Sohail Cricket Hub

Sohail Cricket Hub

Share

Watsup 03025623085

🚀 Promote Your Brand With Sohail Cricket Hub

🏏 Cricket Audience Reach
🎥 Viral Cricket Reels
📈 Fast Growing Page
📩 DM For Paid Promotions & Partnerships

Serious inquiries only.

26/06/2026

بابر اعظم پرون پریکٹس میچ کی پہ 69 بال باندی 144 رنز جوڑ کڑل چالا یی اوٹ کولوں چل نہ ورتللوں

26/06/2026

🚨بلوچستان کے ہیرو حسیب اللہ خان کے مداحوں کے لیے بڑی خوشخبری!🚨 رپورٹس کے مطابق پاکستان کی اگلی ون ڈے سیریز میں حسیب اللہ خان کی واپسی کا قوی امکان ہے۔ پی سی بی نے ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیلنٹ کی تلاش تیز کر دی۔ اور حسیب اللہ خان کو مستقبل کے اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اس اسٹار کھلاڑی کی شمولیت سے مڈل آرڈر اور وکٹ کیپنگ ڈیپارٹمنٹ کو مزید مضبوطی ملنے کی امید ہے۔🇵🇰❤🔥
Sohail Cricket Hub

26/06/2026

🚨 BREAKING 🚨

Mohammad Amir has joined Nottinghamshire for the remainder of the Vitality Blast as a local player after being granted a British passport. 🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿🏏

Sohail Cricket Hub

26/06/2026

Great 👌 Wow Amir King 👑 Sohail Cricket Hub

20/06/2026

🚨بڑی خوشخبری! ٹیسٹ کرکٹ کے سلطان یاسر شاہ کی واپسی متوقع🚨 اطلاعات کے مطابق پاکستان کے تجربہ کار لیگ اسپنر یاسر شاہ کی قومی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سلیکٹرز ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے یاسر شاہ کو دوبارہ اسکواڈ میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اپنی شاندار لیگ اسپن اور میچ وننگ کارکردگیوں کی بدولت یاسر شاہ طویل عرصے تک پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے اہم ستون رہے ہیں۔🇵🇰❤🔥

20/06/2026

🚨 BABAR AZAM SIGNS RECORD-BREAKING GEAR DEAL 🚨

- Babar Azam has renewed his cricket gear sponsorship with CA Pakistan in a deal worth $250,000 per year.

- The agreement makes him the highest-paid cricketer in Asia from a cricket gear sponsorship, excluding players from India.

15/06/2026

Pakistan face defeat in their first match of the ICC Women's 2026.

|

15/06/2026

کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان

چیئرمین سید محسن نقوی کی زیر قیادت پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم میں اہم تبدیلیوں کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد سٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی کرکٹ کے مسلسل ارتقا کے ساتھ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا اب حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور ’’ایک ہی نظام سب کے لیے‘‘ کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ایسا سٹرکچر بنایا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے، انہیں ترجیح دیتا ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔

جہاں دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز اب بھی تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی میں رکھتے ہیں اور ایک ٹیسٹ سپیشلسٹ کو ٹی20 فرنچائز کھلاڑی کے ساتھ ایک ہی گریڈ کے لیے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں، وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی ایک ایسا ماڈل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا یے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت اور ترجیحات کو تسلیم کرتا ہے۔

نئے نظام میں صرف تنخواہوں کے گریڈز ہی تبدیل نہیں کیے گئے بلکہ جدید کرکٹ کے اس سب سے مشکل سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ ٹی20 کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ کیسے رکھا جائے اور ہر فارمیٹ کے کرکٹر کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے؟

کرکٹ فارمیٹ کی باضابطہ نشاندہی

نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور سٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔ سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (Pathway format ) سے منسلک کیا جائے گا۔ بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔ کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح، دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔ نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔

وائٹ بال اور ٹی20

مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔ تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی یے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے۔

چار گریڈز سے پانچ فارمیٹ ٹریکس تک

پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو A، B، C اور D کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا، جو صرف معاوضے کی سطح کو ظاہر کرتی تھیں۔ لیکن نئے نظام میں انکی جگہ پانچ واضح فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں:

ٹریک AB — دوہرا فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے)

اس فارمیٹ کا حصہ پاکستان کے وہ نمایاں کھلاڑی بنیں گے جو کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی بنیاد ہیں۔ یہ بورڈ کی پرائم کیٹییگری ہوگی۔

ٹریک A — ریڈ بال سپیشلسٹ (ٹیسٹ کرکٹ)

اس فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑی مکمل طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے وقف ہوں گے۔ اس ٹریک کا مقصد ٹیسٹ سپیشلسٹس کو تحفظ اور فروغ دینا ہے۔

ٹریک BC — وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل)

اس فارمیٹ سے وہ کھلاڑی وابستہ ہوں گے جو محدود اوورز کی کرکٹ کے سپیشلسٹ ہوں گے۔

ٹریک D — ٹی20 انٹرنیشنل اور فرنچائز سپیشلسٹ

یہ کیٹگری مختصر فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کے لیے ہو گی جنہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔

تمام ٹریکس دو بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گے: پہلا یہ کہ ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے ہی ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ہر ٹریک میں دو داخلی درجات ہوں گے جن میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی ممکن ہو گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ہر ٹریک میں موجود معاہدوں کی تعداد یا تقسیم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔

ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

نئے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اجازت مختصر فارمیٹ نہیں بلکہ صرف ریڈ بال کرکٹ کے لیے ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول میں تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مزید بہتر ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔ فرنچائز ٹی20 لیگز بدستور اس گروپ کے لیے بند رہیں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ نظام کیوں متعارف کروایا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک میں کام کرتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں مقبول ہیں اور کرکٹ بورڈ نے اس حقیقت سے لڑنے کے بجائے اس کے مطابق ایک مؤثر نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دراصل پاکستانی کرکٹرز کے لیے سینٹرل کانٹریکٹس کا پرانا سسٹم دو مسائل پیدا کرتا تھا۔ پہلا یہ کہ مختصر فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والا کھلاڑی بعض اوقات ایک کمٹڈ ٹیسٹ کرکٹر سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیتا تھا۔ دوسرا یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ سپیشلسٹس کے لیے وائٹ بال کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بغیر ترقی کے مواقع محدود تھے۔ نیا نظام ان دونوں مسائل کا خاتمہ کرتا ہے کیونکہ ہر کرکٹر کا موازنہ صرف اسی فارمیٹ کے کرکٹر سے ہوگا جس سے وہ وابستہ ہے۔

اگلا سوال یہ ہے کہ کرکٹرز سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کیسے اہل ہوں گے؟ اس کے لیے انہیں تین مرحلوں پر مشتمل ایک نظام سے گزرنا ہو گا۔

مرحلہ اول: میڈیکل اور فٹنس ٹیسٹ

ہر کھلاڑی کی جامع میڈیکل اور فٹنس اسسمنٹ کی جائے گی۔ اس کا مقصد کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت اور کیریئر کا تحفظ ہے۔

مرحلہ دوم: ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت

سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کرکٹرز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال طور پر شریک ہوں۔

مرحلہ سوم: کارکردگی کا جائزہ

ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

جوابدہی پر مبنی سسٹم

کرکٹ بورڈ کا نیا فریم ورک سینٹرل کانٹریکٹ کو پہلے سے زیادہ شفاف بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو ان کی وابستگی اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچا کیا جائے گا اور بورڈ ہر فیصلے کا واضح جواز پیش کر سکے گا۔ یہ فریم ورک 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور سابقہ نظام کی جگہ لے گا۔ Sohail Cricket Hub

14/06/2026

دوسرا ٹی 20 میچ
سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو 37 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی ❤️
چمیرا کی تین وکٹیں اور ڈاسن شانیکا کی 24 گیندوں پر 58 رنز کی اننگز❤️❤️ Sohail Cricket Hub

14/06/2026

ویمنز ٹی ٹوئینٹی کرکٹ ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ آج کھیلا جائے گا، پاکستان ویمنز اور انڈیا ویمنز آمنے سامنے ہوں گے۔۔ انڈیا کی ٹیم مظبوط ہے مگر پاکستان کرکٹ ٹیم نے جو موجودہ کرکٹ کھیلی ہے وہ شاندار ہے، امید ہے ایک اچھا میچ ہوگا 🏏، گڈ لک

゚ Sohail Cricket Hub

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar