Sta lewane da de

Sta lewane da de

Share

no business

18/08/2022

Umeeed 🖤

17/05/2022

بہت مہنگا سودا ھے بھکاریوں بیچ دو یہ ریٹ دوبارہ نہیں ملنا😥🥀💔

14/09/2020

The Hidden picture!!!!🤔🤔
Things which we should know and think about

دونوں تحریر اکٹھی کردیں ہیں جس میں پی پی پی کی سندھ میں دہشتگردی اور دس سالہ سندھ بجٹ کی تحریر اکٹھی کردی ہیں دونوں تحریر من و عن شئیر کر رہا ہوں پہلی تحریر مئی کے مہینے کی ہے اس موازنہ آج کی عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی سے کیجیے اور پڑھ کر شئیر بھی کر دیجیے شکریہ.

پی پی پی کی سندھ و پاکستان دشمنی مورخہ: 5/16/2020

اٹھارویں ترمیم پی پی دورِ حکومت میں لائی گئی تھی اس کا بظاہر مقصد تو صوبوں کو باختیار بنانا تھا لیکن اس بااختیار بنانے کے پیچھے مقاصد کسی طرح پاکستان کے حق میں نہیں تھے، وفاق کو کمزور کرکے پاکستان کو صوبائیت کے زہر سے آلودہ کرنا اور صوبوں کو وفاق کے خلاف بغاوت پر مجبور کرنا تھا.

پی پی پی نے اسی ترمیم کا فائدہ اٹھا کر سندھ کو خوب لوٹا، خون میں نہلایا اور اصلاح کے لیے ہر اٹھنے والی آواز کو صوبائی اختیارات کا قتل قرار دیا حالانکہ جب بھی اٹھارویں ترمیم کے خلاف آواز اٹھی چیخ و پکار صرف سندھ سے ہی سنائی دی بلکہ پی پی بغاوت تک کی دھمکیوں پہ اتر آئی..

2010 میں آنے والی 18 ویں ترمیم کے بعد پی پی پی نے پہلے پہل سندھ میں بظاہر تو ایم کیو ایم کی دہشتگرد کے خلاف لیاری اور دیگر علاقوں میں اسلحے کے تین لاکھ لائسنس فراہم کیے انہیں کہا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف اپنے اپنے علاقوں کا دفاع کریں یہاں ایک بات اور بھی قابلِ غور ہے کہ جب پی پی کے پاس پورے صوبے بلکہ وفاق تک کی حکومت تھی تمام تر اختیارات پی پی کے پاس تھے تو انہیں ایم کیو ایم کی دہشتگردی روکنے کے لیے سندھ کے لوگوں کو ہی اسلحہ کیوں فراہم کرنا پڑا؟
جب سب اختیارات پی پی پی کے پاس تھے تو انہوں نے انہی دستیاب وسائل جن میں پاک فوج، پولیس، رینجرز، تمام انٹلیجنس ادارے شامل میں ایسے میں دہشتگردوں کے خلاف انہیں استعمال کرنے کی بجائے عام عوام کو کیوں اسلحہ فراہم کیا گیا؟

کراچی کے جوانوں کو اسلحہ سے لیس کرنے کے بعد پی پی پی نے سندھ کو ایم کیو ایم کی دہشتگردی سے پاک کرنے کی بجائے انہی جوانوں کو تنہا چھوڑ کر ایم کیو ایم سے اتحاد کر لیا اور یہ سب کچھ برطانیہ اور امریکا کہ کہنے پر ہوا. اس کے بعد جو قہر سندھ اور خاص کر کراچی پر ڈھایا گیا وہ تاقیامت نہیں بھلایا جاسکتا. ایک جانب ایم کیو ایم اور پی پی پی دوسری جانب لیاری گینگ تیسری جانب سیکیورٹی ادارے.

سیکیورٹی اداروں میں سندھ پولیس کا ایک بڑا حصہ ویسے ہی ملک دشمنوں قوتوں کا گڑھ بن چکا تھا جو اب دن بہ دن گرفتار ہوتے جا رہے ہیں سندھ پولیس میں دہشتگردوں اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں کو بھرتی کرنے والی اور کوئی نہیں بلکہ پی پی یعنی خود سندھ حکومت ہی تھی ان دہشتگردوں کی بڑی تعداد براستہ ایران سندھ پہنچی تھی سندھ پولیس میں راؤ انوار کی دہشتگردی پی پی کے دہشتگردوں کے پشت پناہ ہونے کی بڑی نشانی ہے جو آفسران ایماندار تھے وہ اپنے ہی ادارے کی ملی بھگت سے شہید کروا دئیے گئے. سندھ رینجرز نے جب بھی کراچی میں امن لانے کی کوشش کی انہیں اپنے اختیارات استعمال کرنے کے لیے بھی ہمیشہ پی پی ہی آڑے آتی رہی.

ایم کیو ایم کی بوری بند لاشیں ہوں، بھتہ خوری ہو، بلدیہ فیکٹری میں جلنے والے 250 سے ذیادہ افراد ہوں ان سارے کالے کرتوتوں میں پی پی ایم کیو ایم کے ساتھ برابر کہ شریک رہی ہے کیونکہ اس کے بعد نہ ہی پولیس نے اس واقعے پہ اتنا سر کھپایا نہ ہی سندھ حکومت کے زیرِ اثر چلنے والی عدالتوں نے اور بالاخر 250 افراد سے ذیادہ کے قاتل کو عدالت نے رہائی دے دی، راؤ انوار کو پی پی کی ہی ایماء پر عدالتوں سے رہائی مل گئی. گزشتہ دنوں کراچی سے گرفتار ہونے والے دہشتگردوں نے اعتراف کیا کہ انکی لوٹ مار سے آئی دولت کا 70 فیصد حصہ بلاول زرداری کے پاس جاتا رہا ہے.

یہ سارا کچھ سندھ کو ملا 18 ویں ترمیم کے انعام میں تو اب وقت آن پہنچا ہے کہ وفاقی حکومت مزید تباہی و بربادی کا انتظار کیے بغیر 18 ویں ترمیم کا قلع قمع کرے، سندھ میں گورنر راج قائم کیا جائے، سندھ کی عوام کو اب اس جہنم سے نکالا جائے اور ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے.

تحریر سندھ کا دس سالہ بجٹ اور حققوق کا رونا. مورخہ 27/6/2020

سندھ کے حققوق اور وسائل چھین لیے گئے، بنگلہ دیش بنا تھا اب سندھو دیش، سرائیکی دیش بھی بن سکتا ہے. بلاول فالٹی.
اس کے بعد ان کے چیلے اور ذہنی مریض جن کی نہ اپنی سوچ ہے اور نہ ہی حققیت جاننے, دیکھنے، سننے کی اہلیت و اوقات، کسی نے کہہ دیا کہ کتا کان لے گیا اور یہ جاہل کان کو ہاتھ لگائے بغیر کتے کے پیچھے بھاگنا شروع کردیتے ہیں. ویسے ہی پی پی پی نے اپنے ذہنی غلاموں کو پنجاب اور وفاق کے پیچھے لگا دیا اور یہ ان پڑھ جاہلوں کی طرح وفاق اور پنجاب کے خلاف کھڑے ہو کر آسمان پہ تھوک رہے ہیں مگر جو انہیں ننگا کر رہا ہے وہاں انکی نظر ہی نہیں جا رہی.

2010 میں وفاق میں پی پی پی کی حکومت اور پچھلے 50 سال سے ذیادہ سندھ پہ قابض رہی ہے، 2010 میں پی پی پی نے ہی 18 ویں ترمیم کو وجود دیا کہ نہیں ہم اپنے اپنے صوبوں کو خود آسمان کی بلندیوں پر پہنچائیں گے اور آج یہ مردود بیوی اور ماں کے قاتل عوام کو کہہ رہے ہیں کہ ریاست ان کے حققوق نہیں دے رہی. اووووو جاہلو ذرا پوچھو تو کہ آخر تمھاری محرومی کا ذمہ داری ہے کون؟ تم ان سے صرف دس سال کے بجٹ کا ہی حساب مانگ لو اندازہ ہو جائے گا کہ ریاست دشمن ہے یا پیپلز پارٹی دشمن ہے؟

سندھ حکومت 2009 سے 2020 کا صوبائی بجٹ.... یہ بجٹ جان کر سندھ کے موجودہ حالات کا موازنہ سندھ کے بجٹ سے کر لیجیے.

2008-2009 268 ارب روپے
2009-2010 357 ارب روپے
2010-2011 422 ارب روپے
2011-2012 458 ارب روپے
2012-2013 577 ارب روپے
2013-2014 617 ارب روپے
2014-2015 686 ارب روپے
2015-2016 740 ارب روپے
2016-2017 870 ارب روپے
2017-2018 1040 ارب روپے
2018-2019 1118 ارب روپے
2019-2020 1228 ارب روپے
2020-2021 1124 ارب روپے
ٹوٹل: 8300 ارب روپے
یہ ہے سندھ حکومت کا 18 ویں ترمیم اور صوبوں کو اختیارات منتقلی کے بعد کا بجٹ اس میں بڑا حصہ وفاق ہی فراہم کرتا رہا ہے. اس بجٹ میں ڈاکٹر عاصم کی 460 ارب اور خورشید شاہ کی َ500 ارب کی کرپشن بھی شامل ہے. خیر یہ بجٹ تو انکے مطابق استعمال ہوا کیسے استعمال ہوا کہ کراچی بدترین حالت میں ہے، انکے اپنے علاقے لاڑکانہ میں سڑکیں تک نہیں، ہسپتالوں میں کتے کاٹے کی ویکسین تک نہیں، تھر میں لوگ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں، تعلیم کا یہ حال ہے کہ سکولوں میں گدھے اور کتے بندھے ہوئے ہیں.

2009 میں 21 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2010-2009 میں 19 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2010-2011 میں 30 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2011-2012 میں 28 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2012-2013 میں 92 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2013-2014 میں 80 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2014-2015 میں 44 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2015-2016 میں 42 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2016-2017 میں 35 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2017-2018 میں 89 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2018- 2019 میں 101 ارب روپے غیر خرچ شدہ
2019- 2020 میں 107 ارب روپے غیر خرچ شدہ
یہ کل رقم ملا کر بن رہی ہے 688 ارب روپے جو غیر استعمال شدہ ہے یعنی ہر سال سندھ حکومت جو بجٹ خرچ کرتی ہے اس میں یہ رقم خرچ ہی نہیں ہوئی کہاں گئی اللہ ہی جانے 🙂

یقیناً سندھ کو وفاق کی طرف سے حققوق نہیں ملے حالانکہ ان 8300 ارب روپے میں وفاق کا بڑا حاصل شامل ہے مگر وفاق اسے خرچ کرنے کی مجاز نہیں تھی یہ 8300 ارب روپے صرف سندھ حکومت کے ہاتھ تھا جس کا بہت بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہوگیا.

صرف ڈاکٹر عاصم کی کرپشن 460 ارب اور خورشید شاہ کی کرپشن 500 ارب روپے سے ذیادہ ہے 688 ارب روپے استعمال ہی نہیں ہوئے، باقی جو وزیر، مشیر، سرکاری ملازمین، چور ڈاکو نوازے گئے وہ الگ ہیں، خود زردآری ڈاکو کی اتنی جائیدادیں ہیں گنتی کرنا مشکل ہے.

سندھ کے برباد اور کرپشن کے شاہ محکموں کی بات کی جائے تو ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے تمام محکموں میں بجٹ کی مد میں جانے والے پیسوں کا قریباً 45 سے 60% استعمال ہی نہیں ہوتا اس کا ذمہ وہ بھٹو ہے یا ریاست؟

Photos from Sta lewane da de's post 30/04/2020

یرہ دا تاسو سہ شرمول راغستی دی بل سہ کار مو شتہ کنہ زہ منم عٹہ گنا او علطی ئ کڑی دہ خو دا اللہ گنہگار دے او دا اعا ماشومی دا مور پلار گنہگار دے، تاسو پہ ماشومہ نہ ئ اریان قسم دے کہ ستاسو پری پروا ئ صرف خپل چینل چلوے دا یو سو روپو دپارہ دا خلقو عزت سرہ لوبی کوے، معاف کے دا سڑی اللہ دی وسرہ پوھہ شی۔۔ ھر سڑی پہ ایک ھزار مائک اعستی دے او وی زہ صحافی یم۔
رزیلانو۔۔copy

20/04/2020

Good job

16/04/2020

دے رور عطا اللہ دپارہ دعا کوے چی اللہ وارتہ ڈیر عمر وارکڑی۔دہ انسانیات او دہ افغان دپارہ یہ ڈیر خدمت کڑی او لگیا دے کی اوس بیمار دے دعا وارتہ کوی چی اللہ صخت وارکڑی پلیزز شیر یہ کی

28/03/2020

Be care full....

27/03/2020

بل گیٹس اور علی بابا کا کافر پیسہ غریب پاکستانیو کے لیئے آرہا ھے جبکہ نواز اور زرداری کا مومن پیسہ لندن میں اعتکاف پر بیٹھاھے۔ ✋✋

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar