پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی

پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی Pakistan mint Janam bhomi

پاکستان منٹ کی وہ شخصیت جن کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں خدا ترس انسان سن اپلائی سب سے زیادہ شوکت صاحب نے ہی کی ہے ا...
28/08/2026

پاکستان منٹ کی وہ شخصیت جن کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں خدا ترس انسان سن اپلائی سب سے زیادہ شوکت صاحب نے ہی کی ہے اپنے دور میں ہر ایک کی جنازے پہ جاتے تھے اور اس کے بیٹے کو نوکری پہ رکھ لیتے تھے شوکت صاحب جیسا انسان دنیا میں بہت کم پیدا ہوتا ہے اج وہ ہمارے بیچ میں نہیں ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے شوکت صاحب کی کارکردگی اور ان کا دور 1971 سے لے کر 1990 تک رہا اس دوران انہوں نے لا تعداد منٹ ملازمین کے بچوں کو نوکریوں پر رکھا کسی کا بھی چولہا ٹھنڈا نہیں ہونے دیا اور اج بھی چند ایسے لوگ ہیں جو شاید ان کے ہاتھ کی بھرتی ہے اور وہ شوکت صاحب کو دعائیں دیتے ہیں اللہ تعالی شوکت صاحب کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے امین

لجپال گھرانہ۔کہتے ہیں جو بندہ بندے کا شکر گزار نہ ہو وہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہو سکتا۔یہ بات بڑے فخر سے لوگوں تک پہن...
21/08/2026

لجپال گھرانہ۔

کہتے ہیں جو بندہ بندے کا شکر گزار نہ ہو وہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہو سکتا۔یہ بات بڑے فخر سے لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ اج ہم جس مقام پر ہے وہ مقام تک پہنچانے میں جاوید کوکی اور ان کے خاندان کا بہت ہاتھ ہے۔میری زندگی کا ایک حصہ یہ سنتے سنتے گزر گیا۔والد مرحوم ایک ہی بات کرتے تھے کہ اگر 1966 پہلا ٹور پشاور کا جہاں مجھے کوچ نے سلیکٹ کیا تھا مگر پشاور جانے کے پیسے نہ تھے اگر جاوید کو کی بھائی اور ان کی فیملی اپنی پاکٹ منی سے پیسے جمع کر کے مجھے اس ٹور پہ نہ بھجواتے تو نہ میں اج اصغر ڈبو بنتا اور نہ ہی مجھے اصغر ٹونی کے نام سے جانتے۔بس والد صاحب کی یہ گفتگو میرے ذہن نشین رہی ہے اس ٹور کے بعد والد صاحب مرحوم کو دنیا جاننا شروع ہو گئی تھی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا پاکستان فٹبال ٹیم کا حصہ بنے سات سال کھیلنے کے بعد واپڈا پھر پی ائی اے میں ملازمت ملی اور اس کے بعد 1976 میں بیلجیم چلے گئے اور وہاں کی لیگ کھیلی اور اللہ تعالی نے پوری دنیا دکھائی اور پھر اپنے بہن بھائیوں کی شادی بھی کروائی. یہ الفاظ میرے والد صاحب مرحوم نے اپنی فوتگی سے 20 دن پہلے فرسٹ جنوری 2003 کو کہے تھے. شاید یہ نصیحت تھی جو وہ مجھے بتا کر چلے گئے ہیں. خیر کہانی کا اغاز جاوید کوکی بھائی سے کرتے ہیں انتہائی نفیس انسان بہت ملنسار پیار والے محبت کا پیکر. اور طبیعت نہایت ہی ٹھنڈی. حالانکہ جٹ ہونے کے ناطے سختی ان کے مزاج میں ہونی چاہیے تھی مگر مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا. چھ نمبر بلاک جہاں پاکستان منٹ کے بہت نایاب لوگ رہتے تھے اس بلاک میں جاوید انکل کی فیملی بھی رہتی تھی والد صاحب منٹ میں ملازم تھے والدہ بھی ملازمت کی شعبے میں تھی جس کی وجہ سے اس دور کے کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔اکثر یہ بھی سننے کو ملا ہے سب سے زیادہ دودھ اس دور میں جاوید کوکی انکل کے گھر اتا تھا۔جاوید انکل فٹبال بھی کھیلتے رہے ہیں منٹ سے تعلق ہونے کے ناطے کافی سپورٹس میں ایکٹو تھے۔اپنی زندگی کی جوانی میں لاہور چھوڑ کے باہر پڑنے چلے گئے شاید بہاولپور وہاں سے اعلی تعلیم حاصل کی اور ڈگری لے کر واپس لاہور ائے اور اسی دوران باہر سعودیہ عرب جاب اختیار کر لی۔اپنی زندگی کا زیادہ حصہ پردیس میں ہی گزارا ہے۔ان کے تین بیٹے ہیں سب سے بڑا پنوں نام سے مشہور ہے۔کافی منٹ کے دو ان کو اسی نام سے پکارتے ہیں اور یاد کرتے ہیں۔دوسرے بھائی شیراز المعروف گومی کے نام سے مشہور ہے اکثر میں ان کے ساتھ ہاکی بھی کھیلتے رہا ہوں اور سب سے چھوٹے ایاز بھائی۔تینوں بچے ماشاءاللہ سے بہت ہی اخلاق والے اور سلجھے رہے ہیں۔ان کے والد صاحب کی تربیت کا بہت اثر ہے۔جاوید کو کی انکل کی پیدائش میرے خیال سے 1948 کی ہے کیونکہ اکثر والد صاحب بتاتے تھے کہ مجھ سے ایک دو سال بڑے ہیں لیکن ہم لوگ جگری یار ہیں. اج بھی ان کے گھر سے فیض جاری و ساری ہے ان کے چھوٹے بھائی ان کی اولادیں جہاں بھی رہے ہیں لوگوں کی خدمت میں کی مدد کرنے میں ہمیشہ اگے رہے ہیں ہماری دعا ہے اللہ تعالی جاوید کو کی انکل کو لمبی عمر دے اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے.

منٹ کی ایسی شخصیت جن کے بارے میں اپ شاید کم بھی جانتے ہو اور زیادہ بھی جانتے ہو غالبا یہ خاندان خاکی یا مانسہرہ سے تعلق ...
07/08/2026

منٹ کی ایسی شخصیت جن کے بارے میں اپ شاید کم بھی جانتے ہو اور زیادہ بھی جانتے ہو غالبا یہ خاندان خاکی یا مانسہرہ سے تعلق رکھنے والا ہے لیکن رشتے داریاں ہونے کی وجہ سے خاکی بھی کہہ سکتے ہیں مانسہرہ بھی کہہ سکتے ہیں ہزارہ ڈویژن بھی کہہ سکتے ہیں بڑے بھائی اسحاق نہایت ہی شریف نہایت ہی کم گو شخصیت جتنا میں ان کو جانتا ہوں ان کے بیٹے میرے بہت ہی اچھے دوستوں میں سے ہیں اسحاق صاحب کو اللہ لمبی عمر دے ابھی حیات ہے اور اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔دوسرے رزاق صاحب ۔ جتنا میں جانتا ہوں وہ پاکستان منٹ میں دکان چلاتے تھے بڑے اچھے اخلاق کے مالک تھے اور اپنی وہی گفتگو جو اپنی علاقائی ہوتی تھی اس میں بات چیت کرتے تھے۔لیکن جس شخصیت کے بارے میں خاص اپ لوگوں کو بتانے جا رہا ہوں ان کو مشتاق محمد المعروف تاکی بولتے تھے تاکہ ان کا پیار سے پکارے جانے والا نام تھا۔دلیر بردبار بہادر اور دلدار شخصیت کے مالک۔سنی سنائی بات اپ تک پہنچانے جا رہا ہوں۔بتاتے ہیں کہ بڑے ہی عمدہ تیراک اس کے ساتھ باڈی بلڈنگ ویٹ لفٹنگ کرنے میں ماہر والد صاحب کے ساتھ اکثر ویٹ لفٹنگ باڈی بلڈنگ کرتے تھے جسم ٹھوس سخت جان بتائے جاتے تھے اس کے ساتھ سوٹڈ بوٹڈ رہنا ۔میں اکثر ان کو سفید قمیض شلوار میں دیکھتا تھا۔اور 70 موٹر سائیکل کے اوپر بیٹھ کے جایا کرتے تھے رنگ گورا سفید لال گال ہوتے تھے اور جب بھی ملنا ایک بہت ہی پیاری مسکرا کے ساتھ بیٹا کیا حال ہے۔اور مجھے اپنے گلے لگا لینا کیونکہ میں علی اصغر ڈبو کا بیٹا تھا ان کے استاد ان کے بڑے بھائی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے مجھے عزت دیتے تھے۔جمناسٹک کے ماہر تھے۔باکسنگ کے بھی عمدہ کھلاڑی رہ چکے ہیں جس وجہ سے دوسرے ملکوں میں بھی دورہ کر چکے ہیں ۔زوردار شخصیت ہونے کی وجہ سے ہی مین کا خطاب بھی ملا ہوا تھا۔بڑوں کے منہ سے بہت سی باتیں سنی ہیں اخری ملاقات میری جب ان کے گھر میں ہوئی تو بتا رہے تھے گوڈو میں جوڑوں میں بہت درد رہتی ہے کیونکہ بہت زیادہ مشقت بہت زیادہ محنت کرنے کی وجہ سے اکثر جوائنٹ بڑاپے میں درد کرتے ہیں۔اپنی زندگی کا حالات مجھ سے اس طریقے سے بتا رہے تھے جیسے بھرپور زندگی گزاری ہو۔جوانی کے قصے طاقت کا عالم اکثر ان کی زبان زرد رہتا تھا۔یہ حقیقت ہے اج کل کی نوجوان نسل ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی دو دو ڈھائی ڈھائی من وزن وہ اٹھا لیا کرتے تھے اور اج کی نوجوان نسل جن کو موبائل سے فرصت ہی نہیں اپنی صحت کے بارے میں کیا وہ جانیں گی خیر تاکہ بھائی کی باتوں سے یہ اندازہ ہو رہا تھا ہر کھیل جوانی کے ہی ہوتے ہیں بڑھاپے میں صرف بندہ اللہ کو ہی یاد کرتا ہے۔اللہ نے ان کو استعداد دی تھی لہذا اخری عمر میں نماز پابندی سے ادا کرتے تھے ذکر و اذکار میں بھی لگے رہتے تھے۔لیکن یاروں کے یار تھے اپنے دوستوں کو اپنے ساتھیوں کو ہمیشہ یاد کرتے اج وہ ہم میں نہیں ہے جس کا ہمیشہ ہمیں دکھ رہے گا اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ہماری جنم بھومی کی ان کے لیے دعائیں ہیں

پاکستان منٹ کالونی کے شاندار شخصیت اور استاد ماسٹر شرف الدین اور ماسٹر عزیز اللہ تعالی ان دونوں کی مغفرت فرمائے اور ان ک...
06/08/2026

پاکستان منٹ کالونی کے شاندار شخصیت اور استاد ماسٹر شرف الدین اور ماسٹر عزیز اللہ تعالی ان دونوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے بہت سے قابل لوگ ان کے شاگرد ہیں اور ان کی وجہ سے اج اچھے مقام پر ہے

نہایت ہی افسوس ناک خبر ہمارے منٹ کے ہر دل عزیز شخصیت جناب مشتاق المعروف تاکی صاحب رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں انا ...
04/08/2026

نہایت ہی افسوس ناک خبر ہمارے منٹ کے ہر دل عزیز شخصیت جناب مشتاق المعروف تاکی صاحب رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون ان کا نماز جنازہ ٹھیک 10 بجے ان کی رہائش گاہ پہ ادا کیا جائے گا۔

ایک ملاقات طارق محمود انکل کے ساتھ اگر جُہدِ مسلسل، عزمِ پیہم، ہمتِ عالی، حوصلہ اور خود  اعتمادی کو انسانی پیکر میں ڈھال...
03/08/2026

ایک ملاقات طارق محمود انکل کے ساتھ

اگر جُہدِ مسلسل، عزمِ پیہم، ہمتِ عالی، حوصلہ اور خود اعتمادی کو انسانی پیکر میں ڈھالا جائے تو بلا شبہ طارق محمود صاحب کی شخصیت نگاہوں کے سامنے ابھر آتی ہے۔ انہوں نے عملی زندگی میں کامیابی کی ایک سے بڑھ کر ایک منزل طے کی۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی جسمانی محدودیت کو کبھی اپنی منزل کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا، بلکہ اپنے حوصلے، عزم اور مستقل مزاجی کے بل پر ہر رکاوٹ کو شکست دی۔
انہوں نے سٹیٹ لائف میں اپنے کیریئر کو سنوارنے کے لیے پاکستان منٹ کی سرکاری ملازمت کو خیرباد کہنا گوارا کیا۔ یہ فیصلہ یقیناً آسان نہ تھا، مگر ان کے عزم، جرأت اور خود اعتمادی کا عملی مظہر ثابت ہوا۔
نوّے کی دہائی میں محمد حسین مرحوم کے ڈرائنگ روم میں رات گئے تک تاش کی محفلیں اکثر سجا کرتی تھیں۔ ان محفلوں کے مستقل شرکاء میں طارق صاحب، ریاض احمد (کلرک)، تجمل حسین، محمد اکرم مرحوم، ان کے بھتیجے خان محمد مرحوم اور مقصود عالم (فٹبالر) مرحوم شامل ہوتے تھے۔ طارق صاحب کی بذلہ سنجی، حاضر جوابی اور سنجیدہ انداز میں شگفتہ پیرائے سے حریف پر طنز کرنے کا منفرد اسلوب محفل کی جان ہوا کرتا تھا۔
طارق صاحب پاکستان منٹ ٹورسٹ کلب کے بھی نہایت سرگرم رکن رہے۔ کلب کے مختلف سیاحتی دوروں کے دوران ریاض احمد صاحب کے ساتھ ان کی دوستانہ نوک جھونک آج بھی یادوں کے دریچے وا کر دیتی ہے اور ماضی کی خوشگوار ساعتوں کو تازہ کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ طارق بھائی کو ہمیشہ صحت، تندرستی، خوشیوں اور درازیِ عمر سے نوازے، اور انہیں اسی طرح اپنے اہلِ خانہ اور احباب کے لیے باعثِ مسرت بنائے رکھے۔ آمین۔

اہ کو چاہیےاک عمر عصر ہونے تک۔اپنی کہانی کا اغاز غالب کے شعر سے کرہا ہوں۔پتہ نہیں الفاظوں کا استعمال صحیح کر پاؤں گا کہ ...
02/08/2026

اہ کو چاہیےاک عمر عصر ہونے تک۔
اپنی کہانی کا اغاز غالب کے شعر سے کرہا ہوں۔پتہ نہیں الفاظوں کا استعمال صحیح کر پاؤں گا کہ نہیں لیکن پہلے ہی اپ تمام حضرات سے اور خاص کر کے اس شخصیت کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں ان سے ضرور معافی کا طلبگار رہوں گا۔میری زندگی کا ایک حصہ یہ سنتے سنتے گزر گیا کہ ہمارے خاندان پر ایک گھرانے کا بڑا احسان ہے۔اس گھرانے کو تم نے کبھی نہیں بولی یہ الفاظ اور یہ باتیں میں نے اپنے والد صاحب مرحوم کی زبانی کتنی دفعہ سنی ہے۔اس کا اندازہ مجھے بہت سالوں بعد ہوا کہ میرے والد صاحب کیوں یہ بات بار بار دہراتے تھے اور میرے ذہن نشین کرتے تھے۔کو چاہیے ایک عمر اثر ہونے تک۔یہ مصر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔خیر زندگی کی بہت سی خواہشیں ہیں جو اللہ تعالی نے پوری کرا دی۔اج ایک اور ہو گئی میجر مقصود جو قوی انکل کے بڑے بھائی اور جاوید انکل کے چھوٹے بھائی ہیں۔ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ بھی ان کے پرانے گھر کے سامنے جہاں وہ پیدا ہوئے اور اپنا بچپن گزارا چھ نمبر بلاک۔یوں ان سے میری دوسری ملاقات تھی۔پہلی ملاقات شادی ہال میں ہوئی تھی۔دوسری ملاقات کل ان کے گھر کے سامنے ہم دونوں نے کھڑے ہو کر پرانے قصے چھیڑ دیا۔ان کی باتوں میں ان کے انداز میں ایک ایسی اپنائیت چھلک رہی تھی جس کا تصور میں اپنے اس تحریری بیان میں لکھ رہا ہوں۔مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید میری زندگی میں کوئی ایسی شخصیت اثر انداز ہو رہی ہے جس کو شاید میں بھلا نہ پاؤں اور باتوں میں اتنی سادگی اتنی سحر انگیز شخصیت کہ میں ان کے چہرے کو دیکھ کر گم سم سا ہو گیا۔سونے پہ سہاگہ میرا بیٹا وہاں پر موجود تھا میں نے اپنے بیٹے سے جب تعارف کروایا تو بے ساختہ میرا بیٹے نے بھی یہی الفاظ بولے۔جو میرے والد صاحب بولتے تھے۔ہم تینوں حضرات وہی کوارٹر کے سامنے کھڑے ہو کر ماضی کی باتوں کو یاد کر رہے تھے۔مجھے احساس ہو رہا تھا کہ وہ دور بہت ہی خوبصورت اور بے مثال ہوگا جہاں پیسہ شہرت لالچ سے پاک ہوگا اور بالکل سادے لوگ اپنی زندگی گزارتے تھے۔میجر مقصود صاحب ہمارے پاکستان منٹ کی وہ شخصیت ہے جو اپنے دم پر ارمی میں سلیکٹ ہوئے پڑھائی لکھائی میں تو ان کے خاندان کے بارے میں بتانا ایسا ہے سورج کو چراغ دکھانے والی بات۔اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ پاکستان ارمی کی خدمات میں دے دیا۔اور اپنی زندگی بڑی اچھے طریقے سے گزر بسر کر رہے ہیں۔میجر نام کی شخصیت سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید بہت سخت طبیعت کے مالک ہوں گے لیکن بالکل الٹ ہے۔بہت ہی نفیس پیار والے دھیمے لہجے والے اپنی باتوں میں چھوٹے بڑے کا خیال رکھنے والے بچوں سے کس طریقے سے بات کرنی ہے اس کا اندازہ مجھے ان کی باتوں سے ہو گیا۔جن لوگوں نے اپنی زندگی کا حصہ مشکل دور میں گزارا ہوتا ہے ان کو قدر ہوتی ہے رشتوں کی ان کو اندازہ ہوتا ہے تعلقداری وفاداری کیا چیز ہے۔اج جب ہم منٹ کے کوارٹروں کو دیکھ کر تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہاں پر ہم ا کر رہے ہیں یا ہمارے بچے زندگی گزارے وہاں پر ہمارے بزرگ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بڑی خوشی اور پیار محبت کے ساتھ رہتے تھے۔تو معلوم ہوا ہمارا دور نفسا نفسی کینہ پروری حسد دھوکے بازی لالچ کا دور ہے۔جن دوروں میں پیار محبت خلوص ہوتا تھا وہ ایک کوارٹر میں بھی رہ کر اپنی زندگیوں کو اچھے طریقے سے گزارتے تھے اور خوش تھے اج اللہ تعالی نے پیسہ بھی دیا ہے رزق میں اضافہ بھی دیا ہے کھانے پینے کا وسیع انتظام ہے رہنے کو بڑے گھر ہے گرمی میں اے سی کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں سردیوں میں ہیٹر کے اگے بیٹھ جاتے ہیں مگر پھر بھی ہماری زندگیوں میں بے چینی مایوسی بے برکتی کیوں ہے۔اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم بے فیض لوگ ہیں۔پرانے لوگ اپنے بڑوں کی بڑی عزت کرتے تھے حلال حرام کی تمیز ہوتی تھی اج یہ سب چیزیں ختم ہو گئی۔بس میری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی میجر مقصود صاحب کو لمبی عمر عطا کرے۔اور ان کے بڑے بھائی جاوید انکل چھوٹے بھائی قوی انکل کو صحت والی زندگی عطا کرے اور عمر میں برکت عطا کرے امین انشاءاللہ پھر کبھی ان سے ملاقات ہوئی تو ان کی سٹرگل ان کی محنت ان کی قابلیت اور ان کی زندگی کے پہلو پر گفتگو ضرور کریں گے۔امین پاکستان منٹ جنم بھومی زندہ باد

پاکستان منٹ کی ایک یادگار شخصیت۔جن کو دیکھ کر ایک عجیب و غریب قسم کا لطف اتا تھا۔ویسے تو ان کا نام ظفر ہے لیکن پاکستان م...
29/07/2026

پاکستان منٹ کی ایک یادگار شخصیت۔جن کو دیکھ کر ایک عجیب و غریب قسم کا لطف اتا تھا۔ویسے تو ان کا نام ظفر ہے لیکن پاکستان منٹ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ہر ایک کا کوئی الٹا نام ہوتا تھا۔ان کی وجہ شہرت ان کا ایک الٹا نام ہی تھا۔پیار سے ان کو کنکٹو کہتے تھے۔جہاں تک میں جانتا ہوں اپنی مستی میں مست رہتے تھے۔اکثر منہ میں پان بھی رہتا تھا اور بڑی اچھی چال کے مالک تھے۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا۔اپ لوگ بتائیں کون کون انہیں جانتا ہے

Left to right Mr. Sakhwat Hussain Shah, Mr. M. A Dulha, Mr. Riaz Ahmed, Mr. Mir Fazluddin, can't recognize, Mr. Zahoor A...
24/07/2026

Left to right Mr. Sakhwat Hussain Shah, Mr. M. A Dulha, Mr. Riaz Ahmed, Mr. Mir Fazluddin, can't recognize, Mr. Zahoor Ahmed, Hafiz Zainul Abidin, Mr. Abdul Qadir Syed. 1968

21/07/2026

کمال کی یادداشت ہے آپ کی، سیف بھائی! ذہنوں سے تقریباً محو ہو جانے والی منٹ کالونی کی شخصیات کا تذکرہ کرکے آپ نے گویا آنکھوں کے سامنے پوری فلم چلا دی۔
بہرحال، سیف بھائی! منٹ کالونی کی دیگر ملٹی ٹیلنٹڈ اور ہمہ پہلو شخصیات کی طرح "مہان" کہلانے کے مستحق بھی آپ ہی ہیں۔ ہم سب آپ کے علم، غیر معمولی یادداشت اور خلوص کے معترف اور قدردان ہیں۔
اسی طرح گروپ ایڈمن، عاصم بھائی بھی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی انتھک محنت سے "پاکستان منٹ جنم بھومی" کے نام سے ایسا خوبصورت گلدستہ سجایا ہے، جس میں اگرچہ پھول مختلف رنگوں، خوشبوؤں اور ساخت کے ہیں، مگر ان میں سے ایک بھی پھول کم ہو جائے تو پورا گلدستہ ادھورا محسوس ہوتا ہے۔
یادوں کے دریچے وا ہوتے ہیں تو بےاختیار یہ اشعار ذہن میں گونجنے لگتے ہیں:
میں یادوں کا قصہ کھولوں تو...
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں...
میں گزرے پل کو سوچوں تو...
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں...
اب جانے کون سی نگری میں...
آباد ہیں جا کر مدت سے...
میں دیر رات تک جاگوں تو...
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں...
کچھ باتیں تھیں پھولوں جیسی...
کچھ لہجے خوشبو جیسے تھے...
میں شہرِ چمن میں ٹہلوں تو...
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں...

Address

Salim Parek Pakistan Mint
Lahore

Telephone

+923074270686

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پاکستان منٹ جنم بھومی ابھی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share