19/04/2025
نالے کی مچھلی سے پرہیز کریں یہ صحت اور شریعت دونوں کے خلاف ہے
ایک خاص قسم کی مچھلی جو گندے نالوں، گٹروں اور بدبودار پانی میں پلتی ہے، اکثر بازاروں میں بیچ دی جاتی ہے۔ یہ مچھلی دیکھنے میں بڑی اور سستی ہوتی ہے لیکن اس کا کھانا صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے
اس مچھلی سے کیوں بچیں؟
یہ مچھلی ہر قسم کی گندگی کھاتی ہے، جیسے:
مرے ہوئے جانور
کوڑا کرکٹ
چوہے اور مرغی کے بچے
پانی میں بہنے والی نجاست
یہ چیزیں مچھلی کے جسم میں زہریلے اثرات پیدا کرتی ہیں، جو انسان کے جسم سے باہر نہیں نکلتے اور کئی خطرناک بیماریوں جیسے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
ایک اور بات… اس کے جسم پر چھلکا نہیں ہوتا
جس مچھلی کے جسم پر چھلکے نہیں ہوتے، وہ زیادہ جراثیم اور بیکٹیریا رکھتی ہے۔ سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ایک گرام گوشت میں لاکھوں جراثیم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مچھلی کھانے سے بہت سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔
اسلامی لحاظ سے کیا حکم ہے؟
اسلام میں اس جانور یا مچھلی کو کھانے سے منع کیا گیا ہے جو گندگی کھا کر بڑی ہوئی ہو۔ ایسی مچھلی کو "جَلالہ" کہا جاتا ہے۔ اگر اسے صاف پانی میں کچھ دن رکھا جائے، تو شریعت اجازت دیتی ہے بشرطیکہ اس کا رنگ، خوشبو اور مزاج تبدیل ہو جائے۔ لیکن یہ مچھلی اتنی زیادہ گندگی چوس لیتی ہے کہ صاف پانی میں رکھنے سے بھی صاف نہیں ہو پاتی۔
آخر میں ایک بات یاد رکھیں
نہ خود کو نقصان دیں، نہ اپنے بچوں کو
اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:
نہ خود کو نقصان پہنچاؤ، نہ دوسروں کو
لہٰذا ایسی مچھلیوں سے بچیں جو نالوں میں پلتی ہیں، سستی ضرور ہوتی ہیں مگر قیمت آپ کی صحت سے چکائی جاتی ہے