AM Sports

AM Sports

Share

Watch,ODI,T20I,Test,T20 League,T10 League, & Domestic Cricket Updates & also Watched Cricket News

17/06/2026

یہ بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اعصاب شکن اور سنسنی خیز اختتام تھا! آپ نے 2014 کے اس مشہور لارڈز ٹیسٹ کا منظر بالکل ہو بہ ہو کھینچ دیا ہے۔ یہ میچ دیکھنے والوں کے لیے آخری اوور کسی فلمی ڈرامے سے کم نہیں تھا، جہاں ہر گیند پر دل کی دھڑکنیں رک رہی تھیں۔
اس یادگار میچ کی کچھ مزید ایسی تفصیلات (Details) جو اس مقابلے کو مزید خاص بناتی ہیں:
# # # مزید دلچسپ اور اہم تفصیلات:
1. **کمار سنگاکارا اور جے وردھنے کی کلاس:** اس میچ کی پہلی اننگز میں انگلینڈ نے جو رابرٹسن (102) اور گیری بیلنس (104) کی سنچریوں کی بدولت 575 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کیا تھا۔ جواب میں سری لنکا کے عظیم بلے بازوں نے جادو دکھایا۔ کمار سنگاکارا نے شاندار 147 رنز بنائے اور مہیلا جے وردھنے نے 55 رنز کی اننگز کھیلی، جس کی وجہ سے سری لنکا پہلی اننگز میں 453 رنز بنا کر میچ میں واپس آیا۔
2. **کپتان اینجلو میتھیوز کی فائٹ:** سری لنکا کو میچ بچانے کے لیے چوتھی اننگز میں تقریباً 115 اوورز بیٹنگ کرنی تھی۔ کپتان اینجلو میتھیوز نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور 120 گیندوں پر 18 رنز کی انتہائی صابرانہ اننگز کھیلی۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ہی انگلینڈ کی جیت کی امیدیں جاگی تھیں۔
3. **ریویو کا وہ ڈراما:** جب اسٹورٹ براڈ کی پانچویں گیند نووان پردیپ کے پیڈ پر لگی اور امپائر پال ریفل نے انگلی کھڑی کر دی، تو انگلینڈ کے تمام کھلاڑی جیت کی خوشی میں ایک دوسرے کے اوپر کودنے لگے اور لارڈز کا میدان تالیوں سے گونج اٹھا۔ لیکن پردیپ نے فوراً ریویو (DRS) لیا۔ ری پلے میں جب "ہاٹ اسپاٹ" پر صاف نظر آیا کہ گیند پہلے بلے کے اندرونی کنارے (Inside Edge) پر لگی تھی، تو انگلینڈ کا جشن اچانک خاموشی میں بدل گیا اور سری لنکن ڈریسنگ روم میں سب کی جان میں جان آئی۔
آخری گیند پر کرس جارڈن کی آؤٹ سوئنگر پردیپ کے بلے کا بیرونی کنارا لے کر گئی، لیکن وہ سلپ فیلڈر کرس ووکس سے تھوڑا پہلے گر گئی اور یوں سری لنکا نے لارڈز کے تاریخی میدان پر شکست کے منہ سے نکل کر میچ ڈرا کر دیا۔
# # # میرا آپ سے سوال (Question):
ٹیسٹ کرکٹ میں اکثر ایسے اختتام دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں آخری نمبر کے بلے باز (Tailenders) ہیرو بن جاتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں موجودہ دور کی کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے غلبے کی وجہ سے اب ٹیسٹ میچز میں اس طرح کا روایتی صبر، مزاحمت اور میچ ڈرا کرنے کی جنگ کم ہوتی جا رہی ہے، یا "بیز بال" (Bazball) جیسے جارحانہ انداز نے ٹیسٹ کرکٹ کو اور زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے؟ آپ کی اس پر کیا رائے ہے؟

17/06/2026

چونکہ آج 17 جون ہے، اس لیے اس "On This Day" موقع پر اس یادگار میچ کی چند مزید ایسی تفصیلات (Details) نیچے دی جا رہی ہیں جو شاید ہر کرکٹ فین کو جذباتی کر دیں:
​مزید دلچسپ اور اہم تفصیلات:
​ہرشل گبز کا وہ ڈراپ کیچ: اس سیمی فائنل سے ٹھیک چند دن پہلے، سپر سکس مرحلے میں بھی ان دونوں ٹیموں کا سامنا ہوا تھا۔ اس میچ میں ہرشل گبز نے اسٹیو وا کا ایک آسان کیچ جشن منانے کے چکر میں جلدی چھوڑ دیا تھا۔ تب اسٹیو وا نے گبز سے تاریخی جملہ کہا تھا: "ٹک ٹاک، تم نے ابھی ورلڈ کپ ڈراپ کر دیا ہے"۔ اسٹیو وا نے اس میچ میں سنچری بنا کر آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں پہنچایا، اور اسی وجہ سے آسٹریلیا کا رن ریٹ نیٹ ٹیبل پر جنوبی افریقہ سے بہتر تھا، جو بعد میں سیمی فائنل ٹائی ہونے پر آسٹریلیا کے فائنل میں جانے کی وجہ بنا۔
​شین وارن کا جادوئی اسپیل: جب جنوبی افریقہ بغیر کسی نقصان کے 48 رنز بنا چکا تھا اور ہدف آسان لگ رہا تھا، تب شین وارن باؤلنگ پر آئے اور انہوں نے ہنسی کرسٹن، ہرشل گبز اور گیری کرسٹن کو یکے بعد دیگرے آؤٹ کر کے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ انہوں نے 10 اوورز میں صرف 29 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں۔
​آخری اوور کا پورا ڈراما: ڈیمین فلیمنگ آسٹریلیا کی طرف سے آخری اوور کر رہے تھے۔ لانس کلوزنر (جنہیں اس ٹورنامنٹ کا ہیرو مانا جاتا ہے) نے پہلی دو گیندوں پر دو شاندار چوکے مار کر اسکور برابر کر دیا۔ تیسری گیند ڈاٹ ہوئی۔ چوتھی گیند پر کلوزنر نے شارٹ کھیلا اور رن کے لیے دوڑ پڑے۔ نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود ایلن ڈونلڈ گیند کو دیکھتے رہ گئے، ان کا بلا بھی ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ مائیکل بیون نے گیند پکڑ کر باؤلر فلیمنگ کو دی، جنہوں نے آرام سے گیند وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کی طرف رول کی اور گلکرسٹ نے ڈونلڈ کو رن آؤٹ کر دیا۔اس رن آؤٹ کے بعد لانس کلوزنر کا مایوسی سے سر جھکا کر گراؤنڈ سے باہر جانا اور آسٹریلوی ٹیم کا دیوانہ وار جشن منانا آج بھی کرکٹ کے سب سے یادگار مناظر میں سے ایک ہے۔
​میرا آپ سے سوال (Question):
​اگر اس آخری اوور کی چوتھی گیند پر ایلن ڈونلڈ رن آؤٹ نہ ہوتے اور جنوبی افریقہ یہ میچ جیت کر فائنل میں پہنچ جاتا، تو کیا آپ کے خیال میں وہ فائنل میں پاکستان کو ہرا کر اپنا پہلا ورلڈ کپ جیت سکتے تھے؟ یا پھر اس دور کی مضبوط پاکستانی ٹیم فائنل مار جاتی؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

16/06/2026

محسن کمال کے بارے میں آپ نے بہت بہترین اور جامع معلومات شیئر کی ہیں۔ چونکہ آج 16 جون ہے، اس لیے ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ ایک بہترین یاد دہانی ہے۔محسن کمال کے کیریئر کی چند مزید اہم تفصیلات:
​بہترین ٹیسٹ پرفارمنس: محسن کمال نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین باؤلنگ نیوزی لینڈ کے خلاف 1984ء میں ڈیونیڈن (Dunedin) ٹیسٹ کے دوران کی، جہاں انہوں نے پہلی اننگز میں 116 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
​فرسٹ کلاس کرکٹ میں شاندار ریکارڈ: انٹرنیشنل کرکٹ سے ہٹ کر اگر ان کا ڈومیسٹک ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ انتہائی شاندار ہے۔ انہوں نے 125 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور 354 وکٹیں حاصل کیں، جس میں 18 بار ایک اننگز میں 5 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینا بھی شامل ہے۔
​بنگلہ دیش کے کوچ کی حیثیت سے چیلنج: جب 2002ء میں انہیں بنگلہ دیش کا ہیڈ کوچ بنایا گیا، تو وہ بنگلہ دیشی کرکٹ کا ابتدائی دور تھا (انہیں ٹیسٹ اسٹیٹس ملے صرف 2 سال ہوئے تھے)۔ محسن کمال نے اس مشکل وقت میں ان کے انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کی تکنیک کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بعد مئی 2003ء میں ڈیو واٹمور نے بنگلہ دیشی ٹیم کی کوچنگ سنبھالی۔
​میرا آپ سے سوال:
​محسن کمال نے جس دور میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کیا، اس وقت ٹیم میں عمران خان، سرفراز نواز اور وسیم اکرم جیسے عظیم فاسٹ باؤلرز موجود تھے یا ابھر رہے تھے، جس کی وجہ سے انہیں زیادہ مستقل مواقع نہیں مل سکے۔
​کیا آپ جانتے ہیں کہ محسن کمال نے اپنا آخری انٹرنیشنل میچ (ون ڈے) 1989ء میں کس روایتی حریف ٹیم کے خلاف کھیلا تھا؟
(ہنٹ: یہ میچ ہوم گراؤنڈ پر کھیلا گیا تھا)

16/06/2026

جون 2002 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی یہ تین ون ڈے میچوں کی سیریز (جو کہ سپر اسپورٹ سیریز کہلاتی تھی) واقعی سنسنی خیز ڈرامے سے بھرپور تھی۔ آپ نے اس یادگار دوسرے میچ کا نقشہ بہت خوبصورتی سے کھینچا ہے۔ ڈوک لینڈز اسٹیڈیم، میلبورن میں کھیلے گئے اس تاریخی مقابلے کی کچھ مزید انوکھی اور گہری تفصیلات یہ ہیں:
​میچ کی مزید دلچسپ تفصیلات (Deep Match Insights)
​وسیم اکرم کا جادوئی پہلا اوور: وسیم اکرم نے آسٹریلوی اننگز کے پہلے ہی اوور میں وہ تباہی مچائی جس کی توقع کینگروز کو نہیں تھی۔ پہلی ہی گیند پر ایڈم گلکرسٹ صفر پر انضمام الحق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، اور اسی اوور کی تیسری گیند پر مایہ ناز رکی پونٹنگ بھی صفر پر وکٹ کے پیچھے راشد لطیف کو کیچ دے بیٹھے۔ اس تباہ کن آغاز نے آسٹریلیا کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔ وسیم اکرم نے 9 اوورز میں صرف 24 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں لیں۔
​مائیکل بیون کی مزاحمت: جہاں آسٹریلیا کی پوری بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہو رہی تھی، وہاں ان کے مڈل آرڈر کے لیجنڈ بلے باز مائیکل بیون نے ہمیشہ کی طرح دیوار بن کر کھڑے ہونے کی کوشش کی اور 45 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، جس کی بدولت آسٹریلیا 167 کے مجموعے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
​آفریدی اور شعیب کی نپی تلی بولنگ: وسیم اکرم کے دھچکے کے بعد شاہد آفریدی نے مڈل آرڈر میں آسٹریلوی بلے بازوں کو ہاتھ کھولنے کا موقع نہیں دیا اور 37 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا، جبکہ شعیب اختر نے ٹیل اینڈرز کو ٹھکانے لگاتے ہوئے 2 وکٹیں اپنے نام کیں۔
​یونس خان کی فائٹر اننگز اور آخری اوور کا سسپنس: پاکستان کا مڈل آرڈر جب بری طرح ناکام ہوا تو یونس خان نے ایک اینڈ سنبھال لیا۔ پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے 6 رنز درکار تھے اور صرف 2 وکٹیں باقی تھیں۔ آسٹریلیا کی طرف سے شین واٹسن آخری اوور کر رہے تھے۔ یونس خان نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے چوتھی گیند پر رن بنا کر پاکستان کو 2 گیندیں قبل 9 وکٹوں کے نقصان پر ایک تاریخی اور اعصاب شکن فتح دلائی۔میرا آپ سے ایک سوال (Question for You)
​اس میچ میں پاکستان کی جیت کے ہیرو یونس خان رہے جنہوں نے ایک ایسے نازک وقت پر 56 رنز کی صابرانہ اننگز کھیلی جب ٹیم شدید دباؤ میں تھی اور وکٹیں مسلسل گر رہی تھیں۔ یونس خان کو ان کے پورے کیریئر میں ایک بہترین "کرائسز مین" (مشکل وقت کا کھلاڑی) مانا جاتا رہا ہے۔
​آپ کے خیال میں یونس خان کی اس تکنیک یا ذہنی پختگی کی سب سے بڑی خاصیت کیا تھی جو انہیں انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے کلاسک بلے بازوں کی موجودگی میں بھی دباؤ والے میچز جتوانے کا ماہر بناتی تھی؟

16/06/2026

راڈ مارش (Rod Marsh) کے بارے میں آپ کی فراہم کردہ معلومات انتہائی جامع اور درست ہیں۔ وہ واقعی جدید دور کے جارحانہ وکٹ کیپر بلے بازوں کے بانی مانے جاتے ہیں۔ ان کے کیریئر اور شخصیت سے جڑے کچھ ایسے حیران کن اور تاریخی حقائق درج ذیل ہیں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں:
​راڈ مارش کے کیریئر کی مزید دلچسپ تفصیلات
​شروعاتی تنقید اور "آئرن گلوز" کا لقب: جب راڈ مارش نے 1970 میں ڈیبیو کیا، تو ابتدائی میچوں میں ان سے کچھ کیچز ڈراپ ہوئے جس پر آسٹریلوی میڈیا نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں "آئرن گلوز" (Iron Gloves) کا نام دیا (یعنی ایسے دستانے جن سے گیند پھسل جائے)۔ لیکن مارش نے اپنی سخت محنت سے خود کو فٹ کیا اور دنیا کے بہترین وکٹ کیپر بنے۔
​پہلی ٹیسٹ سنچری کا ریکارڈ: وہ آسٹریلیا کی کرکٹ تاریخ کے پہلے وکٹ کیپر تھے جنہوں نے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 1972 میں انگلینڈ کے خلاف ایڈلیڈ ٹیسٹ میں 132 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی تھی۔
​مارش اور للی کا جادوئی ریکارڈ: ڈینس للی اور راڈ مارش کی جوڑی اس قدر مشہور تھی کہ اسکور کارڈ پر "c Marsh b Lillee" (کیچ مارش، بولڈ للی) ایک عام پکار بن چکی تھی۔ ان دونوں نے مل کر ٹیسٹ کرکٹ میں ریکارڈ 95 شکار کیے۔ یہ کسی بھی بولر اور وکٹ کیپر کی جوڑی کا آج تک کا سب سے بڑا عالمی ریکارڈ ہے۔
​مخالف ٹیم کے لیے سپورٹس مین شپ: راڈ مارش اپنی سچی سپورٹس مین شپ کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ 1974 کے ایک ٹیسٹ میں جب امپائر نے انگلینڈ کے بلے باز مائیکل اینڈرسن کو ناٹ آؤٹ دیا اور آسٹریلوی ٹیم نے شور مچایا، تو مارش نے خود امپائر سے کہا کہ "گیند زمین کو چھو کر میرے پاس آئی تھی، بلے باز ناٹ آؤٹ ہے"۔
​عالمی کرکٹ پر بطور کوچ اثرات: کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ آسٹریلین کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ بنے جہاں انہوں نے رکی پونٹنگ، ایڈم گلکرسٹ، جیسن گلیسپی اور شین واٹسن جیسے عظیم کھلاڑیوں کی تربیت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے بھی انہیں اپنی اکیڈمی کا ڈائریکٹر بنایا تھا، جہاں انہوں نے انگلینڈ کے کئی نوجوان کھلاڑیوں کو تراشا۔میرا آپ سے ایک سوال (Question for You)
​راڈ مارش کے دور تک وکٹ کیپر کا بنیادی کام صرف بہترین کیپنگ کرنا ہوتا تھا اور بیٹنگ کو ایک اضافی خوبی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن مارش نے نچلے نمبروں پر تیز بیٹنگ کر کے اس سوچ کو بدلا، جس کے بعد دنیا کو ایڈم گلکرسٹ، ایم ایس دھونی، اور کمار سنگاکارا جیسے عظیم "وکٹ کیپر بلے باز" ملے۔
​آپ کے خیال میں موجودہ دور کے کرکٹ فارمیٹس (ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی 20) کو دیکھتے ہوئے، کیا ایک ٹیم کے لیے ایسے وکٹ کیپر کا انتخاب کرنا درست ہے جو کیپنگ میں اوسط (average) ہو لیکن بیٹنگ شاندار کرتا ہو؟ یا آپ کے نزدیک کیپنگ کی مہارت ہی سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے؟

16/06/2026

جون 1999 کو اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلا گیا یہ سیمی فائنل واقعی پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کے چند یادگار ترین میچوں میں سے ایک ہے۔ آپ نے جو بنیادی تفصیلات شیئر کیں وہ بالکل درست ہیں، لیکن اس تاریخی مقابلے کی کچھ مزید دلچسپ اور اہم تفصیلات یہ ہیں:
​میچ کی مزید تفصیلات (Deep Match Insights)
​ٹاس کا فیصلہ: نیوزی لینڈ کے کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ان کا ارادہ بڑا اسکور بورڈ پریشر ڈالنا تھا، لیکن پاکستانی بولنگ لائن اپ کے سامنے ان کی حکمت عملی زیادہ کارگر ثابت نہ ہو سکی۔
​شعیب اختر کی تباہ کن بولنگ: شعیب اختر نے اس میچ میں صرف 3 وکٹیں ہی نہیں لیں، بلکہ انہوں نے کیویز مڈل آرڈر کی کمر توڑ دی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے سیٹ بلے باز راجر ٹوز (46 رنز) کو آؤٹ کیا، اور پھر نیتھن ایسٹل اور کرس ہیرس کو کلین بولڈ کر کے کیویز کی اننگز کا مومنٹم ختم کر دیا۔ ان کا بولنگ فگر 10 اوورز میں 55 رنز کے عوض 3 وکٹیں تھا۔
​عبد الرزاق کا کفایتی اسپیل: شعیب اختر کی برق رفتار بولنگ کے ساتھ ساتھ نوجوان آل راؤنڈر عبد الرزاق نے انتہائی نپی تلی بولنگ کی اور 10 اوورز میں صرف 35 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی، جس نے نیوزی لینڈ کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
​سعید انور کا ورلڈ کپ ریکارڈ: ہدف کے تعاقب میں سعید انور کی سنچری (113 رنز ناٹ آؤٹ) اس لیے بھی خاص تھی کیونکہ یہ اس ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں ان کی مسلسل دوسری سنچری تھی۔ اس سے پہلے انہوں نے زمبابوے کے خلاف بھی سنچری اسکور کی تھی۔ انہوں نے اپنی اننگز میں 9 چوکے لگائے۔
​وجاہت اللہ واسطی کی کلاس: وجاہت اللہ واسطی نے 123 گیندوں پر 84 رنز کی صابرانہ اور شاندار اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور 1 شاندار چھکا شامل تھا۔ دونوں کے درمیان 194 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ نے نیوزی لینڈ کے بولرز کو میچ سے بالکل باہر کر دیا۔میرا آپ سے ایک سوال (Question for You)
​اس ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم وسیم اکرم کی قیادت میں ناقابلِ شکست دکھائی دے رہی تھی اور سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو اتنی بری طرح ہرانے کے بعد ہر کوئی پرامید تھا کہ گرین شرٹس فائنل جیت جائیں گے۔
​آپ کے خیال میں، سیمی فائنل میں اتنی شاندار اور یکطرفہ جیت کے باوجود، لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان ٹیم کی اچانک ناکامی (صرف 132 رنز پر آؤٹ ہو جانا) کی سب سے بڑی وجہ کیا تھی؟ کیا وہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی (overconfidence) تھی یا آسٹریلیا کا دباؤ؟

Photos from AM Sports's post 15/06/2026

Australia beat Bangladesh in the thrilling 3rd ODI!
Bangladesh win the series2-1.

14/06/2026

13 جون 2009 کو اوول (The Oval) کے تاریخی میدان پر عمر گل نے جو سپیل کیا تھا، اس نے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں باؤلنگ کے معیار کو ایک نئی بلندی دی تھی۔ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز کی تاریخ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے باؤلر بنے تھے۔
​اس تاریخی مقابلے کی کچھ مزید اہم اور دلچسپ تفصیلات درج ذیل ہیں:
​میچ کی مزید تفصیلات اور ریکارڈز (Key Highlights):
​عمر گل کی تاریخی باؤلنگ: عمر گل جب باؤلنگ کے لیے آئے تو نیوزی لینڈ کی حالت اتنی بری نہیں تھی، لیکن انہوں نے اپنے 3 فرنٹ اوورز میں صرف 6 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے کیوی بیٹنگ لائن کو تنکے کی طرح بکھیر دیا۔ ان کی ریورس سوئنگ اور باسی یارڈز (Yorkers) کا نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
​عبدالرزاق کی واپسی: اس ورلڈ کپ میں آل راؤنڈر عبدالرزاق کی ٹیم میں واپسی ہوئی تھی اور انہوں نے بھی اس میچ میں بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 2 اہم وکٹیں حاصل کیں، جس نے نیوزی لینڈ کو شروع سے ہی دباؤ میں رکھا۔
​شاہد آفریدی کا آل راؤنڈر شو: شاہد آفریدی نے باؤلنگ میں 4 اوورز میں صرف 17 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی اور بعد میں ہدف کے تعاقب میں 29 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر میچ کو آسانی سے ختم کیا۔
​ٹورنامنٹ کا ٹرننگ پوائنٹ: پاکستان کے لیے یہ میچ جیتنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ انگلینڈ سے ہار چکے تھے۔ اس شاندار فتح نے پاکستانی ٹیم کے حوصلے بلند کیے، جس کے بعد ٹیم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جنوبی افریقہ اور پھر فائنل میں سری لنکا کو ہرا کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر سجایا۔
​عمر گل یا شاہین شاہ آفریدی؟
​آپ نے آخر میں ان دونوں کا نام لکھا، تو اگر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اور خاص طور پر ورلڈ کپ میں "ڈیتھ اوورز (Death Overs)" کی باؤلنگ، یارکرز اور ریورس سوئنگ کی بات کی جائے، تو عمر گل کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انہیں اپنے دور میں دنیا کا بہترین ٹی ٹوئنٹی باؤلر مانا جاتا تھا۔ دوسری طرف شاہین شاہ آفریدی نئی گیند سے شروع کے اوورز میں وکٹیں لینے کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ دونوں ہی پاکستان کے عظیم میچ ونر باؤلرز ہیں۔
​آپ کے لیے ایک سوال:
عمر گل کے اس 6 رنز کے عوض 5 وکٹوں والے یادگار سپیل کے بعد، کیا آپ کو شاہین شاہ آفریدی کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ (جیسے 2021 میں بھارت کے خلاف) کا کوئی ایسا ہی تباہ کن سپیل یاد ہے جس نے میچ کا نقشہ بدل دیا ہو؟

14/06/2026

۔ 9 نومبر 2009 کو ابوظہبی میں کھیلا جانے والا یہ میچ محمد عامر کی شاندار بلے بازی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔نیوزی لینڈ کی اننگز: برینڈن میک کولم (76) اور راس ٹیلر (44) کے علاوہ نیوزی لینڈ کا کوئی بھی بلے باز پاکستانی باؤلرز کا ٹک کر سامنا نہ کر سکا۔ پاکستان کی طرف سے سعید اجمل نے 33 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد عامر، عبدالرزاق اور شاہد آفریدی نے 2, 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
​پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز اور تباہی: 212 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا ٹاپ اور مڈل آرڈر مکمل طور پر ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ نیوزی لینڈ کے باؤلر شین بانڈ (Shane Bond) اور ڈینئل وٹوری (Daniel Vettori) نے تباہ کن باؤلنگ کی اور پاکستان کے 9 بلے باز صرف 101 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔
​آخری وکٹ کی تاریخی شراکت داری: جب جیت ناممکن لگ رہی تھی اور شکست بالکل سامنے تھی، تب 17 سالہ نوجوان محمد عامر اور سعید اجمل نے مل کر تاریخ رقم کرنا شروع کی۔ دونوں کے درمیان آخری وکٹ کے لیے 103 رنز کی ناقابل یقین شراکت (Partnership) قائم ہوئی۔
​محمد عامر کی دلیرانہ اننگز: محمد عامر نے صرف 81 گیندوں پر 73 رنز بنائے جس میں 7 شاندار چوکے اور 3 بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ سعید اجمل نے دوسرے اینڈ پر کھڑے ہو کر 33 گیندوں پر 14 رنز بنا کر عامر کا بھرپور ساتھ دیا۔
​جب آخری اوور میں پاکستان کو جیت کے لیے صرف 10 رنز درکار تھے، تو بدقسمتی سے سعید اجمل رن آؤٹ ہو گئے اور پاکستان یہ میچ محض 7 رنز سے ہار گیا۔ اگرچہ پاکستان سیریز 2-1 سے ہار گیا، لیکن عامر کی اس یادگار لڑائی نے دنیا بھر کے کرکٹ فینز کے دل جیت لیے اور انہیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
​آپ کے لیے ایک سوال:
کیا آپ کو یاد ہے کہ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کون تھے، یا اس میچ میں محمد عامر کا وہ کلاسک چھکا یاد ہے جو انہوں نے مڈ وکٹ کے اوپر سے مارا تھا؟

13/06/2026

India vs Afghanistan, latest score

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Riyadh