Flowery Feel

Flowery Feel

Share

خوبصورت اسلامی تاریخی معلومات ،واقعات اور جنرل نالج کے کیے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں۔
شکریہ

30/05/2026

صرف ایک لقمہ وبالِ جان بن گیا

حضرت شریک محدث دوسرے اپنے ہم عصر محمد بن سیرین کی طرح بڑے متقی اور دین دار تھے۔ بادشاہوں کی صحبت اور ملازمت سے انتہائی بے زار و متنفر تھے، لیکن ایک دن خلیفہ بغداد مہدی عباسی نے آپ کو دربار میں بلا کر مجبور کر دیا کہ آپ کو تین کاموں میں سے ایک کام کرنا ہی پڑے گا: یا تو آپ قاضی کا عہدہ قبول کیجیے، یا میرے شہزادوں کو تعلیم دیجیے، یا ایک لقمہ میرے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر کھا لیجیے۔

حضرت شریک نے یہ خیال کر کے کہ قاضی بن جانے یا شہزادوں کا معلم ہو جانے کی بہ نسبت ایک لقمہ کھا لینا بہتر ہے، چنانچہ آپ نے ان تینوں بلاؤں میں سے ایک لقمہ کھا لینا قبول فرما لیا۔

بادشاہ نے باورچی کو حکم دیا کہ شکر کی چاشنی میں مغزیات شامل کر کے قسم قسم کا کھانا تیار کرے۔ حضرت شریک محدث جیسے ہی بادشاہ کے دستر خوان پر بیٹھے، باورچی نے لوگوں سے یہ کہہ دیا کہ حضرت شریک ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں جس سے یہ کبھی رہائی نہ پائیں گے۔

چنانچہ بالکل ایسا ہی ہوا کہ حضرت شریک اس کے بعد شہزادوں کے معلم بن گئے اور پھر خلیفہ کے دباؤ سے قاضی کا عہدہ بھی قبول کر لیا۔ شاہی دستر خوان کا ایک ہی لقمہ ان کے لیے اس قدر مضر بن گیا۔
(تاریخ الخلفاء ص ۱۵۱)

حقیقت یہ ہے کہ امراء و سلاطین اور اغنیاء کے دستر خوانوں کی یہ خاص تاثیر ہے کہ جو ان لوگوں کے دستر خوانوں پر کھانے لگتا ہے وہ انہی لوگوں کا گانے لگتا ہے، لہٰذا متقی علماء کی خیریت اسی میں ہے کہ ان لوگوں کے لقموں سے پرہیز رکھیں۔

حدیث شریف کا یہ مضمون ہے کہ جو شخص کھیت کی مینڈھ پر بکری چرائے گا یقیناً کبھی نہ کبھی اس کی بکری کھیت میں بھی چرنے لگے گی۔ اس لیے جو یہ چاہتا ہو کہ اس کی بکری کھیت میں نہ چرے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ مینڈھ پر بھی بکری کو نہ چرنے دے بلکہ کھیت اور اس کی مینڈھ سے دور ہی اپنی بکریوں کو چرائے۔

اس کا یہی مطلب ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ امراء و سلاطین کی برائیوں سے بچا رہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ان لوگوں سے دور ہی رہے۔

جو شخص یہ گمان کرے کہ ہم امراء و اغنیاء کے دستر خوان پر کھانا کھا لیں گے اور ان لوگوں کا نذرانہ لے لیں گے مگر ان لوگوں کی علتوں اور برائیوں سے بچے رہیں گے، وہ سخت غلط فہمی کا شکار اور جہالت میں گرفتار ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ کچھ لوگ یہ کہیں گے ہم امراء سے مل کر ان سے دنیا حاصل کر لیتے ہیں اور اپنے دین کو بچائے رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمایا: ان لوگوں کا یہ مقولہ بالکل غلط ہے، کیونکہ جس طرح کانٹے دار درخت سے کاٹنے کے سوا کچھ نہیں چنا جا سکتا، اسی طرح امراء کی صحبت سے برائیوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

مثل مشہور ہے کہ کاجل کی کوٹھڑی میں کپڑے ضرور داغ دار ہوں گے اور کوئلے کی دلالی میں ہاتھ ضرور کالے ہوں گے۔

جب حضرت شریک محدث جیسے علم و عمل کے رستم اس دلدل میں پھنس گئے تو آج کل ہم جیسے “چھیدی بقر عیدی” قسم کے ملا مولوی کس شمار میں اور کس قطار میں ہیں۔

30/05/2026

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

روم کے ایک جنگجو بہادر نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کی ایک جماعت کو قید کر لیا اور شاہِ روم کے سامنے عرض کیا:

"مسلمانوں میں ایک شخص نہایت قوی اور رعب دار ہے، لوگ اس کی صورت دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔"
شاہِ روم نے اسے دیکھنے کے لیے طلب کیا۔ اس کے سامنے ایک لمبی زنجیر لگی رہتی تھی، جس کی وجہ سے کوئی شخص جھکے بغیر اس کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔

جب اس مسلمان مرد نے زنجیر دیکھی تو شاہِ روم کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ شاہِ روم نے زنجیر اٹھانے کا حکم دیا تاکہ وہ اس کے پاس آ سکے۔
جب مسلمان اس کے پاس پہنچا تو دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد شاہِ روم نے کہا:

"تم ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ، میں اپنی انگوٹھی تمہارے ہاتھ میں پہنا دوں گا اور ولایتِ روم تمہیں عطا کر دوں گا۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"دنیا کا کتنا حصہ تیرے قبضے میں ہے؟"
شاہِ روم نے کہا:
"تہائی یا چوتھائی۔"
مسلمان نے کہا:
"اگر پوری دنیا تیرے قبضے میں ہوتی، اور وہ سونے اور جواہرات سے بھری ہوتی، اور تو اسے مجھے ایک دن کیمض اذان نہ کہنے کے بدلے میں دے دیتا، تب بھی میں اسے قبول نہ کرتا۔"
شاہِ روم نے پوچھا:
"اذان کیا چیز ہے؟"
مسلمان نے کہا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ

شاہِ روم نے کہا:
"بے شک اس کے دل میں محمد ﷺ کی محبت راسخ ہو چکی ہے، اس لیے اس کا اپنے دین سے پھر جانا ناممکن ہے۔"

پھر اس نے حکم دیا کہ ایک دیگ آگ پر رکھی جائے اور اس میں پانی بھرا جائے۔ جب پانی خوب جوش مارنے لگا تو حکم دیا کہ اس مسلمان کو اس میں ڈال دو۔
چنانچہ اسے دیگ میں ڈال دیا گیا۔ اس نے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کہا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے صحیح سلامت نکل آیا۔
لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اس کے بعد شاہِ روم نے حکم دیا کہ اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں قید کر دیا جائے اور چالیس دن تک اس کے سامنے صرف سور کا گوشت اور شراب رکھی جائے۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

جب چالیس دن پورے ہوئے تو دروازہ کھولا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ جو کچھ اس کے سامنے رکھا گیا تھا، سب ویسا ہی موجود ہے۔ اس نے اس میں سے کچھ بھی استعمال نہیں کیا تھا۔
لوگوں نے پوچھا:
"تم نے اس میں سے کچھ کیوں نہیں کھایا؟ حالانکہ دینِ اسلام میں شدید مجبوری کے وقت اس کی اجازت ہے۔"
اس مسلمان نے جواب دیا:
"اگر میں اس میں سے کھاتا تو تم خوش ہوتے، اور مجھے تمہیں غصہ دلانا منظور تھا۔"
پھر بادشاہ نے کہا:
"اگر تم مجھے سجدہ کر لو تو میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو آزاد کر دوں گا۔"

مسلمان نے جواب دیا:
"دینِ محمدی ﷺ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔"
شاہِ روم نے کہا:
"اچھا، میری پیشانی کو بوسہ دے دو۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"ہاں، ایک شرط کے ساتھ۔"
بادشاہ نے کہا:
"جس طرح چاہو۔"
چنانچہ اس مسلمان نے اپنی آستین بادشاہ کی پیشانی پر رکھ دی اور آستین کے اوپر سے بوسہ دیا، اور نیت یہ کی کہ میں اپنی آستین کو بوسہ دے رہا ہوں۔

اس کے بعد شاہِ روم نے اسے اور اس کے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کر دیا اور بہت سا مال و زر بھی عطا کیا۔
پھر اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
"اگر یہ شخص ہمارے شہر میں ہمارے دین پر ہوتا تو ہم اس کی عبادت نہ سہی، لیکن اس کی عظمت و بزرگی کا اعتقاد ضرور رکھتے۔"
جب وہ مسلمان عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:
"اس مال کو صرف اپنے لیے مخصوص نہ کرو بلکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لوگوں کو بھی شریک کرو۔"
چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔

30/05/2026

❁﷽❁

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب و کامران ٹھہرے گا، اور اگر نماز خراب نکلی تو وہ خسارہ اور نقصان اٹھانے والا ہوگا۔

(نسائی، رقم: ٤٦٥) ۔!!!

29/05/2026
29/05/2026

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرّٙحِیْمِ
قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ o اَللهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ•
3 مرتبہ پڑھ کر ایک قرآن مجید پڑھنے کا ثواب حاصل کریں۔

29/05/2026
28/05/2026

اُمتِ محمدیہ ﷺ کے یہ انعامات

حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے زمانے میں محاکمہ اور فیصلہ آگ کے ذریعے ہوتا تھا۔ جو شخص حق پر ہوتا، وہ اپنا ہاتھ آگ میں داخل کرتا تو آگ اُسے نہ جلاتی، اور جو ناحق پر ہوتا، آگ اُسے جلا دیتی تھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں لاٹھی کے ذریعے فیصلہ ہوتا تھا۔ وہ صاحبِ حق اور راستباز کے لیے ٹھہری رہتی تھی اور جھوٹے مدعی کو مارتی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں فیصلہ کرنے والی ہوا تھی۔ وہ سچے کے لیے ٹھہر جاتی تھی اور جھوٹے کو زمین سے اوپر اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی۔

حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں فیصلہ پانی کے ذریعے ہوتا تھا۔ جب سچا شخص اس پر بیٹھتا تو پانی جم جاتا تھا اور جب جھوٹا بیٹھتا تو وہ پگھل جاتا تھا۔

حضرت داؤد علیہ السلام کے عہد میں فیصلہ ایک لٹکی ہوئی زنجیر کے ذریعے ہوتا تھا۔ سچے کا ہاتھ اُس تک پہنچ جاتا تھا اور جھوٹے کا نہیں پہنچتا تھا۔

لیکن محمد عربی ﷺ کے مبارک زمانے میں فیصلہ فریقین کے اقرار یا گواہوں کے ذریعے مقرر فرمایا گیا۔ یعنی مدعا علیہ خود اقرار کرے یا مدعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
(سورۂ بقرہ)
اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ دشواری نہیں چاہتا۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ “یُسر” جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ اُس میں ہر طرح کی آسانیاں ہیں، اور “عُسر” جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ اُس میں ہر طرح کی دشواریاں ہیں۔ اس کے علاوہ مفسرین نے اس آیت کی اور بھی تفسیریں بیان فرمائی ہیں۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں تین سال مقیم رہا۔ اہلِ مکہ میں ایک شخص تھا جو ہر روز دوپہر کے وقت مسجدِ حرام میں آتا، طواف کرتا، دو رکعت نماز پڑھتا، پھر مجھے سلام کرتا اور واپس اپنے گھر چلا جاتا۔
رفتہ رفتہ مجھے اس سے محبت اور اُلفت ہوگئی اور میں اُس کے پاس آنے جانے لگا۔ پھر وہ بیمار ہوگیا تو اُس نے مجھے بلایا اور کہا:
“جب میں مر جاؤں تو آپ خود مجھے غسل دیجیے، میری نمازِ جنازہ پڑھیے، مجھے دفن کیجیے، اور اُس رات مجھے میری قبر میں تنہا نہ چھوڑیے، نیز منکر نکیر کے سوالات کے وقت مجھے کلمۂ توحید کی تلقین کیجیے۔”

میں نے اس سے وعدہ کر لیا۔
چنانچہ جب وہ فوت ہوگیا تو میں نے اُس کی تمام وصیتوں پر عمل کیا۔ میں اُس کی قبر کے پاس سو گیا۔ میں نیند اور بیداری کے درمیان تھا کہ میں نے ایک غیبی آواز سنی:
“اے سفیان! نہ تیری تلقین کی اسے حاجت ہے اور نہ تیری موانست کی اسے ضرورت، کیونکہ ہم نے خود اس سے انس کیا اور اسے تلقین کی۔”
میں نے عرض کیا: “اس اعزاز کی کیا وجہ ہے؟”
آواز آئی:
“یہ مرتبہ اسے رمضان المبارک کے روزوں اور اُن کے بعد شوال کے چھ روزوں کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔”

اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی مگر میں نے کسی کو نہ دیکھا۔ پھر میں نے وضو کیا، نماز پڑھی اور دوبارہ سو گیا۔ پھر اسی طرح کا منظر دیکھا، یہاں تک کہ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ تب میں نے یقین کر لیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، شیطان کی طرف سے نہیں۔
پھر میں اُس کی قبر سے واپس آیا اور دعا کی:

اللَّهُمَّ وَفِّقْنِي لِصِيَامِ ذَلِكَ بِمَنِّكَ وَكَرَمِكَ
اے میرے معبود! اپنے فضل و کرم سے مجھے بھی ان روزوں کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

(قوت القلوب)

27/05/2026

تمام اہل اسلام کو عید الاضحیٰ کی خوشیاں بہت بہت مبارک۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Medina?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Medina