22/10/2024
کل میں الیاس قادری صاحب کی ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے انکے ایک مقلد نے ان سے پوچھا بابا جانی آپ پہلے نیچے بیٹھ کر کھاتے تھے اور اب آپ میز پر بیٹھ کر کھا رہے ہیں تو الیاس قادری صاحب نے جواب دیا کہ انکے گھٹنے میں تکلیف رہتی ہے تو ڈاکٹر نے انکو نیچے بیٹھنے سے منع کیا ہے لہذا مفتی صاحب سے مشورہ کرنے کے بعد اب وہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور نماز بھی کرسی پر پڑھتے ہیں۔
اس میں کچھ یاددہانی ہے اور میرے لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ سند ہو جائے۔
1 قادری صاحب کو درد ہوئی انہوں نے درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر وہ بابا جی کے ٹھلو والا دم نہیں کیا بلکہ ڈاکٹر کے پاس گئے۔
2 قابل غور بات یہ ہے کہ قادری صاحب مر کر نہیں بلکہ زندہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی نہیں بلکہ اپنی تکلیف کو دور نہیں کر سکے۔
3 بلکہ قادری صاحب کو درد ہوا تو انہوں نے اس فیلڈ کے انسان سے رابطہ کیا نہ کسی دربار پر گئے نہ کوئی تعویز لیا کیونکہ انکو پتہ ہے اس مسئلہ کا حل کوئی زندہ اور اسی فیلڈ کا بندہ کر سکتے ہیں۔
4 قادری صاحب کسی مردہ ڈاکٹر کی قبر پر بھی نہیں گئے۔ بلکہ زندہ ڈاکٹر کے کلینک پر گئے۔اھل عقل کیلئے اسمیں نشانیاں ہیں.🧏
اور نصیحت تو عقلمند قبول کرتے ہیں۔📖📗
نصیحت کرتے رہو نصیحت ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
تھوڑا سا نہیں بہت زیادہ سوچیں ۔
شکریہ ❣️
23/11/2016
21/11/2016
21/11/2016
21/11/2016
21/11/2016