23/08/2026
وقت کی قدر و اہمیت
وقت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ دنیا میں ہر انسان کو دن میں چوبیس گھنٹے ہی ملتے ہیں، لیکن کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس وقت کو سمجھ داری اور محنت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو ایک بار گزر جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ "گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔"
وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ زندگی میں کبھی خوشی آتی ہے اور کبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اچھے وقت کی قدر کرتے ہیں اور اسے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ وقت کو کھیل کود، سستی اور فضول کاموں میں ضائع کرتے ہیں، انہیں بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔
طلبہ کے لیے وقت کی پابندی خاص طور پر ضروری ہے۔ اگر طالب علم اپنے وقت کو پڑھائی، عبادت، آرام اور دیگر ضروری کاموں کے لیے مناسب طریقے سے تقسیم کرے تو وہ نہ صرف امتحانات میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ زندگی میں بھی ترقی کر سکتا ہے۔ کامیاب انسان اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی سمجھتا ہے۔
دنیا کے عظیم اور کامیاب لوگوں نے وقت کی اہمیت کو ہمیشہ سمجھا۔ انہوں نے محنت، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ وقت کی پابندی انسان میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے اور اسے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر کرنے کی عادت ڈالیں اور اپنے مستقبل کے لیے واضح مقصد مقرر کریں۔ اگر ہم آج کے وقت کی قدر کریں گے تو ہمارا آنے والا کل بہتر ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ وقت زندگی ہے، اور وقت کی قدر دراصل زندگی کی قدر ہے۔ جو شخص وقت کی قدر کرتا ہے، وقت بھی اسے کامیابی اور ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں ہر لمحے کو قیمتی سمجھنا چاہیے کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔