05/09/2026
دندی کا وہ تنہا درخت۔۔۔ جس نے مجھے اپنی طرف بلا لیا
سرن ویلی، مانسہرہ کے ڈاڈر کے مقام پر ایک خوبصورت سا گاؤں ہے۔۔۔ دندی۔ پہاڑوں کے درمیان چھپا ہوا یہ گاؤں پہلی نظر میں ہی دل کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ یہاں زندگی آج بھی بہت سادہ ہے۔ کچے مکان، چھوٹی چھوٹی کھیتیاں، مٹی کی خوشبو، پھلوں سے لدے درخت اور وہ لوگ جن کے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ نہیں بلکہ پہاڑوں جیسی سادگی بسی ہوئی ہے۔ میں جب یہاں پہنچی تو میری نظریں اچانک سامنے بلند پہاڑ کی ایک چوٹی پر جا ٹھہریں۔ وہاں۔۔۔ سب سے الگ، سب سے تنہا۔۔۔ ایک چیڑ کا درخت کھڑا تھا۔ نہ اس کے آس پاس کوئی دوسرا درخت تھا، نہ کوئی گھر، نہ کوئی انسان۔ بس وہ۔۔۔ اور آسمان۔ وہ اتنی بلندی پر کھڑا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے اسے زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب رکھ دیا ہو۔ میں نہ جانے کتنی دیر اسے دیکھتی رہی۔ پھر میرے دل میں ایک عجیب سی خواہش نے جنم لیا: مجھے اس درخت کے پاس جانا ہے۔ مقامی ساتھی نے پہاڑ کی طرف دیکھا اور کہا: "وہ بہت دور ہے۔ آپ کو صرف نزدیک نظر آ رہا ہے۔ راستہ بھی آسان نہیں۔" میں نے مسکرا کر کہا: کچھ بھی ہو جائے، مجھے وہاں جانا ہے۔
صبح ہم گھر سے نکلے اور پیدل سفر شروع کر دیا۔ راستہ جیسے کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہو۔ کچے راستے کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے کھیت تھے۔ کہیں سبزیاں لہلہا رہی تھیں، کہیں کالے آلوچے کے درخت تھے، کہیں ناشپاتی کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں، اور کہیں آڑو کے درخت اپنے رنگ بکھیر رہے تھے۔ دور کہیں آبشار شور مچا رہی تھی۔ اس کا پانی چٹانوں سے ٹکراتا تو یوں لگتا جیسے پہاڑ اپنی ہی زبان میں کوئی قدیم گیت گا رہا ہو۔ ہم آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھتے گئے۔ پھر ایک مقام پر پہنچ کر میرے مقامی ساتھی نے رک کر کہا: "میں اس سے آگے نہیں جا سکتا۔۔۔ اب آپ کو اکیلے جانا ہوگا۔" میں نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔ سامنے پہاڑ تھا۔۔۔ اوپر وہی تنہا درخت۔۔۔ اور درمیان میں ایک ایسا راستہ جس کا اختتام مجھے معلوم نہیں تھا۔ میں نے دل میں کہا: "تو پھر اکیلی ہی سہی۔۔۔" اور میں چل پڑی۔ اس کے بعد کا سفر صرف میرا تھا۔ پہاڑ، راستہ، بادل، درخت۔۔۔ اور میں۔
چڑھائی مشکل تھی، مگر جب پہاڑ آپ کا ہاتھ تھام لیں تو مشکل سے مشکل راستہ بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اچانک آسمان پر کالی گھٹائیں اور گہری ہو گئیں۔ پھر بارش شروع ہو گئی۔ پہلے چند بوندیں۔۔۔ پھر بے شمار بوندیں۔ بارش چٹانوں سے ٹکراتی، درختوں کی شاخوں پر بکھرتی، پتوں پر پھسلتی اور پھر زمین پر گر جاتی۔ میں رک گئی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور تب مجھے محسوس ہوا کہ جنگل میں کوئی ایسا سنگیت بکھر گیا ہے جسے شاید دنیا کے کسی ساز نے کبھی نہیں چھیڑا۔ چٹان پر پڑتی بارش کی آواز الگ تھی۔ درختوں پر گرتی بوندوں کی آواز الگ۔ دور آبشار کا شور الگ۔ ہوا کی سرسراہٹ الگ۔ اور ان سب کے درمیان میری اپنی سانسوں کی آواز۔۔۔ یہ قدرت کا ایسا ساز تھا جس میں کوئی موسیقار نہیں تھا، مگر پھر بھی پوری کائنات موسیقی بن گئی تھی۔ قدرت کا ساز جب بجتا ہے تو اسے صرف کان نہیں، روح سنتی ہے۔ وہ لمحہ ایسا نشہ آور، ایسا مسرور کن تھا کہ میں خود کو بھول گئی۔
اور نہ جانے کیوں اس بارش، اس جنگل، ان پہاڑوں اور ان آوازوں میں مجھے اپنے لوگ یاد آنے لگے۔ شاید انسان ساری زندگی اپنے اپنوں کو تلاش کرتا رہتا ہے۔ کبھی لوگوں کے درمیان۔ کبھی یادوں میں۔۔۔ اور کبھی پہاڑوں کی خاموش چوٹیوں پر۔ میں نے سوچا، شاید یہ پہاڑ بھی میرے اپنے ہیں۔ شاید اسی لیے میں ان کی طرف بھاگتی ہوں۔ ان کے چہروں کو دیکھتی ہوں۔ ان کی آوازیں سنتی ہوں۔ ان کی خاموشی میں اپنا نام تلاش کرتی ہوں۔ شاید میں ان پہاڑوں سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ شاید یہ پہاڑ ہی مجھے اپنی محبت کی طرح اپنی طرف بلاتے ہیں۔
بارش تھمی تو میں نے دوبارہ سفر شروع کیا۔ کپڑے بھیگ چکے تھے، راستہ پھسلن بھرا تھا، مگر دل میں عجیب سی روشنی تھی۔ جیسے منزل اب زیادہ دور نہیں۔ پھر راستہ مزید دشوار ہونے لگا۔ کچھ جگہوں پر صرف ایک پاؤں رکھنے جتنی پگڈنڈی تھی۔ ایک طرف پہاڑ کی دیوار۔ دوسری طرف گہری کھائی۔ میں نے نیچے دیکھا تو بڑی بڑی چٹانیں اتنی چھوٹی دکھائی دے رہی تھیں جیسے کسی نے زمین پر کنکریاں بکھیر دی ہوں۔ ذرا سی غفلت۔ اور انسان ہمیشہ کے لیے اسی پہاڑ کا حصہ بن سکتا تھا۔ آگے کچھ بڑی بڑی غاریں بھی نظر آئیں۔ گاؤں والوں نے بتایا تھا کہ ان پہاڑوں میں جنگلی جانور بھی ہوتے ہیں، کبھی شیر بھی دیکھے گئے ہیں۔ مگر میری دیوانگی مجھے روکے ہوئے نہیں تھی۔ میں چلتی رہی۔ کبھی آہستہ۔۔۔ کبھی تیز۔۔۔ اور کبھی واقعی ایسے جیسے گاؤں کی کوئی گوری اپنے شہری بابو سے ملنے کے لیے پہاڑوں کی طرف دوڑ رہی ہو۔
آخر وہ لمحہ آ گیا۔۔۔ میں اس درخت کے قریب پہنچ گئی۔ وہی تنہا چیڑ کا درخت۔ جسے میں نے بہت دور سے دیکھا تھا۔ جس نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا۔ اب میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کی کھردری چھال پر رکھا۔ کچھ لمحے کچھ نہیں کہا۔ بس اسے دیکھا۔ وہ خاموش تھا۔۔۔ مگر مجھے لگا جیسے اس نے میرے سارے سفر کو سن لیا ہے۔ میری تھکن۔۔۔ میری تنہائی۔۔۔ میری بےقراری۔۔۔ اور شاید میرے اندر چھپی وہ خواہش بھی جس کا مجھے خود کبھی پورا علم نہیں ہوا۔ میں وہاں کھڑی ہو کر سوچتی رہی: انسان آخر کن چیزوں کے لیے سفر کرتا ہے؟ منزل کے لیے؟ نہیں۔۔۔ شاید اپنے آپ کو تلاش کرنے کے لیے۔
میں واپس مڑی تو دور وہی گاؤں دکھائی دے رہا تھا۔ کچے گھر، سبز کھیت، پھلوں کے درخت اور ان گھروں میں بسنے والے سادہ لوگ۔۔۔ راستے میں انہی میں سے کچھ لوگوں نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ ایک سادہ سا کچا مکان تھا، مگر اندر صفائی اور محبت ایسی کہ دل بھر آیا۔ انہوں نے خالص دودھ میں چائے بنائی۔ پہاڑ کی سرد ہوا، سفر کی تھکن اور خالص دودھ کی گرم چائے۔۔۔ کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں بہت سادہ ہوتی ہیں۔ گاؤں کی عورتیں مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ میری سفری لباس اور پہاڑوں پر اکیلے چلنے کا انداز شاید ان کے لیے کچھ عجیب تھا۔ وہ کبھی چہرہ ڈھانپتیں، کبھی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتیں۔ مگر ان کی آنکھوں میں محبت تھی۔ انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہا: جلدی واپس جانا۔۔۔ یہاں سانپ بھی ہوتے ہیں اور جنگلی جانور بھی۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا، کچھ تصویریں بنائیں اور پھر واپسی کا راستہ پکڑ لیا۔
مگر دل وہیں کہیں رہ گیا تھا۔۔۔ اس تنہا درخت کے پاس۔ اس بارش کی بوندوں میں۔ اس پہاڑ کی خاموشی میں۔ اور اس گاؤں کے ان سادہ لوگوں کے درمیان۔ دندی میرے لیے صرف ایک خوبصورت گاؤں نہیں رہا۔ یہ میرے لیے ایک احساس بن گیا ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں راستے سے زیادہ دل نے سفر کیا۔ سرن ویلی کا ڈاڈر واقعی قدرت کا ایک ایسا گوشہ ہے جہاں گرمیوں میں بھی پہاڑی ہوا انسان کو اے سی بھلا دیتی ہے۔ یہاں بادل پہاڑوں سے لپٹتے ہیں، آبشاریں راستوں کے ساتھ چلتی ہیں، پھلوں کے درخت مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور سادہ لوگ اپنے چھوٹے سے گھر میں پوری دنیا جتنی محبت سمیٹے بیٹھے ہیں۔
اور وہ درخت؟ وہ آج بھی شاید اسی چوٹی پر کھڑا ہے۔ تنہا۔۔۔ مگر تنہا کہاں؟ اب تو اس کے پاس میری ایک یاد بھی ہے۔ میں نے اس سے کہا تھا: "میں پھر آؤں گی۔۔۔" اور شاید میرا اگلا سفر اسی وعدے کی طرف ہے۔ ان شاء اللہ۔۔۔ اب موسیٰ کا مصلیٰ۔ پتہ نہیں وہاں تک پہنچ پاؤں گی یا نہیں۔ مگر سفر کا مزہ منزل کے یقین میں نہیں۔۔۔ منزل کی جستجو میں ہے۔ عمر کا عدد اپنی جگہ۔۔ مگر میرے اندر کی مسافر آج بھی وہیں ہے جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔ اور جب تک یہ مسافر زندہ ہے۔۔۔ پہاڑ مجھے بلاتے رہیں گے۔ بادل میرے راستے میں آئیں گے۔ بارش میرے لیے قدرت کا سنگیت بجاتی رہے گی۔ اور میں۔۔۔ اپنے ان پہاڑوں کے چہروں میں اپنے اپنوں کو تلاش کرتی رہوں گی۔
#قدرت #پہاڑ #سفر #سفرنامہ #مانسہرہ #دندی #ڈاڈر
04/09/2026
سیاحت خوبصورت ہے، مگر سیاحت کے لیے جسم کا تیار ہونا بھی ضروری ہے
میں یوگا کے ساتھ ساتھ سفر بھی کرتی ہوں۔ پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں، وادیوں اور قدرتی راستوں پر چلتے ہوئے ایک بات بہت شدت سے محسوس کی ہے کہ سفر کا اصل لطف تب ہی ہے جب جسم آپ کا ساتھ دے۔
اکثر خواتین کو دیکھتی ہوں کہ چند قدم چڑھنے کے بعد سانس پھولنے لگتا ہے، چلنے میں دقت ہوتی ہے، کندھے آگے کی طرف جھکے ہوتے ہیں، کمر میں خم آ جاتا ہے اور پہاڑی راستہ ان کے لیے تفریح کے بجائے تھکن بن جاتا ہے۔
حالانکہ عمر صرف ایک عدد ہے۔
پہاڑوں پر اکثر مجھ سے کہیں کم عمر خواتین سے تیز چلتی ہوں۔ اس کی وجہ کوئی کمال نہیں، سالوں سے یوگا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
یوگا صرف چٹائی بچھا کر چند آسن کرنے کا نام نہیں۔
یہ جسم کو حرکت دینا، پوسچر درست کرنا، توازن بہتر بنانا، پٹھوں کو مضبوط رکھنا، سانس کو بہتر انداز میں استعمال کرنا اور اپنے جسم کے ساتھ جڑے رہنا ہے۔
اسی لیے میرا ماننا ہے کہ خواتین کے لیے ٹریولنگ کے ساتھ یوگا ایک اضافی سہولت نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ عمر کے ہر حصے میں چست، مضبوط، متحرک، پُراعتماد اور خوبصورت رہیں تو اپنے جسم کو وقت دیں۔
اور اگر آپ کو پہاڑوں، وادیوں اور خوبصورت مقامات پر سفر کرنا پسند ہے تو یوگا کو اپنی تیاری کا حصہ بنائیں۔
سوچیے…
کبھی ایسا سفر ہو جہاں صبح آنکھ کھلے تو سامنے پہاڑ ہوں، تازہ ہوا ہو، سورج کی نرم روشنی ہو اور ہم سب خواتین چند منٹ یوگا کریں…
پھر اسی توانائی کے ساتھ پہاڑی راستوں پر نکل پڑیں۔
سیاحت روح کو خوش کرتی ہے، یوگا جسم کو سفر کے قابل بناتا ہے۔
میں یاسمین سحر، Yoga Therapist، خواتین کو یہ دعوت دیتی ہوں کہ اپنے جسم کو عمر کا پابند نہ بنائیں۔
اپنے جسم کو مضبوط بنائیں، حرکت میں رکھیں، اور زندگی کو صرف دیکھیں نہیں—اسے پوری توانائی کے ساتھ جئیں۔
Yoga Therapy
صحت، حرکت اور خود اعتمادی کی طرف ایک قدم۔
مزید تفصیلات کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔
یوگا اسپیشلسٹ
یاسمین سحر — لاہور
02/09/2026
مانسہرہ: موسیٰ کا مصلیٰ سے واپسی پر لاپتہ ہونے والے غیر ملکی سیاح کی چار روز بعد پراچہ کے مقام سے ڈیڈ باڈی برآمد کر لی گئی۔
گزشتہ چار روز سے جاری سرچ آپریشن میں پولیس، محکمۂ جنگلات اور مقامی افراد کی ٹیمیں پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں میں سیاح کی تلاش میں مصروف تھیں، تاہم آج بالآخر اس کی لاش مل گئی۔
لیکن اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔۔۔
وہ یہاں تک کیسے پہنچا؟
حادثہ کیسے پیش آیا؟
کیا وہ راستہ بھٹک گیا تھا یا کوئی اور معاملہ تھا؟
اور سب سے اہم۔۔۔ موت کی اصل وجہ کیا ہے؟
فی الحال ان سوالات کے جوابات سامنے نہیں آئے۔
لاش ملنے کے بعد تحقیقات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور اصل حقائق پوسٹ مارٹم اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔
ایک خوبصورت سفر کا اختتام اس قدر افسوسناک انجام پر ہوا، مگر اس واقعے کے کئی سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں۔
02/09/2026
میری محبت کائنات ہے
مجھے محبت ہے
مگر کسی ایک شخص سے نہیں
مجھے محبت ہے اس وسیع کائنات سے
جو ہر صبح
نئے رنگ میں میرے سامنے کھلتی ہے
مجھے دریاؤں کی بےقراری سے محبت ہے
ان لہروں سے
جو کسی کنارے کی محتاج نہیں
بس بہتی ہیں
اور اپنا راستہ خود بناتی ہیں
مجھے ستاروں کی خاموش روشنی سے
جگنوؤں کی قطار سے
پرندوں کی آزاد پرواز سے
اور گھنے جنگلوں کی خاموشی سے محبت ہے
مجھے پھولوں کی خوشبو
بارش کی آواز
بادلوں کی آوارگی
پہاڑوں کی تنہائی
اور مٹی کی خوشبو سے محبت ہے
یہ سب
مجھے بغیر چھوئے
میرے دل کو چھو جاتے ہیں
مگر کسی ایک انسان سے محبت
نہیں
کسی کی آہٹ کا انتظار
نہیں
کسی کی بےرخی پر آنسو بہانا
نہیں
میں اپنی روح کو
کسی ایک دروازے پر نہیں بٹھا سکتی
میں نے اپنی محبت کو اتنا وسیع کر لیا ہے
کہ اس میں آسمان بھی ہے
دریا بھی
جنگل بھی
ستارے بھی
اور میری اپنی تنہائی بھی
میں کسی کے انتظار میں نہیں
میں خود ایک سفر ہوں
میرے اندر ایک دریا بہتا ہے
کچھ جگنو روشن ہیں
کچھ پرندے مسلسل اڑ رہے ہیں
اور کہیں بہت دور
ستارے میری تنہائی کو روشن کر رہے ہیں
اگر کبھی میری آنکھ نم ہو جائے
تو اسے محبت کی شکست نہ سمجھنا
یہ روح کا بوجھ ہلکا کرنے کا
ایک خوبصورت طریقہ ہے
مجھے محبت ہے
مگر میری محبت
کسی ایک انسان کی ملکیت نہیں
میری محبت کائنات ہے
اور کائنات
کسی ایک نام کی محتاج نہیں
یاسمین سحر
مدھور بھاشنی لاہور
01/09/2026
موسیٰ کا مصلیٰ اور ایک غیر ملکی مسافر کی تلاش
کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر دل صرف پریشان نہیں ہوتا بلکہ بار بار اسی خبر کی طرف لوٹتا ہے۔
موسیٰ کا مصلیٰ سے ایک غیر ملکی سیاح کے لاپتہ ہونے کی خبر بھی ایسی ہی ہے۔
میں نے اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک کوہ پیما الیگزینڈر اپنے برطانوی دوست الون ڈیوڈ کوپر کلیڈون کے ساتھ وادیٔ سرن آیا تھا۔ دونوں اس سے پہلے گلگت بلتستان کا سفر کر چکے تھے اور اس کے بعد مانسہرہ کی خوبصورت وادیٔ سرن کا رخ کیا۔
دونوں جمعہ 28 اگست کو سرن ویلی کے منڈا گچھ میں ایک ریزورٹ پہنچے۔ وہاں رات قیام کیا اور اگلی صبح موسیٰ کا مصلیٰ سر کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ دونوں نے یہ بلند اور دشوار گزار چوٹی سر بھی کی، لیکن اصل مشکل واپسی کے سفر میں پیش آئی۔
موسم بارش کا تھا اور واپسی کے دوران دونوں دوستوں نے الگ الگ راستوں سے نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی ساتھی کامیابی سے واپس ریزورٹ پہنچ گیا، مگر الیگزینڈر واپس نہ پہنچ سکا اور پھر اس کی تلاش شروع ہوئی۔
یہی بات دل کو سب سے زیادہ بے چین کرتی ہے۔
آخر ایک ایسا شخص جو اپنے دوست کے ساتھ اتنی دور سے پاکستان آیا، ایک خوبصورت اور مشکل چوٹی سر کی، واپسی پر کہاں رہ گیا؟
کیا راستہ بدلنے کی وجہ صرف مہم جوئی تھی، موسم خراب تھا یا پہاڑ نے کوئی ایسا راستہ دکھایا جس سے وہ ناواقف تھا؟
ہمیں ان سوالات کے جواب تحقیقات سے ملیں گے۔ اس وقت کسی قیاس کو حقیقت سمجھنا مناسب نہیں۔ ہماری سب سے بڑی فکر صرف یہ ہونی چاہیے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے، زندہ اور محفوظ ہو۔
موسیٰ کا مصلیٰ کوئی معمولی چوٹی نہیں۔ یہ تقریباً ساڑھے تیرہ ہزار فٹ بلند مقام ہے اور یہاں کا پہاڑی راستہ عام سیر کے راستوں جیسا آسان نہیں۔ موسم اچانک بدل سکتا ہے، بارش اور دھند راستہ مشکل بنا سکتی ہے اور کئی مقامات پر رابطے کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
پولیس کی متعدد ٹیمیں اس وقت تلاش میں مصروف ہیں۔ ایس پی سنٹرل شاہنواز خان خود سرچ آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور پولیس کے ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسکیو 1122 بھی تلاش میں شامل ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور جنگلات میں تلاش کرنا آسان کام نہیں۔
ان تمام لوگوں کو دل سے سلام جو اس وقت ایک انسان کی زندگی بچانے کے لیے پہاڑوں میں تلاش کر رہے ہیں۔
لیکن یہ واقعہ ہمیں ایک بہت اہم بات سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
اگر ایک غیر ملکی شخص اتنی دور سے پاکستان آتا ہے، گلگت بلتستان دیکھنے کے بعد مانسہرہ کی وادیٔ سرن کا انتخاب کرتا ہے اور خاص طور پر موسیٰ کا مصلیٰ سر کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو یہ ہمارے علاقے کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ہماری وادی میں وہ حسن موجود ہے جو دنیا کے دوسرے حصوں سے لوگوں کو یہاں کھینچ سکتا ہے۔
تو پھر کیوں نہ ہم موسیٰ کا مصلیٰ کو ایک باقاعدہ اور محفوظ سیاحتی مقام بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں؟
مالم جبہ کی طرح یہاں بھی ایک منظم ٹریک بنایا جا سکتا ہے۔
جو لوگ ہائیکنگ اور کوہ پیمائی کا شوق رکھتے ہیں وہ پیدل جائیں، لیکن جو لوگ عمر یا جسمانی استطاعت کی وجہ سے طویل ہائیکنگ نہیں کر سکتے ان کے لیے مناسب مقام تک جیپ یا شٹل کی سہولت بھی ہو۔
راستے میں واضح سائن بورڈز ہوں۔
تربیت یافتہ مقامی گائیڈز موجود ہوں۔
مناسب مقامات پر ریسکیو پوسٹیں قائم ہوں۔
ہنگامی رابطے کا مؤثر نظام ہو۔
موسم کی صورتحال سے سیاحوں کو بروقت آگاہ کیا جائے۔
اور سرچ اینڈ ریسکیو کے لیے جدید ڈرون اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے۔
اس کا فائدہ صرف سیاحوں کو نہیں ہوگا بلکہ پوری وادیٔ سرن کی معیشت بدل سکتی ہے۔
مقامی نوجوان گائیڈ بن سکتے ہیں۔
جیپ ڈرائیوروں کو روزگار مل سکتا ہے۔
چھوٹے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس آباد ہو سکتے ہیں۔
ریسٹورنٹس اور مقامی دکانیں چل سکتی ہیں
مقامی لوگوں کی تیار کردہ اشیا سیاحوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
یعنی ایک چوٹی صرف چوٹی نہیں رہے گی بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ہمیں اپنے پہاڑوں کو ختم نہیں کرنا۔
ہمیں ان کی خوبصورتی کو برباد نہیں کرنا۔
ہمیں صرف انسان کے لیے وہاں تک پہنچنے کا محفوظ راستہ بنانا ہے۔
وادیٔ سرن کے پاس قدرت نے سب کچھ دیا ہے۔
پہاڑ ہیں۔
جنگلات ہیں۔
دریا ہیں۔
آبشاریں ہیں۔
خوبصورت چراگاہیں ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر موسیٰ کا مصلیٰ جیسی ایک بلند اور دلکش چوٹی ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس قدرتی حسن کو بہتر منصوبہ بندی، محفوظ سیاحت اور بنیادی سہولیات کے ساتھ دنیا کے سامنے لائیں۔
آج مگر ان تمام منصوبوں سے پہلے ہماری دعا اس مسافر کے لیے ہے۔
یا اللہ الیگزینڈر جہاں کہیں بھی ہے اسے اپنی حفظ و امان میں رکھ۔
اس کے قدموں کو درست راستہ دکھا۔
اسے ہر خطرے سے محفوظ فرما۔
اور اسے زندہ سلامت اس کے دوست اور اس کے گھر والوں تک واپس پہنچا دے۔
اور جو لوگ اس وقت اسے تلاش کرنے کے لیے پہاڑوں میں موجود ہیں، اللہ ان کی بھی حفاظت فرمائے اور ان کی کوششوں کو کامیاب کرے۔
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا وادیٔ سرن کو دیکھنے آئے۔
ہم چاہتے ہیں کہ موسیٰ کا مصلیٰ دنیا کے کوہ پیماؤں اور سیاحوں کی منزل بنے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ ہم چاہتے ہیں کہ جو شخص یہاں آئے وہ اپنے ساتھ خوبصورت یادیں لے کر واپس جائے۔
دعا ہے موسیٰ کا مصلیٰ سے آنے والی اگلی خبر اس مسافر کی خیریت کی ہو۔
آمین
#مانسہرہ #موسیٰ_کا_مصلیٰ #موسیٰ_کا_مصلہ #سیاحت #خیبرپختونخوا #ہائیکنگ
31/08/2026
آج بہت دنوں کے بعد لاہور کا موسم کچھ مہربان ہوا۔ آسمان پر سیاہ بادل تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں بادلوں کے سائے میں بیٹھی چائے پی
رہی تھی اور موبائل پر جگجیت سنگھ کی آواز میں غزل سن رہی تھی۔
غزل کا مطلع دل میں اتر گیا
دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
جیسے احسان اتارتا ہے کوئی
نہ جانے کیوں آج یہ شعر بہت اپنا سا لگا۔ شاید اس لیے کہ کچھ دن واقعی ایسے ہوتے ہیں جو گزرنے کا احسان کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
میں نے چاروں طرف دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ کبھی کبھی انسان کو کسی بڑے سہارے کی نہیں صرف ایک جملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی اتنا کہہ دے کہ چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے پی کیوں نہیں رہیں۔
ماضی میں بہت سے چہرے تھے مگر اب صرف یادیں ہیں۔ کچھ لوگ بچھڑ گئے اور کچھ فاصلے لے گئے۔ مستقبل کی طرف دیکھا تو وہاں بھی کوئی چہرہ نہیں تھا۔ بس ایک خاموش راستہ تھا۔
مگر آج میں اداس ہو کر بھی نہیں ٹوٹی۔
میں اکیلی ضرور ہوں مگر میرے اندر ایک پوری دنیا آباد ہے۔ بہت سے خیال ہیں بہت سے خواب ہیں اور بہت سے ادھورے جملے ہیں جو ابھی لفظ بننے کے انتظار میں ہیں۔
باہر بادل بنتے رہے اور میرے اندر لفظ۔ باہر ہوا چلتی رہی اور اندر یادیں۔
پھر ایک پرندہ آسمان سے گزرا۔ میں اسے دیکھ کر مسکرا دی۔ شاید آزادی یہی ہے کہ انسان کے پاس کوئی نہ ہو پھر بھی وہ آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرا سکے۔
آج کا دن بھی گزر گیا۔
نہ کسی نے انتظار کیا نہ کسی نے پوچھا میں کہاں ہوں۔ پھر بھی میں نے چائے پی بادل دیکھے ہوا کو محسوس کیا اور خود سے باتیں کیں۔
آج میں اپنے آپ سے ملی ہوں۔
تھوڑی سی اداس ہوں
تھوڑی سی تنہا ہوں
مگر خالی نہیں
کیونکہ میرے اندر اب بھی ایک پوری دنیا سانس لے رہی ہے۔
یاسمین سحر
مدھور بھاشنی لاہور
30/08/2026
سرن ویلی مانسہرہ — اب صرف تعریف نہیں، ترقی کا وقت ہے
میں نے سرن ویلی کو صرف تصویروں میں نہیں دیکھا،
دو سال وہاں رہی ہوں
ڈاڈر سے منڈا گچھ تک سفر کیا ہے، پہاڑوں کو قریب سے دیکھا ہے، دریائے سرن کو دیکھا ہے، چٹانوں سے قطرہ قطرہ گرتے پانی کو دیکھا ہے اور وہ قدرتی حسن دیکھا ہے جسے اگر ذرا سی منصوبہ بندی اور حکومتی توجہ مل جائے تو یہ علاقہ پاکستان کے بڑے سیاحتی مراکز کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے
کیا صرف خوبصورتی کافی ہے؟
نہیں
خوبصورت علاقوں کو خوبصورت مستقبل بھی چاہیے۔
سرن ویلی کو سڑکیں چاہئیں، معیاری ہوٹل چاہئیں، اچھے ریسٹورنٹس چاہئیں، جدید طبی سہولیات چاہئیں، اعلیٰ تعلیمی ادارے چاہئیں، سیاحتی انفراسٹرکچر چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایک مربوط منصوبہ بندی چاہیے۔
اور یہاں ایک بہت اہم بات حکومت کی توجہ کے لیے عرض کرنا چاہتی ہوں:
✈️ مانسہرہ ایئرپورٹ کا منصوبہ پہلے بھی سامنے آ چکا ہے
2016–17 میں تانوال کے علاقے، بالخصوص Sawan Mera میں مانسہرہ ایئرپورٹ کے لیے تقریباً 6,000 کنال زمین کے حصول کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے سروے اور سائٹ کے انتخاب کی خبریں بھی سامنے آئیں، جبکہ زمین کے حصول کے لیے ابتدائی رقم بھی جاری کی گئی تھی۔
بعد میں یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
تو میرا سوال آج بھی وہی ہے
اگر اس علاقے میں ایئرپورٹ کی ضرورت اُس وقت محسوس کی گئی تھی، تو آج کیوں نہیں؟
مانسہرہ ہزارہ ڈویژن کے اہم مقامات کے درمیان ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں متعلقہ حکام نے بھی یہ مؤقف بیان کیا تھا کہ مانسہرہ میں ایئرپورٹ ہو تو ہزارہ کے مختلف علاقوں، بشمول ایبٹ آباد، بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے۔
مانسہرہ کے تانوال/Sawan Mera کے علاقے میں ایک جدید، خوبصورت اور ماحول دوست ایئرپورٹ
دور تک پھیلے سبز پہاڑ
نیچے وادیاں
قریب بہتے دریا
اور پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت جدید ایئرپورٹ جہاں پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ براہِ راست پہنچ سکیں۔
ایبٹ آباد کے لوگ اسلام آباد کے ایئرپورٹ تک جانے کے بجائے اپنے قریب اس علاقائی ایئرپورٹ سے سفر کر سکیں۔
مانسہرہ، ایبٹ آباد اور پورے ہزارہ ریجن کے لیے یہ صرف ایک ایئرپورٹ نہیں ہوگا۔
یہ ترقی کا دروازہ ہوگا۔
سیاحت بڑھے گی
ہوٹل بنیں گے
🍽️ ریسٹورنٹس آباد ہوں گے
ٹرانسپورٹ بڑھے گی
مقامی لوگوں کی آمدنی بڑھے گی
خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے
نوجوانوں کو اپنے علاقے میں کام ملے گا
ایکو ٹورازم فروغ پائے گا
مقامی معیشت مضبوط ہوگی
اور اگر سرن دریا کے کسی مناسب مقام پر ماحولیاتی اور انجینئرنگ مطالعات کے بعد کوئی خوبصورت مصنوعی جھیل یا واٹر ریزرو بنایا جائے، جس کے گرد ماحول دوست سیاحتی سہولیات قائم ہوں، تو یہ پورا خطہ ایک نئی شناخت حاصل کر سکتا ہے۔
میں یہ سب کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں کہہ رہی۔
میں نے ڈاڈر میں رہ کر اپنی استطاعت کے مطابق دن رات کام کیا۔
ویڈیوز بنائیں، ٹورزم کمپنیوں سے رابطے کیے، لوگوں کو اس علاقے کی طرف متوجہ کیا۔
پھر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سیاحتی گاڑیاں وہاں آنا شروع ہوئیں۔
مقامی یوٹیوبرز اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور ایک خوبصورت مگر کم معروف علاقے کا تعارف لوگوں تک پہنچا۔
تو اگر ایک عام شہری اتنا کچھ کر سکتی ہے، تو حکومت اور ادارے مل کر کیا کچھ نہیں کر سکتے؟
ہمیں ہر علاقے کو لاہور، اسلام آباد یا دوسرے بڑے شہروں جیسا بنانے کی ضرورت نہیں۔
ہمیں اپنے پہاڑوں، دریاؤں، جنگلات اور وادیوں کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق جدید ترقی دینی ہے۔
میری حکومت سے صرف ایک گزارش ہے
خدارا سرن ویلی، مانسہرہ اور پورے ہزارہ کو صرف سیاحتی نقشے پر ایک خوبصورت نام نہ سمجھیں
اسے ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور سیاحت کا مستقبل سمجھیں
پرانے ایئرپورٹ منصوبے کو دوبارہ نکالیے
Sawan Mera/Tanawal کی سابقہ تجویز کا دوبارہ جائزہ لیجیے۔
نئے سرے سے فزیبلٹی، ماحولیاتی مطالعہ اور فضائی حدود کے تقاضے دیکھیے۔
اور اگر ماہرین کے مطابق یہی یا اس کے قریب کوئی مقام موزوں ہو تو
کام شروع کیجیے۔
کسی ایک دن ضرور شروع ہونا ہے
تو کیوں نہ آج سے آغاز ہو؟
شاید اس آواز پر کسی کے کانوں پر واقعی جوں رینگ جائے۔
کیونکہ میں صرف یہ نہیں چاہتی کہ ہمارے علاقے خوبصورت نظر آئیں۔
میں چاہتی ہوں کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں بھی خوبصورت ہوں۔
سرن ویلی — قدرت کا تحفہ، اب ترقی کا حق دار۔