پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی

پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی

Share

Pakistan mint Janam bhomi

Photos from ‎پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی‎'s post 16/06/2026

حسنین شاہ ہمارے بزرگ اور ساتھ طاہر المعروف طاری بلڈ کی بڑی معروف شخصیت جج کا بڑا بھائی ہے۔حسنین شاہ صاحب کی تماداری کے لیے جنم بھومی کی پرانے لوگ ائے۔اور ان کی خیریت دریافت کی

Photos from ‎پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی‎'s post 15/06/2026

جنم بھومی پارٹی میں تمام ممبرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس دعوت پر تشریف لائے خاص کر کے صوفی عبدالقادر صاحب۔سیف الاسلام صاحب نہال بھائی سلوا بھائی راجہ ریاض راجہ طاہر جج فیاض زبیر بھائی شریف بھائی ندیم بھائی نوید بھائی اور مہمان خصوصی قاری رمضان ان کے صاحبزادے موجود تھے اور بہت اچھی گفتگو ہوئی اپنے ماضی کو یاد کیا اپنے بڑوں کو یاد کیا منٹ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا اور اپنی بچپن کی یادوں کو ایک دفعہ پھر تقویت پہنچائی میں تمام بھائیوں کا ایک دفعہ پھر سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں اللہ تعالی ان سب کو لمبی زندگی عطا کرے

14/06/2026

پاکستان منٹ کی وہ عہد ساز شخصیت جس کی وجہ سے منٹ چہل پہل رونق شونق لگی رہتی ہے وہ ہے سیف الاسلام المعروف سیفی بھائی کمال کی شخصیت کمال کی اواز اور ایسا درد کے مزہ ا جائے یہ گانا سیفی صاحب کو امر کر گیا

11/06/2026

پاکستان منٹ لیجنڈز کے لیے ایک گرینڈ پارٹی رکھی جا رہی ہے 14 تاریخ اتوار کا دن 12 سے لے کر چھ بجے تک جہاں اپنے انمول ہیرو کو دیکھا جائے گا جنہوں نے ساری زندگی منٹ میں گزار دی 45 سال سے زیادہ بندوں کے لوگوں کو یہ دعوت دی جا رہی ہے رابطے کے لیے اس نمبر پر فون کرے03074270686 اور اپنی حاضری کو یقینی بنائیں شاید زندگی میں ایسا موقع دوبارہ نہ ملے اکٹھے ہونے کا

08/06/2026

محمد علی صدیقی صاحب المعروف کیشیئر پاکستان منٹ کے تاریخ ساز ہستیوں میں ان کا بھی شمار ہوتا ہے ان کے بزرگ غازی پور سے ہجرت کر کے لاہور ائے تھے۔ایک بڑی طویل رشتہ داری ان کی منٹ کے اندر ہے۔فلاحی کام بہت زیادہ کیے ہیں غازی پور والوں کی ایک اپنی انجمن ہوتی تھی جہاں برتن پراتے تمبو کناتے جو شادی بیاہ فوتکیوں میں استعمال ہوتی تھی۔تو اس طرح کا بہت کام صدیقی صاحب نے کیا ہے۔یہ وہ چیزیں ہیں جو صرف میں نے سنی ہے کیونکہ میں عمر میں چھوٹا ہونے کے ناطے اپنا بچپن یا لڑکپن کراچی میں گزارا ہے۔صدیقی صاحب کو صرف میں اتنا جانتا ہوں یہ میرے دوست شکیل کے والد صاحب ہیں اور ایک دوست کے والد صاحب ہونے کے ناطے بزرگ ہونے کے ناطے ہم ان کا ادب بھی کرتے تھے اور ان سے ذرا شرماتے بھی تھے گھبراتے بھی تھے۔اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ لہجے کے بہت سخت تھے نہیں وہ بہت پیار والے محبت کرنے والے ملنسار اور لوگوں کی ہیلپ کرنے والے انسان تھے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مجھے بتاتے ہیں کہ محمد علی صدیقی صاحب نے میری مدد کی ہے۔ان کے پاس بھی منٹ کا خزانہ پڑا ہوا ہے وہ خزانہ یادوں کا محبتوں کا شرارتوں کا اور ایسی ایسی یادیں جو شاید ان کے علاوہ کسی کو نہ پتہ ہو۔اکثر کبھی کبھار یہ مجھے بتاتے ہیں کہ تمہارے ابو بہت اچھا گانا گاتے تھے ان کا انداز تم سے بہت ملتا ہے۔میرے دل میں بھی ایک حسرت رہ گئی ہے کہ میں ان سے ملاقات کروں مگر کچھ ٹائم ایسا نازک چل رہا ہے کبھی ان کے پاس ٹائم نہیں ہوتا کبھی میں شہر سے باہر ہوتا ہوں تو یہ مصروفیات کے زندگی ہم کو لے کر بیٹھ گئی ہے ورنہ میرا بہت دل کرتا ہے کہ میں ان کے پاس جاؤں اور ان سے منٹ کے حوالے سے کچھ چیزیں پوچھو ان کے ایک جاننے والے ہیں مظاہر انکل وہ مجھے اکثر بولتے ہیں کہ اپ ان کے پاس جاؤ اور ان کا انٹرویو لو مگر ہر بندہ کیمرہ فیس نہیں کر سکتا کئی بندوں کی طبیعت تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔مجھے بھی یہ اشتیاق رہے گا کہ میں ان سے کچھ منٹ کے حوالے سے پوچھ سکتا۔لیکن جو اللہ کو منظور۔محمد علی صاحب ایک جہاں دیدہ انسان ہے اب عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے ہیں کہ جہاں ان کو اپنی صحت کا اور اپنی طبیعت کا خیال رکھنا پڑے گا میں نے ان کو اکثر گراؤنڈ میں واک کرتے دیکھا ہے اور ایک الگ انداز کے مالک ہیں کم گو بھاری سی مونچھیں خضاب لگے ہوئے بال اور بڑے جنٹل مین پرسنلٹی کے مالک۔مجھے وہ دن یاد ہے جب یہ بابو کوارٹر میں رہتے تھے اور ان کے پاس ایک موٹر سائیکل ہوتی تھی یما اس پر یہ اتے تھے تو مقصد بار کھیل رہے ہوتے تھے اور میں پیار سے ان کو السلام علیکم انکل بولتا تو یہ اگے سے جواب دیتے وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو ابو کیسے ہیں اپ کے ابو کو میرا سلام کہنا یہ الفاظ میرے کانوں میں ابھی تک رس گھولتے ہے اللہ تعالی محمد علی صدیقی صاحب کی لمبی عمر کرے اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پہ سلامت رکھے۔انسان کی تین زندگیاں ہیں پہلا بچپن دوسرا جوانی اور تیسرا بڑھاپہ اب تیسرے فیس میں یہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دادا بن جاتا ہے نانا بن جاتا ہے تو وہ ان کے اخری دوست ہوتے ہیں پوتوں سے بہت پیار ہوتا ہے نواسوں سے بہت پیار ہوتا ہے تو وہ اپنا ٹائم اپنے بچوں کے بچوں کے ساتھ اپنی بیٹی کے بچوں کے ساتھ گزار دیں کو ترجیح دیتے ہیں۔گلوکار رفیع کے فین
خود بھی اچھی تان اٹھا لیتا ھے بندہ
پرانے گانوں کا شوقین
سات یا آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی
پرائمری تعلیم اس وقت کے انگلش میڈیم سے حاصل کی
میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول۔مغلپورہ
ڈبل کوارٹر کا بابو شہزادہ بچہ۔دادی دادا نانی نانا بھی نصیب والے ہی بنتے ہیں اللہ تعالی محمد علی صاحب کو ڈھیروں خوشیاں اور لمبی زندگی عطا کرے بس میں اتنا ہی ان کے بارے میں جانتا ہوں باقی جو تحریر پڑھے وہ ضرور مجھے ان کے بارے میں بتائیں بہت بہت شکریہ

06/06/2026

دنیا سے جانے والے جانے چلے جاتے ہیں کہاں۔منٹ کی دوسری پیڑھی کا بھی اختتام ہو گیا۔پاکستان منٹ میں ایک بزرگ اکثر الو چھونے بیچتے تھے تو میں ان سے الو چھولے لیا کرتا تھا بہت ہی اچھے نفیس پیار والے انسان تھے ان کا انداز مجھے بہت اچھا لگتا تھا سردیوں میں وہ کان ڈھکنے کے لیے پردہ باندھ لیا کرتے تھے۔اور اکثر مجھ سے اردو سٹائل میں بات کرتے تھے اور میں ان کو انکل جی کہہ کے الو چنے لیا کرتا تھا۔وہ بزرگ میرے ہوتے ہی انتقال کر گئے میں نے ان کا جنازہ بھی دیکھا اس طرح سے ایک پیڑھی کا اختتام ہوا ان کے تین بیٹے تھے یا چار کہہ لو۔باقر بھائی شفیق بھائی ریاض بھائی۔چوتھے یاسین صاحب تھے لیکن میں ان کے بارے میں اتنا نہیں جانتا ان کا بھی انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا۔ان میں سے شفیق صاحب پاکستان منٹ کے بہت اچھے فٹبالر رہ چکے ہیں اور میرے اچھے جان پہچان والے بھی تھے۔کچھ دن پہلے وہ بھی اس دنیا کو الودا کہہ کر چلے گئے میں ان کے بیٹے کے جنازے پر گیا تھا مگر ان کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شاید یہ صدمے کو جھیلنا پائے۔اور وہی ہوا۔اس سے پہلے ان کے چھوٹے بھائی ریاض ان سے بھی میری بڑی اچھی سلام دعا تھی بہت ہی پیار کرنے والا شخص واسہ میں کبھی بھی کوئی کام ہوتا تو اکثر اس کو کہہ دیا کرتے تھے۔مگر وہ بھی انن فانن اس دنیا سے چلا گیا۔سب سے بڑے بھائی باکر بھائی تھے۔اب میں نے ان کو فٹ بال کھیلتے نہیں دیکھا لیکن ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں شریف النفس انسان اتنا شریف انسان کہ سوائے گھر سے کام کام سے گھر اور ہمیشہ اپنے بچوں کے لیے کوئی نہ کوئی کام کرتے دیکھا۔اج اللہ کا شکر ہے ان تینوں کی اولادیں باہر کے ملک یا پاکستان میں رہ کر اپنا ذریعہ معاش چلا رہے ہیں۔اور اگے سے ان کی بھی اولادیں ہو گئی ہیں اس طرح سے دو پڑیوں کا اختتام ہو گیا۔میں اب اس کو اپنا اعزاز سمجھوں یا اپنی بد نصیبی کہوں کہ ان دونوں پیڑوں کے ہاتھوں میں میں پروان چڑھا ہوں۔باقر بھائی سے تو ہماری اتنی زیادہ سلام دعا نہیں تھی کیونکہ وہ ہم سے بہت بڑے تھے ان کے بیٹے میرے دوست تھے جن میں عامر طاہر عمران شہزاد اور باقی دو بڑے بھی تھے مگر وہ ہم سے کچھ زیادہ ہی پڑے تھے اس لیے ہم ان سے بھی احترام کے ساتھ رہتے تھے۔استاد شفیق کے ساتھ میں نے فٹبال بھی کھیلا ہے ہیڈ ہیڈ بھی کھیلتے رہا ہوں ان کی میری جوڑی بڑی زبردست ہوتی تھی پھر اکثر کبھی کبھار گھریلو گفتگو بھی اپس میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کر لیا کرتے تھے۔استاد شفیق کو پیار سے ہیرو بھی کہتے تھے۔زندگی کا ایک اصول ہے جو دنیا میں ایا ہے اس نے جانا ہے اج یہ دو پیڑیاں چلی گئی اگے بھی پیڑیاں چلتی جائیں گی اور دوسری سے دوسری اتی جائے گی یہ نظام چلتا رہے گا۔تو منٹ کے دوستوں جنم بھومی کے چاہنے والوں یہ دو پیڑوں کا اختتام میرے سامنے ہوا ہے۔اب ایسے لوگ دنیا میں واپس نہیں ائیں گے۔اللہ تعالی ان انمول ہیرو کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے امین

05/06/2026

چند دن قبل کچھ دوستوں نے مجھے کہا کہ اپ نے منٹ کے بارے میں لکھنا چھوڑ دیا ہے ایسا نہ کریں کیونکہ اپ کی تحریر میں منٹ کے بہت سی یادوں کے افسانے چھپے ہوتے ہیں اپ ہی وہ شخصیت ہے جس نے منٹ کو ہماری یادوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔بس یہ الفاظ سننے کی دیر تھی تو مجھے ایک دم وہ لوگ یاد اگئے جو ابھی ہمارے بیچ میں موجود ہے جن کو ہم حقیقت میں لیجنڈ یا منٹ کی شان کہیں گے۔باقی تو جتنے ہمارے بزرگ جن کے ہاتھوں میں ہم بڑے ہوئے ہیں وہ اب اس دنیا کو خیرباد کہہ کے چلے گئے ہیں۔اب ہمارے پاس جو سرمایہ ہے چند لوگوں پر مختصر ہے۔اج ایک سرمائے کے بارے میں میں بتانے جا رہا ہوں جو منٹ کا ہیرو ہونے کے ساتھ ساتھ منٹ کا ال راؤنڈر بھی رہ چکا ہے چاہے وہ نعت خوانی ہو چاہے وہ بزم ہو چاہے وہ سپورٹس کا میلہ ہو یا اپنے اواز کے جادو سے لوگوں کو دل مول لینے والا ہو۔یہ مختصر سا تعارف ہمارے ہر دل عزیز شخصیت قوی بھائی کا ہے۔کبھی بھائی کا تعلق ڈبل کوارٹر منٹ سے ہے ان کے دو بڑے بھائی کوکی صاحب اور میجر مقصود صاحب ہے اللہ تعالی ان دونوں کی لمبی عمر کرے سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بھی رہے ہیں پرسنلٹی اتنی خوبصورت لوگ دیکھ کر دنگ رہ جائے اواز میں ایسا جادو کہ لوگ ان کی اواز کے شدائی بن جاتے تھے ٹیلنٹڈ اتنے کہ پرفارمنس ان پر ختم تھی۔یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالی نے اپنی قابلیت کی وجہ سے ان کو امریکہ سکالرشپ پر بھیج دیا اور اج یہ امریکہ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔مگر کمبخت منٹ کی یادیں ایسی ہیں جو قبر کی دیواروں تک بندے کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔اخری دفعہ جب ملاقات ہوئی تو منٹ کو بہت یاد کر رہے تھے خاص کر کے منٹ سے نسبت ایک یہ بھی ہے کہ ان کے والد صاحب اور والدہ منٹ کے قبرستان میں دفن ہے۔اور دوسرے عزیز و کارب بھی منٹ کے اندر ہی دفن ہے۔لیکن زندگی کا حاصل حصول کیا ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا فقط پچھتاوا اگر خاتمہ بالایمان ہو تو انسان اپنی منزل تک پہنچ گیا۔اج کے وہ جوان بچے جن کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے سوائے ماڈرن ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں فون ائی فون کی جدوجہد میں لگے رہنا اور سوشل میڈیا کے علاوہ کوئی نالج نہیں۔یہ وہ سرگرمیاں ہے جو باقی سرگرمیاں کھا جاتی ہے مثلا گراؤنڈے اباد کرنا کرکٹ کھیلنا فٹبال کھیلنا کبڈی کھیلنا دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا کسی کی تمداری کرنا کسی کے غم میں شریک ہونا یہ سب سوشل میڈیا نے ختم کر دیا ہے۔لیکن ان بچوں کو شاید یہ اندازہ نہیں جو زندگی ان کے بزرگ گزار گئے ہیں وہ ان کے خیالوں میں بھی نہیں ہوگی جو پیار ان کے بزرگوں نے دیکھا ہے وہ شاید یہ تصور بھی نہ کر سکے اگر قوی سب کی زندگی کا خلاصہ بیان کیا جائے تو کامیابی کا سہرا ان کی اپنی محنت ان کی اپنی لگن اور ان کا اپنا خلوص جو شاید ان کو ماں باپ سے ملا ہو۔باقی پاکستان منٹ میں ایسے انمول ہیرے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی بیٹھ جاتا تو شاید ان کا سینہ علم کے گوارے سے بھر جاتا یہ ہمارے منٹ کے لوگوں کی شان ہوتی تھی۔انسان پر غمی اور خوشی کا سایہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا ہے پتہ چلا ہے قوی انکل کی مسز کا انتقال ہو گیا ہے اور اب اپنے کوئی میڈیکل ایشو سے دو چار ہے۔ہمارے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے لیجنڈ کے لیے دعا کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ اس منٹ نے بڑے بڑے سپوت پیدا کیے ہیں جن کا اس دنیا میں کوئی ثانی نہیں تھا۔اللہ تعالی قوی بھائی کو صحت والی زندگی عطا کرے امین

03/06/2026

یہ ہے وہ ہماری منٹ کی شان۔پاکستان منٹ کی گراؤنڈ اس گراؤنڈ نے بڑے بڑے سورماؤں کو پیدا کیا جس میں سے ایک استاد غلام محمد گاما پشاوری اس کے بعد بے شمار ایسے پلیئر جنہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی سر فہرست علی اصغر ڈبو غلام سرور غلام احمد غلام مصطفی۔اغا روہیل۔تنویر جمال مولوی نعیم ارشاد المعروف ایشو اور بے شمار کھلاڑی جو اس گراؤنڈ سے تیار ہوئے اور دنیا بھر میں نام روشن کیا اج اس گراؤنڈ کو دیکھ کر خون کے انسو رونے کا دل کر رہا ہے،🤬 تیری بے بسی کو دیکھ کر دل میرا جلتا ہے اج میرا دل بھی تیرا حال دیکھ کر چیک اٹھا۔🤬 نہ وہ لوگ رہے جو گراؤنڈ سے محبت کرتے تھے نہ وہ بچے رہے جو گراؤنڈ میں ا کے کھیلا کرتے تھے اور نہ ہی وہ احساس رہا جو منٹ کے لیے پرانے لوگوں میں ہوتا تھا اب سب ختم ہے

23/05/2026

اج شفیق صاحب المعروف ہیرو ہم کو چھوڑ کے چلے گئے چند دن پہلے ان کے بیٹے کا سعودی عرب میں ایکسیڈنٹ کی وجہ سے موت ہو گئی تھی جن کا ان کو شدید غم تھا اور اسی غم کی بنا پر وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اللہ تعالی درجات بلند کرے

Photos from ‎پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی‎'s post 16/05/2026

پاکستان منٹ چھ نمبر بلاک کی ایک اور نشانی ختم اب ہر چیز ختم ہوتے جا رہے ہیں یہ وہ درخت تھا جہاں ہم اور ہمارے بڑے ا کر کھیلا کرتے تھے اور لٹکتے تھے اج وہ بھی چیز ہے ہم سے بچھڑ گئی۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Lahore