09/05/2021
Give thanks to your creator on the Night of Power. Laylat Ul-Qadr Mubarak!
Kashmir Filling Station & Petroleum Business, A Project of Warya Group & Brothers .. .. !!
09/05/2021
Give thanks to your creator on the Night of Power. Laylat Ul-Qadr Mubarak!
14/08/2020
GO wishes you all a Happy Independence Day! May Allah bless our Nation and may we Prosper & Flourish.
01/08/2020
EID MUBARAK..!!!
13/06/2020
11/06/2020
Awam ki Khidmat 🙏
Gas & Oil Pakistan Ltd.
11/06/2020
Gas & Oil Pakistan Ltd.
GO promises to deliver fuel as always. Here is News One's coverage of our promise and deliverance of never letting our customers run out of fuel!
پیٹرول شارٹیج کی اصل وجہ کیا ہے ۔
مختلف پیجیز پر ہیٹرول شارٹیج کی اس قسم کی وجوہات پڑھنے کو ملی کہ لکھے بنا چارہ نا رہا ۔ ہوا یہ کہ 24 مارچ کو عمران خان صاحب نے اچانک میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں 15 روپے کمی کا اعلان کر دیا ۔ شو مئی قسمت یہ کہ صحافی کے پوچھنے پر کہ ان قیمتوں کا اطلاق کیا آج سے ہوگا تو تو کہنے لگے جی آج سے ۔ یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کہ ریٹ کم کرنے پر نا اوگرا سے سمری مانگی نہ ای سی سی سے منظوری لی اور اچانک حکم صادر فرما دیا گیا ۔ اس دن کیونکہ یہ ایک انہونی ہوئی جس کا وزیر اعظم صاحب کے علاوہ کسی کو علم ہی نہیں تھا تو ڈیلیرز آئل کمپنیز کے پاس یکم تک کا سٹاک پڑا تھا کیونکہ ریٹ کم یا زیادہ بھی یکم کو ہی ہوتے ہیں ۔ ڈیپوز میں روزانہ 20 سے 25 لاکھ لیٹر مال نکلنا معمول کی بات ہے ۔ تو اندازہ لگائیں کہ ڈیلرز اور کمپنیز کو کتنا نقصان ہوا ۔ چھوٹی کمپنیز کا تو دیوالیہ ہی نکل گیا ۔ جبکہ میرے کانٹریکٹر بلک سپلائیر کا سارے سال کا پرافٹ ایک رات میں نکل گیا ۔ ایک دوست کے اس دن 17 ٹرالے کلئیر ہوئے جن میں قریبا 10 لاکھ لیٹر پیٹرول تھا تو اسی رات اسے ڈیڑھ کروڑ کا نقصان ہو گیا ۔ اس پر ائل کمپنیز نے درخواست کی کہ شیڈول کے مطابق یکم کو ریٹ کم کر دئیے جائیں لیکن وزیر اعظم کے سامنے یہ جا کر کہنے کی بھی کس کی جرات ہوتی اور اگلے دن ریٹ کم ۔ حالانکہ صرف 5 دن اسے لیٹ کر دیا جاتا تو عوام نے بھوک نہیں مر جانا تھا صرف ائل کمپنیز اربوں روپے کے خوامخواہ کے نقصان سے بچ جاتی ۔
دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمتیں مسلسل گر رہی تھی کمپنیز ایگریمنٹ کرتی اور مال جب پاکستان پہنچتا تو ریٹ مزید کم ہو جاتے جس سے مزید نقصان ہوتا ۔ گیس اینڈ آئل کمپنی کو اتنا عرصہ میں 2 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔ مزید حکومت کی مت یہ ماری گئی کہ امپورٹ پر بین لگا دیا، لوکل ریفائنری مالکان نے ملک کی ڈیمانڈ پوری کرنے کا کہا ان کا کہنا تھا کیونکہ ٹرانسپورٹ بند ہے تو ریفائنری اس ڈیمانڈ کو پورا کر دے گی جو کہ ناممکن تھا ۔ حکومت سے یہاں بلنڈر ہوا یہ جانے بنا کہ مئی کا مہینہ کٹائی بجائی کا ہوتا ہے جسے سیزن بھی کہا جاتا ہے نتیجتا گذشتہ ماہ ڈیزل بھی ناپید ہو گیا ۔ آخری کیل وہاں ٹھکی جب اس بار جون میں مزید ریٹ کم کئیے گئے تو کمپنیز کا کہنا تھا ہم ان ریٹ پر امپورٹ نہیں کر سکیں گے کیونکہ اس سے مزید نقصان ہوگا اور ہم پہلے ہی تین ماہ سے مسلسل نقصان برداشت کر رہے ہیں ۔ آپ صرف 15 دن کے لئیے اسے موخر کر دیں لیکن حکومت نے یہ تجویز بھی نا مانی جس سے امپورٹ آرڈرز ختم ہوئے اور ملک کو گزشتہ 10 سال کی اس وقت بدترین پیٹرول و ڈیزل کی قلت کا سامنا کرنا پڑا ۔
جبکہ حکومت اب چھاپے مارنا کا کہہ رہی ہے تو آئل ریفانریز کے پاس کروڈ آئل ہی نہیں ۔ ان حالات میں پمپس ڈرائی پڑے ہیں تو چھاپیں ماریں گے کہاں اور نکالیں گے کہاں سے ۔ حکومت نے عوامی ریلیف اور بزنس کے درمیان ایکویئشن کو بیلینس رکھنا ہوتا ہے نا کہ ایسی صورتحال پیدا کر دی جائے کہ 75 روپے والا پیٹرول 100 روپے میں بلیک میں ملنے لگے ۔
اب حل کیا ہے حل یہی ہے کہ امپورٹ پر بنا کسی شرائط کے مکمل بین ہٹایا جائے قیمتوں کی مساوات کو متوازن رکھا جائے اگر عوامی ریلیف مقصود ہے تو ٹیکسیز پر کٹ لگایا جائے ۔نا کہ کاروباری طبقے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا کر یہ غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی جائے ۔
والسلام