28/09/2026
#فتوحاتِ_ایران (قسط نمبر 8)
ایران کے بادشاہ یزدگرد نے رستم کی روانگی کے بعد ہی سے اپنے شاہی ایوان کے دروازے پر ایک آدمی کو متعین کر دیا تھا اور اسے مستقل وہاں رہ کر خبریں پہنچاتے رہنے کا حکم دیا تھا۔ اور دوسرے آدمی کو ایسی جگہ متعین کیا کہ وہ گھر سے خبریں سن سکے۔ اور تیسرے آدمی کو گھر کے باہر مقرر کیا۔ اس طریقے سے ہر تھوڑے فاصلے پر ایک ایک شخص کو کھڑا کیا گیا۔ جب رستم نے ساباط میں پڑاؤ ڈالا تو جو ہرکارہ وہاں مقرر تھا اس نے پڑاؤ ڈالنے کی خبر دے دی، اگلے نے یہ خبر اپنے سے آگے والے کو بتائی، حتیٰ کہ اس طرح آدمی بہ آدمی یہ خبر چلتی چلتی شاہی ایوان تک پہنچ جاتی، پھر وہاں جو آدمی متعین تھا وہ خبریں یزدگرد تک پہنچا دیتا تھا۔
ادھر قادسیہ کے میدان میں مسلمان اپنی صف بندی مکمل کر چکے تھے۔ حضرت زہرہ اور حضرت عاصم کو عبداللہ بن غالب الاسدی اور شرحبیل کے درمیان مقرر کیا گیا تھا۔ جبکہ ہراول دستے کے سالار کو لشکر میں چکر لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ قلب (Center) لشکر اور دائیں بائیں اور اگلے و پچھلے تمام حصوں میں گھوم پھر رہے تھے اور ان کا منادی یہ اعلان کر رہا تھا:
”اے لوگو! سن لو! بے شک حسد اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ صرف اور صرف اللہ کے دین کے لیے جـ ـہاد کرنے میں جائز ہے، بس تم خوب ایک دوسرے سے زیادہ بڑھ کر مقابلہ کرو اور ایک دوسرے کو لڑنے پر غیرت دلاؤ۔“
ہر قبیلے کے امیر نے اپنے قبیلے کے سامنے خطاب کیا۔ انہیں اطاعت و فرمانبرداری اور جنگ میں جمے رہنے اور عزم و ہمت کی ترغیب دی۔ پھر ہر امیر اپنی اپنی مقررہ پر جگہ پر پہنچ گیا۔ اتنے میں امیر لشکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے منادی نے ظہر کی نماز ادا کرنے کا اعلان کیا۔
ادھر رستم نے جل بُھن کر آواز لگائی:
”اس عمر (عمرفاروق ؓ) نے میرا کلیجہ کھا لیا ہے۔ خدا اس کے کلیجے کو جلائے، اسی نے ان مسلمانوں کو ابھارا تو یہ سارے کے سارے یہاں آگئے۔“
راوی کہتا ہے کہ جب رستم نے نجف میں پڑاؤ ڈالا تھا تو اس نے لشکرِ اسلام کی خیر خبر معلوم کرنے کے لیے اپنے ایک جاسوس کو روانہ کیا تھا۔ وہ جاسوس قادسیہ میں مسلمانوں کے اندر اس طرح شامل ہوگیا گویا کہ وہ لشکر اسلام کا ایک سپاہی ہے۔ لشکر میں پہنچ کر اس نے مسلمانوں میں یہ عمل دیکھا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کرتے ہیں، اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد دوبارہ اپنی اپنی مقررہ جگہوں پر واپس آ جاتے ہیں۔
یہ جاسوس جب واپس آیا تو رستم کو مسلمانوں کا حال احوال بتایا۔ مسلمانوں کی سیرت و کردار سے بھی باخبر کیا۔ رستم نے پوچھا:
”وہ کھانا کیا کھاتے ہیں؟“
جاسوس نے جواب دیا:
”میں نے انکے پاس رات گزاری ہے، خدا کی قسم! میں نے ان میں سے کسی کو کچھ خاص کھاتے پیتے ہوئے نہیں دیکھا، ہاں البتہ اتنا ضرور دیکھا ہے کہ وہ لوگ شام کے وقت اور رات کو سونے سے پہلے، اور پھر صبح سے کچھ دیر قبل اپنی لکڑیوں کو چوسا کرتے ہیں۔ (یعنی مسواک کرتے ہیں)
پھر رستم نے وہاں سے کوچ کیا اور حصن، عتیق کی درمیانی جگہ پر پڑاؤ ڈالا۔ رستم وہاں عین اس وقت پہنچا تھا جب حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان کہی تھی۔ اذان سن کر مسلمان نماز کے لیے جمع ہورہے تھے۔ جب رستم نے یہ منظر دیکھا تو ایرانی فوج میں یہ اعلان کردیا کہ سب سوار ہو جائیں۔ رستم کے سپاہیوں نے اس کی وجہ دریافت کرنا چاہی تو وہ کہنے لگا:
”کیا تم اپنے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے کہ ان میں اعلان کیا گیا ہے اور وہ سب کے سب تم سے لڑنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں؟“
اس پر رستم کا وہ جاسوس بولا:
”مسلمان اس طرح لڑنے کے لیے نہیں بلکہ نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔“.........
نماز سے فارغ ہوکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ دشمن کے سامنے سورۃ الانفال کی تلاوت کرتے رہیں۔
پھر فرمایا:
”سب لوگ اپنے اپنے مورچوں میں جمے رہو اور
اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلو۔ میں ایک دفعہ تکبیر کہوں گا تو تم بھی تکبیر کہہ کر تیار ہوجانا ۔ جب تمھیں دوسری تکبیر سنائی دے تو جواباً نعرہ تکبیر لگا کر تم اپنے ہتھیاروں کو سنبھال لینا۔ اور جس وقت میں تیسری تکبیر کہوں تو تم بھی تکبیر کہنا، پھر اس کے ساتھ ہی گھڑ سوار دستہ آگے بڑھ کر جنگ شروع کر دے۔ اور پھر جیسے ہی تم کو چوتھی تکبیر سنائی دے تو تم سب یکجان ہو کر دشمن پر ہلہ بول دینا اور دشمن سے گتھم گتھا ہو جانا، ساتھ ساتھ لاحول ولا قوة الا باللہ کا ورد زبان پر جاری رکھنا۔
تین تکبیریں
جب تلاوت کرنے والے فارغ ہوگئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنی جگہ لیٹے لیٹے تکبیر کہی، جواباً آپ کے قریبی لوگوں نے بھی بلند آواز سے تکبیر کہی۔ ان کی آواز سن کر سارے لشکر نے تکبیر کہی اور سب جمع ہو گئے۔ پھر حضرت سعد نے دوسری تکبیر کہی تو سب لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب تیسری تکبیر کہی تو وہ حضرات صفوں سے نکل کر میدان میں آگئے جو شجاعت و بہادری میں اعلیٰ تھے۔ جیسے ہی یہ بہادر آگے بڑھے تو انھوں نے ایرانی فوج سے شمشیر زنی اور نیزہ بازی شروع کردی۔
حضرت غالب بن عبداللہ الاسدی میدان میں اشعار پڑھتے ہوئے آئے جن کا ترجمہ یہ ہے:
”تمام فُصحاء، ممتاز شرفاء اور سردار جانتے ہیں کہ میں ایک مسلح نوجوان ہوں۔ ہر مشکل اور پیچیدہ معاملے کو سلجھانے کی طاقت رکھتا ہوں۔“
انکے مقابلے میں ایرانی لشکر میں سے ”ہرمز“ نامی شہزادہ بر آمد ہوا، اس کے سر پر اپنے عہدے کے مطابق ایک مرصع تاج بھی سجا ہوا تھا، حضرت غالب نے بڑی دانشمندی سے چند ایک وار میں الجھا کر اس کو گرفتار کرلیا اور حضرت سعد کے پاس لے آئے، پھر اسے وہاں چھوڑ کر دوبارہ میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔
حضرت عاصم اور ایرانی سپاہی
حضرت عاصم بن عمرو بھی مقابلے کے لیے میدان میں آئے اور ان کی زبان پر اس وقت یہ اشعار تھے جن کا ترجمہ ہے:
”بے شک سب یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ایسا جوان ہوں جس کی پیٹھ پر کبھی زخم کھانے کا عیب نہیں لگا۔“
پھر آگے بڑھ کر انہوں نے ایک ایرانی سپاہی پر حملہ کیا مگر وہ ڈر کر بھاگ پڑا۔ عاصم بن عمرو ؓ نے اس کا پیچھا کیا اور پیچھا کرتے کرتے جب وہ دشمن کی صفوں تک پہنچے تو وہاں ان کو ایک گھڑ سوار دکھائی دیا جسکے پاس ایک سامان سے لدا ہوا خچر بھی تھا۔ یہ سوار عاصم کو دیکھتے ہی اپنا خچر چھوڑ کر بھاگ نکلا اور اپنے ساتھیوں تک پہنچ کر ان میں پناہ لی۔ عاصم بن عمرو ؓ نے خچر اور اس پر لدے ہوئے سامان کو ساتھ لیا پھر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس واپس پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ خچر چھوڑ کر بھاگنے والا شخص سپہ سالار کا باورچی تھا اور خچر پر اس کے لیے کا قیمتی کھانا، حلوہ اور شہد وغیرہ لدا ہوا تھا۔ اس کے بعد عاصم دوبارہ اپنی مقررہ جگہ کی طرف لوٹ گئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ان چیزوں کی طرف دیکھ کر فرمایا:
”یہ چیزیں عاصم کے پاس پہنچا دو، اور ان سے یہ کہہ دو کہ امیر نے یہ سارا مال آپ کو بطورِ انعام دے دیا ہے۔ آپ اس کو استعمال کریں۔“
چنانچہ یہ سب کچھ ان تک یہ پہنچا دیا گیا۔........
حضرت عمرو بن معدی کرب اور ایرانی سورما
جب گھڑ سواروں کی آپس میں جھڑپیں شروع ہوئیں تو دشمن کی فوج سے ایک سپاہی نکل کر للکار نے لگا :
”کوئی ہے جوانمرد؟ کوئی ہے جوانمرد جو میرے مقابلے میں آئے؟“
مسلمانوں میں سے عمرو بن معدی کرب ؓ لشکر سے نکل کر اس کے مقابلے کے لیے میں آگے بڑھے اور اس سے گتھم گتھا ہو کر لڑائی شروع کر دی۔ دونوں بہادروں میں کچھ دیر تک زور دار لڑائی ہوتی رہی کہ اسی دوران حضرت عمرو بن معدی کرب نے اس ایرانی کو اٹھا کر زمین پر پٹخنے کے بعد گردن مار دی۔ پھر اس کے بعد آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے:
”کسی فارسی کی اگر کمان گم ہو جائے تو وہ بس مینڈھا ہی بن جاتا ہے۔“ (یعنی پھر بس پکڑو اور ذبح کردو)
اسکے بعد دونوں جانب کے تمام فوجی دستے مشترکہ جنگ کے لیے آگے بڑھنے لگے۔
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن معدی کرب ہمارے سامنے سے گزرے۔ وہ صفوں کے درمیان گھوم پھر کر لشکر کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
”جب کسی ایرانی سپاہی کا نیزہ پھینک دیا جائے تو وہ بس مینڈھا ہی رہ جاتا ہے۔“
ان کی اس تقریر کے دوران اچانک ایک ایرانی سپاہی نمودار ہوا اور دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر اس نے ایک تیر چلایا۔ حضرت عمرو بن معدی کرب فوراً اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر حملہ کر دیا۔ اس سے گتھم گتھا ہو کر اس کا پٹکا پکڑ کر کھینچا اور اٹھا کر اپنے سامنے گھوڑے پر لاد کر لے آئے۔ جب وہ ہمارے قریب پہنچ گئے تو انہوں نے اس کی گردن توڑ دی اور پھر اس کے حلق پر تلوار رکھ کر اس کو ذبح کر دیا۔ اور اسکے بعد اس کو پھینک دیا اور فرمانے لگے:
”تم انکے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو۔“
اس پر ہم نے کہا:
”اے ابو ثور (آپ کا لقب) جو کارنامہ آپ انجام دے سکتے ہیں اور کسی میں اس کی ہمت کہاں؟“
جب گھڑ سواروں کے مقابلے ختم ہونے کے بعد دونوں فوجوں میں عام جنگ کا آغاز ہوا تو ایرانی فوج کے ہاتھیوں والے حصے نے اسلامی فوج پر حملہ کر دیا جس کی بناء پر مسلمانوں کے فوجی دستوں میں انتشار پیدا ہو گیا اور انکے گھوڑے بدحواس ہوگئے۔ یہ حملہ اتنا شدید ہوا کہ قریب تھا قبیلہ ”البجیلہ“کا بالکل نام و نشان ہی مٹ جاتا، کیونکہ ان کے گھوڑے ہاتھیوں کے خوف سے بدحواس ہو کر بھاگنے لگے تھے اور اپنی مقررہ جگہ چھوڑ رہے تھے، حتیٰ کہ ان کی جگہ پر صرف پیدل دستہ باقی رہ گیا۔
یہ حالت دیکھ کر اسی وقت سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بنو اسد کو حکم دیا کہ وہ قبیلہ البجیلہ اور اس کے قریبی دستوں کی مدد کریں۔ چنانچہ حضرت طلحہ بن خویلد، عمال بن مالک، غالب بن عبداللہ اور رفیل بن عمرو اپنے فوجی دستوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور انہوں نے ہاتھیوں پر زور دار حملہ کیا جس سے وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ ان ہاتھیوں میں سے ہر ایک ہاتھی پر بیس بیس سپاہی ہودج میں سوار تھے۔
جب فارسی فوج نے دیکھا کہ ہاتھی والے دستے کو بنو اسد کے حملوں کی بناء پر مشکلات کا سامنا ہے تو وہ مسلمانوں پر حملوں میں تیزی لے آئے۔ انکے سالار ذوالحاجب بہمن اور جالینوس تھے۔ مسلمان ابھی اس انتظار میں تھے کہ حضرت سعد کی طرف سے چوتھی تکبیر کہی جائے تا کہ ہم عام حملہ شروع کریں، اتنے میں ایرانیوں کی تمام فوج ہاتھیوں کو ساتھ لے کر بنو اسد کے مقابلے پر آگئی، لیکن بنو اسد اس خطرناک صورتحال میں بھی پامردی کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔ اسی دوران حضرت سعد نے چوتھی تکبیر بھی کہہ دی اور پھر تمام اسلامی فوج نے ایرانیوں پر یکبارگی ہلہ بول دیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ جنگ کی شدید چکی بنوا سد پر گھوم رہی تھی۔ فارسی لشکر کے ہاتھیوں نے اسلامی لشکر کے دائیں اور بائیں بازو کے سوار دستوں پر حملہ کر دیا تھا جس کی بناء پر مسلمانوں کے گھوڑے بدحواس ہوگئے اور ہاتھیوں کے ڈر سے پیچھے پلٹنے لگے تھے۔ اور گھڑ سوار دستے پیدل دستوں پر شدید دباؤ ڈال رہے تھے۔
یہ حال دیکھ کر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے حضرت عاصم بن عمرو کے نام پیغام بھیجا جس میں آپ نے فرمایا:
”اے بنو تمیم! کیا تمھارے پاس اونٹ اور گھوڑے نہیں ہیں؟ کیا تم ان ہاتھیوں سے جان چھڑانے کے لیے کوئی تدبیر اختیار نہیں کر سکتے؟“
بنو تمیم کہنے لگے:
”بالکل! ہم کر سکتے ہیں۔“
پھر حضرت عاصم بن عمرو نے اپنی قوم کے مایہ ناز تیراندازوں اور تجربہ کار منجھے ہوئے سپاہیوں کو جلد از جلد جمع کرکے فرمایا:
” اے تیراندازی کے ماہرو! تم اپنی تیراندازی کے جوہر دکھا کر ان ہاتھیوں کا مقابلہ کرو۔“
اور دوسرے کہنہ مشق سپاہیوں کو یہ ہدایت دی کہ تم ان ہاتھیوں کی پشت پر جا کر ان کے ہودجوں کے بند کاٹ ڈالو۔ پھر حضرت عاصم خود بھی انکے دفاع میں نکل کھڑے ہوئے۔ اس وقت تک بنو اسد فارسی سپاہیوں کے شدید حملے کا سامنا کر رہے تھے۔ پھر حضرت عاصم کے بھیجے ہوئے سپاہی ہاتھیوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان کے سونڈوں اور پچھلے حصوں پر حملہ کرنے کے بعد ہودجوں کے بند کاٹ ڈالے۔
ہاتھیوں پر حملہ ہوا تو وہ چیختے چنگھاڑتے اور اپنے ہی سپاہیوں کو روندتے ہوئے واپس بھاگے، نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کسی بھی ہاتھی کے اوپر اس کا سوار اور سامان باقی نہیں بچا۔ ہاتھی سوار قتل کر دیئے گئے۔ پھر مسلمان اور ایرانی فارسی دو بدو مقابلے پر آئے۔ اس حملے کے نتیجے میں بنو اسد پر سے جنگ کا جو شدید دباؤ تھا وہ ختم ہوگیا اور تمام گھڑ سوار مسلح دستے اپنی اپنی صفوں تک دوبارہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
پہلے دن کی جنگ سورج غروب ہونے تک جاری رہی بلکہ رات کا بھی کچھ حصہ اس میں صرف ہوگیا، رات گہری ہونے کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے مقام پر لوٹ آئے اور لڑائی رک گئی۔ قادسیہ کے میدان لڑی گئی اس پہلے دن کی جنگ کو تاریخ میں ”یوم الارماث“ کہا جاتا ہے۔
پہلے دن تمام اسلامی لشکر لڑائی میں شریک تھا مگر ایرانیوں کا زیادہ زور قبیلہ بنو اسد کی طرف تھا جس کی وجہ سے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں اسلام کی خاطر بنو اسد کے کم و بیش پانچ سو جانبازوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مسلمانوں کے مدِ مقابل اس جنگ میں شریک لاتعداد ایرانی سپاہی بھی زخمی اور ہلاک ہوئے۔
(جاری ہے)
ماخوذ از تاریخ طبری (اردو ترجمہ، طبع دارالاشاعت)