Flowery Feel

Flowery Feel

Share

خوبصورت اسلامی تاریخی معلومات ،واقعات اور جنرل نالج کے کیے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں۔
شکریہ

20/06/2026

❁﷽❁

`نبی کریمﷺ تین صفات والوں کیلے جنت کے ضامن`

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’میں جنت کے کنارے ایک گھر کا ضامن ہوں اُس شخص کے لیے جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا ضامن ہوں اُس شخص کے لیے جو مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے، اور جنت کے اعلیٰ حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں اُس شخص کے لیے جو اپنے اخلاق کو اچھا بنا لے۔‘‘

(سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب فی حسن الخلق، ج 4، ص 253) ۔!!!

20/06/2026

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ، جلیل القدر صحابی اور رسول اللہ ﷺ کے نہایت محبوب ساتھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو "ذوالنورین" کا لقب ملا کیونکہ آپ کے نکاح میں یکے بعد دیگرے رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیاں، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا آئیں۔ یہ اعزاز دنیا میں کسی اور شخص کو حاصل نہیں ہوا۔

رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کی حیا، سخاوت اور ایمان کی بارہا تعریف فرمائی۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ فرشتے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہیں۔

اپنی خلافت کے آخری دنوں میں بعض شرپسند عناصر نے مختلف علاقوں میں فتنہ و فساد پھیلانا شروع کر دیا۔ انہوں نے جھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بھڑکایا۔ آخرکار باغیوں کا ایک گروہ مدینہ منورہ پہنچا اور آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔

یہ محاصرہ کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ باغیوں نے پانی اور خوراک کی آمد میں بھی رکاوٹیں ڈالیں۔ اس دوران کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی مدد کے لیے تیار تھے، ان میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ، کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ اسی طرح حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور دیگر نوجوان صحابہ بھی حفاظت پر مامور تھے لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے درمیان خونریزی سے بچنے کے لیے لڑائی کی اجازت نہ دی۔ آپ بار بار فرماتے تھے کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کا خون نہ بہے۔

محاصرے کے دوران باغیوں نے آپ سے خلافت چھوڑنے کا مطالبہ کیا، مگر آپ نے فرمایا کہ جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے، اسے میں خود نہیں اتار سکتا۔

18 ذوالحجہ 35 ہجری، جمعہ کے دن باغیوں نے آپ کے گھر پر حملہ کر دیا۔ اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں تھے اور قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ کی اہلیہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی، جس میں ان کے ہاتھ بھی زخمی ہوئے۔

باغیوں نے نہایت ظلم کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔ شہادت کے وقت آپ تقریباً 82 سال کے تھے۔ آپ کی شہادت اسلام کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ ہے، کیونکہ ایک خلیفۂ راشد اور رسول اللہ ﷺ کے محبوب صحابی کو ان کے اپنے گھر میں مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی صبر، حیا، سخاوت اور قرآن سے محبت کا عظیم نمونہ تھی۔ انہوں نے اپنی جان قربان کر دی لیکن مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی اور خونریزی کی اجازت نہ دی۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت دی تھی اور ان کے بارے میں متعدد فضائل احادیث میں موجود ہیں، اسی لیے اہلِ سنت کے نزدیک آپ رضی اللہ عنہ کا مقام بہت بلند ہے۔

20/06/2026

ایک اللہ والے کی توبہ کا واقعہ

حضرت سیدنا علی بن حشرم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
مجھے حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ توبہ سے قبل حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ اتنے بڑے اور خطرناک ڈاکو تھے کہ پورے قافلے کو اکیلے ہی لوٹ لیتے تھے۔

ایک مرتبہ ایک قافلہ آبادی کے قریب سے گزرا۔ انہیں وہیں رات ہو گئی۔ آپ ڈاکہ ڈالنے کی نیت سے جب قافلے کے قریب پہنچے تو بعض قافلے والوں کو یہ کہتے ہوئے سنا:
’’تم اس بستی کی طرف نہ جاؤ بلکہ کوئی اور راستہ اختیار کر لو، یہاں فضیل نامی ایک خطرناک ڈاکو رہتا ہے۔‘‘

جب قافلے والوں کی یہ آواز سنی تو آپ پر کپکپی طاری ہو گئی اور بلند آواز سے کہا:
’’اے لوگو! میں فضیل بن عیاض تمہارے سامنے موجود ہوں۔ جاؤ، اطمینان سے گزر جاؤ، تم مجھ سے محفوظ ہو۔ خدا کی قسم! آج کے بعد میں کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘
اتنا کہہ کر آپ وہاں سے چلے گئے اور اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کر کے راہِ حق کے مسافروں میں شامل ہو گئے۔

ایک قول یہ ہے کہ آپ نے اس رات قافلے والوں کی دعوت کی اور فرمایا:
’’تم فضیل بن عیاض سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھو۔‘‘

پھر آپ ان کے جانوروں کے لیے چارہ وغیرہ لینے چلے گئے۔ جب واپس آئے تو کسی کو قرآنِ پاک کی یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرتے ہوئے سنا:

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ
(الحدید)
’’کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے جھک جائیں؟‘‘

قرآنِ کریم کی یہ آیت تاثیر کا تیر بن کر آپ کے سینے میں اتر گئی۔ آپ گریہ و زاری کرنے لگے اور اپنے کپڑوں پر مٹی ڈالتے ہوئے کہا:
’’ہاں! کیوں نہیں، اللہ کی قسم! اب وقت آ گیا، اب وقت آ گیا۔‘‘
آپ اسی طرح روتے رہے اور پھر اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کر لی۔
(عیون الحکایات)

20/06/2026
20/06/2026

۔ *︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
۔ *📚📜 خوبصورت بات ​ 📜📚​*
۔ *︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*
`دو چیزوں میں جنت کی ضمانت`

❁﷽❁

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبیِ کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں:
’’جو شخص مجھے دو چیزوں (کی حفاظت) کی ضمانت دے گا، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں: ایک وہ جو دو جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان)، اور دوسری وہ جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ)۔‘‘

(بخاری، حدیث نمبر: ۶۴۷۴) ۔!!!

19/06/2026

ایک عادل بادشاہ اور شیطان کا واقعہ....!

نقل کرتے ہیں کہ ایک جوان بادشاہ ایک عظیم سلطنت کا مالک تھا، مگر اسے اپنی سلطنت میں کوئی لذت نہ ملتی تھی۔ اس نے اپنے مصاحبین سے دریافت کیا:
’’کیا لوگوں کی بھی اس بارے میں میری جیسی حالت ہوتی ہے؟‘‘

مصاحبین نے عرض کیا:
’’نہیں، لوگ راہِ راست پر قائم اور ثابت ہیں۔‘‘
بادشاہ نے ان سے کہا:
’’کون سی ایسی چیز ہے جو میری سلطنت کو قائم اور ثابت رکھ سکے؟‘‘

ان لوگوں نے جواب دیا:
’’آپ کے لیے علماء اس کو قائم اور ثابت کریں گے۔‘‘

چنانچہ بادشاہ نے اپنے شہر کے علماء اور نیک لوگوں کو بلایا اور ان سے کہا:
’’تم لوگ میرے پاس آیا کرو اور مجھ میں جو بات اطاعتِ الٰہی کے خلاف دیکھو، اس سے مجھے منع کرو، اور جو گناہ کی بات دیکھو، اس سے مجھے باز رکھو۔‘‘

پس علماء و صلحاء نے ایسا ہی کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی سلطنت چار سو برس تک قائم رہی۔

اس کے بعد ابلیس (خدا اس پر لعنت کرے) بادشاہ کے پاس آیا۔
بادشاہ نے اس سے پوچھا:
’’تو کون ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا:
’’میں ابلیس ہوں، لیکن تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟‘‘
بادشاہ نے کہا:
’’میں اولادِ آدم میں سے ایک آدمی ہوں۔‘‘
ابلیس نے کہا:
’’اگر تم اولادِ آدم میں سے ہوتے تو اوروں کی طرح کب کے مر چکے ہوتے۔ تم تو معبودِ قابلِ پرستش ہو، پس لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دو۔‘‘

ابلیس کے اغوا سے بادشاہ کے دل میں بھی یہ بات اثر کر گئی۔ چنانچہ وہ منبر پر چڑھا اور کہا:
’’اے لوگو! میں تم سے ایک بات پوشیدہ رکھتا تھا، مگر اب اس کے اظہار کا وقت آ گیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں چار سو برس سے تمہارا بادشاہ ہوں۔ اگر میں اولادِ آدم میں سے ہوتا تو جس طرح عام انسان مرتے ہیں، میں بھی ضرور مر گیا ہوتا۔ میں تو تمہارا معبود ہوں، پس تم لوگ میری عبادت کرو۔‘‘

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی کی طرف وحی بھیجی کہ:
’’اسے خبر دو کہ جب تک وہ راہِ راست پر قائم تھا، میں نے اس کا ملک قائم اور ثابت رکھا، اور جب وہ میری نافرمانی کی طرف مائل ہو گیا تو مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں اس پر بخت نصر جیسے ظالم بادشاہ کو مسلط کروں گا۔‘‘
چنانچہ بخت نصر نے اس پر حملہ کیا، اسے قتل کر دیا، اور اس کے خزانوں سے ستر کشتیاں سونے سے بھر کر لے گیا۔
واللہ اعلم

(نوادر القلونی)

19/06/2026

ہم رب کو منانے کی خاطر
دنیا جہاں کو چھوڑ چکے ہیں

19/06/2026

نیکی ہر کسی کے ساتھ نہیں کی جاتی!

ایک گھنے جنگل میں ایک بکری بڑی بے فکری سے گھوم رہی تھی۔ نہ اُسے کسی درندے کا خوف تھا اور نہ کسی خطرے کی پروا۔ درخت پر بیٹھا ایک کوا یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا۔ وہ نیچے آیا اور بکری سے پوچھا:

"بہن! تمہیں جنگل کے خونخوار جانوروں سے ڈر نہیں لگتا؟"

بکری مسکرائی اور بولی:
"کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی مر گئی تھی اور اپنے دو ننھے بچوں کو اکیلا چھوڑ گئی تھی۔ مجھے اُن پر رحم آ گیا، میں نے اُنہیں اپنا دودھ پلا کر پالا۔ آج وہ دونوں جوان شیر ہیں، اور پورے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ: 'ہماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا۔'"

یہ سن کر کوا بہت متاثر ہوا۔ اُس نے دل میں سوچا:
"کاش مجھے بھی کسی پر نیکی کرنے کا ایسا موقع مل جائے۔"

کچھ دیر بعد اُسے دریا میں ڈوبتا ہوا ایک چوہا دکھائی دیا۔ کوا فوراً نیچے اُترا، چوہے کو پانی سے نکالا اور ایک پتھر پر بٹھا کر اپنے پروں سے ہوا دینے لگا تاکہ وہ سوکھ جائے۔

مگر جیسے ہی چوہے کو ہوش آیا، اُس نے کوے کے پر کترنے شروع کر دیے!
کوا اپنی نیکی کے جذبے میں مگن رہا اور چوہا اپنی فطرت دکھاتا رہا۔

چند لمحوں بعد چوہا تو اپنے بل میں جا چھپا، لیکن جب کوا اُڑنے لگا تو زمین پر گر پڑا…
اُس کے پر کٹ چکے تھے۔

اتنے میں بکری وہاں پہنچی اور حیرت سے بولی:
"ارے کوے بھائی! یہ کیا حال بنا لیا؟"

کوا غصے سے بولا:
"یہ سب تمہاری باتوں کا نتیجہ ہے! تم سے متاثر ہو کر میں نے ایک چوہے کی جان بچائی، مگر اُس نے میرے ہی پر کاٹ ڈالے!"

بکری مسکرا کر بولی:
"نادان! اگر نیکی ہی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے سے کرتا۔
چوہا آخر چوہا ہی رہتا ہے۔
بدفطرت لوگوں پر احسان اکثر ضائع ہی جاتا ہے۔"

واقعی میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا:

"اصلاں نال جے نیکی کرئیے، نسلاں تائیں نئیں بھلدے
بدنسلاں نال نیکی کرئیے، پُٹھیاں چالاں چلدے" ❤️

سچ تو یہ ہے کہ…
کوے کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے،
اور کھارے کنویں میں چاہے جتنا مرضی میٹھا پانی ڈال دو، وہ کھارا ہی رہتا ہے۔

✨ سبق:
نیکی ضرور کریں… مگر ہر اُس شخص کے ساتھ نہیں جو اُس کی قدر ہی نہ جانتا ہو۔
کیونکہ ہر ظرف احسان کے قابل نہیں ہوتا۔

19/06/2026
19/06/2026

❁﷽❁

اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ (جس طرح قبرستان کی فضا ذکر و تلاوت کے انوار سے خالی رہتی ہے، اپنے گھر کو اس کی مانند نہ بناؤ؛ بلکہ گھر میں ذکر و تلاوت کا ماحول بناؤ)۔ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے، اس میں شیطان نہیں آ سکتا۔

(ترمذی، رقم: ۲۸۷۷) ۔!!!

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Medina?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Medina