Achi Batain

Call Directions Website Contact the business

Achi Batain Welcome my Fb Page Achi Batain .upload Peotry Best Qoutas.https://www.youtube.com/

29/09/2026

خانہ کعبہ سے براہ راست


 #فتوحاتِ_ایران (قسط نمبر 8)ایران کے بادشاہ یزدگرد نے رستم کی روانگی کے بعد ہی سے اپنے شاہی ایوان کے دروازے پر ایک آدمی ...
28/09/2026

#فتوحاتِ_ایران (قسط نمبر 8)

ایران کے بادشاہ یزدگرد نے رستم کی روانگی کے بعد ہی سے اپنے شاہی ایوان کے دروازے پر ایک آدمی کو متعین کر دیا تھا اور اسے مستقل وہاں رہ کر خبریں پہنچاتے رہنے کا حکم دیا تھا۔ اور دوسرے آدمی کو ایسی جگہ متعین کیا کہ وہ گھر سے خبریں سن سکے۔ اور تیسرے آدمی کو گھر کے باہر مقرر کیا۔ اس طریقے سے ہر تھوڑے فاصلے پر ایک ایک شخص کو کھڑا کیا گیا۔ جب رستم نے ساباط میں پڑاؤ ڈالا تو جو ہرکارہ وہاں مقرر تھا اس نے پڑاؤ ڈالنے کی خبر دے دی، اگلے نے یہ خبر اپنے سے آگے والے کو بتائی، حتیٰ کہ اس طرح آدمی بہ آدمی یہ خبر چلتی چلتی شاہی ایوان تک پہنچ جاتی، پھر وہاں جو آدمی متعین تھا وہ خبریں یزدگرد تک پہنچا دیتا تھا۔

ادھر قادسیہ کے میدان میں مسلمان اپنی صف بندی مکمل کر چکے تھے۔ حضرت زہرہ اور حضرت عاصم کو عبداللہ بن غالب الاسدی اور شرحبیل کے درمیان مقرر کیا گیا تھا۔ جبکہ ہراول دستے کے سالار کو لشکر میں چکر لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ قلب (Center) لشکر اور دائیں بائیں اور اگلے و پچھلے تمام حصوں میں گھوم پھر رہے تھے اور ان کا منادی یہ اعلان کر رہا تھا:

”اے لوگو! سن لو! بے شک حسد اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ صرف اور صرف اللہ کے دین کے لیے جـ ـہاد کرنے میں جائز ہے، بس تم خوب ایک دوسرے سے زیادہ بڑھ کر مقابلہ کرو اور ایک دوسرے کو لڑنے پر غیرت دلاؤ۔“

ہر قبیلے کے امیر نے اپنے قبیلے کے سامنے خطاب کیا۔ انہیں اطاعت و فرمانبرداری اور جنگ میں جمے رہنے اور عزم و ہمت کی ترغیب دی۔ پھر ہر امیر اپنی اپنی مقررہ پر جگہ پر پہنچ گیا۔ اتنے میں امیر لشکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے منادی نے ظہر کی نماز ادا کرنے کا اعلان کیا۔

ادھر رستم نے جل بُھن کر آواز لگائی:
”اس عمر (عمرفاروق ؓ) نے میرا کلیجہ کھا لیا ہے۔ خدا اس کے کلیجے کو جلائے، اسی نے ان مسلمانوں کو ابھارا تو یہ سارے کے سارے یہاں آگئے۔“

راوی کہتا ہے کہ جب رستم نے نجف میں پڑاؤ ڈالا تھا تو اس نے لشکرِ اسلام کی خیر خبر معلوم کرنے کے لیے اپنے ایک جاسوس کو روانہ کیا تھا۔ وہ جاسوس قادسیہ میں مسلمانوں کے اندر اس طرح شامل ہوگیا گویا کہ وہ لشکر اسلام کا ایک سپاہی ہے۔ لشکر میں پہنچ کر اس نے مسلمانوں میں یہ عمل دیکھا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کرتے ہیں، اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد دوبارہ اپنی اپنی مقررہ جگہوں پر واپس آ جاتے ہیں۔

یہ جاسوس جب واپس آیا تو رستم کو مسلمانوں کا حال احوال بتایا۔ مسلمانوں کی سیرت و کردار سے بھی باخبر کیا۔ رستم نے پوچھا:
”وہ کھانا کیا کھاتے ہیں؟“

جاسوس نے جواب دیا:
”میں نے انکے پاس رات گزاری ہے، خدا کی قسم! میں نے ان میں سے کسی کو کچھ خاص کھاتے پیتے ہوئے نہیں دیکھا، ہاں البتہ اتنا ضرور دیکھا ہے کہ وہ لوگ شام کے وقت اور رات کو سونے سے پہلے، اور پھر صبح سے کچھ دیر قبل اپنی لکڑیوں کو چوسا کرتے ہیں۔ (یعنی مسواک کرتے ہیں)

پھر رستم نے وہاں سے کوچ کیا اور حصن، عتیق کی درمیانی جگہ پر پڑاؤ ڈالا۔ رستم وہاں عین اس وقت پہنچا تھا جب حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان کہی تھی۔ اذان سن کر مسلمان نماز کے لیے جمع ہورہے تھے۔ جب رستم نے یہ منظر دیکھا تو ایرانی فوج میں یہ اعلان کردیا کہ سب سوار ہو جائیں۔ رستم کے سپاہیوں نے اس کی وجہ دریافت کرنا چاہی تو وہ کہنے لگا:

”کیا تم اپنے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے کہ ان میں اعلان کیا گیا ہے اور وہ سب کے سب تم سے لڑنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں؟“

اس پر رستم کا وہ جاسوس بولا:
”مسلمان اس طرح لڑنے کے لیے نہیں بلکہ نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔“.........

نماز سے فارغ ہوکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ دشمن کے سامنے سورۃ الانفال کی تلاوت کرتے رہیں۔

پھر فرمایا:
”سب لوگ اپنے اپنے مورچوں میں جمے رہو اور
اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلو۔ میں ایک دفعہ تکبیر کہوں گا تو تم بھی تکبیر کہہ کر تیار ہوجانا ۔ جب تمھیں دوسری تکبیر سنائی دے تو جواباً نعرہ تکبیر لگا کر تم اپنے ہتھیاروں کو سنبھال لینا۔ اور جس وقت میں تیسری تکبیر کہوں تو تم بھی تکبیر کہنا، پھر اس کے ساتھ ہی گھڑ سوار دستہ آگے بڑھ کر جنگ شروع کر دے۔ اور پھر جیسے ہی تم کو چوتھی تکبیر سنائی دے تو تم سب یکجان ہو کر دشمن پر ہلہ بول دینا اور دشمن سے گتھم گتھا ہو جانا، ساتھ ساتھ لاحول ولا قوة الا باللہ کا ورد زبان پر جاری رکھنا۔

تین تکبیریں

جب تلاوت کرنے والے فارغ ہوگئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنی جگہ لیٹے لیٹے تکبیر کہی، جواباً آپ کے قریبی لوگوں نے بھی بلند آواز سے تکبیر کہی۔ ان کی آواز سن کر سارے لشکر نے تکبیر کہی اور سب جمع ہو گئے۔ پھر حضرت سعد نے دوسری تکبیر کہی تو سب لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب تیسری تکبیر کہی تو وہ حضرات صفوں سے نکل کر میدان میں آگئے جو شجاعت و بہادری میں اعلیٰ تھے۔ جیسے ہی یہ بہادر آگے بڑھے تو انھوں نے ایرانی فوج سے شمشیر زنی اور نیزہ بازی شروع کردی۔

حضرت غالب بن عبداللہ الاسدی میدان میں اشعار پڑھتے ہوئے آئے جن کا ترجمہ یہ ہے:

”تمام فُصحاء، ممتاز شرفاء اور سردار جانتے ہیں کہ میں ایک مسلح نوجوان ہوں۔ ہر مشکل اور پیچیدہ معاملے کو سلجھانے کی طاقت رکھتا ہوں۔“

انکے مقابلے میں ایرانی لشکر میں سے ”ہرمز“ نامی شہزادہ بر آمد ہوا، اس کے سر پر اپنے عہدے کے مطابق ایک مرصع تاج بھی سجا ہوا تھا، حضرت غالب نے بڑی دانشمندی سے چند ایک وار میں الجھا کر اس کو گرفتار کرلیا اور حضرت سعد کے پاس لے آئے، پھر اسے وہاں چھوڑ کر دوبارہ میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔

حضرت عاصم اور ایرانی سپاہی

حضرت عاصم بن عمرو بھی مقابلے کے لیے میدان میں آئے اور ان کی زبان پر اس وقت یہ اشعار تھے جن کا ترجمہ ہے:

”بے شک سب یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ایسا جوان ہوں جس کی پیٹھ پر کبھی زخم کھانے کا عیب نہیں لگا۔“

پھر آگے بڑھ کر انہوں نے ایک ایرانی سپاہی پر حملہ کیا مگر وہ ڈر کر بھاگ پڑا۔ عاصم بن عمرو ؓ نے اس کا پیچھا کیا اور پیچھا کرتے کرتے جب وہ دشمن کی صفوں تک پہنچے تو وہاں ان کو ایک گھڑ سوار دکھائی دیا جسکے پاس ایک سامان سے لدا ہوا خچر بھی تھا۔ یہ سوار عاصم کو دیکھتے ہی اپنا خچر چھوڑ کر بھاگ نکلا اور اپنے ساتھیوں تک پہنچ کر ان میں پناہ لی۔ عاصم بن عمرو ؓ نے خچر اور اس پر لدے ہوئے سامان کو ساتھ لیا پھر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس واپس پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ خچر چھوڑ کر بھاگنے والا شخص سپہ سالار کا باورچی تھا اور خچر پر اس کے لیے کا قیمتی کھانا، حلوہ اور شہد وغیرہ لدا ہوا تھا۔ اس کے بعد عاصم دوبارہ اپنی مقررہ جگہ کی طرف لوٹ گئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ان چیزوں کی طرف دیکھ کر فرمایا:

”یہ چیزیں عاصم کے پاس پہنچا دو، اور ان سے یہ کہہ دو کہ امیر نے یہ سارا مال آپ کو بطورِ انعام دے دیا ہے۔ آپ اس کو استعمال کریں۔“
چنانچہ یہ سب کچھ ان تک یہ پہنچا دیا گیا۔........

حضرت عمرو بن معدی کرب اور ایرانی سورما

جب گھڑ سواروں کی آپس میں جھڑپیں شروع ہوئیں تو دشمن کی فوج سے ایک سپاہی نکل کر للکار نے لگا :

”کوئی ہے جوانمرد؟ کوئی ہے جوانمرد جو میرے مقابلے میں آئے؟“

مسلمانوں میں سے عمرو بن معدی کرب ؓ لشکر سے نکل کر اس کے مقابلے کے لیے میں آگے بڑھے اور اس سے گتھم گتھا ہو کر لڑائی شروع کر دی۔ دونوں بہادروں میں کچھ دیر تک زور دار لڑائی ہوتی رہی کہ اسی دوران حضرت عمرو بن معدی کرب نے اس ایرانی کو اٹھا کر زمین پر پٹخنے کے بعد گردن مار دی۔ پھر اس کے بعد آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے:
”کسی فارسی کی اگر کمان گم ہو جائے تو وہ بس مینڈھا ہی بن جاتا ہے۔“ (یعنی پھر بس پکڑو اور ذبح کردو)

اسکے بعد دونوں جانب کے تمام فوجی دستے مشترکہ جنگ کے لیے آگے بڑھنے لگے۔

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن معدی کرب ہمارے سامنے سے گزرے۔ وہ صفوں کے درمیان گھوم پھر کر لشکر کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
”جب کسی ایرانی سپاہی کا نیزہ پھینک دیا جائے تو وہ بس مینڈھا ہی رہ جاتا ہے۔“

ان کی اس تقریر کے دوران اچانک ایک ایرانی سپاہی نمودار ہوا اور دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر اس نے ایک تیر چلایا۔ حضرت عمرو بن معدی کرب فوراً اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر حملہ کر دیا۔ اس سے گتھم گتھا ہو کر اس کا پٹکا پکڑ کر کھینچا اور اٹھا کر اپنے سامنے گھوڑے پر لاد کر لے آئے۔ جب وہ ہمارے قریب پہنچ گئے تو انہوں نے اس کی گردن توڑ دی اور پھر اس کے حلق پر تلوار رکھ کر اس کو ذبح کر دیا۔ اور اسکے بعد اس کو پھینک دیا اور فرمانے لگے:
”تم انکے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو۔“

اس پر ہم نے کہا:
”اے ابو ثور (آپ کا لقب) جو کارنامہ آپ انجام دے سکتے ہیں اور کسی میں اس کی ہمت کہاں؟“

جب گھڑ سواروں کے مقابلے ختم ہونے کے بعد دونوں فوجوں میں عام جنگ کا آغاز ہوا تو ایرانی فوج کے ہاتھیوں والے حصے نے اسلامی فوج پر حملہ کر دیا جس کی بناء پر مسلمانوں کے فوجی دستوں میں انتشار پیدا ہو گیا اور انکے گھوڑے بدحواس ہوگئے۔ یہ حملہ اتنا شدید ہوا کہ قریب تھا قبیلہ ”البجیلہ“کا بالکل نام و نشان ہی مٹ جاتا، کیونکہ ان کے گھوڑے ہاتھیوں کے خوف سے بدحواس ہو کر بھاگنے لگے تھے اور اپنی مقررہ جگہ چھوڑ رہے تھے، حتیٰ کہ ان کی جگہ پر صرف پیدل دستہ باقی رہ گیا۔

یہ حالت دیکھ کر اسی وقت سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بنو اسد کو حکم دیا کہ وہ قبیلہ البجیلہ اور اس کے قریبی دستوں کی مدد کریں۔ چنانچہ حضرت طلحہ بن خویلد، عمال بن مالک، غالب بن عبداللہ اور رفیل بن عمرو اپنے فوجی دستوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور انہوں نے ہاتھیوں پر زور دار حملہ کیا جس سے وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ ان ہاتھیوں میں سے ہر ایک ہاتھی پر بیس بیس سپاہی ہودج میں سوار تھے۔

جب فارسی فوج نے دیکھا کہ ہاتھی والے دستے کو بنو اسد کے حملوں کی بناء پر مشکلات کا سامنا ہے تو وہ مسلمانوں پر حملوں میں تیزی لے آئے۔ انکے سالار ذوالحاجب بہمن اور جالینوس تھے۔ مسلمان ابھی اس انتظار میں تھے کہ حضرت سعد کی طرف سے چوتھی تکبیر کہی جائے تا کہ ہم عام حملہ شروع کریں، اتنے میں ایرانیوں کی تمام فوج ہاتھیوں کو ساتھ لے کر بنو اسد کے مقابلے پر آگئی، لیکن بنو اسد اس خطرناک صورتحال میں بھی پامردی کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔ اسی دوران حضرت سعد نے چوتھی تکبیر بھی کہہ دی اور پھر تمام اسلامی فوج نے ایرانیوں پر یکبارگی ہلہ بول دیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ جنگ کی شدید چکی بنوا سد پر گھوم رہی تھی۔ فارسی لشکر کے ہاتھیوں نے اسلامی لشکر کے دائیں اور بائیں بازو کے سوار دستوں پر حملہ کر دیا تھا جس کی بناء پر مسلمانوں کے گھوڑے بدحواس ہوگئے اور ہاتھیوں کے ڈر سے پیچھے پلٹنے لگے تھے۔ اور گھڑ سوار دستے پیدل دستوں پر شدید دباؤ ڈال رہے تھے۔

یہ حال دیکھ کر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے حضرت عاصم بن عمرو کے نام پیغام بھیجا جس میں آپ نے فرمایا:

”اے بنو تمیم! کیا تمھارے پاس اونٹ اور گھوڑے نہیں ہیں؟ کیا تم ان ہاتھیوں سے جان چھڑانے کے لیے کوئی تدبیر اختیار نہیں کر سکتے؟“

بنو تمیم کہنے لگے:
”بالکل! ہم کر سکتے ہیں۔“

پھر حضرت عاصم بن عمرو نے اپنی قوم کے مایہ ناز تیراندازوں اور تجربہ کار منجھے ہوئے سپاہیوں کو جلد از جلد جمع کرکے فرمایا:
” اے تیراندازی کے ماہرو! تم اپنی تیراندازی کے جوہر دکھا کر ان ہاتھیوں کا مقابلہ کرو۔“

اور دوسرے کہنہ مشق سپاہیوں کو یہ ہدایت دی کہ تم ان ہاتھیوں کی پشت پر جا کر ان کے ہودجوں کے بند کاٹ ڈالو۔ پھر حضرت عاصم خود بھی انکے دفاع میں نکل کھڑے ہوئے۔ اس وقت تک بنو اسد فارسی سپاہیوں کے شدید حملے کا سامنا کر رہے تھے۔ پھر حضرت عاصم کے بھیجے ہوئے سپاہی ہاتھیوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان کے سونڈوں اور پچھلے حصوں پر حملہ کرنے کے بعد ہودجوں کے بند کاٹ ڈالے۔

ہاتھیوں پر حملہ ہوا تو وہ چیختے چنگھاڑتے اور اپنے ہی سپاہیوں کو روندتے ہوئے واپس بھاگے، نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کسی بھی ہاتھی کے اوپر اس کا سوار اور سامان باقی نہیں بچا۔ ہاتھی سوار قتل کر دیئے گئے۔ پھر مسلمان اور ایرانی فارسی دو بدو مقابلے پر آئے۔ اس حملے کے نتیجے میں بنو اسد پر سے جنگ کا جو شدید دباؤ تھا وہ ختم ہوگیا اور تمام گھڑ سوار مسلح دستے اپنی اپنی صفوں تک دوبارہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

پہلے دن کی جنگ سورج غروب ہونے تک جاری رہی بلکہ رات کا بھی کچھ حصہ اس میں صرف ہوگیا، رات گہری ہونے کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے مقام پر لوٹ آئے اور لڑائی رک گئی۔ قادسیہ کے میدان لڑی گئی اس پہلے دن کی جنگ کو تاریخ میں ”یوم الارماث“ کہا جاتا ہے۔

پہلے دن تمام اسلامی لشکر لڑائی میں شریک تھا مگر ایرانیوں کا زیادہ زور قبیلہ بنو اسد کی طرف تھا جس کی وجہ سے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں اسلام کی خاطر بنو اسد کے کم و بیش پانچ سو جانبازوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مسلمانوں کے مدِ مقابل اس جنگ میں شریک لاتعداد ایرانی سپاہی بھی زخمی اور ہلاک ہوئے۔

(جاری ہے)

ماخوذ از تاریخ طبری (اردو ترجمہ، طبع دارالاشاعت)


28/09/2026

Train 🚂


26/09/2026

وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں زالہ باری

 #فتوحاتِ_فارس (قسط نمبر 7)رستم پھر بھی لڑائی میں ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس نے ایک بار پھر مسلمانوں کے نمائندے کو طلب کیا۔ ح...
26/09/2026

#فتوحاتِ_فارس (قسط نمبر 7)

رستم پھر بھی لڑائی میں ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس نے ایک بار پھر مسلمانوں کے نمائندے کو طلب کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے حضرت ربعی بن عامر ؓ کو بھیج دیا۔

اس بار رستم نے بڑا شاندار دربار لگا کر مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کی کہ شاید اس طرح حریف پر کچھ نفسیاتی دباؤ پڑ جائے، مگر دربار کی تمام سج دھج اور رنگینیوں کا حضرت ربعی بن عامر ؓ نے ذرا بھی اثر نہیں لیا بلکہ اپنی بے نیازی ظاہر کرنے کے لیے وہ گھوڑے سمیت ان کے قالینوں کو روندتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور گھوڑے کو ایک بھاری بھر کم گاؤ تکیے کے ساتھ باندھ دیا۔ ایرانی پہرے داروں نے ان کا اسلحہ اُتارنا چاہا تو بولے:

”میں تمہاری درخواست پر آیا ہوں۔ اگر ایسے ہی اندر جانے دو گے تو ٹھیک ورنہ میں واپس جا رہا رہا ہوں۔“

پہرے دار گنگ رہ گئے اور یہ اپنے نیزے کی انی قالینوں پر ٹیکتے ہوئے اس طرح آگے بڑھے کہ رستم کے خیمے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بچھا ہوا قیمتی قالین پھٹتا چلا گیا۔

علامہ طبری لکھتے ہیں:
حضرت ربعی بن عامر ؓ رستم کے پاس جانے کے لیے فارسی لشکر کی جانب روانہ ہوئے۔ پل پر جو سپاہی موجود تھے انہوں نے ربعی بن عامر ؓ کو روک لیا اور رستم کو ان کے آنے کی اطلاع دی۔ جس پر رستم نے اہل فارس کے بڑوں اور سرداروں سے مشورہ کیا کہ ہم اس شخص کے ساتھ عزت کا معاملہ کریں یا حقارت آمیز سلوک کریں؟ سب سرداروں نے مشورہ دیا کہ ان کو بے عزت اور مرعوب کیا جائے۔ لہذا انھوں نے قیمتی اور عمدہ قالین بچھائے، مکمل آرائش و زیبائش کا سامان کیا اور کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رستم کے لیے سونے کا تخت بچھایا گیا۔ پھر اس کو قالین بچھا کر اور سونے کے دھاگوں سے تیار کردہ تکیے لگا کر خوب مزین کیا گیا۔

حضرت ربعی بن عامر گھنے اور لمبے بالوں والے چھوٹے قد کے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی شعلے کی طرح چمکتی ہوئی تلوار تھی جس پر ایک پھٹا پرانا کپڑا لپٹا ہوا تھا۔ اور ان کا نیزہ بھی ساتھ تھا جس کے مٹھی میں لینے کی جگہ کو اونٹ کی گردن کا پٹا لگا کر مضبوط کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنی ڈھال بھی ساتھ رکھی تھی جو کہ گائے کی کھال سے تیار کی گئی تھی۔ اس کے اوپر ایک سرخ رنگ کا چمڑا تھا جو کہ (موٹائی میں) چپاتی کی طرح تھا۔ اور ساتھ ساتھ ان کے تیر کمان بھی تھے۔

حضرت ربعی بن عامر ؓ اسی حالت میں جب رستم کے پاس اس کے نزدیکی قالین تک پہنچے تو ان سے کہا گیا:
”گھوڑے سے نیچے اترو!“

لیکن وہ اپنے گھوڑے کو آگے بڑھا کر قالین کے بالکل اوپر لے آئے اور قالین کے اوپر ہی روک کر اترے، پھر اپنے گھوڑے کو دو بڑے بڑے تکیوں سے باندھ دیا۔ اس تمام کارروائی کے باوجود وہاں پر موجود درباریوں کو منع کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ در اصل بات یہ تھی کہ رستم اور اس کے درباریوں نے آپ کی تحقیر و تذلیل کا ارادہ کیا تھا جس کو حضرت ربعی بن عامر ؓ نے بھانپ لیا۔ آپ نے ان کو مزہ چکھانے اور انکی تدبیر کو نا کام بنانے کے لیے یہ ساری کارروائی کی۔

جب رستم کے محافظوں نے ان سے کہا کہ اپنے ہتھیار اتار دیں تو جواب میں حضرت ربعی بن عامر نے جرأت مندانہ لہجے میں جواب دیا کہ ”میں اپنی مرضی سے تمھارے پاس نہیں آیا کہ تمھارے حکم پر یہاں ہتھیار اتار دوں۔ مجھے تم نے ہی بلایا ہے، اگر تم یہ نہیں چاہتے کہ میں اپنی مرضی کے مطابق آؤں تو میں یہیں سے واپس لوٹ جاتا ہوں۔“

درباریوں نے رستم کو اس کی اطلاع دی۔ تو اس نے کہا کہ وہ جس طرح آنا چاہتے ہیں ان کو آنے کی اجازت دے دو، کیونکہ وہ صرف ایک ہی آدمی تو ہے۔ چنانچہ حضرت ربعی بن عامر ؓ یہاں سے اپنے نیزے کا سہارا لیتے ہوئے آگے بڑھے اس طرح کہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہے تھے اور نیزے کی نوک سے قالین اور گدوں کو پھاڑتے چلے جارہے تھے۔ حتیٰ کہ انہوں نے کسی قالین اور گدے کو صحیح سالم نہ چھوڑا بلکہ ہر ایک کو خراب کر دیا اور پھاڑ کر رکھ دیا۔

جن کی قوّت نے کیا قیصر و کِسریٰ تاراج
وہ تھے قرآن کو سِینے سے لگانے والے

روندتے پھرتے تھے قدموں میں حَرِیر و اَطلَس
جو قباؤں میں تھے پَیوند لگانے والے

ڈرکے یوں بھاگے کہ رستے میں کہیں دم نہ لیا
اُن کے جانبازوں کو فِیلوں سے ڈرانے والے
(سلمان گیلانی ؒ)

جب اسی طرح چلتے ہوئے وہ رستم کے نزدیک پہنچے تو یہاں محافظین نے ان کو گھیر لیا۔ حضرت ربعی زمین پر بیٹھ گئے اور اپنے نیزہ کو قالین میں گاڑ دیا۔ جب ان لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تمھاری اس زیب و زینت کے سامان پر بیٹھنا صحیح نہیں سمجھتے۔

رستم حضرت ربعی بن عامر ؓ اس بے باکانہ رویے سے بہت مرعوب ہو چکا تھا، پوچھنے لگا:
”یہ بتاؤ کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟“

حضرت ربعی بن عامر ؓ نے اس موقع پر مسلمانوں کی آمد کا مقصد جن فصیح و بلیغ الفاظ میں بیان فرمایا وہ تاریخ کے صفحات پر اَن مٹ نقوش بن کر جگمگا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا:

”ہمیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ جن کو وہ چاہے، انہیں بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں، دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی خوشحالی میں اور دیگر مذاہب کے جور و ستم سے نکال کر اسلامی عدل کے دائرے میں لے آئیں۔“

رستم نے ربعی بن عامر ؓ کا یہ خطاب سن کر ایک بار پھر غور فکر کے لیے مہلت مانگی۔

تیسری بار مسلمانوں کی طرف سے حضرت حذیفہ بن محسن ؓ گفت وشنید کے لیے گئے مگر کچھ بات نہ بنی۔ آخر میں ایک بار پھر حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو گفتگو کے لیے بھیجا گیا۔ وہ رستم کے دربار میں داخل ہوئے اور بڑی بے تکلفی سے سیدھے اس کے تخت پر اس کے ساتھ ہی جا بیٹھے۔

درباری رستم کی اس گستاخی پر شور مچانے لگے تو حضرت مغیرہ ؓ نے فرمایا:

”یہاں بیٹھنے سے میرا مقام بلند ہوا، نہ تمہارے آقا کی عزت کو نقصان پہنچا۔“

اس وقت تک رستم سمجھ چکا تھا کہ جنگ ٹل نہیں سکتی اس لیے اس نے مسلمانوں کے نمائندے کو مرعوب کرنے کی پوری کوشش کی۔ رستم نے متکبرانہ لہجے میں عربوں کی تحقیر کرتے ہوئے کہا:

”تم لوگ اُس مکھی کی طرح ہو جو دوسروں کے سہارے شہد کے برتن تک پہنچے اور پھر اس میں گر کر اس طرح پھنسے کہ نکلنے کے لیے بھی دوسروں کی منت سماجت کرنے لگے۔ تم اس لاغر اور لالچی لومڑی کی طرح ہو جو ایک سوراخ سے انگور کے باغ میں گھسے اور کھا کھا کر اتنی موٹی ہو جائے کہ باہر نہ نکل سکے اور باغبان کے ہاتھوں ماری جائے۔“

رستم کے الفاظ سے اس تکبر کا اچھی طرح اندازہ ہو جاتا ہے جو ان کی رگ رگ میں سرایت کر چکی تھا۔ یہی وہ تکبر تھا جو انہیں حق بات کو قبول کرنے سے روک رہا تھا۔

حضرت مغیرہ ؓ اس کی بھڑکیں سنتے رہے اور جونہی وہ چپ ہوا، اسی کی طرح طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے مزے سے بولے:

”بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے طفیل ہمیں ہدایت بھی عطا کی اور رزق بھی۔ اس رزق کا ایک حصہ تمہاری سرزمین میں ہے۔ جب سے ہم نے اس کے کچھ دانے اپنے اہل و عیال کو کھلائے ہیں، وہ اصرار کر رہے ہیں کہ اس ملک کو جلد فتح کرو تا کہ ہم یہ پیداوار ہمیشہ کھاتے رہیں۔“

رستم یہ کرارا جواب سن کر آپے سے باہر ہو گیا اور چیخا:
”اچھا تو پھر ہم تمہیں قتـ ل کرکے ہی دم لیں گے۔“ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ اطمینان سے بولے:
”ہم قـ ـتل بھی ہوئے تو جنت میں داخل ہوں گے تم قـ ـتل ہو کر جہنم میں جھونکے جاؤ گے۔“

رستم نے غصے کو دباکر ایک بار پھر سخاوت جھاڑتے ہوئے کہا:
”جاؤ تمہیں ایک خلعت عطا کی جاتی ہے اور تمہارے سپہ سالار کو ایک ہزار اشرفیاں، پوشاک اور گھوڑے سمیت دیے جائیں گے، بس اب تم لوگ واپس چلے جاؤ۔“

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے جوابی طنز کرتے ہوئے کہا:
”واہ! تمہاری سلطنت کو شکست دینے اور تمہاری شان کو ملیا میٹ کرنے کے بعد ہم اتنی آسانی سے کیسے چلے جائیں؟ اب تو بس اتنی کسر رہ گئی ہے کہ کل تم ناک رگڑ کر ہماری نوکری پر مجبور ہو جاؤ۔“

رستم کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ دھاڑ کر بولا:
”قسم ہے سورج کی! کل میں تم سب کو موت کے گھاٹ اُتار دوں گا۔“
حضرت مغیرہ ؓ نے بڑی بے خوفی سے فرمایا:
”جو ہونا ہے وہ تمہیں بھی کل پتا چل جائے گا۔“
اس کے بعد آپ واپس چلے آئے۔

اسی دن رستم نے اپنی فوج کو کوچ کا حکم دیا۔ وہ دوہری زرہ اور چمکتا خود (جنگی ٹوپی) پہن کر ایک ہی جست میں اپنے تیز رفتار گھوڑے پر بیٹھا اور چلایا:

”کل میں عربوں کو مٹا کر رکھ دوں گا۔ ایک افسر نے کہا:
"اگر خدا نے چاہا تو۔“
رستم نے ڈپٹ کر کہا:
”خدا نہ چاہے تب بھی۔“
اس کے بعد وہ ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں کو لے کر ساباط کی چھاؤنی سے نکلا۔

(ساباط قدیم زمانے میں ساسانی سلطنت کے دارالحکومت مدائن (Ctesiphon) کے قریب ایک مضافاتی بستی یا قصبہ تھا۔ اسے عربی ذرائع میں ساباط جبکہ یونانی ذرائع میں ”ولوگیسوکرٹا“ (Vologesocerta) کہا جاتا ہے۔ آج کل یہ جگہ بغداد سے جنوب کی طرف تقریباً 30 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر، دریائے دجلہ کے کنارے قدیم مدائن کے کھنڈرات کے قرب و جوار میں واقع ہے۔)

مسلمان دریائے فرات کے مغرب میں خیمہ زن تھے، رستم نے یہاں پہنچ کر کشتیوں کا عارضی پل بنانے کی بجائے لکڑی، مٹی اور پتھروں کی بھرائی کروا کے راتوں رات ایک مضبوط راستہ تیار کرایا۔ صبح ہوتے ہی اس نے دریا عبور کرکے ساحل کے ساتھ صف بندی کر لی۔ تیس ہزار چنیدہ ایرانی سورماؤں نے زنجیریں پہن کر صفیں بنائی تھیں تاکہ نہ تو کوئی ان کی صفوں کو توڑ سکے نہ وہ خود پیٹھ پھیر کر بھاگ سکیں۔ اٹھارہ جنگی ہاتھی لشکر کی درمیانی صفوں میں اور پندرہ دونوں پہلوؤں کے آگے کھڑے تھے، ان کے ہودجوں میں انتہائی ماہر تیرانداز بیٹھے تھے۔ رستم اپنے لشکر کے پیچھے دریا کے کنارے ایک شاندار تخت پر براجمان ہو کر فوج کا معائنہ کر رہا تھا۔ شاہِ فارس یزدگرد نے جنگ کی صورت حال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہنے کے لیے قادسیہ سے اپنے شہر مدائن تک جگہ جگہ لوگ مقرر کر دیے تھے جو پیغام کو ایک دوسرے سے سن کر با آواز بلند آگے نقل کرتے جارہے تھے، یوں رستم کی بات یزدگرد تک اور اس کا حکم رستم تک آناً فاناً پہنچ رہی تھی۔

ادھر مسلمان اپنی صف بندی کر رہے تھے۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ لشکر کے امیر سعد بن ابی وقاص ؓ کے جسم پر پھوڑے نکل آئے تھے، وہ اتنی شدید تکلیف میں تھے کہ بیٹھ سکتے تھے نہ ہی کھڑے ہو سکتے تھے۔ وہ اپنے لشکر کے پیچھے ایک کھنڈر نما عمارت کی چھت پر سینے کے نیچے تکیہ لگا کر اس طرح اوندھے منہ لیٹ گئے تھے کہ سارا میدانِ جنگ ان کے سامنے تھا۔ یہ شوال سنہ ۱۵ ہجری کے دن تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیماری کے باوجود فوج سے خطاب کیا اور انہیں حوصلہ دلاتے ہوئے فرمایا: مسلمانو! اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:

”وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
(ہم نے نصیحت کی بات کے بعد زبور میں بھی یہ بات لکھ دی کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔)

لوگو! یہ زمین تمہاری میراث ہے، یہ اللہ کا تم سے کیا گیا وعدہ ہے۔ اگر تم دنیا کے حریص نہ بنو اور آخرت کے طلبگار رہو تو اللہ دنیا بھی تمہیں دے گا اور آخرت بھی۔ اور اگر تم نے بزدلی اور کمزوری دکھائی تو تمہارا رعب داب جاتا رہے گا اور تمہاری آخرت بھی برباد ہو جائے گی۔“

لشکر کے دیگر سالار بھی اپنے اپنے سرفروشوں کے سامنے تقریریں کرکے ان کی ہمت اور جذبے کو ابھار رہے تھے۔ چونکہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی بیماری کا اکثر سپاہیوں کو علم نہیں تھا، اس لیے انہیں لشکر کے پیچھے عمارت میں دیکھ کر بعض لوگوں نے اعتراض کیا اور اسے تن آسانی پر محمول کرنے لگے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو معلوم ہوا تو سامنے آکر اپنے جسم کے پھوڑے دکھا دیے، تا کہ کسی کو اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے۔

آپ نے حضرت خالد بن عرفظه غفاری ؓ کو میدان میں اپنا نائب مقرر کیا کہ ماتحت سپہ سالار ان کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ ابو محجن ثقفی ؓ نے خالد بن عرفطه ؓ کی تقرری سے اتفاق نہ کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے تنبیہ کے طور پر انہیں اس عمارت میں قید کر دیا جس کی چھت پر آپ کی نشست تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے یہ ترتیب بنائی کہ پرچوں پر ہدایات لکھ لکھ کر نیچے خالد بن عرفطه ؓ کے حوالے کرتے جاتے اور وہ یہ پیغامات سالارانِ لشکر پہنچاتے جاتے۔

(جاری ہے)

> ماخوذ از تاریخ طبری، تاریخ امت مسلمہ بحوالہ البدایہ والنہایہ و دیگر تواریخ)


24/09/2026

تیرے کرم کی کیا بات ہے مولا #خانہ کعبہ


 #فتوحاتِ_فارس (قسط نمبر 6)وفد یزدگرد کے دربار میں پہنچا جو بڑے ناز و نخرے کے ساتھ تیوری چڑھائے اُن کا منتظر تھا۔ اس نے ...
24/09/2026

#فتوحاتِ_فارس (قسط نمبر 6)

وفد یزدگرد کے دربار میں پہنچا جو بڑے ناز و نخرے کے ساتھ تیوری چڑھائے اُن کا منتظر تھا۔ اس نے پہلے مسلمانوں کے لباس اور وضع قطع کی ہنسی اُڑاتے ہوئے ایک ایک چیز کا نام یوں پوچھا جیسے ایران کے عشرت کدے میں ان معمولی اور گھٹیا چیزوں کا وجود ہی نہ ہو، پھر طنزیہ لہجے میں گویا ہوا:

”تم یہاں کیوں آئے ہو؟ کیا ہمارے باہمی انتشار کو دیکھ کر تمھیں غلط فہمی ہوگئی ہے؟“

وفد کے سربراہ حضرت نعمان بن مقرن ؓ نے جواب میں بڑی متانت اور خوش اسلوبی کے ساتھ اسے اسلام کی دعوت دی، آخر میں یہ بھی وضاحت کر دی کہ اسلام کی تعلیم سمجھ نہ آئی ہو تو جزیہ دے کر مسلمانوں کی ماتحتی قبول کی جاسکتی ہے، ورنہ پھر جنگ کے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ یزدگرد نے ان کی دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا:

”میرے علم کے مطابق تم سے زیادہ بد بخت، تم سے بڑھ کر کمزور اور تم سے زیادہ منتشر قوم کوئی اور نہیں۔ ہم جب بھی تمہیں سیدھا کرنا چاہتے تھے تو سرحد کے کسی حاکم کو کہہ دیتے تھے، وہ تمہاری گوشمالی کردیا کرتا تھا۔ تم سلطنت فارس سے کبھی ٹکر نہیں لے سکتے۔ اس کے مقابلے میں سر اٹھانے کا سوچنا بھی مت، اگر تمہاری تعداد کچھ بڑھ گئی ہے تو اس سے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہونا۔ ہاں، اگر تمہیں غربت اور بھوک نے ہمارے علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا ہے تو بتاؤ ہم تمہاری غذا کا بھی بندو بست کیے دیتے ہیں اور کپڑے کا بھی۔ ہم تمہارے ممتاز لوگوں کا اکرام کریں گے اور انہیں کپڑے جوڑے بھی دیں گے۔ ہم تمہاری ہی مرضی کا کوئی رحم دل حاکم بھی تم پر مقرر کر دیں گے۔ بولو کیا خیال ہے؟“

یزدگرد کی اس طنزیہ تقریر کو سن کر حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور درباری تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر بڑی جرات سے بولے:

”اے فارس کے بادشاہ! یہ میرے ساتھ آنے والے تمام حضرات عرب کے شریف ترین لوگ ہیں، اس لیے شرافت کا خیال رکھتے ہیں، آپ مجھ سے بات کریں۔ میں ہر بات کا جواب دوں گا۔ آپ نے ہمارے جو حالات بتائے ہیں، وہ ہماری سابقہ پستی کا پورا منظر بیان نہیں کرتے۔ آپ نے ہماری بدحالی کا ذکر کیا ہے۔ ہاں، واقعی ہم سے زیادہ بدحال کوئی اور نہ تھا۔ ہم جیسا بھوکا کوئی اور نہ تھا۔ ہم کیڑے مکوڑے، سانپ اور بچھو تک کھا جاتے تھے۔ کھلی زمین ہمارا مکان تھی ۔ ہم اونٹ اور بکریوں کے بالوں سے بنے کپڑے پہنتے تھے، ایک دوسرے کو قـ ـتل کرنا اور ظلم کرنا ہمارا وطیرہ تھا۔ ہمارے بعض لوگ بیٹی کو کھانا کھلانے کے ڈر سے زندہ قبر میں دفن کر دیا کرتے تھے۔ ہماری یہی حالت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک مشہور و معروف انسان کو اپنا نبی بنا کر بھیجا۔ جو حسب و نسب ، گھرانے، قبیلے اور شہر کے علاوہ اپنی ذاتی خوبیوں میں بھی ہم سب سے بہتر، سب سے سچے اور رحم دل تھے۔ انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی مگر وہ سچ کہتے رہے اور ہم انہیں جھٹلاتے رہے۔ ان کے ساتھی بڑھتے گئے اور ہم گھٹتے گئے، آخر اللہ نے ہمارے دل میں اُن کی سچائی کا یقین ڈال دیا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ جو دین لے کر آئے وہ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جو اس دین کو مانے اسے اپنے جیسے حقوق اور ذمہ داریاں دو، جو نہ مانے مگر جزیہ دے اسے اپنی حفاظت میں لے لو اور جو اس سے انکار کرے، اس سے جنگ کرو۔ تو جناب! اب آپ چاہیں تو جزیہ دیں، چاہیں تو جنگ کریں۔ چاہیں تو مسلمان ہو کر خود کو محفوظ رکھیے۔“

یزدگرد یہ سن کر تلملا اٹھا اور بولا:
”تمہیں مجھ سے ایسی باتیں کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟“

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بے ساختہ بولے:
”آپ ہی نے مجھ سے ویسی باتیں کی تھیں، اس لیے میں نے آپ سے ایسی باتیں کیں، اگر اس طرح کی باتیں کوئی اور کرتا تو میں بھی یہ باتیں آپ سے نہ کرتا۔“

یزدگرد غصے سے لال پیلا ہوگیا اور چیخ کر بولا:

اگر سفیروں کو مارنا جائز ہوتا تو میں تمہیں زندہ نہ چھوڑتا، جاؤ اپنے سپہ سالار سے کہہ دو کہ میں رستم کو تمہارے مقابلے کے لیے بھیج رہا ہوں۔ وہ تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا تمہیں عبرت کا نشان بنا دے گا۔“

اس کے بعد اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ مٹی کا ایک نوکر الاؤ اور ان کے سب سے معزز آدمی کے سر پر لاد کر انہیں یہاں سے نکال دو۔ جب مٹی کا ٹوکرا لایا گیا تو صحابہ کے وفد میں سے حضرت عاصم بن عمرو ؓ اس کی بات کی گہرائی سمجھ گئے، آپ نے آگے بڑھ کر کہا:
"ان میں سے سب بڑا میں ہوں۔“

جوں ہی مٹی کا ٹوکرا ان کے سر پر لادا گیا، وہ نہایت تیزی سے باہر نکلے اور ٹوکرا اپنے گھوڑے پر رکھ کر اسے ایڑ لگادی۔ اُدھر رستم کو جب مسلمان سفیروں سے یزدگرد کے اس سلوک کا علم ہوا تو وہ بڑا جھلایا اور بولا:

”خدا کی قسم، وہ ہماری زمین کی چابیاں لے گئے ہیں۔ اگر ان کے سالار تک یہ مٹی پہنچ گئی تو پھر ہمارا ملک ان کے قبضے میں جا کر رہے گا۔“

رستم پھر اپنے ماتحتوں سے گویا ہوا:
”اگر ہم یہ مٹی راستے میں روک سکے تو سمجھو ہمارا ملک بچ سکتا ہے۔“

یہ کہہ کر اس نے آدمی دوڑائے کہ کسی طرح مسلمانوں کے وفد کو قادسیہ پہنچنے سے پہلے روک لیا جائے اور مٹی کا ٹوکرا بازیاب کرا لیا جائے ، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ حضرت عاصم بن عمرو ؓ برق رفتاری سے منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے قادسیہ پہنچ گئے اور مٹی کا ٹوکرا سپہ سالار اعلیٰ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے سامنے رکھ کر سارا ماجرا سنا ڈالا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ خوش ہوکر بولے:
”خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مٹی کی صورت میں سلطنت فارس کی چابیاں دے دی ہیں۔“

قادسیہ کے فوجی پڑاؤ میں حضرت عمر ؓ کی ہدایات پر مشتمل مراسلے مسلسل آ رہے تھے۔ اپنے ایک مراسلے میں انہوں نے مسلمانوں کو دشمنوں کی تعداد اور وسائل سے مرعوب نہ ہونے اور کثرت سے لا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللہ کا ورد کرنے کی نصیحت بھی کی۔

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ایک ماہ تک قادسیہ میں ٹھہرے رہے۔ اس دوران شاہِ فارس یزدگرد نے اپنے پایہ تخت مدائن سے رستم کی قیادت میں ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں کا لشکر جرار روانہ کر دیا تھا، جس میں مزید اسی ہزار قبائلی جنگجوؤوں کی کمک بھی حاصل تھی۔

رستم سلطنت فارس کا سب سے مشہور سپہ سالار اعلیٰ تھا۔ ملک کے اندر اور اڑوس پڑوس اس کا بڑا رعب داب تھا۔ لوگوں کے ہاں مشہور تھا کہ رستم کو کبھی شکست نہیں دی جاسکتی۔ یہ ماہر نجوم تھا اور جنگی چالوں میں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ ملک کے اندر اس کا اپنا بڑا دربار تھا اور یہ بڑی شان و شوکت سے رہا کرتا تھا۔ ساتھ ہزار سپاہیوں پر مشتمل اس کا ایک خاص لشکر تھا جسے جنگ میں ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا۔ رستم اپنے تخت پر اور سونے کا تاج پہن کر بیٹھا کرتا تھا۔ غرض یہ کہ پوری سلطنت فارس میں کسریٰ کے بعد رستم کا کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا اور اس کی حیثیت سلطنت کے ستون کی سی تھی۔

جب یزدگرد نے اسے مسلمانوں سے لڑنے کے لیے کہا تو اس نے شہنشاہ کو بہت سمجھایا کہ فی الحال میں نے جاتا، بلکہ اپنے بہترین سپہ سالاروں کو ایک ایک کرکے لشکر دے کر بھیجتا ہوں، اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ میرا رعب بھی مسلمانوں پر قائم رہے گا اور جب تک میں میدان میں اتروں گا اس وقت تک وہ مسلسل لڑ لڑ کر کمزور ہو چکے ہوں گے جس سے ان کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا آسان ہوگا۔ مگر شہنشاہ یزدگرد نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے مجبور کیا کہ بہر صورت وہ خود اپنی کمان میں لشکر لے کر جائے۔ مجبوراً اسے خود ہی میدان کی طرف جانا پڑا۔

رستم مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بارے میں زیادہ پر اُمید نہیں تھا، اس لیے وہ بادلِ نخواستہ فوج لے کر نکلا تھا، کوچ کے دوران بھی لڑائی کو ٹالنے کے لیے اس نے رفتار بہت کم رکھی۔ جگہ جگہ قیام کرتے ہوئے آخر وہ ”ساباط“ میں خیمہ زن ہوا۔

اس کے لشکر کا ہراول دستہ چالیس ہزار جنگ آزما جوانوں پر مشتمل تھا، جس کی قیادت جالینوس کر رہا تھا۔ دائیں بازو میں تیس ہزار سپاہی تھے جن کی کمان ہرمزان کے ہاتھ میں تھی، جو نہایت شاطر افسر تھا۔ بائیں بازو کے تیس ہزار سپاہیوں کا افسر مہران تھا، جسے لڑنے بھڑنے کا اچھی طرح تجربہ تھا۔ تینتیس جنگی ہاتھی ان کے علاوہ تھے جو مسلمانوں سپاہیوں کو روندنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

ان تمام تیاریوں کے باوجود رستم کی کوشش تھی کہ جنگ کی نوبت نہ آئے ، چنانچہ اس نے مذاکرات کی طرف رجحان ظاہر کرتے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے کوئی نمایندہ طلب کیا۔ انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو بھیج دیا۔ رستم نے کہا:
”تم لوگ ہمارے پڑوسی ہو، ہم نے تم سے ہمیشہ اچھا سلوک کیا ہے، تمہیں تکالیف سے بچایا ہے، تمہیں چاہیے کہ واپس چلے جاؤ۔ ہم تمہیں تجارت سے منع نہیں کرتے۔“

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے جواب دیا:
”ہمارا ہدف دنیا ہے ہی نہیں، ہم تو آخرت کے طلبگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا سچا رسول بھیج کر ہمیں اصل دین دیا ہے، جو اس پر عمل کرے گا، کامیاب ہوگا، جو اسے ترک کرے گا، ذلیل و خوار ہوگا۔“

رستم نے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اسلام کا تعارف چاہا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے مختصراً اسلام کی تعلیمات اور خوبیاں بیان کر دیں۔ رستم ہر بات پر کہتا رہا ”یہ تو بہت اچھی چیز ہے۔“

آخر میں اس نے پوچھا:
”اگر ہم یہ دین قبول کرلیں تو تم کیا سلوک کرو گے؟“
آپ نے فرمایا:
”ہم تمہارے ملک کے پاس بھی نہ پھینکیں گے۔“

رستم نے مسرت ظاہر کی اور انہیں رخصت کرنے کے بعد اپنے سرداروں کے سامنے اسلام قبول کرکے اپنی سلطنت بچانے کی تجویز رکھی مگر سب بپھر گئے اور اصرار کرنے لگے کہ مسلمانوں کو طاقت کی زبان میں ہی جواب دیا جائے۔

(جاری ہے)

(ماخوذ از تاریخ امت مسلمہ بحوالہ تاریخ طبری، الکامل فی التاریخ، البدایہ والنہایہ و دیگر)


  (قسط نمبر 5)آپ حج سے واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں ہزاروں رضا کار آچکے تھے، مگر فوج کی تیاری کے علاوہ اس کی قیادت...
23/09/2026

(قسط نمبر 5)

آپ حج سے واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں ہزاروں رضا کار آچکے تھے، مگر فوج کی تیاری کے علاوہ اس کی قیادت کے حوالے سے بھی حضرت عمرفاروق ؓ کے سر پر بہت کٹھن ذمہ داری آن پڑی تھی۔

عراق کے سپہ سپہ سالار حضرت مثنیٰ بن حارثہ ؓ جنگِ جسر کے زخموں سے اب تک شفا یاب نہیں ہوئے تھے بلکہ دن بدن ان کی تکلیف بڑھتی چلی جارہی تھی۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص ؓ جیسے سارے تجربہ کار جرنیل شام میں مصروفِ پیکار تھے۔ ان میں سے کسی کو واپس بلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ ادھر ایرانیوں کی غیر معمولی عسکری تیاریوں کی اطلاعات سے اندازہ ہورہا تھا کہ اب جو معرکہ ہو گا اس پر دونوں قوتوں کی مکمل فتح یا شکست کا دارو مدار ہوگا۔ آخر بہت غور و فکر کے بعد حضرت عمرفاروق ؓ نے خود میدانِ جنگ میں قیادت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ آپ کو یقین تھا کہ اس طرح مسلمانوں کے حوصلوں کو جلا ملے گی اور ایران کے محاذ پر وہ ڈٹ کر لڑیں گے۔

آپ نے محرم سنہ ۱۵ ہجری میں لشکر ترتیب دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا اور خود فوج کی قیادت کرتے ہوئے مدینہ سے چند منازل دور تک پہنچے۔ یہ دیکھ کر ہر طرف ایک ولولہ پیدا ہوگیا اور سب نے سر پر کفن باندھ لیے۔

آپ نے مدینہ طیبہ سے تین میل (پونے پانچ کلومیٹر) دور ”صرار“ نامی چشمے پر پڑاؤ ڈالا اور یہاں اکابر صحابہ کرام کی مجلسِ مشاورت میں فوج کی کمان خود سنبھالتے ہوئے عراق کے محاذ پر جانے کا عزم ظاہر فرما کر اس بارے میں ان کی رائے طلب کی۔ کئی حضرات نے اثبات میں ہی رائے دی مگر حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کسی پس و پیش کے بغیر اس کی مخالفت کی اور فرمایا:

”امیر المؤمنین! خدانخواستہ اگر آپ کو شکست ہوگئی تو تمام محاذوں پر ہمارے قدم اکھڑ جائیں گے۔ میری رائے میں آپ مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہیں اور کسی قابل شخص کو فوج کی کمان دے کر بھیج دیں۔“

حضرت عمر فاروق ؓ نے اس بات کی معقولیت کو محسوس کرتے ہوئے خود محاذ پر جانے کا ارادہ منسوخ کر دیا اور ساتھ ہی پوچھا:
” پھر فوج کی کمان کسے دی جائے؟“

حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ بولے:
”میری نظر میں ایک قابل شخص ہے۔“
سب نے متجسس ہوکر ان کی طرف دیکھا۔ پھر سیدنا عمرفاروق ؓ نے پوچھا:
”کون ہے وہ؟“
عبدالرحمن بن عوف ؓ بولے:
”شیرِ ببر، سعد بن ابی وقاص ؓ......!“

ان کا نام سنتے ہی سب نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کی تائید کی۔ کیوں کہ یہ بڑے مرتبہ کے صحابی تھے اور نبی کریم ﷺ کے دور میں بھی بڑے کارنامے سرانجام دے چکے تھے۔ بڑے بہادر اور شہسوار انسان تھے۔

حضرت عمر فاروق ؓ نے اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو بلوایا۔ وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ چند دن میں ہی وہ آپ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ نے ان کو تمام فوج کی کمان دے دی اور انہیں رخصت کرتے ہوئے بڑے اہتمام سے یہ نصیحتیں فرمائیں:

”اے سعدا تمہیں یہ بات خود پسندی میں مبتلا نہ کرے کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ماموں اور ان کے صحابی کہلاتے ہو، اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کےذریعے نہیں نیکی کےذریعے معاف کرتا ہے۔اللہ کا کسی سے کوئی رشتہ ناتا نہیں، اس سے تعلق صرف اطاعت اور فرمانبرداری سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر انسان چاہے اونچے مرتبے کا ہو یا عام طبقے کا، اللہ کے نزدیک سب برابر ہیں۔ ہمیشہ اس طرزِ زندگی کو سامنے رکھنا جس پر تم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا۔ یہی ہماری بنیاد ہے۔ تم بڑے صبر آزما حالات سے گزرنے والے ہو، پس صبر کا دامن تھامے رکھنا ۔ اس سے اللہ سے تعلق پیدا ہوگا۔ یاد رکھنا، اللہ کا تعلق دو چیزوں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے، دوسرا گناہوں سے بچنے سے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، آخرت کی محبت اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور گناہ دنیا کی حرص اور آخرت سے بے پروائی کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ لوگوں میں پسندیدہ بننے کومت ٹھکرانا ۔ انبیائے کرام علیہ السلام نے بھی اس کی دعائیں کی ہیں، کیوں کہ جب اللہ کسی بندے کو اپنا محبوب بناتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو لوگوں کے نزدیک اسے قابلِ نفرت بنا دیتا ہے، لہذا تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنا مقام جاننے کے لیے یہ دیکھتے رہو کہ لوگ تمہارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔“

حضرت عمر فاروق ؓ نے اس چار ہزار کے لشکر کو دعاؤں کے ساتھ اس طرح رخصت کیا کہ پل پل کی اطلاعات ملنے اور قدم قدم پر احکام بھیجنے کا انتظام کیا جاچکا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ عراق کی سرحدوں پر دریائے عُذَیب القادسیہ تک پہنچے تھے کہ عراقی محاذ کے سپہ سالار حضرت مثنیٰ بن حارثہ ؓ کی وفات کی اطلاع ملی۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ ؓ بلاشبہ عراق و فارس کے جـ ـہاد کے بانی تھے، اس وقت جبکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ مرتدین اور منکرینِ ختم نبوت کی سرکوبی میں مصروف تھے، حضرت مثنیٰ بن حارثہ ؓ نے محض اپنے بل بوتے پر عرب کی حدود عبور کرکے کسری کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردی تھیں ۔ بعد میں وہ خود دربارِ خلافت میں آئے اور باقاعد جنگ کے لیے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے منظوری اور امدادی فوج لے کر گئے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے منکرین ختم نبوت کا مسئلہ ختم ہوتے ہی حضرت خالد بن ولید ؓ کو بھی ان کی امداد کے لیے روانہ کر دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کے شام جانے کے بعد سے اب تک حضرت مثنیٰ بن حارثہ ؓ نے تنہا عراق کا محاذ سنبھالا ہوا تھا۔

ان کی وفات کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ عراق کے تمام سالاروں کے عمومی قائد قرار پائے۔ ادھر حضرت عمرفاروق ؓ عراق کے محاذ پر مجـ ـاہدین کے تازہ دم دستے مسلسل روانہ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پرچم تلے جمع ہونے والے مجـ ـاہدین کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ ان میں تین سو سے زائد صحابہ کرام تھے جن میں سے ستر سے زائد حضرات وہ تھے جو جنگ بدر میں شریک رہ چکے تھے۔ شام کے محاذ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کمک لے کر آچکے تھے۔ صحابہ کرام کے سات سو نوجوان لڑکے بھی اس محاذ پر پہنچے ہوئے تھے۔

اس دوران حضرت عمر فاروق ؓ کا پیغام آن پہنچا کہ آگے بڑھ کر ”قادسیہ“ کے مقام پر خیمے لگاؤ اور اس طرح صف بندی کرو کہ سامنے عراق کا میدان اور پیچھے عرب کے چٹیل پہاڑ ہوں تا کہ فتح نصیب ہو تو آگے بڑھتے چلے جاؤ اور اگر پسپائی ہو تو تو عرب کے ان پہاڑوں میں مورچہ بندی کر سکو، جن کے راستوں اور گھاٹیوں سے اہلِ عجم ناواقف ہیں۔

قادسیہ پہنچ کر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے نعمان بن مقرن، عاصم بن عمرو اور مغيرة بن شعبہ ؓ کو عرب کے شرفاء کی ایک جماعت کے ساتھ ایرانیوں کے پایہ تخت مدائن روانہ کردیا تا کہ کسریٰ نیز در گرو کو اسلام کی دعوت دے کر اس قوم پر اتمام حجت کر دیا جائے۔

جب یہ حضرات مدائن پہنچے تو انہیں دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کا ایک جمِ غفیر اکھٹا ہوگیا، اسلام کے ان جانبازوں کے جسموں پر سادہ چادریں اور پیروں میں معمولی چپل تھے۔ ہاتھوں میں چابک تھامے وہ دبلے پتلے گھوڑوں پر سوار تھے، جن کی زور دار ٹاپوں سے فضا گونج رہی تھی۔ ایرانی حیران تھے کہ یہ معمولی قسم کے لوگ اتنے بڑے بڑے لشکروں کو کیسے تہہ و بالا کرتے چلے آرہے ہیں؟

(جاری ہے)

مآخذ تاریخ امت مسلمہ مع حوالہ جات


Address

Welton Cantt
Lahore
05450

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Achi Batain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Achi Batain:

Shortcuts

Share