31/08/2026
جنوبی افریقہ کے مایہ ناز بلے باز فاف ڈو پلیسس نے سابق پاکستانی اسپنر سعید اجمل کو اپنے کیریئر کا سب سے کٹھن باؤلر قرار دے دیا۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں ڈو پلیسس کا کہنا تھا کہ سعید اجمل کی جادوئی اسپن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔سابق افریقی کپتان نے اعتراف کیا، "میں جب بھی سعید اجمل کے خلاف کھیلا، میں ان کی گیند کو سمجھ ہی نہیں پایا۔"
31/08/2026
کوزہ بانڈہ سپر لیگ سیزن 3
کل کا بڑا مقابلہ کون جیتے گا؟
31/08/2026
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلے کے بارے میں
کہ 1985 میں ایک مسجد بنائی تھی پتھروں کی
اب وہ مسجد بلکل ختم ہوئی ہے صرف ایک دیوار بچا ہے پتھروں کااب وہ پتھر گھر کے دیوار میں استعمال کر سکتے یا نہیں کیونکہ مسجد تو نہیں رہی تھوڑا سا پتھر رہ گئے ہیں اس کا کیا حکم ہے.
*الجواب حامداومصلیا*
واضح رہے کہ جوچیزیں مسجد کے لئے وقف ہوں وہ مسجد ہی کی ملکیت ہوتی ہے اس کو ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔
پس صورت مسئولہ میں پرانی مسجد کی آشیاء یاملبہ یا مسجد کی دیوار کے پھتروں کو ذاتی گھر کی تعمیرات میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر مسجد ہی نہ رہی تو ان پھتروں کو بازاری قیمت پر خرید کر اس کی قیمت کسی دوسری مسجد میں لگائی جائے بغیر معاوضہ کا ان پھتروں کو ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔
*فی ردالمحتار 6/550*
*مطلب فیھا لو خرب المسجد او غیرہ* قوله:(ولو خرب ما حوله)ائ ولو مع بقائه عامرا و کذا لو خرب ولیس له ما یعمر به وقد استغنی الناس عنه لبناء مسجد اخر قوله(عند الامام والثانی)فلا یعود میراثا ولا یجوز نقله ونقل ماله الی مسجد اخر سواء کانوا یصلون فیه او لا وھو الفتوی
*وفی ردالمحتار (6/552*)
وفی فتاوی النسفی: سئل شیخ الاسلام عن اھل القریة رحلوا وتداعی مسجدھا الی الخراب وبعض المتغلبة یستولون علی خشبه وینقلونه الی دورھم ھل لواحد لاھل المحلة ان یبیع الخشب بامرالقاضی ویمسک الثمن لیصرفه الی بعض المساجد او الی ھذا المسجد قال نعم.
*وفی ردالمحتار (6/552*)
اذا خرب واستغنی عنه اھل القریة فرفع ذالک الی القاضی فباع الخشب وصرف الثمن الی مسجد اخر جاز.
*وفی البحر الرائق(6/421*)
اذا خرب ولیس لہ ما یعمر بہ وقد استغنی الناس عنه لبناء مسجد اخر او الخراب او لم یخرب لکن خربت القریة بنقل اھلھا واستغنوا عنه فانه یعود الی ملک الواقف او ورثته وقال ابو یوسف ھو مسجد آبدا الی قیام الساعة لا یعود میراثا ولا یجوز نقله و نقل ماله الی مسجد اخر سواء کانوا یصلون فیه او لا وھو الفتوی.
*وفی المحیط البرھانی (9/151*)
فی فتاوی النسفی: سئل شیخ الاسلام عن اھل افترقوا وتداعی مسجد القریة الی الخراب وبعض المتغلبة یستولون علی خشب المسجد و ینقلون الی دیارھم ھل لواحد من اھل القریة ان یبیع الخشب بامرالقاضی ویمسک الثمن لیصرفه الی بعض المساجد او الی اھل المسجد قال نعم
*وفی ردالمحتار (6/551*)
وفی شرح الملتقی یصرف وقفھا لاقرب مجانس لھا۔
واللہ اعلم بالصواب
*کتبہ*:طارق جمیل
المتخصص بدارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام
*المرقوم*:٨ ربیع الاول ١٤٤٨ بمطابق ٢٢/٢٠٢٦
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی واجداللہ صاحب رفیق دارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی بخت منیر رئیس دارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام