Ghani King Stars

Ghani King Stars

Share

Cricket league frenchise

15/10/2025

*ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں.*

میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.

وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.

استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.

کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں.
بار بار شرمندہ کرتے ہیں.

30/09/2025

پس ثابت ہوا کے فائنل جیت کے بھی ٹرافی نہ دیاجانا ایشیا میں روند نہیں گنا جاتا۔۔محسن نقوی

28/09/2025

Asia Cup Final 28-09-2025.

16/09/2025

Hayeeeeee mera champion 🏆. ...

12/09/2025

ٹیپ بال کے ایک کھلاڑی اپنے کزن کی شادی پر گاؤں گئے۔۔ وہاں کزن نے ہائپ بنا دی کہ ٹیپ بال کے نامی گرامی بلے باز آئے ہیں جو کامی کھبے کا شافی علاج کریں گے۔۔چھ فٹ ایک انچ کے کامران عرف کامی کھبا آس پاس کے دیہاتوں میں وسیم اکرم کی فرسٹ کاپی مشہور تھے۔۔ ہمیشہ کامی کھبے کی پکی وکٹ کزن اس سے خار کھاتے تھے۔۔

میچ میں بلے باز اور کامی کھبے کا پہلے اوور میں ہی سامنا ہو گیا۔۔۔کھبے نے باؤنسر مارا اور بلے باز بامشکل خود کو بچا سکے..کزن دوسرے اینڈ سے بولے شاباش شاباش اگلی چھکے آلی آؤ۔۔۔ بلے باز کھبے کی رفتار سے خوف زدہ تو ہوئے لیکن خوش ہو گئے کہ چلو عزت بن گئی لیکن کھبا صاحب غصہ کر گئے۔۔

کبھںے پائین نے اگلا باؤنسر ایسا کیا کہ بلے باز لیفٹ ہو سکے نہ رائیٹ بس اللہ کے سہارے گیند سر سے انچ اوپر سے نکل گئی۔۔بلے باز سانس بند کی کفیت میں تھے کہ پھر کزن کی آواز آئی شاباش شاباش اگلی چھکے آلی آؤ۔۔کامی کھبا صاحب نے تیسری گیند اس سے بھی تیز کرائی لیکن بلے باز سمجھ گئے تھے لہذا پیشگی نیچے بیٹھ گئے۔۔پھر اٹھے اور کزن سے پہلے بول اٹھے کہ ہن نہ بولیں جے چھکے آلی دا بوہتا چاء اے تے توں ایتھے آ جا۔۔

خیر چوتھی گیند کے لیے بھی سابقہ حکمت عملی تیار تھی کہ کھبے نے لو فل ٹاس ڈال دی جو نیچے بیٹھے بلے باز کے ماتھے کے وسط میں محراب بنا گئی۔۔بلے باز لمے پے گئے اور پھر کچھ لمحات پڑے ہی رہے۔۔گاؤں میں کامی کھبے کا 0.4 اوور مشہور ہے جبکہ کزن کا آج بھی موقف ہے کہ آخری دو گیندیں چھکے آلیاں ای سی۔۔

سبق۔۔اپنے اردگرد "شاباش شاباش اگلی چھکے آلی آؤ" کہنے والوں سے ہوشیار رہیں۔۔

12/09/2025

Allert

06/09/2025

مسجد کے خطیب صاحب نے منبر پر چڑھ کر "کفایت شعاری، صبر اور پرہیزگاری" پر تقریر شروع ہی کی تھی کہ ایک خاکروب نے کھڑے ہو خطیب کی بات کاٹتے ہوئے کہا:

حضور والا: آپ ایک پر تعیش کار میں بیٹھ کر مسجد میں تشریف لائے ہیں۔ آپ نے نفیس ترین کپڑے کا لباس زیب تن کیا ہوا ہے، آپ کے لگائے ہوئے قیمتی عطر سے پوری مسجد مہک رہی ہے۔ آپ کے ہاتھ میں چار چار انگوٹھیاں نظر آ رہی ہیں اور شاید آپ کی ایک انگوٹھی کی قیمت میری تنخواہ سے بھی زیادہ ہوگی۔ آپ نے آئی فون کا آخری ماڈل اٹھا رکھا ہے۔ آپ ہر سال اپنے زہد و تقوی میں اضافہ کیلیئے حج اور عمرے پر تشریف لیجاتے ہیں۔

جناب والا: کسی روز ٹین کی چھت سے بنے میرے گھر پر تشریف لائیے، اور ایک رات کیلیئے ایئر کنڈیشن کے بغیر سو کر دیکھیئے، اور دیکھیئے کہ کیسے صبح سویرے فجر سے پہلے جاگ کر، شدت کی اس گرمی میں سڑک پر جھاڑو دینے کیلیئے ایسی حالت میں جانا پڑتا ہے کہ آپ نے روزہ بھی رکھا ہوا ہو۔ تب جا کر آپ کو پتہ چلے گا کہ صبر کے اصلی کیا معنی ہیں۔

میں یہ والا کام پورا مہینہ کرتا ہوں تب کہیں جا کر اتنی سی تنخواہ ملتی ہے جس سے آپ کا لگایا ہوا یہ عطر بھی شاید ہی مل پائے۔

محترم شیخ صاحب: ناراضگی معاف: ہمیں صبر اور شکر کے معنی جاننے کی بالکل ضرورت نہیں کہ یہ تو ہمارا اور ہمارے گھر کا پرانا ساتھی ہے۔

ہمیں تو آپ علماء کے دکھاوے اور اور امیروں کے ظلم کے بارے میں بتائیے۔

ہمیں تو دولت کی غیر مساویانہ تقسیم سے سماج میں پل رہی بے روزگاری کے عفریت کے بارے میں بتائیے جو ٹائم بم کی طرح پھٹنے کو تیار ہو رہا ہے۔

ہمیں تو مظلوموں کو کیسے انصاف ملے اور بھوکوں کے بارے میں بنتی کسی پالیسی سے آگاہ کیجیئے۔

ہمیں عوامی دولت کو ہڑپ کرنے والے بدعنوان حکمرانوں اور ان سے عوام کو اپنا مال واپس کیسے ملے گا کے بارے میں بتائیے۔

ہمیں تو دولت کی تقسیم مساویانہ ہوجائے، حقداروں کو حق پہنچ جائے، اور انصاف کیسے سب کیلیئے ملنا آسان ہو کے بارے میں بتائیے۔

ہمیں مناصب کی بندر بانٹ اور اقرباء پروری کے بارے میں کچھ بتائیے۔

ہمیں یہ بتائیے کہ حق داروں کو حق کب اور بکیسے مل پائے گا۔

اگر آپ یہ سب کچھ نہیں بتا سکتے تو ہمیں آپ کے خطاب کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کا تو اپنا تال میل آپ سے گفتگو سے نہیں مل رہا۔

(ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ؟ ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں.) سورة الكهف

06/09/2025

مصطفیٰ جان_رحمت پہ لاکھوں سلام
احمد رضا خاں

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

مہر چرخ نبوت پہ روشن درود
گل باغ رسالت پہ لاکھوں سلام

شہریار ارم تاجدار حرم
نوبہار شفاعت پہ لاکھوں سلام

شب اسریٰ کے دولہا پہ دائم درود
نوشۂ بزم جنت پہ لاکھوں سلام

عرش کی زیب و زینت پہ عرشی درود
فرش کی طیب و نزہت پہ لاکھوں سلام

نور عین لطافت پہ الفت درود
زیب و زین نظافت پہ لاکھوں سلام

سرو ناز قدم مغز راز حکم
یکہ تاز فضیلت پہ لاکھوں سلام

نقطۂ سر وحدت پہ یکتا درود
مرکز دور کثرت پہ لاکھوں سلام

صاحب رجعت شمس و شق القمر
نائب دست قدرت پہ لاکھوں سلام

جس کے زیر لوا آدم و من سوا
اس سزائے سیادت پہ لاکھوں سلام

عرش تا فرش ہے جس کے زیر نگیں
اس کی قاہر ریاست پہ لاکھوں سلام

اصل ہر بود و بہبود تخم وجود
قاسم کنز نعمت پہ لاکھوں سلام

فتح باب نبوت پہ بے حد درود
ختم دور رسالت پہ لاکھوں سلام

شرق انوار قدرت پہ نوری درود
فتق ازہار قدرت پہ لاکھوں سلام

بے سہیم و قسیم و عدیل و مثیل
جوہر فرد عزت پہ لاکھوں سلام

سر غیب ہدایت پہ غیبی درود
عطر جیب نہایت پہ لاکھوں سلام

ماہ لاہوت خلوت پہ لاکھوں درود
شاہ ناسوت جلوت پہ لاکھوں سلام

کنز ہر بے کس و بے نوا پر درود
حرز ہر رفتہ طاقت پہ لاکھوں سلام

پرتو اسم ذات احد پر درود
نسخۂ جامعیت پہ لاکھوں سلام

مطلع ہر سعادت پہ اسعد درود
مقطع ہر سیادت پہ لاکھوں سلام

خلق کے داد رس سب کے فریاد رس
کہف روز مصیبت پہ لاکھوں سلام

مجھ سے بے کس کی دولت پہ لاکھوں درود
مجھ سے بے بس کی قوت پہ لاکھوں سلام

شمع بزم دنیٰ ہو میں گم کن انا
شرح متن ہویت پہ لاکھوں سلام

انتہائے دوئی ابتدائے یکی
جمع تفریق و کثرت پہ لاکھوں سلام

کثرت بعد قلت پہ اکثر درود
عزت بعد ذلت پہ لاکھوں سلام

رب آلہ کی نعمت پہ آلہ درود
حق تعالیٰ کی منت پہ لاکھوں سلام

ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام

فرحت جان مومن پہ بے حد درود
غیظ قلب ضلالت پہ لاکھوں سلام

سبب ہر سبب منتہائے طلب
علت جملہ علت پہ لاکھوں سلام

مصدر مظہریت پہ اظہر درود
مظہر مصدریت پہ لاکھوں سلام

جس کے جلوے سے مرجھائی کلیا ں کھلیں
اس گل پاک منبت پہ لاکھوں سلام

قد بے سایہ کے سایۂ مرحمت
ظل ممدود رافت پہ لاکھوں سلام

طائران قدس جس کی ہیں قمریاں
اس سہی سرو قامت پہ لاکھوں سلام

وصف جس کا ہے آئینۂ حق نما
اس خدا ساز طلعت پہ لاکھوں سلام

جس کے آگے سر سروراں خم رہیں
اس سر تاج رفعت پہ لاکھوں سلام

وہ کرم کی گھٹا گیسوے مشک سا
لکۂ ابر رافت پہ لاکھوں سلام

لیلۃ القدر میں مطلع الفجر حق
مانگ کی استقامت پہ لاکھوں سلام

لخت لخت دل ہر جگر چاک‌ سے
شانہ کرنے کی عادت پہ لاکھوں سلام

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام

چشمۂ مہر میں موج نور جلال
اس رگ ہاشمیت پہ لاکھوں سلام

جس کے ماتھے شفاعت کا صحرا رہا
اس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام

جن کے سجدے کو محراب کعبہ جھکی
ان بھووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام

ان کی آنکھوں پہ وہ سایہ افگن مژہ
ظلۂ قصر رحمت پہ لاکھوں سلام

اشک باری مژگاں پہ برسے درود
سلک در شفاعت پہ لاکھوں سلام

معنی قد را مقصد ماطغیٰ
نرگس باغ قدرت پہ لاکھوں سلام

جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آ گیا
اس نگاہ عنایت پہ لاکھوں سلام

نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود
اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

جن کے آگے چراغ قمر جھلملائے
ان عذاروں کی طلعت پہ لاکھوں سلام

ان کے خد کی سہولت پہ بے حد درود
ان کے قد کی رشاقت پہ لاکھوں سلام

جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام

چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں درود
نمک آگیں صباحت پہ لاکھوں سلام

شبنم باغ حق یعنی رخ کا عرق
اس کی سچی براقت پہ لاکھوں سلام

خط کی گرد دہن وہ دل آرا پھبن
سبزۂ نہر رحمت پہ لاکھوں سلام

ریش خوش معتدل مرہم ریش دل
ہالۂ ماہ ندرت پہ لاکھوں سلام

پتلی پتلی گل قدس کی پتیاں
ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

وہ دہن جس کی ہر بات وحی خدا
چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام

جس کے پانی سے شاداب جان و جناں
اس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام

جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے
اس زلال حلاوت پہ لاکھوں سلام

وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

اس کی پیاری فصاحت پہ بے حد درود
اس کی دل کش بلاغت پہ لاکھوں سلام

اس کی باتوں کی لذت پہ بے حد درود
اس کے خطبے کی ہیبت پہ لاکھوں سلام

وہ دعا جس کا جوبن قبول بہار
اس نسیم اجابت پہ لاکھوں سلام

جن کے گچھے سے لچھے جھڑیں نور کے
ان ستاروں کی نزہت پہ لاکھوں سلام

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

جس میں نہریں ہیں شیٖر شکر کی رواں
اس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلام

دوش بردوش ہے جن سے شان شرف
ایسے شانوں کی شوکت پہ لاکھوں سلام

حجر اسود کعبۂ جان و دل
یعنی مہر نبوت پہ لاکھوں سلام

روئے آئینۂ علم پشت حضور
پشتی قصر ملت پہ لاکھوں سلام

کریں جس سمت اٹھا غنی کر دیا
موج بحر سماحت پہ لاکھوں سلام

جس کو بار دو عالم کی پروا ہم
ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام

کعبۂ دین و ایماں کے دونوں ستوں
ساعدین رسالت پہ لاکھوں سلام

جس کے ہر خط میں ہے موج نور کرم
اس کف بحر ہمت پہ لاکھوں سلام

نور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام

عید مشکل کشائی کے چمکے ہلال
ناخنوں کی بشارت پہ لاکھوں سلام

رفع ذکر جلالت پہ ارفع درود
شرح صدر صدارت پہ لاکھوں سلام

دل سمجھ سے ورا ہے مگر یوں کہوں
غنچۂ راز وحدت پہ لاکھوں سلام

کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

جو کہ عزم شفاعت پہ کھنچ کر بندھی
اس کمر کی حمایت پہ لاکھوں سلام

انبیا تاکس کریں زانو ان کے حضور
زانوؤں کی وجاہت پہ لاکھوں سلام

ساق اصل قدم شاخ نخل کرم
شمع راہ اصابت پہ لاکھوں سلام

کھائی قرآں نے خاک گزر کی قسم
اس کف پا کی حرمت پہ لاکھوں سلام

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

نے سجدے پہ روز ازل سے درود
یادگاری امت پہ لاکھوں سلام

زرع شاداب و ہر ضرع پر شیٖر سے
برکات رضاعت پہ لاکھوں سلام

بھائیوں کے لیے ترک پستاں کریں
دودھ پیتوں کی نصفت پہ لاکھوں سلام

مہد والا کی قسمت پہ صدہا درود
برج ماہ رسالت پہ لاکھوں سلام

اللہ اللہ وہ بچپنے کی پھبن!
اس خدا بھاتی صورت پہ لاکھوں سلام

اٹھتے بوٹوں کی نشوونما پر درود
کھلتے غنچوں کی نکہت پہ لاکھوں سلام

فضل پیدایشی پر ہمیشہ درود
کھیلنے سے کراہت پہ لاکھوں سلام

اعتلائے جبلت پہ عالی درود
اعتدال طویت پہ لاکھوں سلام

بے بناوٹ ادا پر ہزاروں درود
بے تکلف ملاحت پہ لاکھوں سلام

بھینی بھینی مہک پر مہکتی درود
پیاری پیاری نفاست پہ لاکھوں سلام

میٹھی میٹھی عبارت پہ شیریں درود
اچھی اچھی اشارت پہ لاکھوں سلام

سیدھی سیدھی روش پر کروروں درود
سادی سادی طبیعت پہ لاکھوں سلام

روز گرم و شب تیرہ و تار میں
کوہ و صحرا کی خلوت پہ لاکھوں سلام

جس کے گھیرے میں ہیں انبیا و ملک
اس جہاں گیر بعثت پہ لاکھوں سلام

ادھے شیشے جھلاجھل دمکنے لگے
جلوہ ریزی دعوت پہ لاکھوں سلام

لطف بیداری شب پہ بے حد درود
عالم خواب راحت پہ لاکھوں سلام

خندۂ صبح عشرت پہ نوری درود
گریۂ ابر رحمت پہ لاکھوں سلام

نرمی کھوئے لینت پہ دائم درود
گرمی شان سطوت پہ لاکھوں سلام

جس کے آگے کھنچی گردنیں جھک گئیں
اس خداداد شوکت پہ لاکھوں سلام

کس کو دیکھا یہ موسیٰ سے پوچھے کوئی
آنکھوں والوں کی ہمت پہ لاکھوں سلام

گرد مہ دست انجم میں رخشاں ہلال
بدر کی دفع ظلمت پہ لاکھوں سلام

شور تکبیر سے تھرتھراتی زمیں
جنبش جیش نصرت پہ لاکھوں سلام

نعرہائے دلیراں سے بن گونجتے
غرش کوس جرأت پہ لاکھوں سلام

وہ چقاچاق خنجر سے آتی صدا
مصطفیٰ تیری صولت پہ لاکھوں سلام

ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں
شیر گراں سطوت پہ لاکھوں سلام

الغرض ان کے ہر مو پہ لاکھوں درود
ان کی ہر خو و خصلت پہ لاکھوں سلام

ان کے ہر نام و نسبت پہ نامی درود
ان کے ہر وقت و حالت پہ لاکھوں سلام

ان کے مولا کی ان پر کروروں درود
ان کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام

پارہائے صحف غنچہ ہائے قدس
اہل بیت نبوت پہ لاکھوں سلام

آب تطہیر سے جس میں پودے جمے
اس ریاض نجابت پہ لاکھوں سلام

خون خیرالرسل سے ہے جن کا خمیر
ان کی بے لوث طینت پہ لاکھوں سلام

اس بتول جگر پارۂ مصطفی
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

سیدہ ظاہرا طیبہ طاہرہ
جان احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

حسن مجتبیٰ سید الاسخیا
راکب دوش عزت پہ لاکھوں سلام

اوج مہر ہدیٰ موج بحر ندیٰ
روح روح سخاوت پہ لاکھوں سلام

شہد خار لعاب زبان نبی
چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

اس شہید بلا شاہ گلگوں قبا
بے کس دشت غربت پہ لاکھوں سلام

در درج نجف مہر برج شرف
رنگ رومی شہادت پہ لاکھوں سلام

اہل اسلام کی مادران شفیق
بانوان طہارت پہ لاکھوں سلام

جلوگیان بیت الشرف پر درود
پردگیان عفت پہ لاکھوں سلام

سیما پہلی ماں کہف امن و اماں
حق گزار رفاقت پہ لاکھوں سلام

عرش سے جس پہ تسلیم نازل ہوئی
اس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام

منزل من قصب لا نسب لاصخب
ایسے کوشک کی زینت پہ لاکھوں سلام

بنت صدیق آرام جان نبی
اس حریم براء ت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ
ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں روح اے لقدس بے اجازت نہ جائیں
ان سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

شمع تابان کاشانۂ اجتہاد
مفتی چار ملت پہ لاکھوں سلام

جاں نثاران بدر و احد پر درود
حق گزاران بیعت پہ لاکھوں سلام

وہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا
اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام

خاص اس سابق سیر قرب خدا
اوحد کاملیت پہ لاکھوں سلام

سایۂ مصطفیٰ مایۂ اصطفیٰ
عزو ناز خلافت پہ لاکھوں سلام

یعنی اس افضل الخلق بعدالرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

اصدق الصادقیں سیدالمتقیں
چشم و گوش وزارت پہ لاکھوں سلام

وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

فارق حق و باطل امام الہدیٰ
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام

ترجمان نبی ہم زبان نبی
جان شان عدالت پہ لاکھوں سلام

زاہد مسجد احمدی پر درود
دولت جیش عسرت پہ لاکھوں سلام

در منصور قرآں کی سلک بہی
زوج دو نور عفت پہ لاکھوں سلام

یعنی عثمان صاحب قمیص ہدیٰ
حلہ پوش شہادت پہ لاکھوں سلام

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعیں
ساقی شیٖر و شربت پہ لاکھوں سلام

اصل نسل صفا وجہ وصل خدا
باب فصل ولایت پہ لاکھوں سلام

اولیں دافع اہل رفض و خروج
چارمی رکن ملت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن
پرتو دست قدرت پہ لاکھوں سلام

ماحی رفض و تفضیل و نصب و خروج
حامی دین و سنت پہ لاکھوں سلام

مومنیں پیش فتح و پس فتح سب
اہل خیر و عدالت پہ لاکھوں سلام

جس مسلماں نے دیکھا انہیں اک نظر
اس نظر کی بصارت پہ لاکھوں سلام

جن کے دشمن پہ لعنت ہے اللہ کی
ان سب اہل محبت پہ لاکھوں سلام

باقی ساقیان شراب طہور
زین اہل عبادت پہ لاکھوں سلام

اور جتنے ہیں شہزادے اس شاہ کے
ان سب اہل مکانت پہ لاکھوں سلام

ان کی بالا شرافت پہ آلہ دردو
ان کی والا سیادت پہ لاکھوں سلام

شافعی مالک احمد امام حنیف
چار باغ امامت پہ لاکھوں سلام

کاملان طریقت پہ کامل درود
حاملان شریعت پہ لاکھوں سلام

غوث اعظم امام التقیٰ والنقیٰ
جلوۂ شان قدرت پہ لاکھوں سلام

قطب ابدال و ارشاد و رشدالرشاد
محیی دین و ملت پہ لاکھوں سلام

مرد خیل طریقت پہ بے حد درود
فرد اہل حقیقت پہ لاکھوں سلام

جس کی منبر ہوئی گردن اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام

شاہ برکات و برکات پیشینیاں
نوبہار طریقت پہ لاکھوں سلام

سید آل محمد امام الرشید
گل روز ریاضت پہ لاکھوں سلام

حضرت حمزہ شیر خدا و رسول
زینت قادریت پہ لاکھوں سلام

نام و کام و تن و جان و حال و مقال
سب میں اچھے کی صورت پہ لاکھوں سلام

نور جاں عطر مجموعہ آل رسول
میرے آقائے نعمت پہ لاکھوں سلام

زیب سجادہ سجاد نوری نہاد
احمد نور طینت پہ لاکھوں سلام

بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب
تاابد اہل سنت پہ لاکھوں سلام

تیرے ان دوستوں کے طفیل اے خدا
بندۂ ننگ خلقت پہ لاکھوں سلام

میرے استاد ماں باپ بھائی بہن
اہل ولد و عشیرت پہ لاکھوں سلام

ہوئے میرا ہی رحمت میں دعوی ہم
شاہ کی ساری امت پہ لاکھوں سلام

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور
بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام

مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں ! رضاؔ
مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

مأخذ :
ماقبل سلام

کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پر کروڑوں سلام
احمد رضا

06/09/2025

چھ ستمبر کی رات کو تارا طلوع ہو جائے گا
جو بکرمی ماہ بھادوں کی 22 کو طلوع ہوتا ہے
اور دیسی موسمی فورکاسٹ کے مطابق
ہم سردیوں میں داخل ہو جاتے ہیں کیونکہ 22 بھادوں کے بعد مکھی،مچھر کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور مویشی رکھنے والے دوست پھر مال مویشی کے لئے دھواں نہیں لگاتے۔
22 بھادوں کے ٹھیک ایک ہفتہ کے بعد اسوج شروع ہو جاتا ہے اور اس مہینے میں صبح کے وقت شمال کی طرف سے ہوائیں چلتی ہیں جو کہ نارمل سے ٹھنڈی ہوتی ہیں اور درجہ حرارت گرانے میں کافی مدد دیتی ہ...

03/09/2025

دریاؤں،ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد احتیاط برتیں

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Wazirabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Wazirabad