Dukki,Balochistan

Dukki,Balochistan

Share

Culture,breaking news,sports,people's,traditional Tareen , nasar and luni. Duki has also gained fame as a major Coal deposit.

Duki is a town of Loralai District in the Balochistan province of Pakistan.[1] It is located at 30°9'0N 68°34'0E with an altitude of 1092 metres (3585 feet).[2]Revenue record reveals that Duki is the only Sub-division in entire Zhob Division;that is settled area.Duki also happens to be the hottest place in entire administrative Division.Tribal configuration is such that three main tribes i.e.

02/12/2025

کوئٹہ
خان شہید عبدالصمد خان اچکزئیؒ، جنوبی پختونخوا کے نامور آزادی پسند رہنما، جنہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف اپنی پوری زندگی جدوجہد میں گزاری، آج بھی اپنی عظیم قربانیوں اور قومی خدمات کے باعث عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ 1907میں تحصیل گلستان کے گاؤں عنایت اللہ کاریز میں پیدا ہونے والے اس عظیم رہنما نے کم عمری سے ہی سامراجی قوتوں کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی۔ محض گیارہ سال کی عمر میں 1918ء میں گلستان میں اسکول کے طلبہ کے جلوس کی قیادت کرکے اپنی سیاسی بیداری اور جرأت کا ثبوت دیا

ابتدائی تعلیم گلستان سے حاصل کرنے کے بعد پشتو، عربی فارسی اور دینی علوم پر عبور حاصل کیا۔ نوجوانی میں ہی انھوں نے اس حقیقت کو بھانپ لیا تھا کہ فکری و نظریاتی بیداری کے بغیر قوم آزادی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی، اسی لیے انھوں نے عملی سیاست کا آغاز فرنگی سامراج کی مخالفت سے کیا

سیاسی جدوجہد کے آغاز پر ہی عبدالصمد خان اچکزئی اپنے بھائی حاجی عبدالسلام خان اور ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے اور کوئٹہ جیل منتقل کیے گئےجہاں انھوں نے قیدیوں سے توہین آمیز رویے پر کھانا تک کھانے سے انکار کیا رہائی کے بعد بمبئی پہنچ کر لندن گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے والے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور جنوبی پختونخوا کے مسائل پر مبنی اپنا تحریری لائحہ عمل تقسیم کیا

1932ء میں جیکب آباد Balochistan Conference کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ 1933ء میں حیدرآباد اجلاس سے واپسی پر ایک بار پھر تین سال قید کی سزا کا سامنا کیا۔ رہائی کے بعد 1936ء میں ہفت روزہ استقلال اخبار کا اجرا کیا جو وطن کی آزادی کے لئے ایک توانا آواز ثابت ہوا، تاہم حکومت نے 1950ء میں اسے بند کردیا 1938ء میں انجمنِ وطن کی بنیاد رکھی جس نے برصغیر کی تمام آزادی پسند تحریکوں کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کی

خان شہید نے پشاور، مچھ، ہری پور، لاہور کے شاہی قلعہ، منٹگمری، مالٹا اور جزائر انڈیمان (کالا پانی) تک کی سختیاں جھیلیں۔ پشتون آزادی کی تحریکوں، خصوصاً قصہ خوانی پشاور قتل عام (23 اپریل 1930)، مردان، ٹکر، بنوں اور دیگر مقامات پر جدوجہد آزادی میں پشتونوں کے بے مثال کردار کی ہمیشہ حمایت کرتے رہے۔ ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں چودہ ہزار پشتون کارکنان کی گرفتاریوں اور مظالم پر بھی ان کا مؤقف انتہائی دوٹوک رہا

طویل جدوجہد کے بعد 1954ء میں چھ سال مسلسل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے رہائی ملی تو انہوں نے ’’ورور پشتون‘‘ تنظیم قائم کی، جسے بعد ازاں 1956ء میں نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کردیا گیا۔ مجموعی طور پر عبدالصمد خان اچکزئی نے 32 سال جیلوں میں گزارے جو مظلوم اقوام کی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز رکھتے ہیں

2 دسمبر 1973ء کو کوئٹہ کے علاقے شارع جمال الدین افغانی میں ان کی رہائش گاہ پر نامعلوم حملہ آوروں نے دستی بموں سے حملہ کرکے اس مردِ مجاہد کو شہید کردیا اگلے روز گلستان میں ان کے آبائی قبرستان میں تقریباً 60 ہزار افراد نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی

آج بھی دنیا بھر میں ان کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے اور آزادی و جمہوریت کی جدوجہد میں ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے

01/12/2025

یہ تصویر پاکستانی معاشرے کے ایک ایسے سچ کو ننگا کرتی ہے جسے ہم دہائیوں سے پالش کر کے چھپا رہے ہیں، مگر حقیقت اپنی جگہ سے ہلتی نہیں۔ ایک طرف مرد کا چہرہ ہے، پُراعتماد، سخت، اپنی بات کہنے کا پورا حق لیے ہوئے؛ دوسری طرف عورت ہے جس کے ہونٹ اسی مرد کی مونچھ سے سلے ہوئے ہیں، اور یہ منظر ہمارے سماجی توازن کی پوری ایکسرے رپورٹ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مرد بولتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو بولنے کا حق بنیادی طور پر دیا ہی نہیں جاتا۔ گھروں میں، رشتوں میں، فیصلوں میں، رسموں میں ہر جگہ عورت کی زبان پر ایک غیرمرئی دھاگہ باندھا جاتا ہے، جسے روایت، غیرت، برداشت، عزت، صبر اور برداشت جیسے الفاظ کے نام پر مقدس بنایا جاتا ہے۔ حقیقت سیدھی ہے ہم نے عورت کو خاموش رہنے کو کردار کی خوبی بنا دیا اور مرد کی سخت زبان کو مردانگی۔ مگر یہی خاموشی رشتوں کو دھیرے دھیرے اندر سے گلا دیتی ہے۔ اس تصویر میں مرد کا چہرہ آگے ہے، عورت کا پیچھے؛ یہ اتفاق نہیں، یہ طاقت کا مرکز بتاتا ہے۔ ہم نے رشتوں کا پورا وزن ایک طرف ڈال دیا ہے، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ تعلق ٹوٹ کیوں جاتے ہیں۔ جب فیصلہ ایک کرے اور برداشت دوسرا، تو تعلق نہیں چلتے، بس گھسٹتے ہیں۔ عورت سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ برداشت کرے، خاموش رہے، گھر بچائے، رشتہ نبھائے؛ مگر مرد سے ہم یہ توقع ہی نہیں رکھتے کہ وہ اپنی آواز کے مقابلے میں عورت کی آواز کو جگہ دے۔ یہی رویہ اس تصویر میں بندھے دھاگے سے بھی سخت ہے۔ کسی بھی معاشرے میں رشتے طاقت کے توازن سے نہیں، حق اور احترام کی تقسیم سے بنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں عورت کی خاموشی کو رشتے کا گوند سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایک فریق کو بولنے کا حق نہ دیا جائے، وہاں محبت نہیں، صرف کنٹرول ہوتا ہے۔ عورت کی زبان کو خاموش رکھنے کا سب سے بڑا نقصان مرد کو خود ہوتا ہے کیونکہ ایک شخص جب تک اپنے سامنے سچ بولنے والی آواز نہ سنے، وہ بھی بڑھتا نہیں، بدلتا نہیں، سیکھتا نہیں۔ مگر ہم نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ مرد کو لگتا ہے کہ عورت کی رائے یا اختلاف اس کی مردانگی پر حملہ ہے۔ اسی لیے اس تصویر میں عورت کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں مگر اس کی نظر دور اور سخت ہے، جیسے وہ جانتی ہے کہ اس کی خاموشی اس کی خوشی کی قیمت پر خریدی گئی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اگر رشتے بہتر کرنے ہیں تو سب سے پہلے اس دھاگے کو کاٹنا ہوگا جو عورت کی زبان باندھتا ہے۔ احترام کا پہلا اصول یہ ہے کہ دونوں کو بولنے کا برابر حق ہو۔ محبت صرف تب مضبوط ہوتی ہے جب دونوں کی آواز سنی جاتی ہے، نہیں تب جب ایک بولے اور دوسرا خاموش رہے۔ اگر ہم اس تصویر میں بندھے دھاگے کو حقیقت میں بھی کاٹنے کا حوصلہ پیدا کر لیں، تو رشتے صرف چلیں گے نہیں، سانس بھی لیں گے

30/11/2025

دکی آصفہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آگاہی مہم کے حوالے سے اصفہ دختر جمعہ خان نے کہا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہوائی فائرنگ کو روکنے کے لیے آگاہی مہم کا انعقاد ضروری ہے تاکہ لوگ اس خطرناک اور جان لیوا عمل کے نقصانات سے باخبر ہو سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر شہری کو اس مہم میں حصہ لینا چاہیے تاکہ ہوائی فائرنگ کے خلاف شعور پیدا ہو اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے

آصفہ بہن نے اپیل کی ہے کہ اس آگاہی مہم میں چیئرمین صاحبان سکولوں کے پرنسپل حضرات اور نوجوانان فعال طور پر حصہ لیں اور اپنی شرکت بمقام میونسپل کمیٹی یقینی بنائیں تاکہ مہم کے اہداف کو حاصل کرنے میں سب کا بھرپور تعاون شامل ہو اور معاشرتی سطح پر ہوائی فائرنگ کے خلاف شعور پیدا کیا جا سکے

آصفہ نے کہا کہ 3 دسمبر کو ہونے والی اس آگاہی مہم میں آل پارٹیز انجمنِ تاجران، صحافی حضرات اور دیگر سماجی و سرکاری اداروں کے نمائندگان بھرپور شرکت کریں تاکہ مہم کامیاب ہو اور معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔ انہوں نے اپیل کی کہ سب شہری بلا تفریق حصہ لیں اور اس نیک مقصد میں اپنا کردار ادا کریں۔

30/11/2025

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی سابق رکنِ قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے کہا ہے کہ ملک میں جاری پالیسیوں کو یکطرفہ بنا کر پیش کرنا مسئلے کا حل نہیں، اگر واقعی ریاست کا مؤقف غیر قانونی رہائش اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینا ہے تو پھر یہ اصول پورے ملک پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “پنجاب میں 215 کالعدم تنظیمیں موجود ہیں، مگر وہاں کسی بڑے آپریشن کا نام و نشان تک نہیں۔ اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے تو پھر سب سے پہلے پنجاب میں موجود ان تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔“

انہوں نے افغان مہاجرین کے انخلا کے حکومتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب مختلف ملکوں میں وہ پاکستانی جو جعلی شہرت یا پاسپورٹ پر رہ رہے ہیں، وہاں کی پالیسی کے مطابق فوری نکالے جاتے ہیں تو پھر پاکستان میں ایسی یکساں پالیسی کیوں نہیں اپنائی جاتی؟“

شاندانہ گلزار نے کہا کہ کئی ممالک میں غیر قانونی رہائش یا جعلی دستاویزات کے لیے زیرو ٹالرنس ہے، مگر پاکستان میں معاملات کو سیاسی بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر اصول بنانا ہے تو وہ سب کے لیے ہونا چاہیے۔ صرف افغان مہاجرین کو نکال کر اسے کامیابی قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چُرانے کے مترادف ہے۔“

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں موجود تمام غیر قانونی عناصر، کالعدم تنظیموں اور جعلی دستاویزات رکھنے والوں کے خلاف یکساں، غیر جانبدار اور شفاف کارروائی کی جائے تاکہ قومی سلامتی کے حوالے سے دوہرا معیار ختم ہو اور ریاستی رٹ بہتر ہو سکے۔

29/11/2025

موسیٰ خیل روڈ منصوبہ مولانا سرور موسیٰ خیل نے منظوری سے تکمیل تک پوری کہانی بیان کر دی

موسی خیل جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما مولانا سرور موسیٰ خیل نے شبوزئی تا موسیٰ خیل براستہ تونسہ شریف نیشنل ہائی وے منصوبے کی منظوری، رکاوٹوں اور پیش رفت سے متعلق پوری تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر اس منصوبے کا کریڈٹ غلط طور پر اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ حقیقت عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے

مولانا سرور موسیٰ خیل نے بتایا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورۂ کوئٹہ کے دوران جب بلوچستان کے تمام وزراء اور نمائندوں نے اپنے مطالبات پیش کیے تو ضلع موسیٰ خیل کی جانب سے انہوں نے نمائندگی کی اور وزیراعظم کو پسماندگی کا مسئلہ، روڈ کی کمی اور ترقیاتی ضرورتیں بتائیں

انہوں نے وزیراعظم کو بریف کیا کہ شبوزئی سے موسیٰ خیل براستہ تونسہ شریف قومی شاہراہ کی لمبائی 210 کلومیٹر بنتی ہے
وزیراعظم نے فوراً نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین چوہدری الطاف کو پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت دی۔ کچھ دن بعد چیئرمین نے انہیں بتایا کہ انجینئرز کو کوئٹہ بھیج دیا گیا ہے

مولانا کے مطابق انہوں نے انجینئرز کے قیام و طعام کے تمام انتظامات کروائے۔ بعد ازاں ٹھیکیدار حاجی بلو گئی اور حاجی عزیز شادی زئی انجینئرز کے ہمراہ درگ اور تونسہ شریف تک گئے اور تفصیلی سروے مکمل ہوا۔ کوئٹہ واپس پہنچ کر پی سی ون سات ارب پچاس کروڑ روپے مالیت سے تیار ہوا جس میں مختلف لنک روڈز بھی شامل تھے

سی ڈبلیو پی نے ایک ارب روپے کی حد تک اس منصوبے کو منظور کرلیا جبکہ باقی رقم کی منظوری ایکنک سے ہونا تھی جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں

مولانا سرور موسیٰ خیل کے مطابق اُس وقت کچھ لوگ غلط بیانی کررہے ہیں کہ یہ منصوبہ ان کی حکومت میں منظور ہوا حالانکہ منصوبہ 26 اپریل 2013 کو منظور ہوچکا تھا، جبکہ عام انتخابات 11 جون 2013 میں ہوئے

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اور ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت بنی
مولانا کے مطابق پلاننگ کمیشن کے چند ذمہ داران نے سازش کے تحت روڈ کو نیشنل ہائی وے سے نکال کر بی ڈی اے کے حوالے کردیا تاکہ فائدہ اٹھایا جاسکے جبکہ لنک روڈز کو بھی منصوبے سے خارج کردیا گیا اور لاگت کم کرکے 4 ارب 85 کروڑ کردی گئی

مولانا سرور موسیٰ خیل نے بی ڈی اے چیئرمین شیر خان بازئی سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ منصوبے پر کام آگے بڑھایا جائے گا

انہوں نے بتایا کہ
پی ایم ڈی کے وزیر ڈاکٹر حامد اچکزئی نے متعدد مرتبہ پہلی قسط جاری نہ ہونے دی، اور موقف اختیار کیا کہ یہ پرایا حلقہ ہے

وقت کے ساتھ سیاسی صورتحال تبدیل ہوئی تو سابق سیکرٹری ماما مینگل کی کوششوں سے مضمون وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے فوری طور پر ایکشن لیا اور محکمہ بی ڈی اے سے یہ منصوبہ بی اینڈ ڈی آر میں منتقل کردیا، جبکہ ڈاکٹر حامد اچکزئی کی مزاحمت بھی مسترد کردی گئی

وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے واضح کیا کہ منصوبے کی قسطیں فوری طور داؤد بڑیچ جاری کریں گے
قسط ریلیز ہونے کے بعد لورالائی کمانڈنٹ عامر مختیار کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا جنہوں نے موسیٰ خیل اور درگ میں جرگوں کے دوران اعلان کیا کہ کوئی اس منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کرے

کمشنر لورالائی ڈاکٹر سیف الرحمن نے دورہ کیا اور تفصیلات سن کر پی سی ون کو ریوائز کرکے لاگت 5 ارب سے بڑھا کر 8 ارب 90 کروڑ روپے کردی

مولانا سرور موسیٰ خیل نے ڈاکٹر سیف الرحمن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج جب حقیقی کام شروع ہوا ہے تو کچھ عناصر غلط بیانی کرکے جھوٹا کریڈٹ لینے میں مصروف ہیں مگر عوام سب کچھ جانتے ہیں
جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے اور میں موسیٰ خیل کی ترقی کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہوں

28/11/2025

اسلام آباد
بلوچستان یونیورسٹی کی آرٹ ایگزیبیشن میں اپنے فن پارے کی تشریح کرتے ہوئے نوجوان آرٹسٹ فوزیہ نور نے کم عمر شادی کے منفی سماجی اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی

انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی نہ صرف بچی کے حقوق سلب کرتی ہے بلکہ اسے ایسے ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار بھی بنا دیتی ہے جن کا سامنا وہ عمر اور تربیت کی کمی کے باعث نہیں کر پاتی

فوزیہ نور کا کہنا تھا کہ والدین بچیوں کی صحیح تربیت اور رہنمائی کیے بغیر اگر انہیں کم عمری میں کسی اور گھر رخصت کر دیں تو اکثر وہ بچیاں نئے ماحول نئی ذمہ داریوں اور غیر ضروری دباؤ کی وجہ سے شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ صورتحال انہیں اندر سے توڑ دیتی ہے اور وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ذہنی بیماریاں اور عدم اعتماد کا سامنا کرنے لگتی ہیں

انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچیوں کی کم عمری میں شادی ہرگز نہ کریں، ان کی تعلیم، شعور اور تربیت کو ترجیح دیں تاکہ وہ مستقبل میں ایک مضبوط باشعور اور خوداعتماد فرد کے طور پر معاشرے کا حصہ بن سکیں

شرکاء نے فوزیہ نور کی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کا اس طرح کے سنجیدہ مسائل کو آرٹ کے ذریعے اُجاگر کرنا معاشرتی اصلاح کی جانب اہم قدم ہے

27/11/2025
24/08/2024

Dukki

24/08/2024

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars – they help me earn money to keep making content that you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars.

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Dukki
Quetta
00478