04/03/2023
محمد ظفر صاحب
السلام علیکم
آپ کے خط سے آپ کے زندہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے ۔ یہی زندگی ہے ، یہی صداقت ہے اور یہی احساس ہے ۔ باقی ایک بات جو قابلِ غور ہے ، اگر آپ کو احساسِ تنہائی تکلیف دے رہا ہے تو اس تکلیف سے آشنا ہونے والے انسان کے فرض کو ادا کریں یعنی کسی اور انسان کی تنہائی دُور کر دیں ۔ چلو یہی ایک عمل کر سکیں تو معاشرہ پر احسان ہو گا
اس زوال پزیر معاشرے کو بیمار سمجھیں ، اس سے نفرت نہ کریں ، اس سے ہمدردی کریں ۔ بیماروں سے غصہ نہیں کیا کرتے ۔ اللہ نے آپ کو شعور دیا ہے اور جن لوگوں کے پاس شعور نہیں ہے ان سے آپ شعور کی توقع کرتے ہیں آپ کیا کرتے ہیں؟
گانے والا سننے والے کو سنائے ، آپ چاہتے ہیں وہ لوگ گائیں ، ایسا نہیں ہو سکتا ۔ آپ کو اگر علم ملا ہے تو عالموں کی تلاش نہ کرو ، جاہلوں کے پاس جاوء ۔ نفرت کے ساتھ نہیں محبت کے ساتھ ۔ ان کو اپنے علم کی روشنی عطا کرو ۔ اگر آپ کو شب بیداری ملی ہے تو خواب غفلت والوں کے لیے بد دعا نہیں کرنا بلکہ ان لوگوں کے لیے سلامتی کی دعا کرو ۔ ان کے پاس نہ وہ دل ہے نہ وہ دماغ ۔ آپ محروم سے نفرت کرتے ہو؟ آپ کے پاس بگڑے ہوئے لوگوں کے لیے شفقت کے دو لفظ نہیں ہیں؟ آپ تو تنہا ہی سہی باقیوں کو تنہا نہ چھوڑو ۔
جو فرائض آپ نے آپ کے خیال میں کسی کمزور لمحے میں اپنے لیے اختیار کر لیے ہیں ان سے فرار کی کوشش نہ کریں، انہیں نبھائیں ۔ آپ کی خود گریزی میں ان بے چاروں کا کیا قصور؟ انہیں معاف کر دیں اور وہ تمام لوگ جن سے آپ خفا خفا ہیں آپ کی توجہ کے محتاج ہیں
پیغمبروں نے گناہگاروں کی بخشش ہی کے لیے کوششیں کی ہیں ۔ خود آشنا ہونا یا خالی خدا آشنا ہونا بھی اہم ہے ، اپنی جگہ پر، لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے انسانوں سے آشنا ہونا بھی اپنے انسان ہونے کا حق ادا کرنے کے برابر ہے
آپ فرائض سے فرار اختیار کرنے والا نہ بنیں ، ہرگز نہیں ۔ تنہائی کا بوجھ برداشت کرتے ہو اور ناپسندیدہ انسانوں کا قرب برداشت نہیں کر سکتے ، کیوں؟ سب بچوں سے لے کر بزرگوں تک ، سب کے لیے یکساں احترام ، یکساں محبت بن جاوء ۔ آپ مر جاوء اور دوسروں کو زندگی دے جاوء ۔ یہی آپ کے لیے نسخہ کیمیا ہے
میں آپ کے لیے دعا کروں گا ۔ آپ میری باقی کتابیں یعنی ”کرن کرن سورج“ ”دل دریا سمندر“ اور ”قطرہ قطرہ قلزم“ بھی حاصل کریں ۔ اللہ آپ کی تنہائی سلامت رکھے اور آپ کو فرائض ادا کرنے کی توفیق بھی دے ۔ آپ مظلوم ہونے کے خیال میں گم ہو کر کہیں ظالم نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔
والسلام
واصف علی واصف
(گمنام ادیب صفحہ نمبر 172- 174)
سرکار امام واصف با صفا رحمتہ اللہ علیہ
🌸🌸
19/11/2021
07/11/2018
14/10/2018