Would that

Would that

Share

would that all the population of the earth may Allah be united under one flag of islam and live with love and prosperity.

A dream of the united Earth 🌍....
کاش کہ اس زمین کی تمام تر روحیں الست بربکم کے حکم کے تحت ایک اللّٰہ کی اطاعت پر متحد ہوں... Just an ordinary person who wants to live with love , care and respect with all my planet fellow's a dream of united Earth 🌎

16/02/2026

Motivational reel

16/02/2026

Beautiful lesson of Al-Quran of replying hard talk of someone

27/12/2025

شعور کی بقا، فری وِل کی سائنس اور دعا کا حیاتیاتی راز
کیا ہم محض کٹھ پتلی ہیں یا تقدیر کے معمار؟
انسانی تاریخ کی گہرائیوں میں ایک سوال مسلسل گونجتا رہا ہے—
کیا انسان واقعی بااختیار ہے، یا وہ محض تقدیر کے اندھے ہاتھوں میں بندھی ایک ڈور ہے؟
کیا ہمارے فیصلے ہماری اپنی مرضی کا نتیجہ ہیں، یا ہم ایک ایسے ڈرامے کے کردار ہیں جس کا اسکرپٹ ازل میں لکھا جا چکا ہے؟
یہ سوال سقراط کے زہر بھرے پیالے سے لے کر خیام کے فکر انگیز اشعار تک، ہر دور کے اذہان کو بے چین کرتا رہا ہے۔ مذاہب—اور بالخصوص اسلام—ہمیشہ یہ اعلان کرتے آئے ہیں کہ دعا تقدیر کا رخ موڑ دیتی ہے، صدقہ مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے، اور انسان وہی پاتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔
مگر جدید مادّی ذہن، جو صدیوں سے ہر شے کو محض کیمیائی تعامل سمجھتا آیا ہے، ان حقائق کو جذباتی تسلی یا قدیم کہانیاں قرار دے کر رد کرتا رہا۔
لیکن اکیسویں صدی میں سائنس نے خود اپنے یقینوں پر سوال اٹھا دیے۔
جب تحقیق ایٹم کے مرکز تک پہنچی، جب کوانٹم فزکس نے مادّے کو امکانات میں تحلیل کر دیا، اور جب ایپی جینیٹکس نے یہ ثابت کیا کہ جینز جامد نہیں بلکہ قابلِ تبدیلی کوڈ ہیں—تو سائنس کو یہ ماننا پڑا کہ انسان محض جینز اور ماحول کا غلام نہیں۔
وہ سب کچھ جسے کبھی “ایمان” کہا جاتا تھا، دراصل انسانی وجود کو چلانے والا ایک نہایت پیچیدہ حیاتیاتی اور شعوری نظام نکلا۔
فری وِل: وہ امانت جو انسان کو دی گئی
کلاسیکل فزکس کے مطابق کائنات ایک مشین تھی—جہاں سب کچھ پہلے سے طے تھا۔
مگر کوانٹم میکینکس نے اس تصور کو توڑ دیا۔
یہ انکشاف ہوا کہ کائنات امکانات کا سمندر ہے، اور جب تک کوئی “مشاہدہ” نہ ہو، حقیقت حتمی شکل اختیار نہیں کرتی۔
یہاں سائنس اور روحانیت ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں، کیونکہ انسان کا شعور ہی وہ مشاہدہ ہے جو امکان کو حقیقت میں بدلتا ہے۔
یہی وہ فری وِل ہے جو انسان کو عطا کی گئی—
یہ اختیار کہ وہ اپنی نیت، توجہ اور شعوری ہم آہنگی کے ذریعے زندگی کی سمت طے کر سکے۔
لیکن اس اختیار کو استعمال کرنے کے لیے صرف خواہش کافی نہیں۔
اس کے لیے ذہن اور دل کی ہم آہنگی درکار ہے—اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام کا پورا نظامِ حیات ایک سائنسی تربیتی پروگرام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
دعا: محض الفاظ نہیں، ایک حیاتیاتی عمل
جب انسان سچے دل سے دعا کرتا ہے، تو یہ محض جذباتی لمحہ نہیں ہوتا۔
نیورو سائنس کے مطابق اس وقت دماغ کے وہ حصے متحرک ہوتے ہیں جو شعوری کنٹرول، ہمدردی اور جذباتی توازن کے ذمہ دار ہیں، جبکہ “انا” سے جڑے حصے خاموش ہو جاتے ہیں۔
اس کیفیت میں اسٹریس ہارمون کم ہوتے ہیں، شفا دینے والے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، اور دماغ اپنی ساخت تک بدلنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دعا محض سکون نہیں دیتی—بلکہ ذہنی زخموں کی مرمت بھی کرتی ہے۔
دل اور دماغ جب ایک ہی ردھم میں آ جاتے ہیں تو انسان ایک مضبوط شعوری سگنل بن جاتا ہے—
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں مذہب کہتا ہے:
“دعا تقدیر بدل دیتی ہے”
یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جسے ہم صدیوں تک سمجھے بغیر استعمال کرتے رہے۔
ایپی جینیٹکس: تقدیر جامد نہیں
جدید سائنس اب تسلیم کرتی ہے کہ جینز فیصلہ نہیں سناتے، بلکہ امکانات دیتے ہیں۔
سوچ، احساسات اور مسلسل روحانی مشقیں ان جینز کے سوئچ آن یا آف کر سکتی ہیں۔
یعنی اگر بیماری، خوف یا کمزوری وراثت میں ملی ہو، تو بھی انسان مکمل بے بس نہیں۔
اس کے پاس شعوری تبدیلی، دعا اور مضبوط ارادے کے ذریعے اپنی اور آنے والی نسلوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔
توحید: ذہنی اتحاد کا فارمولا
متعدد خداؤں کا تصور—چاہے وہ خوف ہو، پیسہ ہو یا معاشرہ—انسانی ذہن کو بکھیر دیتا ہے۔
جبکہ توحید ذہن کو یکجا کرتی ہے۔
“لا الہ الا اللہ” دراصل شعور کو مرکزیت دیتا ہے۔
یہ بکھری ہوئی توانائی کو ایک مضبوط سمت میں بہا دیتا ہے—
اور یہی وہ حالت ہے جس میں انسان اپنی اصل قوت پہچانتا ہے۔
عبادات: شعور کی ٹریننگ
نماز فوکس کی مشق ہے
سجدہ جسم اور ذہن کو زمین سے ہم آہنگ کرتا ہے
روزہ نفس کو کمزور اور ارادے کو مضبوط کرتا ہے
زکوٰۃ مادّی گرفت کو ڈھیلا کرتی ہے
اور جدوجہد (جہاد) انسان کو جمود سے نکال کر نمو کی طرف لے جاتی ہے
یہ سب مل کر انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اپنی فری وِل کو درست طریقے سے استعمال کر سکے۔
نتیجہ
یہ دین محض رسومات کا مجموعہ نہیں۔
یہ انسان کے شعور، جینز اور ارادے کو زندہ رکھنے کا نظام ہے۔
آپ مجبور نہیں ہیں۔
آپ محض کردار نہیں—آپ شریکِ تحریر ہیں۔
جب انسان کی فریکوئنسی سچائی کے مرکز سے جڑ جاتی ہے،
تو پھر تقدیر کا قلم بھی وہی لکھتا ہے
جو ایک بیدار شعور چاہتا ہے۔

Photos from Would that's post 26/12/2025

« حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں »

°°° سب سے حسین مخلوق کون سی ہے °°°

#عجائباتِ_عالم 39

`کیا آپ جانتے ہیں سیدنا آدم علیہ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے زمین پر اٹھائیس قسم کی مخلوقات آباد تھیں`
مختلف زمانوں میں کئی کئی ہزار سال عجیب و غریب مخلوقات یہاں آباد رہی ہیں
جنات کے بارے تو سبھی جانتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے یہ آباد تھے پھر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جنہوں نے جنات کو قتل کیا اور زمین سے نکال کر جزیروں میں بھیج دیا
*مگر جنات سے پہلے ستائیس مخلوقات اور آباد تھیں*

ان میں سے *بِن* پھر *خِن* پھر *مِن* دنیا میں آباد رہے

*علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ* میں لکھا کہ بِن و خِن زمین میں رہتے تھے وہ سرکش ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے جن بھیجے جنہوں نے بِن و خِن کو زمین سے نکال دیا

{یہاں یہ یاد رکھیں کہ ان سب کو قتل نہیں کیا بلکہ زمین کی حدود سے نکال دیا ممکن ہے وہ کسی اور زمین کسی اور سیارے پر آباد ہو چکے ہوں اور وہی خلائی مخلوق ہوں }

پھر جنات نے سرکشی کی تو فرشتوں نے ان کو قتل کیا اور جس کے لیئے زمین کی تخلیق کی گئی یعنی حضرت انسان وہ پیدا کیا گیا

`علامہ مسعودی نے لکھا کہ انسان سے پہلے 28 قسم کی مخلوقات زمین پر آباد تھیں`

اور *علامہ شہاب الدین الاشبیہی* نے بھی المستطرف میں لکھا کہ 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں

اور ان میں سے کچھ
(1) *پروں والی مخلوق* تھی جن کی زبان بجنے جیسی تھی
(2) *کچھ کے دو جسم ایک سر* تھا ایک جسم شیر سا اور ایک پرندے سا اور ان بال اور ناخن ہوتے
(3) *کچھ کے دو سر ایک آگے کی جناب اور دوسرا پیچھے کی جانب ہوتا تھا*
(4) کچھ *نصف انسان* جیسے تھے اور انکی کئی ٹانگیں تھیں
(5) کچھ کا `منہ انسان سا اور پیٹھ کچھوے` جیسی اور سر میں سینگ ہوتے تھے
(6) کچھ کے سفید بال اور گائے جیسی دم ہوتی تھی
(7) کچھ کے ناخن خنجروں کی طرح اور لمبے لمبے کان ہوا کرتے تھے

علامہ مسعودی نے ایک جگہ لکھا کہ آدم علیہ السلام سے پہلے 120 مخلوقات آباد تھیں

> اصل میں 28 ہی تھیں باہم شادی کی وجہ سے وہ مزید الگ الگ ہوتے گئے اور یوں 120 عجیب و غریب مخلوقات بن گئیں

اور سب سے آخر میں حضرت انسان کو پیدا کیا گیا جو سب مخلوقات میں حسین و جمیل ہے
اللہ رب العزت نے فرمایا
> لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا

اور حدیث پاک میں ہے کہ
> ان اللہ خلق آدم علی صورتہ
اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کو اپنی پسندیدہ ترین صورت پر پیدا کیا
`اور انسانوں میں سب سے حسین مخلوق مرد ہیں کیونکہ یہ اضافی سے چہرے پر نہیں لگاتے`
جبکہ دوسری مخلوق بہت کچھ لگاتی ہے 😅
اور مَردوں میں سب سے حسین افراد انبیاء کرام علیہم السلام ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام میں سب سے حسین و جمیل ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

سابقہ مخلوقات میں سے کچھ کے نشانات ملتے رہتے ہیں جن کو سائنس دان ڈائنوسار وغیرہ قرار دیتے ہیں
اور کچھ سمندروں جزیروں میں چھپے ہوئے ہیں
الجزائر میں موجود بہت بڑے پہاڑی سلسلے کی غاروں میں مذکورہ کچھ مخلوقات کی ان کے زمانے کی تصاویر ہیں جو دریافت ہوئی ہیں
اس سے پ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں

*بعض کے نزدیک* یاجوج و ماجوج انہی سابقہ مخلوقات میں سے ہیں جو اب تک سکندر اعظم کی بنائی دیوار کے پیچھے بند ہیں

اور بعض احادیث میں دو عظیم شہروں کا ذکر ہے جو اس دنیا سے بھی بڑے ہیں ایک مشرق میں ایک مغرب میں وہاں بھی مخلوق آباد ہے
ہم نے وہ تحریر الگ سے لکھی ہے

*زیر نظر تصاویر الجزائر کے غاروں کی ہیں ماہرین کے مطابق یہ بِن خِن اور مِن کی بنائی تصاویر ہو سکتی ہیں*

Photos from Would that's post 25/12/2025

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 178 دن گزارنے کے بعد جب خلا باز رون گیرن زمین پر واپس آئے تو وہ اپنے ساتھ صرف خلائی آلات یا مشن کا ڈیٹا ہی نہیں لائے تھے، بلکہ انسانیت کے بارے میں ایک بالکل نیا شعور بھی ساتھ لائے تھے۔

مدار سے دیکھیں تو زمین ملکوں، سرحدوں یا باہمی مقابلے کی لکیروں کا مجموعہ نہیں لگتی۔ وہ اندھیرے خلا میں معلق ایک روشن نیلا کرہ دکھائی دیتی ہے۔ کہیں براعظموں کو تقسیم کرنے والی لکیریں نہیں، کہیں جھنڈے نہیں جو حدود بتائیں۔ زمین کی سطح سے ڈھائی سو میل اوپر سے ہر انسانی جھگڑا اچانک بہت چھوٹا، اور ہر انسانی رشتہ ناگزیر محسوس ہونے لگتا ہے۔

گیرن بتاتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کیسے بجلی کے طوفان پورے پورے براعظموں پر چمکتے ہیں، قطبین پر شفقی روشنیاں زندہ پردوں کی طرح لہراتی ہیں، اور رات کی سمت شہروں کی بتیاں نرمی سے جگمگاتی ہیں۔ مگر جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ زمین کی طاقت نہیں، بلکہ اس کی نازکی تھی۔ فضا، جو تمام زندگی کی محافظ ہے، ایک نہایت باریک نیلے ہالے کی صورت دکھائی دیتی ہے—بمشکل نظر آنے والی، مگر ہر اس چیز کی ذمہ دار جو سانس لیتی ہے، بڑھتی ہے اور زندہ رہتی ہے۔

یہ منظر وہ کیفیت پیدا کرتا ہے جسے خلا باز “اوورویو ایفیکٹ” کہتے ہیں—یعنی سوچ میں ایک گہری اور اچانک تبدیلی، جو خلا سے زمین کو دیکھنے والوں کو محسوس ہوتی ہے۔ اس لمحے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی بند نظام میں رہتی ہے۔ نہ کوئی متبادل ہے، نہ فرار کا راستہ، نہ کوئی دوسری زمین۔

اسی احساس نے گیرن کو انسانی ترجیحات پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔ زمین پر معاشی ترقی کو اکثر سب سے بڑا مقصد سمجھا جاتا ہے، مگر خلا سے دیکھیں تو یہ ترتیب بکھر جاتی ہے۔ ان کے مطابق درست ترتیب یہ ہونی چاہیے: پہلے کرۂ ارض، پھر معاشرہ، اور آخر میں معیشت—کیونکہ صحت مند زمین کے بغیر نہ معاشرہ قائم رہ سکتا ہے اور نہ معیشت۔

وہ اکثر زمین کو ایک خلائی جہاز سے تشبیہ دیتے ہیں: ایک ایسا جہاز جس میں اربوں افراد بطور عملہ سوار ہیں، اور سب ایک ہی نظامِ حیات پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بہت سے لوگ نگہبان بننے کے بجائے محض مسافر بن کر رہتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ دیکھ بھال کسی اور کی ذمہ داری ہے۔

مدار سے دیکھیں تو آلودگی کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ موسمی نظام سرحدوں کو نہیں مانتے۔ ایک خطے میں ہونے والا ماحولیاتی نقصان پوری دنیا میں اثر دکھاتا ہے۔ زمین پر جن تقسیموں کا ہم شدت سے دفاع کرتے ہیں، اوپر سے دیکھیں تو وہ کہیں موجود ہی نہیں ہوتیں۔

گیرن کا پیغام نہ تو خیالی ہے اور نہ ہی محض نظری۔ یہ نہایت عملی ہے۔ اگر انسانیت زمین کو ایک مشترکہ نظام کے بجائے لامحدود وسائل کا ذخیرہ سمجھتی رہی، تو اس کے نتائج سب کے لیے یکساں ہوں گے۔

خلا سے زمین کو دیکھ کر انہیں خود کو چھوٹا محسوس نہیں ہوا، بلکہ جواب دہ محسوس ہوا۔

کیونکہ جب یہ بات دل سے سمجھ میں آ جائے کہ ہم سب کائنات میں ایک ہی نازک خلائی جہاز پر سوار ہیں، تو “ہم اور وہ” کا تصور خاموشی سے مٹ جاتا ہے—اور اس کی جگہ ایک اٹل حقیقت لے لیتی ہے:

ہم سب ایک ہیں۔

Photos from Would that's post 02/06/2025

‏سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے
خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔
‏کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار
اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی

اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے
اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے!
اور مجھے شرم آتی ھے یہ کہتے ھوئے کہ
آج ھمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی حاصل ہے ۔۔۔
اللہ ھماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے
!copy.

Photos from Would that's post 26/04/2025

برمودا ٹرائی اینگل کا بھید: ناسا کی نئی تحقیق سے حیران کن انکشافات

برمودا ٹرائی اینگل — ایک ایسا علاقہ جو صدیوں سے اسرار و خوف کی علامت رہا ہے، جہاں کئی جہاز اور طیارے پراسرار طور پر غائب ہو چکے ہیں — اب اپنی حقیقت آشکار کرنے لگا ہے۔ ناسا کی سیٹلائٹ تحقیق سے سائنسدانوں نے ایک نیا سراغ حاصل کیا ہے: چھ کونوں والے غیر معمولی بادل، جو 170 میل فی گھنٹہ کی ہواؤں کے ساتھ "ایئر بم" پیدا کرتے ہیں۔

یہ بادل، جن کا دائرہ 55 میل تک پھیل سکتا ہے، مائیکرو برسٹس جیسی زوردار ہوائیں پیدا کرتے ہیں جو سمندر پر بلند لہریں اٹھا کر جہازوں کو ڈبو سکتی ہیں اور طیاروں کو غیر متوازن کر کے گرا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدرتی مظاہر ان پراسرار گمشدگیوں کی وضاحت کر سکتے ہیں جو دہائیوں سے برمودا ٹرائی اینگل میں پیش آتی رہی ہیں۔

تاریخ کا جائزہ لیں تو... 1918 میں USS Cyclops کا اچانک غائب ہونا اور 1945 میں فلائٹ 19 کا لاپتہ ہو جانا، دونوں واقعات شاید ان ہی "ایئر بمز" کا نتیجہ ہوں۔ ان ہواؤں کی شدت اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ یہ چند لمحوں میں بڑے بحری جہازوں اور طیاروں کو تباہ کر سکتی ہیں۔

مخالفت اور سائنسی تنقید اگرچہ اس نظریے کو قابلِ قبول سائنسی حمایت حاصل ہو رہی ہے، مگر کچھ محققین اس پر سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ چھ کونوں والے بادل دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، برمودا ٹرائی اینگل کی منفرد جغرافیائی و موسمی خصوصیات — جیسے گلف اسٹریم، مقناطیسی انحراف، اور غیر متوقع طوفان — اسے خاص اور زیادہ خطرناک بناتی ہیں۔

مستقبل کی سمت یہ تحقیق نہ صرف اس مشہور معمے کی گتھی سلجھا سکتی ہے، بلکہ سمندری اور فضائی سفر کو محفوظ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ناسا اور دیگر ادارے اب اس علاقے پر مزید جدید آلات سے نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ان مظاہر کی بہتر تفہیم حاصل کی جا سکے۔

نتیجہ "ایئر بم" نظریہ ہمیں ایک نئی سائنسی جہت فراہم کرتا ہے، اور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ فطرت کی قوتیں بعض اوقات انسان کی سمجھ سے بالاتر بھی ہو سکتی ہیں۔ کیا یہ نظریہ برمودا ٹرائی اینگل کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا پائے گا؟ وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال، یہ ایک بڑی پیش رفت ضرور ہے۔
BerMudaTriangleKaRaaz



















Photos from Would that's post 25/04/2025

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ انہوں نے نظامِ شمسی سے باہر زندگی کے سب سے مضبوط اشارے دریافت کیے ہیں، جو زمین سے 124 نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک سیارے "K2-18b" پر پائے گئے ہیں۔

ایک گروپ کا ماننا ہے کہ انہوں نے غیر زمینی زندگی کا سب سے مضبوط سراغ پایا ہے۔ یہ ہماری کہکشاں میں نہیں بلکہ ایک سیارہ K2-18b پر ہے، جو زمین سے تقریباً 120 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ انہوں نے اس سیارے کے ماحول میں ایک خاص گیس دریافت کی ہے، جو زمین پر صرف زندہ مخلوقات، جیسے سمندری کائی، سے پیدا ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر نکو مدھوسودھن نے کہا کہ وہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور فی الحال یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ انہوں نے زندگی دریافت کرلی ہے۔ تاہم، ان کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ K2-18b پر گرم سمندر ہو سکتے ہیں جن میں زندگی موجود ہو۔ انہوں نے اسے ایک "انقلابی لمحہ" قرار دیا — پہلی بار کسی ایسے سیارے پر زندگی کے ممکنہ آثار ملے ہیں جو اسے سہارا دے سکتا ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Astrophysical Journal میں شائع ہوئی ہے۔ دیگر سائنسدانوں نے نتائج کو دلچسپ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ایک محقق نے کہا، “یہ ایک اشارہ ہے، ثبوت نہیں۔”

یہاں تک کہ اگر K2-18b پر زندگی موجود ہو، تب بھی اسے ثابت کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ایک سائنسدان نے مزاحیہ انداز میں کہا، جب تک ہمیں خلائی مخلوق ہاتھ ہلاتی نظر نہ آئے، ہمیں صاف جواب نہیں ملے گا۔

K2-18b کو پہلی بار 2017 میں کینیڈین ماہرینِ فلکیات نے دریافت کیا تھا۔ یہ ایک خاص قسم کا سیارہ ہے جسے "سب-نیپچون" کہا جاتا ہے — یعنی زمین سے بڑا لیکن نیپچون سے چھوٹا۔ ایسے سیاروں کا مطالعہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہمارے قریب ان جیسا کوئی سیارہ موجود نہیں۔

2021 میں، ڈاکٹر مدھوسودھن اور ان کی ٹیم نے ایک نیا نظریہ پیش کیا کہ ان میں سے کچھ سیارے سمندروں سے ڈھکے ہو سکتے ہیں اور ان کا ماحول ہائیڈروجن سے بھرپور ہوتا ہے۔ انہوں نے ان سیاروں کو "Hycean" کہا — جو "Hydrogen" اور "Ocean" کے الفاظ کا امتزاج ہے۔

2021 کے آخر میں لانچ ہونے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نے سائنسدانوں کو ایسے سیاروں کا قریب سے مشاہدہ کرنے میں مدد دی۔ جب کوئی سیارہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے، تو اس کے ماحول سے روشنی گزرتی ہے۔ سائنسدان اس روشنی میں تبدیلیوں کا مطالعہ کرکے وہاں موجود گیسوں کا پتا لگاتے ہیں۔

K2-18b کا مطالعہ کرتے وقت، سائنسدانوں نے ان گیسوں کے آثار دیکھے جن کی انہیں ایک Hycean سیارے میں توقع تھی۔ پھر 2023 میں، انہوں نے ایک خاص مالیکیول، ڈائیمتھائل سلفائیڈ (DMS)، کی معمولی مقدار دیکھی۔ زمین پر یہ کیمیکل صرف زندہ چیزوں — خاص طور پر سمندری کائی — سے پیدا ہوتا ہے۔

بعد میں، مزید ڈیٹا حاصل ہونے پر، انہوں نے DMS کا ایک مضبوط اشارہ دیکھا، اور ایک مشابہ مالیکیول ڈائیمتھائل ڈسلفائیڈ بھی پایا۔ ڈاکٹر مدھوسودھن نے کہا کہ یہ دریافت چونکا دینے والی تھی — انہوں نے اسے مختلف طریقوں سے پرکھا، لیکن یہ اشارہ برقرار رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ K2-18b پر DMS کی مقدار زمین سے ہزاروں گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

تاہم، تمام سائنسدان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ K2-18b ایک گرم، پتھریلا سیارہ ہو سکتا ہے جس پر سمندر موجود نہیں — اور اس پر زندگی ممکن نہیں۔ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں لیب میں مزید تجربات کرنے ہوں گے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ DMS ان غیر معمولی حالات میں کس طرح برتاؤ کرتا ہے۔

ایک سائنسدان نے یاد دلایا کہ ہم ابھی ان دور دراز اور عجیب و غریب سیاروں کو سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے نیا ڈیٹا مددگار ثابت ہوگا۔

ناسا اس وقت اور بھی زیادہ طاقتور دوربینیں بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ دوسرے سیاروں، بشمول K2-18b، پر زندگی کے آثار تلاش کیے جا سکیں۔ اگرچہ یہ تحقیق وقت لیتی ہے، لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انتظار کرنا فائدہ مند ہوگا۔

ایک سائنسدان نے مذاق میں کہا، “میں ابھی 'ایلینز!' نہیں پکار رہا — لیکن بعد میں پکارنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔” تاہم، کچھ کو یہ تشویش ہے کہ اگر امریکا میں خلا پر تحقیق کی فنڈنگ کم ہو گئی، تو غیر زمینی زندگی کی تلاش سست یا رک بھی سکتی ہے۔
اس فنکارانہ تصور میں دکھایا گیا ہے کہ سیارہ K2-18 b سائنس کے موجودہ ڈیٹا کی بنیاد پر کیسا نظر آ سکتا ہے۔ K2-18 b ایک ایسا سیارہ ہے جو زمین سے 8.6 گنا زیادہ ضخیم (بھاری) ہے، اور یہ ایک ٹھنڈے بونے ستارے K2-18 کے گرد اس کے قابلِ رہائش علاقے (habitable zone) میں گردش کر رہا ہے۔ یہ سیارہ زمین سے 120 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں K2-18 b کے ماحول میں کاربن پر مشتمل مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جن میں میتھین (Methane) اور کاربن ڈائی آکسائیڈ (Carbon Dioxide) شامل ہیں۔ میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت اور امونیا (Ammonia) کی کمی اس نظریے کی حمایت کرتی ہے کہ K2-18 b پر ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول کے نیچے پانی کا ایک سمندر موجود ہو سکتا ہے۔




















Life Beyond Earth:

























































Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Pakpattan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Canal Offices Pakpattan
Pakpattan
57400