پاکستانی پنجابی ثقافت

پاکستانی پنجابی  ثقافت

Share

جہلم سپورٹس کلب انیڈ پوٹھواری ثقافت

14/04/2026
Photos from ‎پیارا پاکستان‎'s post 14/04/2026
14/04/2026

جوگی جہلمی پنجابی ادب کا وہ درخشاں نام ہے جس کی شاعری میں مٹی کی خوشبو، محنت کش انسان کی سچائی اور روحانیت کی گہرائی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا اصل نام اللہ دتہ تھا۔ وہ 1903ء میں کھڑی شریف (میرپور) میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں اپنے خاندان کے ساتھ جہلم آباد ہو گئے
انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا، مگر ان کی اصل پہچان کسی درسگاہ یا شاہی دربار سے نہیں بلکہ محنت، پسینے اور زندگی کے تجربات سے بنی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک مستری (راج) تھے، اینٹ اور گارے سے گھر بناتے تھے، مگر لفظوں سے دلوں کی دنیا آباد کرتے تھے
جوگی جہلمی کی شاعری میں ایک عجیب سادگی اور سچائی ہے۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک درویش صفت انسان تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک، انداز میں فقیری اور باتوں میں گہرا اثر ہوتا تھا۔ مشاعروں میں ان کی موجودگی خود ایک محفل بن جاتی تھی، اور لوگ دور دور سے صرف انہیں سننے آتے تھے۔
ان کی واحد معروف کتاب "مندراں" ہے، جو پنجابی شاعری کا ایک اہم خزانہ سمجھی جاتی ہے۔ �
ان کی شاعری میں انسان، محبت، خودی، اور زندگی کے فلسفے کو بڑی سادگی سے بیان کیا گیا ہے۔

وہ صرف لفظوں کے شاعر نہیں تھے بلکہ عمل کے بھی شاعر تھے۔ انہوں نے انگریز دور میں آزادی کے جذبے سے بھرپور نظمیں کہیں اور اس کی پاداش میں قید بھی کاٹی۔ �

🌿
جہلم کی گلیوں میں ایک ایسا شخص بھی چلتا تھا جس کے ہاتھوں میں اینٹیں اور دل میں شاعری ہوتی تھی۔ لوگ اسے مستری کہتے تھے، مگر وقت نے اسے شاعر بنا دیا۔ وہ دیواریں بھی بناتا تھا اور دلوں میں خواب بھی۔
اس کی شاعری کسی کتابی علم کی محتاج نہ تھی، وہ زندگی سے سیکھتا تھا—پسینے کی بوندوں سے، مٹی کی خوشبو سے، اور رات کی خاموشی سے۔ جب وہ بولتا تو لفظ نہیں، احساس بولتے تھے۔
جوگی جہلمی وہ شاعر تھا جو محلوں میں نہیں، لوگوں کے دلوں میں بستا تھا۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ اصل شاعری وہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ دے، جو دکھ میں سہارا بنے اور خوشی میں مسکراہٹ۔
آج وہ اس دنیا میں نہیں، مگر جہلم کی فضاؤں میں، مزدور کے ہاتھوں میں، اور پنجابی زبان کے ہر سچے لفظ میں اس کی آواز اب بھی زندہ ہے۔

یہ معلومات سوشل میڈیا سے اکھٹی کی گئی ھے کمی بیشی ہو سکتی ھے کسی کی دل آزاری ہو تو معزرت خواہ ہوں
تحریر زبیر چوہدری خادم ثقافت

14/04/2026

پنجاب کی سرزمین ہمیشہ سے عشق، معرفت اور درویشی کی خوشبو سے مہکتی رہی ہے۔ اسی دھرتی نے ایسے بے شمار صوفی شعرا کو جنم دیا جنہوں نے لفظوں کے ذریعے دلوں کو جگایا اور روحوں کو روشنی بخشی۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام Daim Iqbal Daim کا بھی ہے—ایک ایسا درویش شاعر، جس کی زندگی سادگی کا پیکر اور جس کا کلام روحانیت کا آئینہ دار تھا۔
حضرت دائم اقبال دائم کی پیدائش 1909ء میں پنجاب کے ضلع Mandi Bahauddin کے ایک نواحی گاؤں میں ہوئی۔ ایک سادہ مگر مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے اس بچے نے بچپن ہی سے دنیا کو ایک مختلف نظر سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ جہاں دوسرے بچے کھیل کود میں مگن ہوتے، وہیں دائم کے دل میں کسی انجانی حقیقت کی تلاش جاگ اٹھتی تھی۔ ان کے والد غلام محمد ایک باوقار شخصیت تھے، جنہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت میں اخلاق، سچائی اور دیانت کو بنیادی حیثیت دی۔
تعلیم کے میدان میں انہوں نے مقامی سطح پر ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک مکمل کیا، مگر ان کی اصل تعلیم کتابوں سے زیادہ زندگی کے تجربات اور روحانی مشاہدے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ میں ایک ایسی گہرائی پیدا ہو گئی جو عام انسان کے بس کی بات نہیں۔
زندگی کے ایک موڑ پر انہوں نے دنیاوی خواہشات سے منہ موڑ کر تصوف کی راہ اختیار کر لی۔ وہ Baba Allah Mian Qalandar کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور روحانیت کی منازل طے کرنا شروع کر دیں۔ ان کی زندگی درویشی، فقر اور عشقِ الٰہی کا عملی نمونہ بن گئی۔ وہ نہ شہرت کے طلبگار تھے، نہ دولت کے؛ ان کی اصل دولت اللہ کی یاد اور بندوں سے محبت تھی۔
ادبی میدان میں ان کا کارنامہ بے مثال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک سو سے زائد کتب تصنیف کیں—جن میں مذہبی، تاریخی اور صوفیانہ موضوعات شامل ہیں۔ پنجابی، اردو اور فارسی زبانوں پر ان کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔ ان کی تحریروں میں اہلِ بیت سے عقیدت، کربلا کا درد، اور انسانیت کا پیغام بار بار جھلکتا ہے۔ ان کا کلام کسی فلسفیانہ پیچیدگی کا شکار نہیں بلکہ سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والا ہے—بالکل ویسا ہی جیسا ہمیں Bulleh Shah اور Sultan Bahu کے کلام میں محسوس ہوتا ہے۔
ان کی شاعری میں ایک درویش کی پکار سنائی دیتی ہے:
دائم آکھے رب دے رستے تے، دل نوں صاف بنا
جھوٹ فریب دے شہر وچ رہ کے، سچ دا دیوا جلا
میں نہ دنیا دا طالب ہاں، نہ شہرت دی چاہ
رب دے عشق وچ ڈھل گئی اے، میری ساری راہ
یہ اشعار صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات ہیں—ایسا فلسفہ جو انسان کو خود سے نکال کر اپنے رب کی طرف لے جاتا ہے۔
حضرت دائم اقبال دائم کی شخصیت نہایت سادہ، عاجز اور محبت کرنے والی تھی۔ وہ عام لوگوں میں بیٹھتے، ان کے دکھ سکھ بانٹتے اور انہیں زندگی کا اصل مقصد سمجھاتے۔ ان کے پاس آنے والا ہر شخص ایک عجیب سی روحانی تسکین لے کر واپس جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مریدین اور عقیدت مندوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔
ان کا وصال اگرچہ دنیاوی اعتبار سے ایک جدائی تھی، مگر حقیقت میں وہ اپنے رب سے جا ملے۔ آج بھی ان کا مزار Wasu village میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں ہر سال ان کا عرس عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ وہاں جانے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے وقت تھم گیا ہو اور روح کو ایک نئی زندگی مل گئی ہو۔
حضرت دائم اقبال دائم کا شمار ان گمنام مگر عظیم صوفی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیاوی شہرت کے بجائے دلوں کی اصلاح کو اپنا مقصد بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اصل عظمت نام و نمود میں نہیں بلکہ اس روشنی میں ہے جو انسان دوسروں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔
ان کی زندگی ایک پیغام ہے—سادگی کا، محبت کا، اور سچائی کا۔
اور ان کا کلام ایک صدا ہے—جو آج بھی سننے والے کے دل میں اتر کر اسے بدل دیتی ہے۔

یہ تحریر سوشل میڈیا سے جمع کی گئی ھے اگر اس میں کمی بیشی ہو گئی ہو تو معزرت

سب دوست دائم اقبال دائم کا ایک ایک شعر ضرور لکھنا

تحریر زبیر چوہدری خادم ثقافت

14/04/2026

پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف دو ملکوں کی دوستی نہیں بلکہ ایمان، اخوت اور اعتماد کی ایک مضبوط زنجیر ہے۔ ❤️

خانہ کعبہ، جو پوری امتِ مسلمہ کا مرکز ہے، اس کی حفاظت ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے۔ اور جب بات آتی ہے اس مقدس سرزمین کی، تو پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔

یہ تعلق صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستانی عوام کے دلوں میں حرمین شریفین کی محبت رچی بسی ہے، اور سعودی عرب کے لیے وفاداری ایک جذبہ نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔

یہ تصویر اسی لازوال دوستی کی عکاسی کرتی ہے—جہاں اتحاد ہے، اخوت ہے، اور ایک دوسرے کی حفاظت کا عزم ہے۔

🇵🇰🤝🇸🇦
“پاکستان اور سعودی عرب… دو جسم، ایک جان”

اللہ پاک ہمارے اس بھائی چارے کو ہمیشہ قائم رکھے اور ہمیں اپنے مقدس مقامات کی خدمت اور حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲

14/04/2026

پہاڑوں کی خاموش آغوش میں، جہاں ہوا بھی احتیاط سے قدم رکھتی ہے، وہاں قلعہ روہتاس اپنی ہیبت اور وقار کے ساتھ ایستادہ ہے—گویا وقت کے ماتھے پر لکھی ایک ایسی تحریر، جسے صدیوں کی گردش بھی مٹا نہ سکی۔ یہ محض پتھروں کی دیوار نہیں، بلکہ عزم، تدبر اور اقتدار کی وہ داستان ہے جس میں انسانی محنت اور حکمران کی بصیرت ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔
جب برصغیر کی فضا میں اقتدار کی کشمکش اپنے عروج پر تھی، تب شیر شاہ سوری نے اپنی سلطنت کی بنیادوں کو ناقابلِ لرزش بنانے کا عزم کیا۔ مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دینے کے بعد اسے خطرہ تھا کہ تاریخ کا یہ موڑ پلٹ بھی سکتا ہے، اسی اندیشے نے اسے ایک ایسے قلعے کی تعمیر پر آمادہ کیا جو نہ صرف دشمن کی پیش قدمی کو روکے بلکہ مقامی گکھڑ قبائل کی سرکشی کو بھی قابو میں رکھ سکے۔ یوں 1541ء میں اس عظیم منصوبے کا آغاز ہوا—ایک ایسا منصوبہ جس میں جنگی حکمتِ عملی اور فنِ تعمیر ایک دوسرے میں یوں مدغم ہو گئے جیسے روح اور جسم۔
قلعہ روہتاس کی تعمیر محض ایک انجینئرنگ کارنامہ نہیں، بلکہ ایک فکری شاہکار ہے۔ اس کی چار کلومیٹر طویل فصیلیں، تقریباً ستر ہیکٹر پر پھیلا ہوا رقبہ، اٹھارہ سے تیس ہزار سپاہیوں کی گنجائش، اور بارہ عظیم دروازے—ہر ایک اپنے اندر ایک مکمل حکمت رکھتا ہے۔ سوہیل دروازہ اپنی شان میں ایک تاج کی مانند، شاہی دروازہ اپنی جلالت میں ایک اعلان، اور کبوتر خانہ اپنی نزاکت میں ایک فن پارہ دکھائی دیتا ہے۔
یہ قلعہ ہموار زمین پر نہیں بلکہ ناہموار پہاڑی خطے پر تعمیر کیا گیا، جہاں ہر اینٹ کو زمین کی ساخت کے مطابق ڈھالا گیا۔ دیواریں کہیں سیدھی نہیں بلکہ فطرت کے بہاؤ کے ساتھ چلتی ہیں، جیسے یہ قلعہ زمین سے الگ نہیں بلکہ اسی کا حصہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حکمتِ عملی ہے—دشمن کے لیے ایک بھول بھلیاں، اور محافظ کے لیے ایک مضبوط حصار۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ابتدا میں مقامی گکھڑ قبائل نے اس کی تعمیر میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا، گویا زمین خود اس راز کو چھپانا چاہتی ہو۔ مگر جب ارادہ فولاد کا ہو تو راستے خود بنتے ہیں۔ مزدوروں کو زیادہ اجرت دی گئی، اور پھر ہزاروں ہاتھوں نے مل کر اس خواب کو حقیقت میں ڈھالا۔ پتھروں پر پڑتی ہتھوڑیوں کی گونج، مزدوروں کے پسینے کی خوشبو، اور سورج کی تپش میں جلتی محنت—یہ سب مل کر اس قلعے کی روح بن گئے۔
1545ء میں جب شیر شاہ سوری اس دنیا سے رخصت ہوا تو وہ اس شاہکار کو مکمل حالت میں نہ دیکھ سکا، مگر اس کا خواب ادھورا نہ رہا۔ بعد کے حکمرانوں نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا، اور یوں یہ قلعہ تاریخ کے افق پر ایک مکمل تصویر بن کر ابھرا—ایسی تصویر جس میں طاقت، خوف، حکمت اور خاموشی ایک ساتھ جھلکتے ہیں۔
قلعہ روہتاس کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی بادشاہ کی رہائش گاہ نہیں تھا۔ یہاں نہ محلات کی رونق تھی، نہ باغات کی نرمی—یہ صرف ایک سپاہی تھا، ایک خاموش محافظ، جو ہر وقت چوکس رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کبھی جنگ کے ذریعے فتح نہ کیا جا سکا۔ اس کی فصیلیں دشمن کے حوصلوں کو توڑ دیتی تھیں، اور اس کے دروازے حملہ آوروں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا امتحان بن جاتے تھے۔
آج بھی جب کوئی اس قلعے کی دیواروں کو چھوتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صدیوں پرانے کسی راز کو چھو رہا ہو۔ ہر پتھر ایک گواہ ہے—وقت کا، محنت کا، اور اس عزم کا جو کبھی شکست نہیں کھاتا۔ ہوا جب ان برجوں سے ٹکراتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے ماضی کی سرگوشیاں اب بھی ان راہداریوں میں گونج رہی ہوں۔
وقت نے بہت کچھ بدل دیا—سلطنتیں مٹی میں مل گئیں، نام تاریخ کے اوراق میں دب گئے، مگر قلعہ روہتاس آج بھی اسی شان سے کھڑا ہے، جیسے وقت کو چیلنج دے رہا ہو۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف اقتدار میں نہیں، بلکہ اس تخلیق میں ہے جو زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکے:
"میں وقت سے نہیں ڈرتا… وقت مجھ سے ڈرتا ہے۔"
زبیر چوہدری خادم ثقافت

14/04/2026

برصغیر کی ٹیلی وژن تاریخ میں اگر کسی ایک نام کو روشنی، وقار اور علم کی پہچان کہا جائے تو وہ نام طارق عزیز ہے۔ وہ صرف ایک میزبان نہیں تھے بلکہ ایک عہد تھے—ایسا عہد جس نے پاکستان میں ٹی وی کو گھر گھر کی پہچان بنا دیا۔ طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور آ بسا، اور یہی شہر ان کی شخصیت کی تعمیر کا مرکز بنا۔ انہوں نے تعلیم حاصل کی، قانون کی ڈگری لی اور وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوئے، مگر قسمت نے ان کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔
1964ء میں جب پاکستان ٹیلی وژن کا آغاز ہوا تو سب سے پہلی آواز جو اس اسکرین پر گونجی وہ طارق عزیز کی تھی۔ انہوں نے کہا: “یہ پاکستان ٹیلی وژن ہے” اور یوں وہ پاکستان کے پہلے ٹی وی اناؤنسر بن گئے۔ 1974ء میں انہوں نے وہ پروگرام شروع کیا جس نے انہیں امر کر دیا—نیلام گھر۔ یہ صرف ایک گیم شو نہیں تھا بلکہ علم، تفریح اور انعامات کا حسین امتزاج تھا جس نے لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیے۔ سوال و جواب، انعامات کی بارش، مہمانوں کی شرکت اور طارق عزیز کا منفرد انداز—یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے تھے کہ پورا ملک ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا تھا۔ بعد میں یہی پروگرام “بزمِ طارق عزیز” کے نام سے بھی نشر ہوا مگر لوگوں کے دلوں میں یہ ہمیشہ “نیلام گھر” ہی رہا۔
طارق عزیز صرف میزبان نہیں تھے بلکہ ایک بہترین شاعر، ادیب اور مقرر بھی تھے۔ ان کی کتاب داستان ان کے فکری سفر کی عکاس ہے۔ انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کی شخصیت میں وقار، شائستگی اور علم کی جھلک نمایاں تھی۔ ان کا مخصوص جملہ “دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام” آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ نہایت سادہ مگر باوقار زندگی گزارنے والے انسان تھے۔
طارق عزیز 17 جون 2020ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کے ساتھ ایک سنہری دور اپنے اختتام کو پہنچ گیا مگر ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ ایک آواز تھا… جو اسکرین سے نکل کر دلوں میں اتر گئی۔ وہ ایک چہرہ تھا… جو صرف نظر نہیں آتا تھا، محسوس بھی ہوتا تھا۔ طارق عزیز نے صرف پروگرام نہیں کیے، انہوں نے لمحے تخلیق کیے—ایسے لمحے جو وقت کی گرد میں بھی مدھم نہیں پڑتے۔ نیلام گھر کی روشنیاں آج بھی جلتی محسوس ہوتی ہیں، سوال آج بھی گونجتے ہیں اور تالیاں آج بھی سنائی دیتی ہیں… مگر اسٹیج پر وہ مسکراتا ہوا چہرہ اب نظر نہیں آتا۔ وہ چلا گیا… مگر اپنے پیچھے ایک ایسی روشنی چھوڑ گیا جو کبھی بجھ نہیں سکتی، کیونکہ کچھ لوگ مرتے نہیں، وہ تاریخ بن جاتے ہیں۔
زبیر چوہدری خادم ثقافت

14/04/2026

ضلع جہلم کی مٹی ہمیشہ امن، محبت اور بھائی چارے کی پہچان رہی ہے، مگر افسوس کہ آج کل اسی دھرتی پر آئے روز لڑائی جھگڑے، دشمنیاں اور قتل و غارت جیسے واقعات سننے کو مل رہے ہیں۔ یہ صرف چند افراد کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ پورے علاقے کی عزت، سکون اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ ایک لمحے کا غصہ کئی گھروں کے چراغ بجھا دیتا ہے، ماؤں کی گودیں اُجڑ جاتی ہیں اور بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ چھن جاتا ہے۔
ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں؟ جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہایا جائے اور انا کی جنگ میں انسانیت ہار جائے؟
میں دل کی گہرائیوں سے حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ، جہلم پولیس، سی سی ڈی عملہ، سیاسی قائدین، اہلیانِ علاقہ اور خصوصاً گاؤں کے معززین سے عاجزانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے اپنے علاقوں میں بیٹھکیں کریں، نوجوانوں کو سمجھائیں، تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی ختم کریں، اور لوگوں کے دلوں میں برداشت، صبر اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔
معززینِ علاقہ کا فرض ہے کہ وہ اپنی روایات کو زندہ کریں، جرگہ اور مصالحت کے ذریعے مسائل حل کریں، اور کسی بھی جھگڑے کو خونریزی تک پہنچنے سے پہلے روک لیں۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں، انہیں برداشت اور عزتِ نفس کا درس دیں، تاکہ وہ غصے کے بجائے عقل سے فیصلے کریں۔
یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ضلع کو پھر سے امن کا گہوارہ بنائیں۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو کل یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ آئیں عہد کریں کہ ہم نفرت نہیں، محبت پھیلائیں گے؛ دشمنی نہیں، بھائی چارہ بڑھائیں گے؛ اور ہر حال میں انسانی جان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں گے۔
کیونکہ یاد رکھیں…
جب ایک انسان مرتا ہے تو صرف ایک جان نہیں جاتی،
بلکہ ایک خاندان ٹوٹ جاتا ہے، ایک معاشرہ زخمی ہو جاتا ہے۔
آئیں مل کر جہلم کو دوبارہ امن، محبت اور اتحاد کی مثال بنائیں۔

تحریر زبیر چوہدری خادم ثقافت

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Jubail?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Jubail
35412