مسجد نبوی ماشاءاللہ
ISI Pakistan Army Power
Pakistan Army Power @ISI@
11/07/2019
28 جولائی 1999ء کو بھارتی فوج کے فیلڈمارشل مانک شا کو ایک ٹی۔وی انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ مانک شا پارسی تھے اورتب ان کی عمر 85 برس تھی۔ وہ اس انٹرویو کے نو برس بعد 94 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ 1971ء کی جنگ میں جب بھارتی افواج نے بنگلہ دیش میں پاکستان کو شکست دی تو مانک شا اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ وہ اس جنگ کے دو برس بعد 1973ء میں سبک دوش ہوئے۔
کرن تھاپر نے ایک ایسا سوال مانک شا سے کردیا جس کے جواب نے ان کروڑوں لوگوں کو ششدر کردیا جو اس وقت ٹی۔وی پر ان کا انٹرویو دیکھ رہے تھے۔ کرن تھاپر نے پوچھا کہ فیلڈمارشل صاحب آپ کو یہ جنگ جیتنے کا کتنا کریڈٹ جاتا ہے کیونکہ پاکستانی فوج نے وہ بہادری نہیں دکھائی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔
فیلڈمارشل مانک شا ایک لمحے میں ایسے پیشہ ور فوجی بن گئے جو اپنے دشمن کی تعریف کرنے میں بغض سے کام نہیں لیتے۔ مانک شا نے کہا، یہ بات غلط تھی۔ پاکستانی فوج بڑی بہادری سے ڈھاکا میں لڑی تھی لیکن ان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل دور جنگ لڑ رہے تھے جبکہ میں نے اپنی ساری جنگی تیاریاں آٹھ سے نو میل کے علاقے میں کرنا تھیں۔ ایک پاکستانی فوجی کے مقابلے میں میرے پاس پندرہ بھارتی فوجی تھے لہٰذا اپنی تمام تر بہادری کے باوجود پاکستانی فوج یہ جنگ نہیں جیت سکتی تھی۔
کرن تھاپر کو کوئی خیال آیا اور اس نے پوچھا کہ فیلڈمارشل ہم نے کوئی کہانی سنی ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے کومان پل کے محاذ پر بھارتی فوجیوں کے خلاف اتنی ناقابلِ یقین بہادری دکھائی کہ آپ نے جنگ کے بعد بھارتی فوج کا چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے اسے ایک خط لکھا جس میں اس کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے اتنے ناقابل یقین انداز میں لڑنے پر اسے خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔
مانک شا نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ بھارتی افواج ڈھاکا کی طرف پیش قدمی کررہی تھیں اور یہ پاکستانی کیپٹن ہماری فوج کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس اکیلے نے محاذ پر موجود بھارتی فوج کومشکلات میں مبتلا کرنا شروع کیا۔ ایک زوردار حملہ کیا گیا جو اس نے اپنی حکمت عملی کی بدولت پسپا کیا۔ بھارتی فوج نے دوسری دفعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے اس محاذ پر پہلے سے بھی بڑا حملہ کیا لیکن کیپٹن احسان ملک نے انھیں ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔ بھارتی فوج نے آخر اس محاذ پر تیسرا حملہ کیا تو تب کہیں جاکر انھیں کامیابی ہوئی۔ مانک شا بڑا حیران تھا کہ آخر اتنی بڑی بھارتی فوج کے حملے کے سامنے کون تھا جو شکست ماننے کو تیار نہیں تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے ان کی تمام کوششوں اور حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بچا یا لڑتا ہوا مارا گیا۔
جنگ ختم ہوگئی۔ جنرل نیازی مانک شا کے آگے ہتھیار ڈال چکے تھے لیکن مانک شا کا ذہن اس پاکستانی کیپٹن کی بہادری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مانک شا ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے ایک فاتح جنرل کی طرح بھارت واپس آیا۔ اپنے دفتر جاکر جو اس نے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ کاغذ قلم اٹھا کر کیپٹن احسان ملک کے نام ایک ذاتی خط لکھا اور اسے اپنے ملک کے لیے اتنی بہادری اور بے جگری سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ خصوصًا ان حالات میں کہ جب پاکستانی فوج کے پاس بھارت کے سامنے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ خط اس نے پاکستان کی فوج کو بھیجا کہ یہ اس بہادر کیپٹن کو دیا جائے۔
مانک شا نے اسی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انھیں بلا کر کہا تھا کہ آپ پاک فوج میں شامل ہو جائیں لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اب وہ بھارتی فوج کا حصہ تھے اور اپنے آپ کو بھارتی سمجھتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے اب ایک بھارتی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔
1971ء کی جنگ کو آج چالیس برس گزر گئے ہیں۔ آپ، میں اور ہماری نسلیں کیپٹن احسان ملک کے نام سے واقف تک نہیں۔ ایک ایسا کیپٹن جس کی بہادری نے فیلڈمارشل مانک شا کو اتنا متاثر کیا تھا کہ جنگ کے تیس برس بعد بھی 1999ء میں کرن تھاپر کو دئیے انٹرویو میں اس کا نام تک یاد تھا۔ جب کہ اس بہادر کیپٹن کا نام ہم نے اپنی کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا اور نہ ہی ہمارے بچے پڑھیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے جو اپنی ساری زندگی اس وطن کی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ جو جیتے ہیں تو دولت کی خاطر اور مرتے ہیں تو دولت کی خاطر۔ جو امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر۔ اور جب وہ اقتدار کی ہوس میں لڑتے ہوئے ”شہید“ ہو جاتے ہیں تو ان کا نام تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ جبکہ کیپٹن احسان جیسے سپاہیوں کی حب الوطنی اور بہادری کے قصے ہم دشمنوں کی زبان سے سنتے ہیں۔
PS : Capt Ehsan Malik from 31 Baloch was awarded Sitara e Jurrat in 1974 on his repatriation from India. He retired as a full colonel.
09/03/2019
ایک رات خبر آتی ہے کہ بھارت سے کچھ جاسوس پاکستان میں داخل ہونے والے ہیں ۔
پھر ان جاسوسوں کا انتظار کیا جاتا ہے آخر کار وہ جاسوس آ ہی جاتے ہیں ہمارے گمنام مجاہد انہیں پکڑ لیتے ہیں جب تفتیش کی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے ان کے پاس کوئی
انفارمیشن نہیں ہے سوائے ایک نمبر کے
جس پر انہوں نے پاکستان پہنچ کر کال کے زریعے بتانا تھا کہ ہم پہنچ گئے،
وہ نمبر بھی کسی یورپی ملک کا ہوتا ہے گمنام اسی نمبر کی مدد سے ملک دشمنوں تک پہنچتے ہیں اور ان پر کڑی نگرانی شروع کر دی جاتی ہے
ایک گمنام لالچی بن کر ان کی ایک جاسوسہ کو گھیرتا ہے وہ گمنام اسے اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے.
جب اس جاسوسہ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو ایٹمی پلانٹ کا سیکورٹی مینجر ہے ہے وہ اندر ہی اندر بہت خوش ہوتی ہے جو خود ایک ملک غدار کے گھر میں رہے رہی ہوتی ہے ۔
وہ گمنام خود کو لالچی ظاہر کرتا ہے اور وہ جاسوسہ اس گمنام کی ملاقات اس غدار سے کرواتی ہے جس کے گھر رہے رہی ہوتی ہے ۔
وہ سب بہت ہی خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے شکار کر لیا ہے اب ہم بہت جلد پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کو تباہ کر دیں گے لیکن انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ
وہ گمنام ہیروز کی نگاہ میں ہیں ان کی ایک ایک حرکت گمنام نوٹ کر رہے ہیں
ایک دن وہ اس گمنام کی ملاقات بھارتی کمانڈوز اور تربیت یافتہ جاسوسوں سے کرائی جاتی ہے وہ اس گمنام کو پیسے کا لالچ دیتے ہیں
اور کہتے ہیں ہم ایٹمی پلانٹ تک جائیں گے لیکن تم فلاں راستے سے پوری سیکورٹی یہ جتنا ممکن ہو سکے ہٹا لو گے یہ پھر تم کچھ دن کی چھٹی کی درخواست دے کر سکوں کریں ہمیں راستے کا نقشہ دے دیں ۔
وہ گمنام کچھ دن کی چھٹی کی درخواست دیتا ہے جسے قبول کر لیا جاتا ہے.
لیکن وہ چھٹی بھی محض ایک کھیل ہی ہوتا ہے
وہ اسے پچاس لاکھ ایڈوانس دیتے ہیں جیسے وہ گمنام بخوشی قبول کر لیتا ہے اور ان کی بات مان لی جاتی ہے
آخر وہ رات آ ہی جاتی جس کا گمنام ہیروز کو بھی ب صبری سے انتظار ہوتا ہے اور دشمن کو بھی ب صبری سے انتظار ہوتا ہے ۔
وہ رات دوسری راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی کالی تھی.
ملک دشمن اپنی تیاری کے ساتھ رات کو نکلتے ہیں اور
ایٹمی پلانٹ کے تقریباً دس کلومیٹر دور سے وہ پیدل سفر
شروع کر دیتے ہیں جیسے جیسے وہ
قریب ہوتے جاتے ہیں ان کی خونخوار آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی جاتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ عنقریب وہ
گمنام ہیروز کی گرفت میں ہونگے
جب تقریباً 5 کلومیٹر راستہ طے کر لیا جاتا ہے اور وہ مسلسل آگے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو اچانک ہی
ان کی چاروں سے سرچ لائٹ چلتی ہے جس آنکھیں ہی چندھیا جائیں؟
ابھی ملک دشمن سمجھ ہی رہے ہوتے ہیں کہ یہ کیا ہوا
گمنام ہیروز انہیں آ گھیرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے
وہ سب ملک دشمن گمنام ہیروز کے شکنجوں میں اس طرح آ چکے تھے کہ اگر وہ ہلکہ سا بھی ہلتے تو وہ موت کی وادی میں ہوتے؟
ان سب کو جب تفتیش سنٹر پہنچایا جاتا ہے تو آگے وہی گمنام ہیرو ویلکم کہتا ہے.
اس کے الفاظ کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ
ویلکم ٹو کہوٹہ؟
جب دشمنوں کی آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوتی تو
اسے سامنے کھڑا دیکھ کر اور ان کے پیسے ہی جھوٹ جاتے ہیں ۔
وہ دن اور آج کا دن پھر کسی نے کہوٹہ کی طرف جانے کی تکلیف نہیں کی ۔
یہ تھا ایک مختصر سا تعارف اپنے گمنام مجاہدوں کا ۔
جو میں نے ساغر صاحب کی ایک کتاب میں پڑھا تھا
سوچا آپ کو بھی مختصر بتاؤں ۔
اگر ہم سکوں سے سوتے ہیں تو اس کے پیچھے
ہمارے گمنام محافظوں کا جاگنا ہوتا ہے ۔
.
پاک آرمی زندہ باد
گمنام محافظ زندہ باد
پاکستان بائیندہ باد ۔
کاپی پیسٹ
31/01/2019
31/01/2019
Proud ISI Pakistan
21/11/2018
Eid Milaad ual Nabi S.A.W Mubarak ho
09/11/2018
Happy Birthday
09/11/2018
Happy Birthday Azeem Insan
09/10/2018
ٹیکس خور فوج۔۔۔!!
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز
ہمارے ٹیکسوں پر پلتی فوج۔۔ہمارے ٹیکسوں سے لی گئی بندوقیں۔۔ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتی فوج۔۔ہمارے ٹیکس،ہمارے ٹیکسوں وغیرہ وغیرہ
یہ گردان عام سنی ہوگی آپ نے مگر حساب نہیں کیا ہوگا۔۔چنانچہ آج میں نے سوچا آپ احباب کے سامنے افواج کی ٹیکس خوری کا بھانڈہ پھوڑ ہی دوں۔۔۔!!
پہلے پہلے تو یہ بھی رٹ لگائی گئی تھی کافی عرصہ کہ فوج 70 سے 80 پرسنٹ بجٹ کھا جاتی ملک کا۔۔خیر جب اس چول کے جواب میں ان دانشور حضرات کو فگرز نکال کر دکھائے گئے تو بوتھا شریف بند ہو گیا۔۔کیونکہ لیٹیسٹ بجٹ میں تمام تر انکریمنٹ لگنے کے بعد بھی ٹوٹل کا 18 پرسنٹ تھا جو دفاعی بجٹ کے لیئے مختص کیا گیا۔۔۔۔چلیں اسی کو لے کر چلتے ہیں کہ ان 18 سے کیا کیا گلچھرے اڑاتی یہ فوج کیا کرتی ان 18 روپے میں۔۔
8 لاکھ فوج کی نقل و حرکت کے لیئے گاڑیاں ان 18 روپے میں
ہزاروں گاڑیوں کا فیول ان 18 روپے میں
ہزاروں گاڑیوں کی مینٹینس/ریپیرنگ ان 18 روپے میں
میڈیکل ان 18 روپے میں
ادوایات ان 18 روپے میں
مشینری ان 18 روپے میں
میزائل ان 18 روپے میں
راکٹ ان 18 روپے میں
بمب ان 18 روپے میں
بندوقیں ان 18 روپے میں
گولیاں ان 18 روپے میں
ٹینک ان 18 روپے میں
توپیں ان 18 روپے میں
مارٹر ان 18 روپے میں
رہائیشیں ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوج کا کھانا پینا ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوج کی رہائش ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوج کے یونیفارم ان 18 روپے میں
بیرکوں/کیمپوں کی تعمیر و مرمت ان 18 روپے میں
فوجی دفتروں کی کرسی سے لے کر پینسل تک تمام فرنیچر ان 18 روپے میں سٹشنری ان 18 روپے میں
تمام تر فوجی جوانوں کی زمینی،ہوائی اور بحری ٹریننگ ان 18 روپے میں
موبائل اور فیلڈ فون سے لے کے واکی ٹاکی تک ساری کمیونیکیشن ان 18 روپے میں
سٹیمپ سے لے کر کمپیوٹرز تک کا سامان ان 18 روپے میں
فائیٹر جیٹ ان 18 روپے میں
گن شپ ہیلی کاپٹر ان 18 روپے میں
بحری جہاز تک ان 18 روپے میں
ان سب کا فیول ان 18 روپے میں
فوجی بیسز،رن وے، ہیڈ کوارٹرز تمام تر انفراسٹرکچر ان 18 روپے میں
انٹیلیجنس کے سیٹ اپ ان 18 روپے میں
ایجنسیز کا خر،چہ ان 18 روپے میں
بیرون ملکی کورسز ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوجیوں کی تنخواہیں ان 18 روپے میں
اچھا سنیئے سنیئے۔۔۔یہ کچھ بھی نہیں بخدا یہ کچھ بھی نہیں یہ وہ تھا جو بچہ بچہ جانتا،یہ وہ تھا جو ایک ایک سویلین جانتا ہے،فوج کے خرچے دفاع کے خرچے کیا ہیں،ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کیسے ہوتی ہم کیا جانیں،تم کیا جانو۔۔۔تم دو ٹکے کے فیسبکی دانشوڑ جسے فوجی ٹریننگ کے دوران تیس سیکنڈ میں ضائع ہو جانے والے پیراشوٹ کی قیمت تک نہیں معلوم تم کیا جج کرو گے،وطن عزیز کی حفاظت پر آنے والے خرچ کو ایٹمی اثاثوں کی حفاظت پر آنے والے خرچ کو۔۔اچھا چھوڈو خرچ کو، خرچے کو تمہاری اتنی اوقات نہیں کہ تمہیں بتایا جائے تمہیں حساب دیا جائے۔۔۔
بات کرتے ہیں کام کی سروس کی،فوج کیا کرتی۔۔۔
فوج بارڈ پر کھڑی۔۔
فوج سمندر میں اتری۔۔
فوج فضا میں بلند۔۔
فوج سیاچن کی بلند وبالا چوٹیوں پر
فوج سبی کی کی تپتی ہوئی دھوپ میں
دہشتگردوں کے خلاف جانیں گنواتی یہ فوج
انڈیا،امریکہ،اسرائیل کے خلاف محاذ آرا یہ فوج
عالمی صیہونی طاقتوں کے نشانے پر یہ فوج
سر زمین پاک کے اٹیمی اثاثوں کی حفاظت کرتی یہ فوج
جن سیاستدانوں کے تم تلوے چاٹتے ان کی محافظ یہ فوج
آپریشن ضرب عضب میں جانیں دیتی یہ فوج
آپریشن راہ نجات میں قربان ہوتی یہ فوج
آپریشن خیبر ون،ٹو،تھری،فور کرتی یہ فوج
آپریشن رد الفساد میں لڑتی یہ فوج
زلزلے میں فوج
سیلاب میں فوج
بارشوں میں فوج
طوفان میں فوج
حادثات میں فوج
الیکشن میں فوج
مردم شماری میں فوج
ریسکیو میں فوج
پھر بھی تم بکواس کرتے ہو فوجی پر،،
اس فوجی پرجو اپنی خوشیاں قربان کرتا ہے
اس فوجی پر جو ہر عید، شب برات میں سرحد پر کھڑا ہوتا
اس فوجی پر جسکو اپنی شادی کے لیئے بھی تین چھٹیاں ملتیں
اس فوجی پر جس کی منکوحہ بیوی سے پہلے بیوہ کہلانے لگی
اس فوجی پر جو تمہارے بچوں کی حفاظت کے لیئے 6 6 مہینے اپنے بچے کا چہرہ نہیں دیکھتا۔۔۔
تم بکواس کرتے ہو ان فوجیوں پر جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کے ایک ایک دن کی تنخواہ اس پاک سر زمین کے نام کی۔۔کہ کل تمہارے بچے پیاسے نہ مریں۔۔۔یہ کرتی فوج تمہارے ٹیکسوں سے۔۔۔
یہ ہے فوج۔۔۔!!جس پر تم بھونکتے کیونکہ تم 18 روپے دیتے ہو۔۔؟
نہیں ہر گز نہیں تم بھونکتے ہو،کیونکہ تمہیں اس بھونکنے پر ہڈی ڈالی جاتی ہے،اور سن لو انسان نما کتو مجھ ماسٹر محمد فہیم امتیاز سمیت ہر غیرت مند پاکستانی کی للکار سن لو ہماری کھلی جنگ ہے تم تمام سے جو بکواس کرتے دین حق پر،وطن عزیز پر اور اس پاک سر زمین کے بہادر سپوتوں یعنی افواج پاک پر اور ہاں یہ 18 روپے (18پرسنٹ) دے کر احسان نہیں کر رہے تم ایسے ہی جیسے باقی کے 82 روپے دے کر احسان نہیں کر رہے،،ذرا مانگو نہ ان 82 روپوں کا حساب۔۔۔وہ بھی تو تمہارے ٹیکسز ہیں۔۔۔
82 روپے جو تم سیاستدانوں کو دیتے ہو
جن کے بدلے وہ تمہارے بچوں کو گاڑیوں تلے روند جاتے۔۔جن کے بدلے وہ تمہارے زمینوں پر قبضے کر لیتے،،جن کے بدلے وہ تمہیں میں سے کئیوں کی بہن بیٹیوں کی عزتوں کو نوچ جاتے۔۔جن 82 روپے سے وہ کنالوں کے بنگلوں میں اپنی نسلوں کو عیش کرواتے۔۔جن کے بدلے وہ سالوں پوری دنیا میں عیاشیاں کرتے۔۔جس 82 پرسنٹ سے اربوں کھربوں کی جائیدادیں بناتے۔۔ادر تو تم لیٹ جاتے ہو ان کے سامنے تو تشریف رگڑتے ہو وہ تمہیں کتے کی طرح ذلیل کرتے اور تم سب جیئے جیئے کے نعرے لگاتے تمہارا بس نہیں چلتا کہ گلے میں پٹہ ڈال کر ان سیاستدانوں کے پیچھے پیچھے دم ہلاتے پھرو۔۔۔
تم حساب لو نہ ان 82 روپوں کا جو بیوروکریٹس کو دیتے۔جو تمہاری زمینوں میں کروڑوں کا غبن کرتے،جو تحصیلدار سارا سارا دن آفس میں بٹھا کے ذلیل کرتے،،جو کلرک دفتروں میں تم سے ہزاروں کی رشوت لیتے وہاں کیوں نہیں یاد آتا تمہیں ٹیکس وہاں کیوں کتے کی طرح زبان نکلی ہوئی ہوتی ہے تمہاری۔۔۔۔
تم حساب لو نہ ان 82 روپوں کا جو ڈاکٹروں کو دیتے
اس ڈاکٹر کو جس کے تم پاوں پڑتے ہو کہ آخری سانسوں پر اٹکے تمہارے بچے کو دیکھ لے اور وہ ٹھوکر مار کے کہتا میرے کلینک پر لے آو یا مرو۔۔
تم حساب لو نہ ان 82 روپے کا جو دیتے ہو پولیس والوں کو
ان میں وہ پولیس والے بھی ہوتے جو تم پر ناجائز مقدمات بناتے،جو تمہارے بوڈھے باپ کو گھر سے اٹھا کے لے جاتے،جو جھوٹے کیس بنا کے تشدد کرتے۔۔جو لاکھوں کی رشوت لے کر بھی سالوں تک ذلیل کرتے۔۔وہاں تو تمہاری صاب جی صاب جی بند نہیں ہوتی۔۔ان کے سامنے تو رالیں ٹپکا رہے ہوتے ہو۔۔ان کے سامنے تو جی حضوری ایسی جیسے باپ بنا لیا ہو انہیں۔۔ذرا کرو نہ بات ٹیکسز کی۔۔۔!!
(پورا محکمہ برا نہیں گندے انڈے ٹارگٹ ہیں)
چلیں چھوڈیں۔۔۔۔بات جو نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔۔۔
ختم کرتا ہوں مگر جاتے جاتے یہ بتا دوں کہ تم جن 18 روپے پر اچھلتے رہتے ہو وہ جنرل باجوہ کو نہیں دیتے، کہ لو باجوہ صاحب بانٹ دیں۔۔وہ بھی تم انہیں سیاستدانوں کو دیتے ہو جن کے دن رات تلوے چاٹتے ہو،،وزارت دفاع کو دیتے ہو،انہیں سیاستدانوں کو جنہیں باقی کے 82 روپے دیتے ہو اور دینے کے بعد الٹے لیٹ جاتے ہو۔۔۔
لیکن اب بس۔۔اب تمہاری بکواسات سننے والا کوئی نہیں کیونکہ یہ عوام پہچان چکی ہے اپنے محسنوں کو،اپنے محافظوں کو۔۔افواج پاک کو۔۔اور ان کے اندر موجزن پاک سرزمین کی محبت کو۔۔
پاکستان زندہ باد
افواج پاک ہمیشہ پائندہ باد
06/10/2018
*صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو*
دُنیا میں دُوعالمی جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ تیسری اور فیصلہ کُن جنگ ابھی ہونا باقی ہے جس کے لیے میدان سج رہا ہے۔یہ جنگ مسلمانوں ور یہودیوں کے درمیان ہوگی۔ اگر ہم دیکھیں تو دُنیا میں اس وقت دُو ممالک ہی خالص مذہب کی بنیاد پہ بنے ہیں ایک پاکستان اور ایک اسرائیل۔ پاکستان اسلام کے نظریہ پہ بنا اور اسرائیل کا قیام یہودیت کے نظریے پہ بنا۔
آپ خود غور کریں کہ دُونوں ممالک ایک دوسرے کے بدترین دشمن ہیں۔ یہ بات الگ اور قابلِ غور ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کبھی آمنے سامنے نہیں لڑے اسرائیل صرف ایک بار پاکستان سے پِٹ چکا تب سے اب تک انکے دلوں میں پاکستان کا خوف موجود ہے یہ آخری جنگ لڑیں گےآرماگیڈن، میں نے ایک بار کہا تھا کہ آپ خود پاکستان کو اتنا نہیں جانتے جتنا ایک اسرائیلی یا یہودی جانتا ہوگا۔
ان پہ یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اللہ نے وجود کیوں دیا حالانکہ ہماری بدقسمتی اور نااہلی ہے کہ ہم نہیں جانتے بلکہ اُلٹا پاکستان کو نقصان پہنچارہے ہیں۔تو دُنیا میں یہ دُو طاقتیں خاص طور پہ مذاہب کے نظریہ پہ وجود میں آئی ہیں تو کیا یہ ایسے ہی اتفاقاََہوگیا کہ آخری جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوگی اور یہاں پاکستان اسلام کی طرف سے اسرائیل دجال کی طرف سےتو کون کہتا ہے کہ پاکستان کوعام ملک ہے کون اس کی عظمت سے انکار کرسکتا ہے۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہے پاکستان۔پاکستان جس کو بنانے والے بھی چُنے ہوئے، جس کے بننے کادن بھی چُنا ہوا،جس کا جھنڈا چُنا ہوا، جس کے بننے کا مقام بھی چُنا ہوا۔ جس کے بننے کا مقصد چُودہ سُوسال پہلے بتایا جا چکا۔
جس کی بنیاد مضبوط کرنےمیں لاکھوں کلمہ گوں کا خالص خون، جس کی جنگ میں فرشتہ لڑنے کو آئیں، جس کو مٹانے والے خود مٹ جائیں، جس کے بچانے والے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارتیں پائیں ، جس کے ایک حصہ ٹوٹنے پہ اللہ کے پیارے حبیبﷺ افسردہ ہوجائیں،اس کے بننے سے 1400 سال پہلے پیارے نبی ﷺ کو مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں، جس سےاللہ اپنے عظیم گھر کی حفاظت کا کام لیں، دُنیا کی پہلی اسلامی مملکت جسے اللہ ایک بہترین ایٹمی طاقت دے ۔دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، دُنیا کے بہترین کمانڈوز، دُنیا کے کی بہترین افواج، دُنیا کا بہترین جنگی اور دفاعی نظام، دُنیا میں محلِ وقوع ایسا دیا کہ دُنیا رشک کرتی ہے، دریا اسے اللہ نے پہنچاکے دیے، سمندر اسے اللہ نے پہنچا کے دیے۔
پانی جیسی نعمت، سرسبز زمین، دُنیا کی ہر فصل اسے دی، چار کے چار موسم اسے دیے۔ ایسی طاقت دی کہ دُنیا میں پرائے تو پرائے اپنے تک بھی اس کے دشمن ہوتے ہوئے بھی اسکی طرف بُرا قدم بڑھانے کا سوچنے پہ بھی انکی رُوح کانپ جائے۔ یہاں سے ہزاروں میل دُور اللہ کے پاک گھر کی حفاظت کاکام جس سے اللہ لے۔ رُوس جیسی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کروائے، امریکہ اور اس کی اتحادیوں کو افغانستان میں دُھول چٹوائے۔ایک ارب سے ذیادہ والے ہندوستان کی چیخیں ساری دُنیا کوسنوائے۔ جس کے مجاہدوں کواللہ کے بنیﷺ خوارج سے ٹکرانے کا حکم دیں۔جس کے شہید افضل ترین شہید،جو انڈیا کو ایک کبوتر سے ڈرائے انکے میڈیا سے لیکر آرمی تک کو ذہنی مریض بنائے، جس کاچپڑاسی سے صدر تک سب چُور ایسے میں یہ نہ سمجھ پانا کہ کون ہے جو اس ملک کو چلا رہا ہے ،جس کے ہتھیاروں کا کوئی ثانی نہیں ۔ایسی ایسی ٹیکنالوجی ایسے ایسے ذہین لوگ اور چُنے ہوئے انجنیرزاور سائنسدان جنکی مثال نہیں۔ اسرائیل سے لے کر دُنیا میں بیٹھا ہر یہودی جس کا نام سُن کے کانپے، جسکی افواج ، ٹیکنالوجی، خفیہ اداروں کی دُنیا مثالیں دے۔جو ہر چُوٹ کے بعد نئی طاقت سے اُبھرے، ڈرون سے لیکر ایٹم بم تک کی ٹیکنالوجی جسے اللہ اپنی مدد آپکے دی۔
جس کی حفاظت اللہ کے فرشتے کریں، جسے غزوہ ہند کی فتح کی خوشخبری چُودہ سُوسال پہلے مل جائے، جولڑنے سے پہلے تیسری جنگ عظیم کا فاتح ٹھہرے، جس کا وجود مشرق کے وجود کی ضمانت، جس کا وجود مغرب کے لیے خوف کی علامت، کشمیر سے لیکر فلسطین کےدل کی آواز تمام مسلمانوں کی اُمیدوں کا محور ۔ ایسی طاقت ایسی نعمت سے دُھوکہ ایسی طاقت سے غداری ایسی نعمت کی ناشکری یہ ہمیں زیب نہیں دیتی ۔ اتنا سب گنوانے کے بعد بھی کسی کو یہ شک ہو کہ پاکستان کیاہے؟ پاکستان کیوں بنا؟تو پھر وہ جائے اور یہودیوں سے پُوچھے کہ پاکستان کیا ہے وہ آپکو اور بھی بہتر بتائیں گے کہ کیا ہے پاکستان۔ مانتا ہوں یہاں ظلم ہے، یہاں ناانصافی ہے ، یہاں بےروزگاری ہے، یہاں ناانصافی ہے،یہاں فحاشی ہے، یہاں دھوکہ ہے،یہاں لوڈشیڈنگ ہے، یہاں ہر بُرائی ہے مگر یہ قصور میراآپکا ہے پاکستان کا نہیں،پاکستان کی پاک سرزمین کا نہیں۔ اسے اللہ نے وجود صرف اور صرف اسی لیے ہی دیا ہے کہ اسی پاکستان نے دجال اور اسے حواریوں کو شکستِ فاش دینی ہے۔ اسی پاکستان سے اسرائیل ،امریکہ، انڈیا اور ان کے حواریوں نے پٹنا ہے۔ خدا کی قسم پاکستان کو اللہ نے جس مقصد کے لیے وجود دیا وُہ مقصد ضرور بالضرور اور ہر حالت، ہرقیمت میں پُورا ہوگا ہم رہیں یا نہ رہیں۔
اللہ اپنا کام لینے کے لیے کسی کا محتاج نہیں جیسے ہمارے حالات تھے وُہ صرف ہمارے اور پاکستان دشمنوں کے لیے اللہ کی ایک نشانی تھے کہ میں اسے نہیں مٹانا چاہتا تو تم کون ہو اسے مٹانے والے۔ہمارے لیے یہ نشانی تھی کہ میں نے جس مقصد کے لیے اسے بنایا ہے اس میں تمھارا ہونا نہ ہونا پاکستان کے وجود کے لیے کوئی معنیٰ نہیں رکھتا اس لیے ٹھیک ہوجاؤ اور اس ملک سے غداری پاکستان کی سرزمین کو نہیں ہمیں ہی چکانی پڑے گی-پاکستان کو اللہ نے بنایا ہے اس کا ذرہ ذرہ چُنا ہوا ہے اللہ نے اپنی حکمت اپنی عظیم نعمتوں میں چُنا ہے اسے۔
میں لکھتا جاؤں تو شاید اپنی پُوری زندگی میں نہ لکھ پاؤں کہ کیا ہے پاکستان۔ پاکستان رہے گا انشاءاللہ قیامت تک رہے گا۔ہم ٹھیک نہ ہوئے تو اللہ ہمیں مٹا کےکوئی اُور لے آئے گا جو اللہ کے اس عظیم مقصد کی تکمیل کرے گا اس لیے ہمارافرض ہے کہ ہمیں پاکستان سے محبت کریں تاکہ جس عظیم مقصد کے لیے اس ملک کو وجود ملا ہم اُس میں حصہ دار ہوں۔اپنے چاروں طرف نظر دُوڑا لیں کے کیا حشر ہورہا ہے پاکستان کے دشمنوں اور غداروں کا۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایسی ریاست ایسے ملک کا شہری ہوں جسےاللہ نے اپنےایک خاص اور عظیم مقصد کےلیے چُنا ہے الحمدللہ میں پاکستان ہوں .
سلام پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Faizul Dother
Lahore
0092
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |