندھ بلیوز: عبدالہادی، عبدالمعیز، احمد محی الدین، فرحان زمان، حمید کریم، حذیفہ احسن، ایم طلحہ خانجی، معاذ زاہد، موسیٰ آزاد، نوید احمد خان، سعد بیگ، سعد محبوب، سیف اللہ خان، سفیان عثمانی، یحییٰ شاہ
سندھ وائٹس: عبدالرحمٰن خان، ہارون ارشد، ہمزہ قریشی، محمد دانش، محمد احمد، معاذ شاہ، مصعب احمد، نعمان علی، اویس رحم شاہ، سجام محمد، شہزاد خان، شاہ زیب علی، شیراز خان، سید ریحان علی شاہ، واجد علی
سدرن پنجاب بلیوز: حسیب جاوید، انعام اللہ، محمد عبداللہ، محمد عاقب ارشد، محمد جان شیر، محمد ثاقب، محمد احمد، راجہ شہروز، رانا عدیل مشتاق، سمیر احمد منہاس، سمیر اختر، شہزاد احمد، سلیمان احمد ، ولید رضا، زین ارشد
سدرن پنجاب وائٹس: عبدالرسول، عبداللہ توقیر، علی حسنین بادشاہ، بلال خان، فہد کاشف، حسیب احمد، محمد فرحان، محمد حامد، محمد نعمان آصف، محمد عمیر، رانا حسیب ناظم، راؤ کلیم حیدر، شہاز سعید ، صہیب اکرم، طحہٰ شبیر
03/01/2022
محمد حفیظ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے
لاہور، 3 جنوری2 202ء:
پاکستان کے سابق کپتان اور آلراؤنڈر محمد حفیظ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کردیا ہے۔18 سال پر مشتمل ان کے انٹرنیشنل کرکٹ کیرئیر کا آغاز 3 اپریل 2003 کو زمبابوے کے میچ سے خلاف ہوا۔ انہوں نے آخری مرتبہ 11 نومبر 2021 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔
اس دوران انہوں نے 392 انٹرنیشنل میچز میں 12780 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ 253 وکٹیں بھی حاصل کیں۔انہوں نے 32 انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی قیادت بھی کی۔
وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 کی فاتح قومی ٹیم کا حصہ تھے. انہوں نے پچاس اوورز پر مشتمل 3 اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ پر مشتمل 6 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس دوران انہوں نے 3 آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھی حصہ لیا۔
محمد حفیظ:
محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ آج فخر کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ جس مقام پر ہیں اس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، یہ سب کرکٹ کی وجہ سے لہٰذا اس پر وہ اپنے تمام ساتھی کرکٹرز، کپتانوں، اسپورٹ اسٹاف اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ان کے 18 سالہ انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر میں ان کی مدد کی۔
محمد حفیظ نے مزید کہا کہ وہ اپنے اہلخانہ کے بھی مشکور ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر ان کے پاکستان کی نمائندگی کا خواب پورا کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ 18 سال پاکستان کے سبز رنگ کی کٹ زیب تن کرنے پر خوش قسمت اور فخر محسوس کرتے ہیں۔
محمد حفیظ نے کہا کہ اس کیرئیر میں انہیں کئی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا مگر اس دوران انہیں اپنے دور کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
رمیز راجہ، چیئرمین پی سی بی:
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ محمد حفیظ نے بھرپور انداز سے کرکٹ کھیلی، انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک طویل کیریئر بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ محمد حفیظ کی کرکٹ بہتر سے بہترین ہوتی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ محمد حفیظ نے فخر کے ساتھ سبز بلیزر پہنا ہے جس کے لیے پی سی بی ان کا مشکور ہے۔ وہ ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کرکٹ میں ان کی شاندار شراکت کے لیے ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
– ENDS –
11/04/2021
پاکستان کرکٹ بورڈ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2021 کے بقیہ میچزیکم جون سے کرانے کا اعلان کردیا
یکم جون کو لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے میچز سے لیگ شتروع ہوگی۔تمام میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جائیں گے۔فائنل بیس جون کو رکھا گیا ہے۔
پی سی سی کے اعلامیے کے مطابق
پی ایس ایل ایک محفوظ ماحول میں کرنا چاہتے ہیں۔ اس عمل کو یقینی بنانے کے لیےعالمی سطح پر پہچان رکھنے والی ایک ایسی کمپنی کی تقرری کے آخری مراحل میں ہے کہ جو کوویڈ 19سے پاک بائیو سیکیور ماحول کی تیاری اور اس کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ رزلٹ مثبت آنے پر رسپانس کی ماہر ہے۔ ایونٹ کے تمام شرکاء کے لیے 22 مئی سےایک ہی ہوٹل میں قرنطینہ کی 7 روزہ مدت کا آغاز کیا جائے گا۔ بعدازاں تین روزہ ٹریننگ سیشنز کے بعدیکم جون سے ایونٹ شروع ہوجائے گا۔ٹورنامنٹ کا فائنل 20 جون کو کھیلا جائے گا۔ تمام میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جائیں گے، نائٹ میچز کا آغاز رات 8 بجے ہوگا، ڈبل ہیڈر والے دن پہلا میچ شام 5 بجے اور دوسرا رات 10 بجے شروع ہوگا۔
نیے پروگرام کے مطابق
یکم جون: لاہور قلندرز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ (نائٹ)
2 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ کراچی کنگز (نائٹ)
3 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز (نائٹ)
4 جون: پشاور زلمی بمقابلہ لاہور قلندرز (نائٹ)
5 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز (ڈے)؛ ملتان سلطانز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز (نائٹ)
6 جون: پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز (نائٹ)
7 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہور قلندرز (نائٹ)
8 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی (نائٹ)
9 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز (نائٹ)
10 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ کراچی کنگز (نائٹ)
11 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ (نائٹ)
12 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ پشاور زلمی (ڈے)؛ کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز (نائٹ)
13 جون: اسلام آباد یونائٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی (نائٹ)
14 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ لاہور قلندرز (نائٹ)
16 جون: کوالیفائر(1 بمقابلہ 2) (نائٹ)
17 جون: ایلیمینیٹر1(3 بمقابلہ4) (نائٹ)
18 جون: ایلیمینیٹر 2 (کوالیفائر ہارنے والی ٹیم بمقابلہ ایلیمینٹر 1 کی فاتح ٹیم) (نائٹ)
20 جون: فائنل (نائٹ)