القلم

Directions

القلم سوچ جو خود تک محدود کرنا جرم لگتا ہے

B-Love Network Kya Hai...?? ❤اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس تصویر سے بھی لگا سکتے ہیں۔                 یہ فری کمانے والا پر...
19/03/2023

B-Love Network Kya Hai...?? ❤

اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس تصویر سے بھی لگا سکتے ہیں۔

یہ فری کمانے والا پروجیکٹ ہے،
یہ کوئی معمولی کمپنی نہیں ہے،
اس کا برانڈ ایمبیسڈر پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم ہے۔
آپ اس کو نیٹ پر بھی سرچ کر سکتے ہیں۔
یہ ایک ایسا پروجیکٹ ہے جو آپکی زندگی بدل سکتا ہے۔
اس نیٹ ورک نے پچھلے سال ایک ٹوکن ریلیز کیا تھا جس کا نام BFIC تھا لیکن لوگوں نے جانے انجانے میں اس کو جوائن نہیں کیا، آج بھی اس ایک ٹوکن کی قیمت 22 ڈالر ہے۔
ابھی اسی کمپنی نے BLV ٹوکن شائع کیا ہے جسکی قیمت 0.02 ڈالر ہے، جوکہ ہر ماہ بڑھنی ہے۔
جب آپ نے اکاونٹ بنا لینا ہے تو 100 BLV ٹوکن بونس مل جانا ہے آپ کو،
پھر آپ کا یہ 100 ٹوکن سٹیکنگ پہ لگ جانا ہے اور 500 دن مطلب 16 ماہ سٹیکنگ پہ لگے گا اور آپ نے ہر روز 24 گھنٹے کے بعد صرف اس ایپ کو کھول کر مائننگ کرنی ہے مطلب دل پہ کلک کیا کرنا ہے اور آپ کو روزانہ 1 BLV ٹوکن مل جایا کرنا ہے۔ مطلب 500 دن کے بعد آپ کو 500 BLV ٹوکن مل جائیں گے فری میں۔
اور پھر 500 دن مکمل ہونے کے بعد فری میں یہ کوئن نہیں ملیں گے اور تب جب اس کی کرنسی لانچ ہوگی تو تب 1 BLV کی قیمت 1 یا 2 ڈالر ہوگیا
ابھی PlayStore پر جاکر B Love Network ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کریں اور ریفرل کوڈ خانے میں یہ

IWYWRGLX83

ڈال کے اکاؤنٹ بنائیں ۔ اور مائننک شروع کریں۔

B-Love Network Kya Hai...?? ❤

اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس تصویر سے بھی لگا سکتے ہیں۔

یہ فری کمانے والا پروجیکٹ ہے،
یہ کوئی معمولی کمپنی نہیں ہے،
اس کا برانڈ ایمبیسڈر پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم ہے۔
آپ اس کو نیٹ پر بھی سرچ کر
اور یاد رہے Hi! I would like to invite you to B-Love Network.

Follow the link, download the B-Love Network App & Get 500 BLV Tokens for Free by using this Referral Code: IWYWRGLX83

فیصلہ خدا کا ہے یا ایک ماں کا؟"صومالیہ کے قحط سے بچنے کے لئے بیتاب ایک ماں، اپنے دونوں بچوں کو باری باری گود میں لے کر چ...
01/08/2022

فیصلہ خدا کا ہے یا ایک ماں کا؟

"صومالیہ کے قحط سے بچنے کے لئے بیتاب ایک ماں، اپنے دونوں بچوں کو باری باری گود میں لے کر چلتی رہی، تب تک جب تک وہ سب اتنے کمزور ہوگئے کے ماں کے اندر صرف ایک ہی بچے کی طاقت رہ گئی-
اس نے اپنے دونوں بچوں کی طرف دیکھا اور دعا مانگی، پھر اس نے ایک بچے کو راستے میں چھوڑ دینے کا انتہائی تکلیف دہ فیصلہ کیا تاکہ دوسرے بچے کو بچا سکے- "--

یو ایس ایڈ ایڈمنسٹریٹر، راجیو شاہ

وہ دو تھے مگر انکی ماں ایک تھی- کئی دنوں کی بھوک، پیاس اور تھکن سے لاغر ماں- جب حبیبہ ایسٹ افریقہ میں سنہ دو ہزار گیارہ کے قحط کے پناہ گزینوں کیلئے بناۓ گۓ کیمپ کی طرف روانہ ہوئی تب تک وہ کافی کمزور ہوچکی تھی- اس کے پاس تھوڑی خوراک اور پانی تو تھا لیکن وہ جانتی تھی اتنے لمبے سفر کے لئے یہ کافی نہیں- پھر بھی گھر میں بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے سے بہتر تھا کہ وہ یہ کوشش کر کے دیکھے-

وہ ایک خشک زمین پر چلتی رہی- میلوں تک کہیں پانی نہیں تھا- آسمان پر سفید بادل نظر تو آرہے تھے لیکن وہ کسی کام کے نا تھے- نہ وہ تپتی دھوپ سے بچا سکتے تھے اور ناہی بارش برسا سکتے تھے-

حبیبہ دونوں بچوں کو گود میں اٹھاۓ آھستہ آھستہ چل رہی تھی- اس کے بازو کسی درخت کی سوکھی ٹہنیوں کی طرح تھے جس میں بس ہڈی اور کھال بچی تھی- حالانکہ اس کے بچے بھی اپنی ماں کی طرح لاغر تھے مگر پھر بھی اس کمزور جسم کے لئے بھاری تھے-

لیکن مامتا اسکا سہارا تھی- وہ انہیں اٹھاۓ چلتی رہی- اسکی ٹانگیں تھک گئی تھیں مگر دل میں ہمّت باقی تھی- جب ہمّت جواب دے جاتی تو وہ روکتی، اپنے ساتھ لائی پانی کی بوتل سے ایک گھونٹ لیتی، جی ہاں بس ایک گھونٹ، اور دوبارہ چلنا شروع کردیتی- پانی کا ایک قطرہ اور باقی روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہی انکا سہارا تھا-

ہر پڑاؤ پر وہ پہلے بچوں کو کھلاتی پھر خود کھاتی، بس اتنا کہ یہ سفرجاری رکھ سکے- ان کے پاس خوراک تو کم تھی مگر ہر پڑاؤ پر بچوں کو ماں سے بہت سا پیار ضرور ملتا-

ایک بار، کے بچہ حبیبہ کی گود سے پھسل کر گرم مگر نرم ریت پر گر گیا- وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بچے کو اٹھانے لگی اور پھر اسکی ہمّت جواب دے گئی- اسے اپنے رونے کی آواز تو سنائی دے رہی تھی لیکن کوئی آنسو نہیں نکلا- اس کے اندر اتنا پانی ہی کہاں بچا تھا کہ آنسو بن کر نکلتا-

حبیبہ نے تھوڑ دیر آرام کے بعد دوبارہ اپنا سفر شروع کیا- اس نے دونوں بچوں کو مضبوطی کے ساتھ تھام رکھا تھا- بھوک، تھکن اور پیاس نے اس کے قدم سست کر دیے تھے- اسکی چال اب رینگنے کے برابر ہوگئی تھی- لیکن وہ برابر آگے بڑھتی رہی-

وہ جانتی تھی کہ صحرا بہت ظالم ہے اور سورج بے درد- اور جب یہ دونوں مل جاتے ہیں تو اچھے خاصے صحتمند انسان کی جان نکال لیتے ہیں- حبیبہ اور اس کے بچوں کے پاس تو کھانے پینے کو بہت کم تھا- بھوک انسان کو مار دیتی ہے، پیاس بھی مار دیتی ہے شاید بھوک سے بھی زیادہ تیزی سے-

چناچہ حبیبہ رکی نہیں چلتی رہی- لیکن آھستہ آھستہ نقاہت بڑھتی گئی- وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی بار بار تھوڑا دم لینے کو رکتی- پھر دوبارہ خود کو اٹھنے پر مجبور کرتی-

حبیبہ میں طاقت بلکل نہیں بچی تھی پھر بھی اس کے دل میں رفیوجی کیمپ پہنچنے کی شدید خواہش تھی- اسے موت کا ڈر نہ تھا- حالانکہ وہ ابھی تیس کی بھی نہیں ہوئی تھی، اس نے اپنی زندگی میں اتنی موتیں دیکھیں تھیں کہ وہ جان گئی تھی جو لوگ امیر-غریب کی تقسیم کی دوسری جانب پیدا ہوتے ہیں، اکثر جوانی کی موت انکا مقدر ہوتی ہے-

لیکن حبیبہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں یہ انکے مرنے کا وقت نہیں- وہ انہیں زندہ رہنے کا ایک اور موقع دینا چاہتی تھی، وہ انہیں ایسی جگہ لے جانا چاہتی تھی جہاں انہیں کم زکم ایک وقت کا کھانا مل سکے اور پیاس بجھانے کو پانی- اس سے زیادہ کی اسے خواہش نہ تھی-

چناچہ حبیبہ نہ رکی- وہ چلتی رہی، رینگتی رہی، ریت پر گرتی رہی مگر اپنے بچوں کو بانہوں سے پھسلنے نہ دیا- "نہیں نہیں انہیں کچھ نہیں ہونا چاہیے"، اس نے اپنے آپ سے کہا، "انہیں زندہ رہنا ہوگا"-

لیکن آخر کار بچے اس کی گود سے گر ہی گۓ- پہلے بائیں بازو والا بچہ گرا، پھر دائیں بازو والا- اس نے دونوں کو اٹھایا اور دوبارہ چلنے لگی لیکن ایک بار پھر وہ دونوں گر گۓ-

حبیبہ رکی، چند گھونٹ پانی کی بوتل سے لئے- روٹی کے چند ٹکڑے چباۓ- بلکہ اس بار اس نے بچوں سے زیادہ کھایا- وہ جانتی تھی اسے اپنے بچوں کی خاطر زیادہ توانائی کی ضرورت ہے- اسے چند سو گز چلنے کے لئے تھوڑی طاقت تو ملی لیکن اسے پھر دوبارہ رکنا پڑا-

حبیبہ اٹھی، پھر چلنے لگی، ایک بار پھر گری- پھر رکی، ہمّت کر کے اٹھی، ہمّت کر کے تھوڑا چلی پھر گر گئی- روکنے، چلنے اور گرنے کے یہ سلسلہ چلتا رہا-

ایک بار حبیبہ کو لگا بچے اس کی گود میں نہیں ہیں- اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دونوں بچے کچھ فاصلے پر پڑے ہوۓ تھے- اچانک اس کے جسم میں طاقت کی لہر دوڑ گئی، وہ بھاگ کر اپنے بچوں کے پاس گئی، انہیں اٹھایا اور پھر گر گئی-

حبیبہ نے دوبارہ چلنے کی کوشش کی لیکن ایک بار پھر بچے اس کے بازوؤں سے پھسل گۓ- اسے احساس ہوگیا کہ یہ سفر اس طرح جاری نہیں رہ سکتا- ان تینوں کے لئے کیمپ پہنچنا ممکن نہیں- اگر اسی طرح چلتا رہا تو وہ تینوں ہی ختم ہوجائیں گے- اب وہ صرف ایک بچے کو اٹھا سکتی ہے، دونوں کو نہیں-

حبیبہ کو اب ایک ماں بن کر نہیں سوچنا تھا بلکہ وہ فیصلہ کرنا تھا جو بس خدا ہی کر سکتا ہے، کہ کس بچے کو زندہ رہنا ہے اور کس کی قسمت میں موت ہے- اس نے اپنے بچوں کی طرف دیکھا اور دعا مانگی-

لیکن ماں تو بس ماں ہوتی ہے خدا نہیں- کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ہی وہ ہمّت ہار گئی-

اب وہ ایک رفیوجی کیمپ میں ہے صرف ایک بچے کے ساتھ-

تو پھر کس نے فیصلہ کیا کہ کونسا بچہ جئے گا: خدا نے یا ماں نے؟

انور اقبال (اردو ڈان)

Long but Worth Reading 💫 *حضورنبی کریمﷺنے متعدد نکاح کیوں کیے؟* 💫  ___________________________ ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہی...
25/05/2022

Long but Worth Reading

💫 *حضورنبی کریمﷺنے متعدد نکاح کیوں کیے؟* 💫
___________________________

ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت انبیۖ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔

چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔

یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی...

اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں ۔۔۔۔۔
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا ، ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔

ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پو چھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟
میں نے بتایا، اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا، میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟

میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺکے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعدمیرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور ﷺکے بارے میں نفرت پیدا ہوگئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔

آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔

جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔

غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟

اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور ﷺکی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجا تے ہیں ۔

اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔

میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگو ں کو حضور ﷺکی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے۔

لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لو گو ں کو بتائیں ۔

اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔

انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہو ں۔ اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ” گرجا گھر“ چلے جا تے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شا دیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

◀ (1) میرے پیا رے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفا ت کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔

پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا....؟
سب خاموش رھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺنے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔

پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم ﷺنے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو تر غیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے

◀ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

◀ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور

◀ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے -

◀ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے پیش,نظر تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربو ں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺکا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجر ت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور ﷺ نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.

◀ (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا والد قبیلہ معطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔

◀ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم ﷺ سے کرا دیا ۔

◀ (8) اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔

◀ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔

◀ (10) حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور ﷺ کے متبنی(منہ بولے بیٹے) کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور ﷺنے نکاح کر لیا اور ثابت کردیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.

◀ (11) اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔
آپ ﷺکی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لئیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔

ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺنے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔

حضور اقدس ﷺکے وصال مبارک کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرما تے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازدواجِ مطہرات رضی اللہ عنہما کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔

آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور ﷺکی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔

*🌹جزا الله عنا سيدنا محمد ﷺما هوا اهله🌹*

”روایت“کساندرانتی سے فصل کاٹتے ھیںاور مزدورانہیں ترازو میں تولتے ھیںتجارت اور نفعاُن کے حصے میں آتا ھےجو خواب دیکھتے ھیں...
11/05/2022

”روایت“

کسان
درانتی سے فصل کاٹتے ھیں
اور مزدور
انہیں ترازو میں تولتے ھیں

تجارت اور نفع
اُن کے حصے میں آتا ھے
جو خواب دیکھتے ھیں ، نہ دیپ جلاتے ھیں

”احسن سلیم“

02/05/2022

تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ۔

خوشی پیدا کرنے والے رَحیم و کریم کی حمّد و ثناء ھو کہ ھم اِس دن تک بخیر و عافیت پہنچے۔ خدائے کریم آپ کے رکھے گئے روزے ، پڑھی گئی نمازیں اور کی گئی سب دُعائیں قبول و منظور کرے۔ آمین

آپ کو آپ کی فیملی کو دِلی عید مبارک۔

وہ شخص جس نے مسجدالحرام اور مسجد نبوی شریف کا ڈیزائن کیا۔وہ ایک مصری انجینئر اور آرکیٹیکٹ تھا جس نے ظاہری دنیاوی بودوباش...
30/04/2022

وہ شخص جس نے مسجدالحرام اور مسجد نبوی شریف کا ڈیزائن کیا۔
وہ ایک مصری انجینئر اور آرکیٹیکٹ تھا جس نے ظاہری دنیاوی بودوباش سے دور اور نامعلوم رہنے کو ترجیح دی

ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل 1908-2008

وہ مصر کی تاریخ کا سب سے کم عمر شخص تھا جس نے ہائی سکول سرٹیفکیٹ حاصل کیا پھر رائل سکول آف انجینئرنگ کا سب سے کم عمر طالب علم جس نے وہاں سے گریجویٹ ڈگری لی پھر سب سے کم عمر جس کو یورپ سے اسلامک آرکیٹیکچر میں ڈاکٹریٹ کی تین ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا-اس کے علاوہ وہ سب سے کم عمر نوجوان تھا جس نے بادشاہ سے ،، نائل،، سکارف اور،، آئرن،، کا خطاب حاصل کیا
وہ پہلا انجینئر تھا جس نے حرمین شریفین کے توسیعی منصوبے کی تعمیر اور عمل درآمد کے لئے اختیارات سنبھالے
اس نے شاہ فہد اور بن لادن کمپنی کے باربار اصرار کے باوجود انجینیرنگ ڈیزائن اور آرکیٹچرل نگرانی کیلئے کسی قسم کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں دو مقدس مساجد کے کاموں کیلئے کیوں معاوضہ لوں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا کیسے سامنا کروں گا۔
اس نے 44 سال کی عمر میں شادی کی اور اس کی بیوی نے بیٹا جنم دیا اور زچگی کے بعد فوت ہو گئی اس کے بعد وہ مرتے دم تک عبادت الٰہی میں مصروف رہا اس کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی اور دنیا اور میڈیا کی چکا چوند سے ہٹ کر گمنام رہ کر حرمین شریفین کی خدمت کی۔
اس عظیم آدمی کی حرمین شریفین میں نصب کئے گئے سفید پتھر کے حصول کی بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے یہ وہ پتھر ہے جو حرم مکی میں مطاف چھت اور باہر صحن میں لگا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ گرمی کو جذب کرکے فرش کی سطح کو ٹھنڈا رکھتا ہے یہ پتھر ایک ملک گریس میں ایک چھوٹے سے پہاڑ میں دستیاب تھا. وہ سفر کرکے گریس گئے اور حرم کیلئے کافی مقدار میں تقریباً آدھا پہاڑ خریدنے کا معائدہ کیا
معائدہ پر دستخط کرکے وہ واپس مکہ لوٹے اور سفید پتھر سٹاک میں آگیا اور مکہ حرم میں پتھر کی تنصیب مکمل کرائی۔
پندرہ 15 سال بعد سعودی حکومت نے ایسا ہی پتھر مسجد نبوی میں بھی نصب کرنے کو کہا۔
انجینئر محمد کمال کو جب بادشاہ نے مسجد نبوی میں ویسا ہی ماربل لگانے کو کہا تو وہ بہت پریشان ہوا کیونکہ کرہ ارض پر واحد جگہ گریس ہی تھی جہاں یہ پتھر دستیاب تھا جو کہ آدھا پہاڑ تو وہ پہلے ہی خرید چکے تھے
انجینئر محمد کمال بتاتے ہیں کہ وہ گریس میں اسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے پاس گئے اسے ملے اور ماربل کی بقایا مقدار جو بچ گئی تھی اس کے بارے میں پوچھا تو چیف ایگزیکٹو نے بتایا وہ ماربل تو ہم نے آپ کے جانے کے بعد بیچ دیا تھا اب تو 15 سال ہو گئے ہیں کمال بہت افسردہ ہوا اور میٹنگ جھوڑ کر جانے لگا تو آفس سیکرٹری سے ملا اور گزارش کی کہ مجھے اس شخص کا اتہ پتہ بتاؤ جس نے بقیہ تمام ماربل کی مقدار خریدی تو اس نے کہا پرانا ریکارڈ تلاش کرنا بہت مشکل ہے لیکن آپ مجھے اپنا فون نمبر دے جائیں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں اس نے اپنا نمبر اور ہوٹل کا پتہ دیا اور اگلے دن آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔
دفتر چھوڑنے سے پہلے کمال نے سوچا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ کس نے خریدا اللہ خود ہی کوئی بندوبست کردے گا اگلے دن ایرپورٹ جانے سے چند گھنٹے قبل اسے فون کال آئی کہ مجھے ماربل کے خریدار کا ایڈریس مل گیا ہے اب میں (کمال) بہت آہستہ رفتار سے دفتر گیا کہ اب کیا کروں گا خریدار کے ایڈریس کو کیونکہ اتنا لمبا عرصہ گزر گیا ہے
کمال دفتر پہنچا تو سیکرٹری نے کمپنی کا پتہ دیا جس نے ماربل خریدا تھا جب کمال نے پتہ دیکھا تو کچھ دیر کیلئے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا پھر زور کا سانس لیا کیونکہ وہ کمپنی جس نے ماربل خریدا تھا وہ سعودی تھی۔
کمال نے سعودیہ کی فلائیٹ پکڑی اور اسی دن وہ سعودی عرب پہنچا اور سیدھا اس کمپنی کے رفتر پہنچا اور ڈائریکٹر ایڈمن کو ملا اور پوچھا کہ آپ نے اس ماربل کا کیا کیا جو گریس سے خریدا تھا تو اس نے کہا مجھے یاد نہیں پھر اس نے سٹاک روم سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ وہ سفید ماربل جو گریس سے منگوایا تھا کدھر ہےتو انہوں نے کہا وہ ساری مقدار موجود ہے اور اس کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا تو کمال ایک بچے کی طرح رونے لگا اور کمپنی کے مالک کو پوری کہانی سنائی. اس نے کمپنی کے مالک کو بلینک چیک دیا اور کہا اس میں جتنی رقم بھرنی ہے بھر لو اور ماربل کی تمام مقدار میرے حوالے کردو جب کمپنی کے مالک کو پتہ چلا کہ یہ تمام ماربل مسجد نبوی میں استعمال ہونا ہے تو اس نے کہا میں ایک ریال بھی نہیں لوں گا اللہ نے یہ ماربل مجھ سے خرید کرایا اور پھر میں بھول گیا اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ ماربل مسجد نبوی الشريف میں استعمال ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ انجینئر محمد کمال کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔“ آمین 🤲

🌹Copied *خطرناک بیماریوں میں ایک خاموش مٙرض بھی شامل ہو چکا ہے* جِسکی کوئی بھی علامت نہیں ہوتی لیکن آپ کو سخت نُقصان پُہ...
28/04/2022

🌹
Copied
*خطرناک بیماریوں میں ایک خاموش مٙرض بھی شامل ہو چکا ہے* جِسکی کوئی بھی علامت نہیں ہوتی
لیکن آپ کو سخت نُقصان پُہنچا سکتی ہے.
یہ بیماری ہے

*نعمت کا عادی ہونا*

*اس بیمارى کی چار نِشانیاں ہیں*

🔹 آپ بُہت سی نعمتوں سے مالامال ہوں لیکن اُن کو نعمت نہ سٙمجھیں اور اُن سے متعلق کبھی شُکر ادا نہ کریں گویا اُن کو اپنا ایسا حق سٙمجھیں جو آپکو مِلنا ہی تھا.

🔹 آپ گھر میں داخل ہوں اور گھر کے تمام افراد صحتمند اور سلامت ہوں لیکن آپ اللہ کا شُکر ادا نہ کریں۔

🔹 آپ بازار جائیں، جی بٙھر کر روزمرہ ضرورت کی تمام اشیاء خریدیں۔ اِس بات سے غافل ہو کر کہ طرح طرح کی نعمتیں نصیب ہونے پر مالک کا شُکر ادا کریں اور اِس معاملے کو اپنی زِندگی کا حق سٙمجھیں۔

🔹 آپ ہر روز مُکمل صحت و سلامتى کے ساتھ نیند سے اُٹھیں، اِس حالت میں کہ کِسی قِسم کی تکلیف میں مُبتلا نہ ہوں لیکن اللہ کا شُکر ادا نہ کریں۔

مفاہمت  نہ سکھا ، جبرِ ناروا سے مجھےمیں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھےزباں نے جسم کا کچھ زہر تو اُگل ڈالابہت سکون ملا ...
23/04/2022

مفاہمت نہ سکھا ، جبرِ ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اُگل ڈالا
بہت سکون ملا ، تلخئِ نوا سے مجھے

رَچا ہُوا ہے بدن میں ابھی سرُورِ گناہ
ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے

میں خاک سے ہوں، مجھے خاک جذب کر لے گی
اگرچہ سانس ملے ، عمر بھر ہَوا سے مجھے

غذا اسی میں میری، مَیں اسی زمیں کی غذا
صدا پھر آتی ہے کیوں، پردۂِ خلا سے مجھے

میں جی رہا ہوں ابھی، اے زمیں آدم خور !
ابھی تو دیکھ نہ ، تُو اتنی اشتہا سے مجھے

بکھر چکا ہوں میں، اب مجھ کو مجتمع کر لے
تو اب سمیٹ بھی اپنی کسی صدا سے مجھے

میں مر رہا ہوں، پھر آئے صدائے کُن فیکون
بنایا جائے مِٹا کے ، پھر ابتدا سے مجھے

میں سر بہ سجدہ ہوں، اے شمرؔ مجھکو قتل بھی کر
رہائی دے بھی اب ، اس عہدِ کربلا سے مجھے

میں کچھ نہیں ہوں تو پھر کیوں مجھے بنایا گیا
یہ پوچھنے کی ، اجازت نہیں خدا سے مجھے

میں ریزہ ریزہ بدن کا، اُٹھا رہا ہوں عدیمؔ
وہ توڑ ہی تو گیا ، اپنی التجا سے مجھے

عدیمؔ ہاشمی

لوگوں کو ایسا خُدا مِل گیا ھے جس سے ڈَرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لوگوں کا ایسا رَسُول ھاتھ آ گیا ھے جو اُن کی تمام تر بد اع...
18/04/2022

لوگوں کو ایسا خُدا مِل گیا ھے جس سے ڈَرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لوگوں کا ایسا رَسُول ھاتھ آ گیا ھے جو اُن کی تمام تر بد اعمالیوں کے باوجُود اُن کی یقینی سفارش کرے گا۔ اور ایسی آخرت مِل گئی ھے جہاں جنت صِرف اُن کے لیے اور جہنم دُوسروں کے لیے ھے۔

مگر یاد رکھیں کہ یہ فریب کا کاروبار تب تک ھے جب تک خداوند ظاہر ھو کر اپنے انصاف کا ترازو بلند نہ کر دے۔

"مولانا وحیدالدّین"

اگر تم نیکی پاکیزگی اور تقویٰ کے بغیر خدا کا نام لیتے ھو تو پھر خُدا ایک نام ھی ھے۔ اِس کے علاوہ کچھ نہیں -"اشفاق احمد""...
16/04/2022

اگر تم نیکی پاکیزگی اور تقویٰ کے بغیر خدا کا نام لیتے ھو تو پھر خُدا ایک نام ھی ھے۔ اِس کے علاوہ کچھ نہیں -

"اشفاق احمد"

"بابا صاحبہ" سے اقتباس۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when القلم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category