کوزہ بانڈہ پریمئر لیگ جونئیر چمپئن فرینڈ زبیر کلب چھتر
AJM
وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
AJM TV Admin
FazaD Ullah
03449716707
03/06/2026
*حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ/مظلومانہ شہادت اورپس منظراور بلوائیوں کےساتھ قتال نہ کرنے کی وجوہات*
عبداللہ ابن سباجوصنعاء کاایک شاطر یہودی تھا،نےحضرت عثمانؓ کےدور خلافت کےآخری حصہ میں مسلمانوں کی وحدت کوتوڑنےکی غرض سےایک خفیہ پارٹی’’سبائی‘‘قائم کی اوراس مقصد کےلئےتمام صوبہ جات کادورہ کرکے موزوں ترین اورکم خیال آدمیوں کواپنےساتھ ملایا۔اورپھرمل کرحضرت عثمان ؓپربےجا الزامات لگاکرامت کوگمراہ کرنے کی مذموم اورناپاک کوشش کی۔لیکن خلیفہ وقت نےان کےتمام الزامات کےمدلل اورتسلی بخش جوابات دئیے۔لیکن فسادکی اصلاح دلائل وبراہین سےنہیں ہوسکتی۔آخرکار مفسدین‘باغیوں‘سبائیوں اوربلوائیوں کی اس جماعت نےجوخون عثمان ؓکے پیاسےتھے،مدینہ منورہ میں پہنچ کر حضرت عثمان ؓ کےمکان کامحاصرہ کیا ان کی تعداد،دوہزارکےلگ بھگ تھی۔چالیس روزتک اوربعض روایات کے مطابق پچاس روزتک یہ محاصرہ جاری رہا۔شورش پسندوں نےقساوت قلبی،بلوائیت اوربہیمیت کامظاہرہ کرتےہوئے،اس دوران آپ پرپانی بھی بندکررکھاتھا۔ان سنگین حالات میں اکثرصحابہ جیسےحضرت ابوہریرہ،حضرت زیدابن ثابت،حضرت عبداللہ ابن زبیر،حضرت عبداللہ ابن عمر،حضرت عبداللہ ابن سلام اورحضرات حسنین رضوان اللہ علیہم اجمعین نےباغیوں کامقابلہ کرنےکی پیشکش کی لیکن حضرت عثمان نےیہ تجویزہرمرحلےپر رَدکی۔اورفرمایا ’’میں اپنی وجہ سے امت رسول ﷺ کاخون بہانانہیں چاہتا۔‘‘آزمائش کی اس گھڑی میں آپ نےرہتی دنیا تک صبروتحمل،حلم وثبات اورقوت برداشت کی عظیم مثال قائم کی۔دوران محاصرہ آپ نےایک دن اپنےدریچےسےبلوائیوں کومخاطب کرکےفرمایا ’’اے لوگو!مجھے قتل نہ کرو۔میرےقتل سےبازآجاؤ۔اگرتم نےمجھےقتل کردیا،پھرتم کبھی مل کرنماز نہ پڑھ سکوگے۔اورنہ ہی باہم مل کر دشمن سےجہادکرسکو گے۔‘‘ان بدبختوں کےہاتھوں ۱۸؍ذی الحجہ ۳۵ھ بروز جمعہ بعدازعصرقرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے آپ نے شہادت پائی۔خونِ عثمانی کےقطرے قرآن پاک کی جس آیات پرگرے،وہ یہ تھی: "فسیکفیکھم اللہ وھوالسمیع العلیم"۔"ان کےمقابلےمیں خداتمہارےلئے کافی ہے۔اوروہی صاحب علم اورسننےوالاہے۔"
اس وقت عمر82 برس سےمتجاوزتھی۔آپ کی نمازجنازہ حضرت جبیربن مطعم ؓ اورایک قول کےمطابق حضرت زبیرؓ نےپڑھائی۔
اس میں کامیابی بھی مل گئی۔
حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہی حضرت عمررضی الله عنہ کےبعد خلافت کےحق دارتھے،آپ نےدورِ خلافت میں کوئی بھی خلاف شرع اور نفسانیت پرمبنی کام نہیں کیا،مگر"فتنہ پروروں"نےآپ کی نرم دلی اورعفو ودرگزرسےغلط فائدہ اٹھایااورآپ پر بےبنیاداقرباءپروری کاالزام عائدکیا۔
مردودعبدالله ابن سبانے پہلےبصرہ میں،پھرمصرمیں چندلوگوں کوحضرت عثمان اورآپ کےعمال کےخلاف بھڑکایااورانہیں مدینہ کی طرف روانہ کیا،حضرت عثمان اگرصحابہ کوجنگ کی اجازت دےدیتے،توان تمام بلوائیوں کی تکہ بوٹی ہوسکتی تھی،مگرآپ نےایسا نہیں کیا۔
1۔جس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ کےنزدیک حرمتِ خونِ مسلم یہ انتہائی مقدس تھا۔آپ نےکسی کوبھی قتال کی اجازت نہ دی،البتہ آپ حق پرتھے، لہٰذاکسی بھی صورت میں خلافت سے دست برداری کےلیےآمادہ نہ ہوئے، جس کےنتیجہ میں ان محروم القسمت بلوائیوں نےایک دن موقعہ پاکر،آپ کوشہیدکردیا،رضی الله عنہ وارضاہ۔ انالله وانا الیہ راجعون․
مگرحضرت عثمان ذوالنورین نےیہ تو ثابت کردیاکہ” اہل حق“کوثابت قدمی کامظاہرہ کرناچاہیے،حتی المقدور مسلمانوں کےخون کی حفاظت کرنی چاہیے،اس کےلیےاپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
"تاریخ پرنظرڈالنےسےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ باغی مدینہ پراس طرح قابض نہیں تھےکہ صحابہ کرام اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کےحامی بالکل بےبس ہوجاتے،بلکہ شہادت کے وقت مدینہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کےحامی صحابہ اورتابعین بڑی تعدادمیں موجودتھے،وہ آپ کےدفاع پرپوری قدرت بھی رکھتےتھے،اور انہوں نےآپ کادفاع کرنےکی بھرپور کوشش بھی کی،لیکن باغیوں کے خلاف اسبابِ قتال مہیا ہونےکے باوجودحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کوبذاتِ خودباغیوں سے قتال کرنےسےسختی سےمنع فرمادیاتھا؛
2۔اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ کسی کلمہ گو مسلمان پرتلوار اٹھانےکوگوارانہیں کرتےتھے،اور فرماتےتھےکہ(قتال کی اجازت دینےکی صورت میں)مَیں رسول اللہ ﷺ کا وہ پہلانائب ہوں گا،جو کسی مسلمان پر تلواراٹھائے؛اس لیےآپ نےکسی سےمددنہیں چاہی اورہمیشہ مددکی اجازت کےلیےدرخواست کرنےوالوں کی درخواست کوردکرتےرہے۔[1]
دراصل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا امتحان یہ تھا کہ حضور علیہ السلام نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان حالات کے پیش آنے کی بابت پہلے ہی بتادیاتھا،اوراس موقع پر انہیں شورش پسندوں کےخلاف تلوار اٹھانےکی جگہ صبروتحمل اوربرداشت کا حکم دیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نےباغیوں کےخلاف مسلح کارروائی کی اجازت طلب کی،توآپ نےفرمایا: رسول اللہ ﷺ نےمجھ سےایک وعدہ لےرکھاہے،پس میں اپنےآپ کواسی پر کاربندرکھتے ہوئےصبرکروں گا۔
3۔ممانعت کی تیسری وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے حبیب ﷺ کےشہرکوکشت وخون کا مقام نہیں بناناچاہتےتھے،کیوں کہ آپ کوحضورﷺ کایہ ارشادیادتھا"مدینہ محترم سرزمین ہے،نہ اس کادرخت کاٹا جائے،نہ اس میں کسی شرانگیزی کا ارتکاب کیاجاۓ،جواس میں شرانگیزی کرےگا،اس پراللہ کی تمام فرشتوں کی اورسب انسانوں کی لعنت ہو"،نیز آپ رضی اللہ عنہ یہ بھی جان چکےتھے کہ باغیوں کااصل ہدف آخرکارآپ کی ذات ہی ہے،اس لیے ملت ِاسلامیہ کے وسیع ترمفادکےپیشِ نظرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےمسلمانوں کوانتشار سےبچانےکےلیےنہ صرف یہ کہ ہر صعوبت اوراذیت کوبرداشت کرکے حرم نبوی کےتقدس کوپامال ہونےسے بچایا ،بلکہ اس مقصد کےلیےبخوشی اپنی جان بھی دےدی۔
حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
"فقال عثمان أماأن أخرج فأقاتل فلن أكون أول من خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم في أمته بسفك الدماء."
(ثم دخلت سنة خمس وثلاثين،عثمان بن عفان بن أبي العاص إلخ، 379/10، ط:دارهجر)
[2]تاریخِ دمشق میں ہے:
"عن يزيد البهي قال قال الزبير بن العوام قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم صبرعثمان بن عفان."
(عثمان بن عفان بن أبي العاص إلخ، 291/39، ط:دارالفكر)
أنساب الأشراف للبلاذری میں ہے:
"عن عائشة رضي الله عنها قالت، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في [مرضه:وددت أن عندي بعض أصحابي، فقلت:يارسول الله،أندعو لك أبا بكر؟فاسكت، فقلت: أندعو لك عمر؟ فأسكت، فقلت:أندعو لك عثمان؟ قال: نعم، فدعوته، فلما أقبل أشار رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تباعدي. وجاء عثمان فجلس فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول له قولا ولون عثمان يتغير، فلما كان يوم الدار قيل لعثمان: ألا تقاتل؟
فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي عهدا وأنا صائر إليه ، قال أبو سهلة:فيرون أنه مما كان قال له ذلك اليوم]."
(نسب بني عبد شمس بن عبد مناف، عثمان بن عفان، 495/5، ط:دارالفكر)
أسد الغابۃ میں ہے:
"عن قيس بن أبي حازم،قال:حدثنا أبو سهلة مولى عثمان، قال: قلت لعثمان يوم الدار: قاتل يا أمير المؤمنين! وقال عبد الله: قاتل يا أمير المؤمنين! قال: " لا، والله لا أقاتل، وعدني رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرا، فأنا صائر إليه."
(حرف العين، باب العين والثاء،عثمان بن عفان، 578/3 ، ط:دار الكتب العلمية)
[3]مسند أحمد میں ہے:
"قال علي: ما عهد إلىّ رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئاً خاصةً دونَ الناس، إلا شىءُ سمعته منه فهو في صحيفة في قرَاب سيفي، قال: فلم يزالوا به حتى أخرج الصحيفة، قال: فإذا فيها: "من أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لايقبل منه صرف ولاعدل"،قال: وإذا فيها: "إن إبراهيم حرم مكة، وإني أحرم المدينة، حرم ما بين حرتيها وحماها كله، لا يختلى خلاها، ولا ينفر صيدها، ولاتلتقط لقطتها إلا لمن أشار بها، ولا تقطع منها شجرة إلا أن يعلف رجل بعيره، ولا يحمل فيها السلاح لقتال."
(ومن مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه، ج:2، ص:22، ط:دارالحديث)
بخت منیرعفی عنہ
سربراہ مجلس فقہی بٹگرام ودارالافتاء والتحقیق جامعہ دارالعلوم بٹگرام۔
اس سعودی شحص کی بات سننے کے بعد آپ کبھی نماز نہیں چھوڑیں گے!
@ٹاپ فینز AJM AJM TV
جدہ سعودی عرب
02/06/2026
بٹگرام
کوزہ بانڈہ پریمئر لیگ جونیئر سیزن 1
گرینڈ فائنل میچ
فرینڈ زبیر کلب چھتر 🆚 یونائیٹڈ واڑوجی
فرینڈ زبیر کلب چھتر نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 18 اوورز میں 165 رنز کا شاندار ہدف دیا۔
جواب میں یونائیٹڈ واڑوجی کی ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور فرینڈ زبیر کلب چھتر نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ اپنے نام کر لیا۔
فرینڈ زبیر کلب چھتر شاندار فتح کے ساتھ کوزہ بانڈہ پریمئر لیگ جونیئر سیزن 1 کی چیمپئن ٹیم بن گئی۔
اج میچ کے مہمان خصوصی ونر اور رنر ٹیم کے کیپٹن کو ٹرافی دے رہے ہیں
02/06/2026
مرہوم ابوزر کرکٹ لیگ سیزن 1 کی تمام دلچسپ اور سنسنی خیز میچز کی لائیو کوریج AJM TV پر نشر کی جائے گی۔
🎥 Official Media Partner: AJM TV
📡 تمام میچز لائیو
🏆 بہترین لمحات، شاندار مقابلے اور مکمل اپ ڈیٹس
کرکٹ کے ہر جوشیلے لمحے سے باخبر رہنے کے لیے AJM TV کو فالو کریں اور لیگ کے تمام میچز براہِ راست دیکھیں۔
02/06/2026
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش (داڑھی) مبارک اور بالوں کے اوصاف احادیثِ مبارکہ اور شمائل کی کتب میں نہایت تفصیل اور محبت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
حضرت جابر بن سمرہ اور حضرت براء رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک نہایت گھنی (کَثَّ اللِّحْيَةِ) تھی، جو سینہ مبارک کے اوپری حصے کو بھر دیتی تھی، آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کے بال گہرے سیاہ تھے۔
وصال کے وقت آپ ﷺ کے سر اور داڑھی مبارک میں بہت کم سفید بال تھے۔ بعض روایات کے مطابق یہ تعداد 14 سے 20 کے درمیان تھی جو چہرہ انور پر صرف غور کرنے سے ہی نظر آتے تھے۔
احادیثِ مبارکہ (جیسے کہ صحیح بخاری) سے ثابت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حج یا عمرہ کے موقع پر بال مبارک کٹواتے، تو صحابہ کرام ان بالوں کو نیچے گرنے نہیں دیتے تھے بلکہ تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آپ ﷺ کا موئے مبارک ایک چاندی کی ڈبیا میں محفوظ تھا، اور جب مدینہ منورہ میں کوئی بیمار ہوتا تو وہ اس بال مبارک کو پانی میں ڈبو کر وہ پانی مریض کو پلاتیں جس سے اللہ شفا عطا فرماتا تھا۔
آج بھی دنیا کے مختلف حصوں، خاص طور پر ترکی کے Topkapi Palace (توپ کاپی میوزیم) میں آپ ﷺ کے داڑھی اور سر مبارک کے چند مقدس بال (جنہیں ترکی میں Sakal-ı Şerif کہا جاتا ہے) انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ محفوظ ہیں۔
زندگی موت کے آخری لمحات
بھارت میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا آخری اسٹیج پر ہسپتال میں ایڈمنٹ ایک لڑکی کو نوجوان لڑکا کبھی ہنتسے کھبی روتے دل بہلاتے ہوے سندور لگاکر اس سے شادی کرکے اس کی آخری حسرت پوری کردی۔
💔😢💔
01/06/2026
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سب سے مشہور اور پرجوش سپورٹر ’چاچا کرکٹ‘ نے رواں سال ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
چاچا کرکٹ کے نام سے مشہور 77 سالہ عبدالجلیل اگلے ہفتے لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا تیسرا ون ڈے میچ اپنے ملک میں آخری بار اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھیں گے۔
چاچا کرکٹ نے پہلی بار 1968-69 میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ اسٹیڈیم میں دیکھا تھا۔
بعد ازاں وہ شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان ٹیم کے مستقل حمایتی کے طور پر مشہور ہوئے۔
سبز لباس اور ٹوپی ان کی پہچان بن گئی جبکہ 1999 ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کی بھرپور حمایت کے بعد انہیں عالمی شہرت ملی۔
عبدالجلیل نے بتایا کہ وہ اب سیالکوٹ کے قریب ایک ریسٹورنٹ اور میوزیم قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ کرکٹ سے جڑی اپنی یادگار اشیاء رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے 500 میچز میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کا ہدف مکمل کر لیا ہے۔
چاچا کرکٹ نے پاکستان کی کئی تاریخی فتوحات اپنی آنکھوں سے دیکھیں، جن میں جاوید میانداد کا 1986 میں آخری گیند پر چھکا اور 2017 چیمپئنز ٹرافی فائنل شامل ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر وہ مایوس بھی دکھائی دیے، مگر اب بھی امید رکھتے ہیں کہ پاکستان ٹیم دوبارہ کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہوگی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Jeddah
01/06/2026