17/09/2026
موضع بارن کی عوام کا دیرینہ مسئلہ
ہمارا مطالبہ:
ہم حکومت، اعلیٰ حکام اور ایم پی اے صاحب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ہماری سڑک کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جائے۔ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ اگر ہمارے جائز اور بنیادی حق پر اب بھی ایکشن نہ لیا گیا تو ہم احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوں گے۔
کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں؟
40 سے 50 سال پرانی سڑک اب بھی کسی مسیحا کی منتظر!نہایت افسوس اور تشویش کے ساتھ حکومت وقت اور ہمارے حلقے کے منتخب نمائندے ایم پی اے (MPA) صاحب کی توجہ (موضع بارن) کی مرکزی سڑک کی بدحالی کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔آج سے تقریباً 40-50 سال پہلے بننے والی یہ سڑک اب سڑک نہیں رہی بلکہ ایک مقتل بن چکی ہے۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے، اڑتی دھول اور بارش کے دنوں میں تالاب کا منظر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ انتظامیہ اور حکومت کو ہمارے گاؤں کے انسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
حکومت بڑے بڑے دعوے تو کرتی ہے لیکن کیا ترقی صرف بڑے شہروں کے لیے ہے؟ ہمارے ٹیکسوں سے چلنے والی حکومت کو یہ ٹوٹتی سڑکیں اور اس پر خوار ہوتی عوام کیوں نظر نہیں آتی؟ صحت، تعلیم اور روزگار کے لیے شہر جانے والے مریض، بزرگ اور اسکول کے بچے روزانہ اس سڑک پر عذاب جھیلتے ہیں۔ سڑکوں کا یہ حال حکومتی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے!