Bilal Majeed Turabi

Bilal Majeed Turabi

Share

📰 Delivering fast, reliable, and up-to-date news on Politics, Sports, Business, Technology, Entertainment, and World Affairs.

15/06/2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں نیدرلینڈز کے خلاف جاپان کے سنسنی خیز دو دو گول سے ڈرا مقابلے کے بعد ٹوکیو کا مشہور شبویا کراسنگ جشن منانے والے شائقین سے بھر گیا۔

سیکڑوں مقامی اور غیر ملکی فٹبال مداح قومی پرچم لہراتے، نعرے لگاتے اور اپنی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا جشن مناتے نظر آئے۔

بارش کے باوجود شائقین کا جوش و خروش دیدنی تھا اور پورا علاقہ ایک تہوار کا منظر پیش کر رہا تھا۔
شن ہی توجہ کا مرکز نہیں بنا بلکہ شائقین کے نظم و ضبط اور شاندار تہذیب نے بھی دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شائقین سگنل بند ہونے پر سڑک کے بیچ میں آکر جشن مناتے ہیں اور جیسے ہی ٹریفک سگنل سبز ہوا تو جشن میں مصروف ہجوم نے فوری طور پر سڑک خالی کر دی اور ٹریفک کی روانی بحال ہونے دی۔

اس منظم رویے کو سوشل میڈیا صارفین نے جاپانی ثقافت، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کی بہترین مثال قرار دیا ہے۔





15/06/2026

ایران کی قومی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ 2026 کے سلسلے میں پہلی بار امریکا پہنچ گئی ہے۔

ایرانی ٹیم نے لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد اسی روز پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

یہ آمد ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امن معاہدے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

ایرانی ٹیم میکسیکو کے شہر تیجوانا سے مختصر پرواز کے ذریعے لاس اینجلس پہنچی جہاں وہ نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے افتتاحی گروپ میچ میں میدان میں اترے گی۔

ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نویی نے کہا کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ فٹبال مختلف قوموں اور ثقافتوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی ٹیم نے گزشتہ ماہ امریکا کی ریاست ایریزونا میں قائم اپنا بیس کیمپ منتقل کرکے میکسیکو میں قائم کیا تھا۔

اب ٹیم کو اپنے تمام گروپ میچز کے لیے میکسیکو سے امریکا سفر کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل تیجوانہ میں روانگی کے وقت شائقین کی بڑی تعداد نے ایرانی ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا اور ان کی حمایت میں نعرے لگائے۔

لاس اینجلس میں بڑی ایرانی کمیونٹی کی موجودگی کے باعث ایران کو بھرپور عوامی حمایت ملنے کی توقع ہے۔




15/06/2026

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد اسٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی کرکٹ کے مسلسل ارتقاء کے ساتھ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا اب حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور’ایک ہی نظام سب کے لیے‘کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ایسا اسٹرکچر بنایا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے، انہیں ترجیح دیتا ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔

جہاں دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز اب بھی تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی میں رکھتے ہیں اور ایک ٹیسٹ اسپیشلسٹ کو ٹی ٹوئنٹی فرنچائز کھلاڑی کے ساتھ ایک ہی گریڈ کے لیے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں، وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی ایک ایسا ماڈل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا یے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت اور ترجیحات کو تسلیم کرتا ہے۔

نئے نظام میں صرف تنخواہوں کے گریڈز ہی تبدیل نہیں کیے گئے بلکہ جدید کرکٹ کے اس سب سے مشکل سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ کیسے رکھا جائے اور ہر فارمیٹ کے کرکٹر کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے؟

کرکٹ فارمیٹ کی باضابطہ نشاندہی

نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور اسٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔

سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے سے منسلک کیا جائے گا۔

بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔

کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔

نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔

وائٹ بال اور ٹی ٹوئنٹی

مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔

تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی ہے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے۔

چار گریڈز سے پانچ فارمیٹ ٹریکس تک

پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا جو صرف معاوضے کی سطح کو ظاہر کرتی تھیں لیکن نئے نظام میں ان کی جگہ پانچ واضح فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں۔

ٹریک اے بی - دوہرا فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے)

اس فارمیٹ کا حصہ پاکستان کے وہ نمایاں کھلاڑی بنیں گے جو کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی بنیاد ہیں۔ یہ بورڈ کی پرائم کیٹییگری ہوگی۔

ٹریک اے - ریڈ بال اسپیشلسٹ (ٹیسٹ کرکٹ)

اس فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑی مکمل طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے وقف ہوں گے۔ اس ٹریک کا مقصد ٹیسٹ اسپیشلسٹس کو تحفظ اور فروغ دینا ہے۔

ٹریک بی سی - وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل)

اس فارمیٹ سے وہ کھلاڑی وابستہ ہوں گے جو محدود اوورز کی کرکٹ کے اسپیشلسٹ ہوں گے۔

ٹریک ڈی – ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور فرنچائز اسپیشلسٹ

یہ کیٹیگری مختصر فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کے لیے ہو گی جنہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔

تمام ٹریکس دو بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گے۔ پہلا یہ کہ ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے ہی ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ ہر ٹریک میں دو داخلی درجات ہوں گے جن میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی ممکن ہو گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ہر ٹریک میں موجود معاہدوں کی تعداد یا تقسیم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔

ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

نئے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹس کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اجازت مختصر فارمیٹ نہیں بلکہ صرف ریڈ بال کرکٹ کے لیے ہوگی۔

اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول میں تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مزید بہتر ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔

فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگز بدستور اس گروپ کے لیے بند رہیں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ نظام کیوں متعارف کروایا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک میں کام کرتا ہے۔

پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں مقبول ہیں اور کرکٹ بورڈ نے اس حقیقت سے لڑنے کے بجائے اس کے مطابق ایک مؤثر نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دراصل پاکستانی کرکٹرز کے لیے سینٹرل کانٹریکٹس کا پرانا سسٹم دو مسائل پیدا کرتا تھا۔

پہلا یہ کہ مختصر فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والا کھلاڑی بعض اوقات ایک کمٹڈ ٹیسٹ کرکٹر سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیتا تھا۔

دوسرا یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹس کے لیے وائٹ بال کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بغیر ترقی کے مواقع محدود تھے۔

نیا نظام ان دونوں مسائل کا خاتمہ کرتا ہے کیونکہ ہر کرکٹر کا موازنہ صرف اسی فارمیٹ کے کرکٹر سے ہوگا جس سے وہ وابستہ ہے۔



اگلا سوال یہ ہے کہ کرکٹرز سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کیسے اہل ہوں گے؟ اس کے لیے انہیں تین مرحلوں پر مشتمل ایک نظام سے گزرنا ہو گا۔

مرحلہ اول: میڈیکل اور فٹنس ٹیسٹ

ہر کھلاڑی کی جامع میڈیکل اور فٹنس اسسمنٹ کی جائے گی۔ اس کا مقصد کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت اور کیریئر کا تحفظ ہے۔

مرحلہ دوم: ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت

سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کرکٹرز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال طور پر شریک ہوں۔

مرحلہ سوم: کارکردگی کا جائزہ

ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

جوابدہی پر مبنی سسٹم

کرکٹ بورڈ کا نیا فریم ورک سینٹرل کانٹریکٹ کو پہلے سے زیادہ شفاف بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو ان کی وابستگی اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچا کیا جائے گا اور بورڈ ہر فیصلے کا واضح جواز پیش کر سکے گا۔

یہ فریم ورک 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور سابقہ نظام کی جگہ لے گا۔




15/06/2026

ایک صحافی نے عاقب جاوید سے سخت سوال کیا کہ پاکستان کرکٹ میں بہتری لانے کے لیے انہیں کتنا وقت چاہیے؟؟؟؟

عاقب جاوید نے جواب دیا: "کرکٹ میں وقت کی حد مقرر کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ کہنا ممکن نہیں کہ چھ ماہ بعد پاکستان کبھی میچ نہیں ہارے گا۔ کرکٹ دنیا کے مشکل ترین کھیلوں میں سے ایک ہے، جہاں تسلسل کے ساتھ بہتری لانا آسان نہیں ہوتا۔"🥸

With Abdullah Khan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

14/06/2026

امریکا میں جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ فٹبال ٹیم کا سامان چوری کرنے کے الزام میں دو افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مصطفیٰ سالک اور عرفان کمال کے خلاف چوری شدہ سامان رکھنے کے الزام میں ایک ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چوری ہونے والے سامان کی مالیت تقریباً 18 ہزار امریکی ڈالر ہے جس میں انگلینڈ ٹیم کی کٹس اور دیگر ضروری آلات شامل تھے۔

بیان کے مطابق سامان اس وقت چوری کیا گیا جب اسے فلوریڈا میں قائم انگلینڈ کے تربیتی کیمپ سے کینساس سٹی میں واقع ورلڈ کپ بیس کی جانب منتقل کیا جا رہا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق دونوں ملزمان کے قبضے سے مبینہ طور پر چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا جس کے بعد ان پر فردِ جرم عائد کی گئی۔

ریاستی قانون کے تحت اس جرم میں ملوث افراد کو زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

واقعے کے بعد حکام نے ورلڈ کپ سے متعلق ٹیموں کے سامان اور لاجسٹکس کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔



14/06/2026

ایک روزہ سیریز کے تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں آسٹریلیا نے بنگلا دیش کو 1 وکٹ سے شکست دے کر خود کو وائٹ واش سے بچا لیا۔

میرپور میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے 275 رنز کا
ہدف آخری وکٹ پر 50 ویں اوور میں حاصل کیا۔

کینگروز کی جانب سے کوپر کونولی 149 رنز کی شاندار باری کھیل کر نمایاں رہے۔ مارنس لبوشین 29، اولیور پِیک 27، کیمرون گرین 27، کپتان جوش انگلس 21، ایلکس کیرے 8، بین ڈوارشوئس 4، زیویئر بارٹلیٹ 0 اور میٹ رینشا 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
بنگلا دیش کی جانب سے شریف الاسلام نے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ مہدی حسن، مستفیض الرحمان اور تسکین احمد نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بنگلا دیش نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 274 رنز اسکور کیے۔

بنگلا دیش کی جانب سے توحید ہردوئے 83 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ لٹن داس اور مصدق حسین 58 اور 56 رنز بالترتیب بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔

کپتان نجم الحسن شانٹو 24، تنزید حسن 19، مہدی حسن 3 اور سومیا سرکار 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے میٹ رینشا اور زیویئر بارٹلیٹ نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔ بین ڈوائرشوئس نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔



14/06/2026

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور امریکا و ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب بڑھتی ہوئی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ترکیہ بھی ان ممالک میں شامل ہے جن سے خطے کی صورتحال اور ممکنہ امن فارمولے کے حوالے سے مسلسل مشاورت کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔





14/06/2026

ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ غور مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر ایران کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا اور معاملہ مختلف سطحوں پر جائزے کے مرحلے میں ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مذاکراتی ٹیم کے قریب سمجھے جانے والے ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر دستخط کے حوالے سے تہران کی جانب سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کے سیاسی، قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ ماہرین اور متعلقہ فیصلہ ساز اداروں کی سطح پر جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام اس معاہدے کے ممکنہ اثرات، قومی مفادات اور قانونی تقاضوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ذمہ دار ادارے مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تمام پہلوؤں کا محتاط انداز میں تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تمام معاملات واضح ہو سکیں۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اب تک کسی حتمی منظوری یا دستخط کی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق تہران کی جانب سے محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل اس کے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینا چاہتا ہے۔




14/06/2026

چکوال میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے بچی کے جاں بحق ہونے کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، بچی ڈاکوؤں کے بجائے سی سی ڈی اہلکار کی گولی کا نشانہ بنی
چکوال(ڈیلی پاکستان آن لائن)چکوال میں تین روز قبل ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے 9 سالہ بچی کے جاں بحق ہونے کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا۔جنگ نیوز کے مطابق بچی ڈاکوؤں کے بجائے سی سی ڈی اہلکار کی گولی کا نشانہ بنی۔ آسٹریلیا سے آیا خاندان پہلے ڈاکوؤں اور بعد میں اہلکار کی فائرنگ کی زد میں آیا، فائرنگ میں ملوث اہلکار کو گرفتار کر کے واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ مقابلے میں دونوں مرکزی ڈکیت بھی مارے گئے ہیں۔

ترجمان پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیمز تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے بروقت کارروائی کی، اس دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس میں واردات میں ملوث دونوں مرکزی ڈکیت ہلاک ہو گئے، فائرنگ کے واقعہ میں ملوث سی سی ڈی اہلکار کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کر دی گئی ہے جو تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔پولیس حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ غفلت یا قصور ثابت ہونے پر گرفتار اہلکار کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




14/06/2026

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ مسلح لشکر کشی سے مظفر آباد پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں میں تحریک کی آبیاری ہوئی ہے کسی کمیٹی کے مطالبے پر ضائع نہیں کیا جاسکتا۔پر امن احتجاج اور لانگ مارچ حق ہے مگر مسلح لشکر کشی کے ذریعے مظفرآباد پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس دفعہ اراکین کے حلف نامے سے پاکستان سے الحاق کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا تھا، انہیں ہر طرح کی پیشکش کی گئی مگر وہ ٹھکراتے رہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بیرونی قوتوں کی فنڈنگ اور مدد حاصل ہے، ایکشن کمیٹی نے شروع میں مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔




Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Rawalpindi
42000