سب سے پہلے کالاباغ

سب سے پہلے کالاباغ

Share

Kalabagh a town and union council of Mianwali District in the Punjab province of Pakistan. It is par What is yours? Consider offering babysitting/nanny services.

How many times have you thought to yourself, “I could really use some extra cash”? Whether you’re in a short-term financial bind or you just want to save up for something big, there are many ways to make money over and above working your day job. I was able to pay off $52,000 of debt in 18 months using some of the ideas in this article including this website which now makes over $6,000 per month o

09/02/2026

پینے کے پانی میں Coliforms (کولی فارم) بیکٹیریا کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ پانی پینے کے لیے محفوظ نہیں ہے اور اس میں فضلے (sewage) یا دیگر ذرائع سے جراثیم شامل ہو چکے ہیں۔ اگر ان کی تعداد 21 سے زیادہ ہو، تو یہ آلودگی کی سنگین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔
اس صورت میں درج ذیل بیماریوں اور طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
1. پیٹ اور آنتوں کی بیماریاں (Gastrointestinal Illnesses)
یہ سب سے عام مسائل ہیں جو آلودہ پانی پینے کے فوراً بعد یا کچھ گھنٹوں میں ظاہر ہوتے ہیں:
* ہیضہ (Cholera): شدید الٹیاں اور پانی کی طرح دست، جس سے جسم میں پانی کی خطرناک حد تک کمی ہو سکتی ہے۔
* ٹائیفائیڈ (Typhoid Fever): تیز بخار، پیٹ میں درد اور کمزوری۔ یہ "Salmonella typhi" نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے جو اکثر ایسے پانی میں پایا جاتا ہے۔
* اسہال اور پیچش (Dysentery/Diarrhea): پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور پاخانے کے ساتھ خون یا بلغم کا آنا۔
2. وائرل انفیکشنز (Viral Infections)
کولی فارم کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ پانی میں وائرس بھی ہو سکتے ہیں:
* ہیپاٹائٹس A اور E: یہ جگر کی بیماریاں ہیں جو آلودہ پانی سے پھیلتی ہیں اور یرقان (آنکھوں اور جلد کا پیلا ہونا) کا سبب بنتی ہیں۔
* پولیو (Polio): اگرچہ اب یہ کم ہے، لیکن آلودہ پانی اس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔
3. پیٹ کے کیڑے اور طفیلی جراثیم (Parasitic Infections)
* Giardiasis: اس سے پیٹ پھولنا، گیس اور چکنائی والے دست لگ سکتے ہیں۔
* Cryptosporidiosis: یہ طویل عرصے تک رہنے والے اسہال کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر بچوں اور کمزور قوت مدافعت والے افراد میں۔
عام علامات جن پر نظر رکھنی چاہیے:
اگر آپ نے ایسا پانی پیا ہے، تو ان علامات کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں:
* متلی اور بار بار الٹیاں آنا۔
* پیٹ میں شدید درد یا مروڑ۔
* بخار اور کپکپی۔
* سر درد اور شدید تھکاوٹ۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
* پانی ابالیں: پانی کو کم از کم 1 سے 3 منٹ تک اچھی طرح ابال کر استعمال کریں۔ یہ جراثیم کو مارنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
* کلورین کا استعمال: پانی صاف کرنے والی گولیاں یا کلورین ڈراپس کا استعمال کریں۔
* فلٹریشن: واٹر پیوریفائر یا RO پلانٹ کا استعمال کریں جو بیکٹیریا کو روک سکے

09/02/2026

I've just reached 7K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each and every one of you. 🙏🤗🎉

Photos from ‎سب سے پہلے کالاباغ‎'s post 18/03/2022

"شہروں کے نام کیسے پڑے"

اپنے وطن سے محبت ہو تو اس کے شہروں سے محبت ہونا فطری بات ہے۔ پاکستان کے سارے شہر ہمارے لیے اتنے ہی پیارے اور محترم ہیں جتنا کہ ہمیں اپنا شہر۔ ان شہروں کے نام کیسے رکھے گئے۔ اس حوالے سے ایک معلوماتی مضمون پیشِ خدمت ہے۔

اسلام آباد

۱۹۵۹ء میں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مسلمانانِ پاکستان کے مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

راولپنڈی

یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

کراچی

تقریباً ۲۲۰ سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اِس کا نام کلاچی پڑ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ ۱۹۲۵ء میں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۹ء تک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

حیدرآباد

اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدرآباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے ۱۷۶۸ء میں رکھی۔ ۱۸۴۳ء میں انگریزوں نے شہر پر قبضہ کرلیا۔ اسے ۱۹۳۵ء میں ضلع کا درجہ ملا۔

پشاور

پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑ گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

کوئٹہ

لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ

اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے

سرگودھا

یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ ۱۹۰۳ء میں باقاعدہ آباد ہوا۔

بہاولپور

نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ملتان

کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ ۴ ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ’’کیساپور‘‘ بتایا جاتا ہے۔

فیصل آباد

اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اُس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

رحیم یار خاں

بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔

ساہیوال

یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ’’منٹگمری‘‘ کہلایا۔ نومبر ۱۹۶۶ء صدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا ۔

سیالکوٹ

۲ ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

گوجرانوالہ

ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے ۱۳۶۵ء میں آباد کیا اور اس کا نام ’’خان پور‘‘ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔

شیخوپورہ

مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ’’شیخو‘‘ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

ہڑپہ

یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے ۱۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو ۵ ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ’’ہری روپا‘‘ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ’’ہری روپا‘‘ کو ہڑپہ بنا دیا۔

ٹیکسلا

گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے ۲۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ۳۲۶ قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا تھا۔

بہاول نگر

ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

مظفر گڑھ

والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ ۱۸۸۰ء تک اس کا نام ’’خان گڑھ‘‘ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

میانوالی

ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ’’میانوالی‘‘ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ڈیرہ غازی خان

پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

جھنگ

یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ’’جھگی سیال‘‘ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

عبدالحکیم

جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے

23/03/2021

کالاباغ کا رہائشی احمد گل ولد میاں گل کافی عرصہ سے کراچی میں قیام پذیر تھا اور کچھ عرصہ قبل کراچی میں ہی وفات پا گیا۔ احمد گل مرحوم نے 600 گز کا ایک پلاٹ خرید رکھا تھا، جس کی مالیت 1 کروڑ روپے سے بھی زائد ہے۔

کالاباغ میں اگر مرحوم کے کوئی بھتیجے ہیں تو وہ آرمی جوان سے جلد از جلد رابطہ کریں، اس جوان کے پاس خریدی گئی زمین کا گواہ اور تمام دستاویزات بھی موجود ہیں۔

آرمی جوان انوارلحق
موبائل نمبر : 03139881508

13/11/2019

#فراڈیوں اور IT چوروں سے ہوشیار
عوام کی معلومات کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
شکریہ

07/11/2019


05/11/2019

امداد ہسپتال کالاباغ روڈ کوٹ چاندنہ

04/11/2019



کالاباغ پل کچھ عرصہ پہلے تعمیر ہوا انتہائی شاندار افتتاح کے بعد پل کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ ہر آنے جانے والی گاڑی پہ پرچی (چنگی) دینا ضروری قرار دے دیا گیا۔ چنگچی والے کو بھی معافئ نہیں ہے۔ دن کی کتنی انکم ہوتی ہے واللہ عالم۔
لیکن ٹھیکے دار صاحب سے یا جنہوں نے یہ ٹھیکہ کرایا ہے کوئئ پوچھنے والا نہیں کہ ہم چنگی دیتے ہیں تو یہ لگتی کہاں ہے۔؟؟
پل پر موجود جمپ اپنی پہلے والی حالت انتہائی تبدیل کر چکے ہیں۔ ان پہ لگایا گیا رنگ بالکل ختم ہو چکا ہے، کیٹ لائٹس بھی غائب ہیں رات کو یہ اندھے جمپس انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔رات کو نظر آنا بہت مشکل ہوتا ہے ان جمپس کا۔
اول تو ان جمپ کے ساتھ یہ سائن بورڈ شروع دن سے ہی لگنے چاہیے تھے لیکن اگر بھول گئے تھے تو مہربانی کر کے ابھی لگا دیں۔ اتنے زیادہ مہنگے بھی نہیں ہونگے یہ آپکی ایک دن کی چنگی کا ایک فیصد بھی خرچہ نہیں آئے گا ان پہ۔
اور ان جمپس کو دوبارہ رنگ کروا دیں ایک ڈبہ ییلو کلر اور ایک ڈبہ وائٹ کلر کا لگے گا وہ بھی کوئی اتنا مشکل نہیں ھے۔
یہ چھوٹے چھوٹے دو کام کر کے کالاباغ کی عوام کو شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

شکریہ۔

Report by: Mehar Ali

26/10/2019

نمبر 14 بارود میں آگ لگ گئی
دھوئیں سے 19 مزدور بےہوش ہو گئے
تمام کو کالاباغ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جبکہ 2 مزرودوں کی حالت تشویشناک ہے باقی سب نارمل ہیں۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Mianwali?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Haji Muzaffar Petrolium Services/Kot Chandna Road, Kalabagh
Mianwali
42360