18/04/2023
Visit TikTok to discover videos! Watch, follow, and discover more trending content.
We keep sharing updates about national and international cricket on this page so please like
18/04/2023
Visit TikTok to discover videos! Watch, follow, and discover more trending content.
18/04/2023
نیوزی لینڈ کیخلاف لاہور میں کھیلے گئے تیسرے t20 میچ میں افتخار احمد کی طوفانی بیٹنگ 24 بالز پر 60 رنز کی شاندار اننگ کھیلی ۔
Pakistan Vs newziland First t20 short highlights
12/04/2023
10/04/2023
بابر کی کپتانی پر نجم سیٹھی کا بیان: ’ورلڈکپ سر پر ہے اور یہاں بابر پر پریشر ڈالا جا رہا ہے‘
ایسا عموماً کم ہی ہوتا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کا سال ہو اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی ایک تنازع کی شکل اختیار نہ کرے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کی کپتانی پر تنازع گذشتہ کئی ماہ سے وقفے وقفے سے سر اٹھاتا رہا ہے اور اس کی بنیاد صرف افواہیں ہی نہیں رہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی افغانستان سے پہلی مرتبہ سیریز شکست کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم کے اعلان کے بعد سے بابر اعظم کی کپتانی کے بارے میں بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔
افغانستان کے خلاف سیریز میں بابر اعظم سمیت کئی سینیئر کھلاڑیوں کو آرام کا موقع دیا گیا تھا۔ اس سیریز سے قبل بھی بابر اعظم کی کپتانی زیرِ بحث تھی اور چار اپریل کو نجم سیٹھی کی ٹویٹ کے بعد سے اس حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید ہوا ملی
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’آج میرے پاس بابر اعظم آئے تھے اور میں نے انھیں بتایا کہ وہ نیوزی لینڈ سیریز کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ جو افراد غلط خبریں پھیلا رہے تھے آج ان کی نوکری ختم ہو گئی۔‘خیال رہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے دنیا بھر کی تمام ہی ٹیموں کے ون ڈے کے کپتانوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ عموماً باقی دنیا میں اس حوالے سے اعلانات طویل عرصے کے لیے کیے جاتے ہیں۔حال ہی میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو جب انجری کا سامنا کرنا پڑا تو نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے ابھی سے ورلڈ کپ کے لیے ٹام لیتھم کو کپتانی کی ذمہ داریاں دے دی ہیں۔
یسے میں سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ پاکستان میں سیریز کی بنیاد پر کپتانی کیوں دی جاتی ہے اور اس سب کی وجہ سے پاکستانی ٹیم اور خصوصاً بابر اعظم پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔
اس پر جلتی پر تیل اس وقت ڈالا گیا جب نجم سیٹھی نے گذشتہ روز صحافی وحید خان کے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے نہ صرف ایشیا کپ کی میزبانی اور اس میں انڈیا کی شمولیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی بلکہ بابر اعظم کی کپتانی پر بھی تفصیل سے بات کی
10/04/2023
ایران سعودی ڈیل اور پاکستان!
#ایران #سعودیعرب
سوال یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران ، چین کی قیادت میں اس حسین اور قابلِ تحسین یوٹرن پر کیوں مجبور ہوئے؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ اگرچہ عرب اور ایران تنازعے کی نسلی، تاریخی اور فقہی جہتیں بھی تھیں لیکن اصل عامل امریکہ تھا۔
امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ بڑھارہا تھا اور عرب ممالک اسے اپنے لئے خطرہ سمجھ رہے تھے۔ ایرانی خطرے کے مقابلے کے لئے عرب ممالک کا امریکہ پر انحصار تھا۔ لیکن سعودی عرب پہلی مرتبہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے سے ناراض ہوا ۔ صدام حسین سے ناراضی اپنی جگہ پر تھی لیکن سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نوے کی جنگ کے برعکس اب کی بار امریکہ کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ عراق پر حملہ نہ کرے کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا انہیں نقصان اور ایران کو فائدہ ہوگا۔
دوسری بڑی مایوسی سعودی عرب کو یمن کے سلسلے میں ہوئی کیونکہ اسے امریکہ سے جتنی مدد اور سرپرستی کی توقع تھی وہ اس نے نہیں کی ۔ اس دوران چین ایک متبادل اقتصادی اور عسکری طاقت کے طور پر سامنے آچکا تھا اور جب اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کی تو سعودی عرب اور یواے ای وغیرہ نے اس کا خیرمقدم کیا۔ اسے امریکہ نے اپنے لئے خطرہ اور ایک لحاظ سے سعودی عرب کی گستاخی سے تعبیر کیا چنانچہ اس نے جمال خشوگی کے معاملے پر سعودی عرب کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی لیکن بلیک میل ہونے کی بجائے سعودی قیادت نے نہ صرف دورۂ سعودی عرب کے موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن کے استقبال میں سردمہری کا مظاہرہ کیا بلکہ جب جوبائیڈن نے خشوگی کا معاملہ اٹھایا تو اس کے جواب میں محمد بن سلمان نے انہیں ابوغریب، گوانتاموبے اور افغانستان میں امریکہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی مثالیں دے کر کھری کھری سنائیں۔ امریکہ سے مایوسی کے بعد سعودی عرب نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سیکورٹی خطرات کو کم کرے ۔
چنانچہ عرب ممالک نے امریکہ کے بغیر اپنی بنیادوں پر اسرائیل کے ساتھ پالیسی تبدیل کی ۔ ترکی کے ساتھ مخاصمت ختم کرلی ۔ قطر کو بھی دوبارہ دوست بنایا لیکن سب سے بڑے عامل چین کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرکے امریکہ پر انحصار کم کرنا شروع کیا۔دوسری جانب ایران جس قدر عرب دنیا میں امریکی اثرورسوخ سے پریشان تھا، اس قدر وہ چین کی آمد سے خوش تھا۔
ایران نے اگرچہ پراکسی وار کے میدان میں بڑی حد تک سعودی عرب پر یمن ، شام اور لبنان میں سبقت حاصل کی تھی لیکن اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت شدید دبائو میں ہے۔ علاوہ ازیں عراق اور آذربائیجان میں اسرائیل کے اثرورسوخ کے بڑھنے سے بھی وہ خوفزدہ تھا۔
اسے ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا ڈر ہے تو دوسری طرف اسے زیادہ خطرہ اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات کی بہتری سے محسوس ہوا۔ ایرانی قیادت سمجھنے لگی کہ اگر عرب اور اسرائیل کا اس کے خلاف اتحاد قائم ہوگیا تو یہ امریکہ اسرائیل اتحاد یا پھر امریکہ عرب اتحاد کے مقابلے میں اس کے لئے کئی گنا زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔ حجاب کے مسئلے پر خواتین کے احتجاج سے اسے اندرونی خطرات بھی محسوس ہونے لگے چنانچہ جب چین کی ثالثی میں اسے عرب ممالک کی طرف سے تعلقات کی بہتری کا گرین سگنل مل گیا تو ایران نے اسے غنیمت جانا۔
گزشتہ کالم میں میں نے تفصیل سے بیان کیا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کی مخاصمت کا پاکستان کو کیا نقصان ہورہا تھا اور ان کی صلح سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا لیکن ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا تھا کہ مواقع کے ساتھ ساتھ کچھ چیلنجز بھی سراٹھاسکتے ہیں ۔ ایک چیلنج تو یہ ہوگا کہ اس سے قبل سعودی عرب ،ایران کے تناظر میں بھی پاکستان کے ناز نخرے زیادہ اٹھاتا تھا لیکن اب وہ پاکستان کو اس آئینے میں نہیں دیکھے گا ۔
دوسری طرف چین کا مشرق وسطیٰ اور سمندر تک رسائی کے لئے پہلے زیادہ انحصار پاکستان اور سی پیک پر تھا لیکن اب ایران کی صورت میں اسے نیا آپشن بھی ہاتھ آگیا ہے کیونکہ ایران امریکہ کے اثر سے مکمل آزاد ہے جب کہ پاکستان کے معاملے میں چین کو یہ خدشات لاحق رہتے ہیں کہ کہیں دوبارہ عمران خان کی طرز کی حکومت نہ آجائے جو نہ صرف سی پیک کی راہ میں روڑے اٹکائے بلکہ ترازو کا پلڑا امریکہ کی طرف جھکا کر چین کے ساتھ معاملات کی ساری تفصیلات بھی اس کو فراہم کردے ۔ تادم تحریر کہا جاتا تھا کہ جو حیثیت اسرائیل کی امریکہ کے لئے ہے ، وہی حیثیت پاکستان کی چین کے لئے ہے لیکن اب چین کو ایران اور اسی طرح کے کئی دیگر آپشن میسر آجائیں گے۔
اس نئے ریجنل یا گلوبل آرڈر میں اب پاکستان کے لئے ایک مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ اس کے لئے اب زیادہ عرصہ دو کشتیوں (امریکہ اور چین) پر سواری ممکن نہیں رہے گی۔ اب دونوں طرف سے یہ دبائو بڑھے گا کہ پاکستان فیصلہ کرلے کہ وہ کس کے ساتھ ہے ۔ پاکستان کی اقتصادی بدحالی کے باوجود چین کا بھرپور مدد کے لئے نہ آنا اس کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ وہ پکی یاری کا یقین دلادے اور یہ تسلی کرادے کہ سی پیک وغیرہ کے معاملے میں عمران خان کی پالیسیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ دوسری طرف شرائط پوری کرنے کے باوجود آئی ایم ایف کی طرف سے معاہدہ نہ کرنے اور امریکہ سے عمران خان کے حق میں شیرمن اور زلمے خلیل زاد جیسے نیوکانز کی طرف سے مہم سے امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان چین کی طرف جانے سے باز آجائے ۔
اب سعودی عرب ایک علاقائی طاقت ہونے کے ناطے اور دیگر عرب ممالک مالی خوشحالی اور سرمایہ کاری یا تیل کے مراکز ہونے کے ناطے تو امریکہ اور چین کو ساتھ ساتھ چلاسکیں گے اور کوئی ایک بھی ان کے آگے لکیر نہیں کھینچ سکتا لیکن پاکستان کے سامنے اب اشاروں کنایوں میں لکیر کھینچی جارہی ہے اور بہت جلد واشگاف الفاظ میں طرفین کھل کر بھی مطالبہ کرنے لگ جائیں گے اور ظاہر ہے کہ پاکستان کے لئے کسی ایک کو ناں کرنا اتنا آسان فیصلہ نہیں ۔
اسی طرح ایران اور سعودی عرب نے تو اپنے لئے خطرات کم کردئیے لیکن پاکستان کے لئے ہندوستان اور افغانستان کے چیلنجز بدستور موجود ہیں جو اسے بڑی طاقتوں کا محتاج بناتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اور پاکستان بھی ایران اور سعودی عرب سے سبق سیکھ کر اپنے تنازعات حل کرسکتے ہیں؟ بدقسمتی سے سردست جواب نفی میں ہے۔
IPL 2023 Highlights
Rajhistan royals Vs dehlli capitals